زوال آمادہ معاشرے میں مشاعرہ


مشاعرہ تہذیب کی علامت ہے۔ مشاعرہ مذہبی مجلس نہیں ہے۔ سیاسی جلسہ نہیں ہے۔ اسمبلی ہال نہیں ہے۔ نیلام گاہ نہیں ہے۔ اسٹیج شو نہیں ہے اور نہ ہی کوئی دوسری جائے ہلڑ بازی ہے۔ مشاعرے میں گہرے افکار اور عمیق جذبات کو لطیف پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے جسے سننے کا سلیقہ آنا از حد لازم ہے۔ بد قسمتی سے شعرا اور سامعین نے مشاعرے کو تماشا گاہ بنا دیا ہے۔ اس میں مجموعی معاشرتی فضا کے علاوہ منتظم اعلا، ناظم مشاعرہ اور شعرا برابر قصور وار ہیں۔ آج نہ مشاعروں میں شعر سننے کا سلیقہ ہے نہ داد دینے کا طریقہ اس پہ مستزاد یہ کہ اپنا کلام سناتے ہی مشاعرہ گاہ چھوڑ دینے کا رجحان عام ہے۔

اپنا کلام سنا کے مشاعرے سے بھاگ جانے کی ممکنہ وجوہات
تربیت کا فقدان
مشاعرے کی روایت سے بے خبری
مشاعرے میں شعرا کی کثرت
شعرا کا خراب کلام سنانا اور زیادہ سنانا
گروہ بندی (مخصوص شعرا کو طے شدہ طریقے سے داد دینا اور پھر کھسک جانا)
محض مصرع سیدھا کر لینے والے بچوں کو پختہ شاعر مان کے اسٹیج پہ چڑھا دینا
ہلڑ بازی
ناظم مشاعرہ کا زیرک و دانا نہ ہونا

بعض سینیئر شعرا بھی اپنی کم ظرفی، انا اور رعونت کے باعث اپنے وقت سے پہلے پڑھ کے یا وقت پر پڑھ کے مشاعرہ چھوڑ کے چلتے بنتے ہیں۔

منتظم اور استاد شعرا زیادہ قصور وار ہیں۔ منتظم شعرا کی تعداد اور شعرا کے انتخاب کے معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھا رہے اور سینئیر شعرا نوجوانوں کی تربیت کرنے میں ناکام ہیں۔

منتظم کو دانش مند ہونا چاہیے اسے چاہیے کہ کسی ہلڑ باز گروہ کو اسٹیج تک رسائی نہ دے۔ شعرا کی تعداد محدود اور انتخاب معقول ہو۔ بینر اور اسٹیج میں تہذیبی روایات کی جھلک ہو۔ جگہ کا انتخاب سامعین کی متوقع تعداد کے مطابق ہو۔ سامعین کے بیٹھنے کے لیے مناسب انتظام ہو اور اپنی بضاعت کے مطابق مہمانوں کی خاطر داری کی جائے۔

منتظمین کو کچھ شعرا کی طرف سے مشکل کا سامنا رہتا ہے۔ منتظم جب کسی استاد شاعر یا مہمان شاعر کو دعوت دیتا ہے تو استاد محترم اور مہمان گرامی اپنی طرف سے دو چار چار مزید شاعروں کے نام دے دیتے ہیں کہ انھیں بھی بلائیں یا بغیر بتائے کچھ شاعر اپنے ساتھ مزید شاعر لے آتے ہیں منتظم بیچارگی کے عالم میں مروت سے کام لیتے ہوئے ان سب کو اپنی فہرست میں شامل کر لیتا ہے۔ اس چلن کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ شعرا کو خود بھی خیال رکھنا چاہیے اور منتظم کو بھی تھوڑی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

راقم الحروف کی دانست میں ناظم مشاعرہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وہ شعرا اور سامعین کی سماعتوں کے درمیان پل ہے۔ اسے متعدد اوصاف کا مالک ہونا چاہیے۔

ناظم مشاعرہ کا لہجہ دھیما اور پروقار ہونا چاہیے۔ زبان میں ادبیت ہو۔ تلفظ درست ہو۔ وہ صاحب مطالعہ ہو، شعر فہم ہو، مشاعرے کی روایت سے واقف ہو، حفظ مراتب کا خیال رکھتا ہو، تنقیدی شعور رکھتا ہو، ذہین ہو، زیرک ہو، نکتہ رس ہو اور تربیت یافتہ ہو۔ کسی بھی بدنظمی کی صورت میں ماحول سازگار کر سکے۔ نعرے بازی اور ہلڑ بازی کو واہ واہ سبحان اللہ اور مکرر کی صداؤں میں بدل سکے۔ مجمعے کو اپنے ساتھ جوڑے رکھے۔ اس کا انداز ناصحانہ نہیں ادیبانہ ہو۔ وہ بذلہ سنج اور خوش طبع ہو اور بروقت جملہ/مصرع چست کر سکے۔ مختصر یہ کہ ادبی محافل کے ناظم میں مذہبی مجالس کے ناظم کی کوئی خصوصیت نہیں ہونی چاہیے۔

شعرا کو زیادہ سنانے کے خبط سے باہر آ جانا چاہیے۔ انھیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر کہا گیا شعر مشاعرے میں پیش کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ کثرت اچھی نہیں ہے۔ اچھا شعر کہنے والے کو بھی ایک حد سے زیادہ نہیں سنا جا سکتا یہاں برا شعر کہنے والے پوری بیاض سنانے بیٹھ جاتے ہیں۔ نئے لکھنے والے نہ صرف یہ کہ اب تک کی تمام مشق سخن سنا دیتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ اشعار کی شان نزول بھی بتاتے جاتے ہیں۔ بعض اساتذہ بھی شعر کی شان نزول بتانا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ صاحب کتاب حمد سے شروع کرتے ہیں نعت، سلام، ابتدائی غزلیں، کتاب کے درمیان سے غزلیں، کتاب کے آخر سے غزلیں اور پھر فون نکال کے کتاب کے بعد لکھی گئی غزلیں جھوم جھوم کے سناتے جاتے ہیں بھلے مجمع اونگھ رہا ہو۔ اسٹیج پہ بیٹھے شعرا زیادہ سنانا اپنا حق سمجھتے ہیں کہ اتنا صبر جو کیا اب ہم صبر کے پھل کی مٹھاس چکھیں اور حاضرین کی سماعتوں میں زہر گھولیں۔

مشاعرے میں فرمائشی سلسلہ بڑی قباحت بن چکا ہے۔ شعرا گروہ بندی کا شکار ہیں۔ وہ مشاعرے میں اپنے ساتھ کچھ شعری جھانسے میں لائے ہوئے لونڈوں کو لے آتے ہیں اور سمجھا دیتے ہیں کہ جب میں سنا چکوں یا سنا رہا ہوں تو فلاں فلاں کلام کی فرمائش کر دیں تاکہ مزید سنا سکوں۔ کوئی فرمائش نہ بھی کرے تو کچھ اصحاب یونہی کہ دیتے ہیں کہ ایک فرمائش ہے وہ سنا کے پھر دو مزید اشعار کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔

اس ضمن میں دوسرا اہم پہلو کلام کا انتخاب ہے۔ شعرا کو کلام کے انتخاب میں دانش مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اپنا نمائندہ کلام پیش کریں یا سامعین کے ذوق کے مطابق کلام کا انتخاب کریں تاکہ سامعین محظوظ بھی ہو سکیں اور شعرا داد بھی پا سکیں۔

گزارش اتنی سی ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے عہد کی نسل کسی سبب مشاعرہ گاہ کا رخ کر رہی ہے تو اس کی تربیت کریں اور اسے ادب کے ساتھ جوڑیں نہ کہ اپنی حماقت اور جہالت کے باعث اسے شعر و ادب سے متنفر کر کے واپس سوشل میڈیائی دلدل میں دھکیلیں۔ انھی مشاعرہ گاہوں سے تربیت پا کے، شعری ذوق کو پروان چڑھا کے اور شعر شناس اور شعر فہم بن کے یہ نوجوان نسل کتب خانوں کا رخ کرے گی اور ان ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں پڑھے شعری مجموعے سے گرد جھڑے گی وگرنہ لائبریری کے قبرستان میں شعری مجموعے نامی قبریں بے نشان رہیں گی۔

Facebook Comments HS