کسی کی ویجائنا تو کسی کے منہ پہ تالے ہیں۔۔۔
آج کل تو گویا آگ سی پھیلی ہے جنگل میں، کہ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ نے تالے کا راز افشا کیا ہے۔ ایسی آگ میں کودنا تو نہیں چاہیے کہ سیانے فقط تماشائی رہنے کو ترجیح دیتے ہیں مگر ہم کہاں کے سیانے ہیں۔ ان کا ہر کالم پڑھتا ہوں سو پہلی ہی فرصت میں یہ بھی پڑھا، پھر اس پہ اختلافِ رائے رکھنے والوں کو بھی پڑھا۔ اب میرا مشاہدہ کیا ہے، سنیے، کسی کو برا لگے تو لگتا رہے۔
بات یہ ہے کہ میں جس سماج میں رہتا ہوں اس کو آئیڈیل سمجھتا ہوں، سو ہر نظریے کا موازنہ پہلے اس سے کرتا ہوں، میرا سماج لاہور اور اس سے بھی پہلے چکوال کے جغرافیے تک ہے، جسے میں آئیڈیل تصور کرتا ہوں۔
میں نہ صرف لاہور میں بلکہ چکوال میں بھی جب اپنے دوستوں، رشتہ داروں سے ملتا ہوں تو ان کے صنفِ نازک کے بارے میں تاثرات، خیالات اور نظریات سن کر ششدر رہ جاتا ہوں۔ چکوال اسلام آباد کی بغل میں ہے اور میں سمجھتا ہوں قدرے ترقی یافتہ شہر اور سماج ہے، نہیں بھی ہے تو کم از کم آگاہی کے اس دور میں اسے کم از کم اتنا اپڈیٹ تو ہونا چاہیے کہ یہ صنفِ مخالف کو کم از کم انسانیت کے درجے پہ فائز تصور کرے، مگر آپ دنگ رہ جائیں گے یہ سن کر کہ قرب و جوار میں ہر جگہ عورت کو پاؤں کی جوتی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اہم فیصلہ سازی میں عورت کو کبھی کسی قطار میں نہیں گردانا جاتا اور تو اور چکوال اور لاہور کے اکثریتی گھرانوں میں عورت کو صرف گھر کے کام کاج کے بدلے رزق مہیا کرنے کو مذہبی فریضہ گردانا جاتا ہے، وراثت کو تو خیر چھوڑئیے، ہماری مائیں بہنیں قبر میں چلی جاتی ہیں اور ان کی اولادوں میں سے اگر کوئی اس قابل نکل آئے کہ وہ اپنا حصہ نکلوا سکے تو نکلوا لے وگرنہ یہ مجاہد ناک کا ایک بال تک بیکا نہیں کرنے دیتے۔
اس عید پہ ایک بزرگ خاتون کو طلاق دینے پر جب میں نے اس کی حمایت میں اس کی بیچارگی کا اظہار کیا اور کہا کہ یار اس عورت نے تمام عمر اپنے شوہر کے باہر ہونے کے باوجود اپنے بچوں کی دیکھ بھال کی، گھر چلایا، انہیں پالا پوسا، بڑا کیا تو کم از کم ساٹھ سال کے لگ بھگ ہوتی عمر میں یوں طلاق نہیں دینی چاہیے تھی تو میرے چاچا حضور موصوف جو کوئی سات آٹھ ماسٹرز کیے بیٹھے ہیں مرد کے حق میں زمین آسمان کے قلابے ملانے لگے کہ بھئی مرد کو طلاق کا حق خدا نے دیا ہے وہ جس عمر میں جب چاہے دے سکتا ہے تو میں گُنگ ہو گیا۔ بات کا مقصد یہ ہے کہ ایک مرد کی غلط ظالمانہ حرکت ایک پڑھا لکھا مرد گھر کی سب عورتوں کے سامنے اس لیے ڈیفنڈ کر رہا تھا کہ وہ خدا کی طرف سے ملے اس رعب و دبدبے کو گھر کی عورتوں پر نافذ کر دینا چاہتا تھا۔
خیر یہ تو معروضی حالات ہیں ہمارے معاشرے کے، ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ نے لکھا کے کچھ قبائلی علاقوں میں مرد اپنی عورت کے اعضائے نازک پہ تالے لگائے بیٹھے ہیں تا کہ کوئی نامحرم دخول نہ کر سکے تو بھئی میں نے خود فتاوی رضویہ میں عورت کے ختنوں کی بابت جو پڑھ رکھا تھا کہ عرب میں اور پھر بعد از اسلام عورت کے ختنے کروانے کو نیک خیال کیا گیا کہ اس سے عورت کو دورانِ مباشرت شدید تکلیف ہوتی ہے اور وہ لپٹ لپٹ کر حقِ زوجیت ادا کرتی ہے، سو اس طرح مباشرت کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ آپ یقیناً خود بھی نہیں تو کم از کم آس پاس ہونے والے پرتشدد عملِ مباشرت سے واقف ہوں گے، تو جب یہ سب ممکن ہے اور وہ بھی لاہور، چکوال جیسے قدرے ترقی یافتہ علاقوں میں تو قبائلی علاقوں میں بھلے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ایسا ممکن ہونا خارج از امکان قطعاً نہیں ہو سکتا۔ چلو آج باتیں ہو ہی رہی ہیں تو یہ بھی لکھ ہی دیتا ہوں کہ کتنے ہی مہذب دوستوں اور اقارب سے یہ سن چکا ہوں کہ وہ بیوی کو وقت آلۂِ مباشرت تصور کرتے ہیں۔ (آلۂِ مباشرت کو یہ لوگ پنجابی میں جس نام سے پکارتے ہیں مجھے لکھتے ہوئے شرم آ رہی ہے، کوئی مشین مشین کہتے ہیں شاید) ۔
اب رہی بات قومی غیرت و حمیت کی اور قبائلی مردوں کے اعتراضات کے ساتھ ساتھ اٹھتے ترقی یافتہ مردوں کے واویلے کی کہ وہ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ کے اس کالم کو قومی وقار اور عزت پر براہِ راست حملہ قرار دے رہے ہیں تو میرا ماننا تو یہ ہے کہ ایسے عائلی معاملات پہ اگر اس طرح آگ نہ لگے تو سنتا کون ہے؟ کیا آج سے چار پانچ سال پہلے خواتین کے حقوق پہ کوئی بات کرتا تھا؟ یہ تو عورت مارچ نے ہر چیز کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ اس قدر چیخیں بلند ہوئیں کہ ان کی گونج میں نے اپنے گاؤں کی عورتوں کی زبانی سنی تو اندازہ ہوا کہ ظلم اور ظالم سے نمٹنے کے لیے جب وقار، تمیز، ادب، لحاظ، مذہب اور قانون کام نہ آ سکیں تو مظلوم کی آہ و پکار اور لگائی آگ اس سارے نظام کو نقصان نہ بھی پہنچائے تو کم از کم تپش ضرور پہنچاتی ہے۔
انعام رانا صاحب نے معاملہ چیف جسٹس تک پہنچانے کی بات کی تو اس پہ بھی دلی مسرت ہوئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں تو شاید لگتا ہو گا کہ یہ صریحاً جھوٹ ہے اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا تو انتقاماً ڈاکٹر صاحبہ کو دھر لیا جائے گا مگر مجھے اس لیے دلی مسرت ہوئی کہ مجھے ڈاکٹر صاحبہ پر مکمل یقین اور اعتماد ہے، کہ اگر انھوں نے ایسا کہا ہے تو چلیں ہر عضوِ خاص پہ تالے نہ بھی ہوئے تو جن چار پانچ پہ ہوں گے ان کی تکلیف کا مداوا تو ہو سکے گا۔ وہ ہمیں بچپن میں ایک شعر پڑھایا جاتا تھا کہ
اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستاں کا ہر پیر و جواں بے تاب ہو جائے
یہاں اکثر لوگوں کا یہ مدعا ہے کہ بھئی پوری قوم پہ یہ الزام نہیں تھوپنا چاہیے نہ ہی تمام قبائلیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا چاہیے مگر بات یہ ہے کہ بھئی اگر پاکستان میں ایک بھی ایسا کیس ہو، جیسا کہ کئی ڈاکٹرز نے خود دیکھنے کا دعوی کیا تو کیا ہم سب اس تکلیف کو ہوا ہونے دیں؟ کیا آپ کو اس عورت کا درد محسوس نہیں ہوتا، کوئی ٹھٹھا اڑا رہا ہے کہ پیشاب سے تالے پہ زنگ لگ جاتا ہو گا، کوئی خیال ہی خیال میں چابی گم جانے پہ بے چین ہوا پڑا ہے اور کسی کو یہ اختلاف ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ ایسے کیسز پہ ایف آئی آر کیوں نہیں کٹواتی تھیں یا اب کیوں یاد آئیں یہ باتیں تو کوئی دھاتی جانگیے کا تصور پیش کیے جاتا ہے۔ یار ٹھیک ہے آپ نے عورت کی مظلومیت یا عورت کی اس کیفیت کا حظ اٹھانا ہے تو اٹھائیے مگر اجتماعی طور پر کیا ذرا سی بھی انسانیت آڑے نہیں آتی کہ اگر واقعی ایسے ہو رہا ہے تو جن کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے ان پر کیا گزرتی ہو گی۔
اب طے یہ ہوا کہ جیسا معاشرہ ہے، ویسے سلوک کیا جائے۔ جب آپ اپنے گھر میں صنفی اختلاف کو نہیں مٹا سکتے تو اس کے خلاف جب تک ڈاکٹر طاہرہ کاظمی جیسی کاٹ دار، بلند و بانگ آواز بلند نہیں ہو گی، کم از کم اس معاشرے میں صنفِ مخالف کے استحصال کا تدارک نہیں ہو سکے گا۔ اب انسانی حقوق اور خاص کر مردانہ حقوق کے علمبردار جہاں چاہیں جائیں اور ثابت کریں کہ اگر ڈاکٹر صاحبہ کا کہا جھوٹ ہے تو اصولاً تو ان کے خلاف غلط معلومات پھیلانے پر کارروائی کریں مگر اگر ایسا ایک کیس بھی نکلتا ہے یا ونی کرنے، ریپ کر کے مارنے، اپنے ہی رشتہ داروں کی طرف سے زیادتی، تیزاب پھینکنے، گھریلو تشدد اور زدو کوب کرنے کے واقعات ساٹھ ستر فیصد سے کم ہوتے ہیں تو پھر ان مردوں کا بھی قانون کے کٹہرے میں احتساب ہونا چاہیے کیونکہ ان سب کے منہ پہ کب سے تالے لگے ہیں، یہ روزانہ ایسے واقعات دیکھ کر بھی کچھ نہیں بولتے کیونکہ عورت اس معاشرے میں انسان نہیں آلۂِ مباشرت سمجھی جاتی ہے۔


