جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا

بھارت سب سے آگے رہا وہاں چھ کم ستر ہزار بچوں نے جنم لیا چین دوسرا نمبر رہا جہاں 44 ہزار 940 بچوں نے پہلی مرتبہ آنکھ کھولی، نائیجیریا نے 25 ہزار 685 بچوں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پاکستان نے 15 ہزار 86 بچوں کے ساتھ چوتھی، انڈونیشیا 13 ہزار 256 بچوں کے ساتھ پانچویں، امریکا 11 ہزار 86 کے ساتھ چھٹے، جمہوریہ کانگو دس ہزار ترپن بچوں کے ساتھ ساتویں اور بنگلہ دیش آٹھ ہزار چارسو اٹھائیس بچوں کی پیدائش کی وجہ سے آٹھویں نمبر پر رہا۔
”آبادی کے جن“ کو قابو میں لانے کے لیے ایوب خان کے دور میں خاندانی منصوبہ بندی کی باقاعدہ ایک وزارت قائم ہوئی۔ ٹیلی وژن، اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے تشہیری مہم چلائی گئی۔ شہر شہر اور قریہ قریہ آگاہی مہمات لانچ کی گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ”بچے دو ہی اچھے“ اردو زبان کا پھڑکتا ہوا محاورہ بن گیا۔ این جی اوز سرگرم ہیں۔ ٹی وی اینکرز چیخ چیخ کر کہتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی وسائل کو کھا رہی ہے۔ خدارا بچے کم پیدا کرو۔
سرمایہ داری نظام کے حاملین تمام معاشی مسائل کا ذمہ دار غریب کو قرار دیتے ہیں جنہیں بچے پیدا کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ کہا جا تا ہے کہ اگر کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے ہاں فیملی کا سائز مختصر ہوتا چلا گیا۔ 6 سے 10 بچے معمول کی بات تھی۔ ہماری جنریشن میں یہ تعداد 2 سے 3 تک آ گئی ہے۔ شادی شدہ جوڑے اس بات پر ایمان کی حد تک یقین رکھنے لگے ہیں کہ ”بچے دو ہی اچھے۔
“ مزے کی بات یہ ہے کہ جن کے پاس وسائل وافر ہیں وہی کم بچے خوشحال گھرانا پر عمل پیرا ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی کرامات دیکھیں تو ایک بل گیٹس کی دولت 15 کروڑ سے زائد امریکیوں کی مجموعی جمع پونجی سے بھی زیادہ ہے۔ اب ان سوالات پر غور کریں۔ کیا واقعی بڑھتی ہوئی آبادی معیشت پر بوجھ ہے؟ کیا ترقی میں رکاوٹ ہے؟ کیا اس سے معیشت کا پہیہ جام ہو جاتا ہے ؟ کیا دنیا میں وسائل آبادی سے کم ہیں؟ اگر آبادی معیشت پر بوجھ ہے تو دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے دو ممالک چین اور بھارت کو تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتیں کیوں کہا جاتا ہے ؟
اگر کم آبادی خوشحالی کی ضمانت ہے تو دنیا کی سب سے کم آبادی والا ملک سب سے زیادہ خوش حال کیوں نہیں ہے؟ اگر دنیا میں وسائل کم ہوتے تو یو این ڈی پی کی 1998 کی رپورٹ میں یہ تخمینہ کیسے لگایا گیا کہ دنیا کے 225 امیر ترین افراد کی ایک ٹریلین ڈالر دولت دنیا کی 47 فیصد آبادی کی دولت کے برابر تھی اس پر صرف 4 فیصد سالانہ ٹیکس عاید کر دیا جائے تو تیسری دنیا کے تمام مسائل بشمول روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت حل ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کی غریب آبادی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 40 ارب ڈالر درکار ہیں۔ جو ان 225 افراد کی دولت کا صرف 4 فیصد ہے۔ غریب اور امیر کا یہ فرق اب اور بھی خوفناک ہو چکا ہے۔ آکسفیم کی ایک رپورٹ کے مطابق، اب دنیا کے 62 افراد کی دولت دنیا کی 50 فیصد آبادی کی دولت کے برابر ہے۔ جبکہ دنیا کے 400 امیر ترین افراد تقریباً 4 ٹریلین ڈالرز کے مالک ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ترقی کے لیے کم آبادی نہیں، بلکہ زیادہ اور باصلاحیت افراد کی ضرورت ہوتی ہے تو غلط نہ ہو گا۔
اب تو مغربی معیشت دان بھی کہتے ہیں کہ بڑی آبادی، ایک بڑی منڈی ہے، جہاں اشیاء کی کھپت زیادہ اور انڈسٹری کا پہیہ زیادہ تیز رفتاری سے چلتا ہے۔ جب انڈسٹری کا حجم پھیلتا ہے تو زیادہ آبادی کی وجہ سے سستی اور باصلاحیت افرادی قوت بھی میسر آتی ہے۔ بڑی آبادی کا مطلب ہے زیادہ خریدار، زیادہ ورکر اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے زیادہ سپاہی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ آبادی زیادہ ہے بلکہ یہ ہے کہ آبادی کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا۔
وہ ممالک جنہوں نے آبادی کو کنٹرول کیا آج اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق، یورپ بھر کو اس وقت آبادی کی کمی کا سامنا ہے۔ اسپین ان میں سرفہرست ہے جہاں آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اسپین میں دو مرنے والے افراد کے مقابلے میں صرف ایک بچہ پیدا ہو رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو 2060 تک اسپین کی موجودہ ایک کروڑ سے زائد آبادی سکڑ کر 63 لاکھ رہ جائے گی۔ یورپ میں بچوں کی شرح پیدائش میں کمی کے باعث نوجوانوں کی تعداد میں کمی، جبکہ بوڑھوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ افرادی قوت کی کمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب کے لیے نت نئے پروگرام لائے جا رہے ہیں۔
روس اور جاپان میں بھی کم شرح پیدائش باعث تشویش بن چکی ہے۔ چین کی ون چائلڈ پالیسی کے باعث لیبر کی شدید کمی نے چین کو ون چائلڈ پالیسی مجبوراً ترک کرنا پڑی۔ روس میں 1990 میں شرح پیدائش 2 بچے فی عورت تھی۔ جو اب کم ہو کر 1 ، 17 تک آ چکی ہے۔ وہاں والدین کی اکثریت ایک سے زیادہ بچوں کی خواہشمند نہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، روس کی آبادی اس تیزی سے کم ہو رہی ہے کہ 2050 تک روسی آبادی ایک تہائی کم ہو جائے گی۔
حال ہی میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے دوسرے بچے کی پیدائش پر ڈھائی لاکھ روبل انعام کا اعلان کیا ہے۔ جو تقریباً 5 لاکھ سے زائد پاکستانی روپے ہیں۔ پرتگال میں شرح پیدائش 1 ، 5 بچے فی عورت ہے، مسئلے سے نمٹنے کے لئے دو سے زائد بچوں والے والدین کو ٹیکس میں چھوٹ جبکہ 2 سے کم بچوں کے والدین کو زیادہ ٹیکسز دینا پڑیں گے۔ جاپان میں 2015 میں آبادی 12 کروڑ 71 لاکھ اور 10 ہزار تھی۔ فریڈ کا کہنا ہے کہ 2050 تک یہ آبادی 128 ملین سے 100 ملین ہو جائے گی۔
یوکرین، سربیا، رومانیہ، پولینڈ، ناروے، نیدرلینڈ، کوریا، اٹلی، جرمنی اور ڈنمارک کے حالات بھی کچھ مختلف نہیں۔ ان تمام ممالک کو آبادی کے حوالے سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو یہاں بھی آبادی بڑھنے کی رفتار تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ 1980 میں آبادی کی شرح میں اضافہ 3 ، 38 فیصد تھا جو ہر سال کم ہوتے ہوتے اب 2، 07 فیصد سے کم ہو چکا ہے۔ بغور جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہو جائے گا کہ دنیا میں وسائل آبادی کے لحاظ سے کم ہیں۔
ماہرین خوراک کے مطابق صرف امریکی ریاست ٹیکساس میں اناج کی پیداوار دنیا کی موجودہ آبادی کے لیے کافی ہے۔ اگر وسائل کے حوالے سے سرمایہ دارانہ نظام کی تعریف پرہی اکتفا کیا جائے تو آبادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ کیونکہ سرمایہ دار معیشت دانوں کے مطابق انسانی خواہشات اور ضروریات لامحدود ہیں، جبکہ دنیا کے وسائل محدود ہیں۔ سرمایہ دار معیشت دان بنیادی ضروریات اور تعیشات (لگژریز) میں تفریق نہیں کر پائے۔ تعیشات کے بغیر زندگی گزر سکتی ہے۔
مگر بنیادی ضروریات یعنی روٹی، کپڑا، مکان، صحت اور تعلیمی سہولتوں کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہ ضروریات پورا کرنے کے لیے دنیا میں وسائل کی کمی نہیں۔ نفیس صادق کا تعلق پاکستان سے ہے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی مشیر اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ایف پی اے کی سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی رہی ہیں۔ ان کے مطابق دنیا میں آبادی کے تناسب سے خوراک پیدا ہو رہی ہے جو ہر شخص کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔
مگر یہ خوراک ہر شخص تک نہیں پہنچ پاتی۔ جس کے نتیجے میں تقریباً ایک ہزار ملین افراد مناسب خوراک سے محروم جبکہ 400 ملین افراد غذائی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور ہر سال 5 برس سے کم عمر 11 ملین بچے بھوک، یا بھوک کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یو این یو کی تحقیق کے مطابق عمدہ بیج، پانی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بڑھتی ہوئی پیداوار نے یہ خطرہ کم کر دیا ہے کہ دنیا میں مجموعی طور پر خوراک کی قلت ہے۔
اسلام ایک جوڑے کو ضرورت و بیماری کے وقت عارضی فیملی پلاننگ کی اجازت دیتا ہے مگر یہ اجازت ہرگز نہیں کہ خاندان چھوٹا رکھنے کی ترغیب دی جائے۔ خدا کا اپنا نظام ہے مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلائیں تو بچوں کی پیدائش میں ماہرین صحت کے مطابق خود ہی وقفہ رہتا ہے لیکن ہمارے ہاں تو یہ چلن عام ہے۔
طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی
اسی لیے ماؤں میں سینے کا کینسر غیر معمولی طور پر بڑھ رہا ہے۔ خدا پر ایمان رکھیے۔ اس کے بنائے ہوئے قوانین پر اعتماد کیجیے۔ انسانی قوانین، خدا کے بنائے قوانین سے کسی بھی طور بہتر نہیں ہو سکتے۔ بچے پھول ہوتے ہیں، جتنے بھی ہوں اچھے ہوتے ہیں۔
فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا
جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا

