ٹین ایج کے شدید طوفان (3)
اس قسط میں ٹین ایج کے طوفان کے ان پہلوؤں پر بات ہوگی جو اپنی نوعیت، وجوہات اور اثرات کے معاملات میں شدید نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کے علاج کے لئے باقاعدہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس شدید طوفان کی علامتوں اور ٹین ایج کے شدید تکلیف دہ کرداروں پر نظر ڈالتے ہیں۔
1۔ شدید غصہ
2۔ تشدد اور توڑ پھوڑ
3۔ سکول سے ڈراپ آؤٹ۔
4۔ سکول میں بلی
5۔ گینگسٹر بننا
6۔ گھروں سے بھاگ جانا
7۔ کم عمری میں سیکس
8۔ کم عمری کے ناجائز حمل۔
9۔ نشہ، الکحل
10۔ قانون کی خلاف ورزیاں
11۔ اینٹی سوشل روئے۔
12۔ شدید ذہنی بیماریوں کا آغاز۔
13۔ ٹین ایج کے مظاہر کا کم عمری میں آغاز۔
وجوہات :
1۔ غیر صحتمند خوراک اور ہارمون کا غیر توازن : اس معاملے کا آغاز غالباً ماں کی صحت، دوران حمل لی جانے والی خوراک اور لائف سٹائل پر بھی ہے۔ اور یہی غیر صحت مند خوراک کا سلسلہ بچے کی پیدائش کے بعد بھی جاری رہے تو یقیناً بچے کی عمومی صحت اور ہارمونز کی صحتمند افزائش پر بھی برے اثرات پڑتے ہیں۔ اور پیدائش کے بعد اگر بچے کو ماں کے دودھ سے محرومی رہی ہو تو بچے کی قوت مدافعت کی کمی بار بار بیماریوں کا پیش خیمہ ہے جس سے بچے کی عمومی صحت کی خرابی اس کی بلوغت کے ہارمونز کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ فروزن فوڈ، پراسسڈ فوڈ، چاکلیٹ، پنیر اور الرجنٹ فوڈز جوسز بھی بچے کے کرداری مسائل پیدا کرتی ہیں۔
5 سال سے پہلے بچے کی عمومی صحت اگر خراب رہتی ہو مثلاً۔ بار بار انفیکشن اور نزلہ زکام الرجی ہوتی رہی ہو، تو والدین اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ بڑا ہو کر ٹھیک ہو جائے گا۔ بے شک وہ بڑا ہو کر جسمانی طور پر صحتمند ہو جائے لیکن ایسے بچے اوائل عمری میں کرداری مسائل کا شکار رہتے ہیں اور سکول سے شکایتیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں والدین کو ان کی جسمانی صحت کے پہلوؤں پر پہلے غور کرنا چاہیے۔ خوراک، علاج اور آرام کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی سادہ وضاحت یہ ہے کہ جب ہم بالغ افراد کسی بیماری میں مبتلا ہوں تو ہمارے کردار اور موڈ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ تو سوچنے کا مقام ہے کہ کیا سکول جانے والا بچہ اگر بیماری کے آثار ہیں یا وہ جلدی بیمار ہونے کا رجحان رکھتا ہے تو اس کے روئیے بھی متاثر کیوں نہ ہوں؟ اسے بھی آرام کی ضرورت ہے۔ ورنہ بے احتیاطی، غیر صحتمند خوراک اور آرام کی کمی اس کی بیماری کو طول دیتے ہوئے اس کے ٹین ایج کے طوفان کو خطرناک بنا سکتی ہے اور یہیں سے بچپن کے نفسیاتی ڈس آرڈرز کا آغاز ہوتا ہے۔ اور معصوم بچہ جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی صحت بھی کھو دیتا ہے اور ٹین ایج یقینی ہے کہ طوفان بن جائے۔
2۔ پرورش کے غلط انداز : اس میں سب سے خطرناک بات کسی بچے کی 3 سال کی عمر سے پہلے مکمل ٹائلٹ ٹریننگ کرنا ہے۔ یہ رجحان آج کل بہت تیزی سے والدین فیشن کی طرح اپنا رہے ہیں۔ ان کو جلدی ہوتی ہے کہ بچے کی جلدی ٹائلٹ ٹریننگ ہو۔
ماہرین نفسیات کی تحقیقات اور عمومی مشاہدے بتاتے ہیں کہ وہ بچے جن کی پہلی سالگرہ کے فوراً بعد ٹائلٹ ٹریننگ شروع ہو جاتی ہے ان کے جسم اور ذہن کے خلیوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے کیونکہ ٹائلٹ ٹریننگ کی مشقت اتنی چھوٹی عمر میں اس کے کمزور جسم اور ذہن کے نا پختہ خلیوں پر بے وقت بوجھ ہے۔ وہ اس بوجھ کو ناپسند کرتا ہے شاید جسمانی تھکاوٹ کی وجہ سے اور ذہنی طور پر بھی قبول نہیں کرتا۔ اس سے اس کا بچپن چھین لیا گیا اب والدین کو تو چھٹی مل گئی مگر بچہ گلٹ فیلنگ، انزائٹی اور ارتکاز توجہ کی کمی کا شکار ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ اس پر ٹین ایج بھی جلدی آ جائے جو والدین نے اپنی نادانی سے خریدا ہے۔
3۔ اور معصوم والدین یہاں تک ہی نہیں رکتے ابھی دوسرا شوق سر اٹھا رہا ہے کہ کسی طور اپنے بچے کو وہ سب سکھا دیا جائے جو وہ ابھی تک نہیں سیکھ پائے۔ وہ شاید اپنے بچے کو چشم زدن میں اپنے سے زیادہ سمارٹ اور کامیاب۔ بنانا چاہتے ہیں اور بچے کو ڈے کیئر میں بھیج دیتے ہیں یعنی پہلی سال گرہ کے بعد بچہ کبھی گھر نہیں بیٹھتا جبکہ ابھی اس کی عمر گھر کے لوگوں کی گودوں میں کھیلنے اور آزاد مستیاں کرنے کی ہے۔
ہاں یہ بات تو ہے کہ جہاں دونوں والدین ملازمت کرتے ہوں تب بچہ کون سنبھالے گا؟ لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ جہاں گھروں میں بچے کی دیکھ بھال کا انتظام ہو تب بھی بھیڑ چال اور جدیدیت پسندی اور کہیں کہیں محض اولڈ رشتوں سے تعصب کی بنا پر والدین بچوں کو ننھی سی عمر میں شدید موسم، کپڑوں کے اضافی بوجھ، گھر سے سکول تک کا بور سفر، تمام دن ڈے کیئر کی ناقص اور بد ذائقہ خوراک، اجنبی لوگ جو اس کی جذباتی ضروریات اور جسمانی ضروریات کو میکانکی انداز سے پورا کرتے ہیں۔ جبکہ ابھی بچے کو جینوئن اور خونی رشتوں کے بوسے، لپٹنے اور ہگ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ظلم یہ کہ بچہ تمام دن ڈے کیئر کی کھڑکیوں کے شیشے کے ساتھ لگا کھڑا رونی صورت بنائے گھر والوں کا انتظار کرتا ہے۔ والدین یہ دلیل دیتے ہیں کہ جتنی جلدی اسے باہر کے ماحول سے اکسپوژر دیں گے اتنا جلدی بچہ گریڈ ون یعنی پراپر سکول کے وقت بہتر کارکردگی ظاہر کرے گا۔ ان معصوم اور اولڈ سکول سے متعصب والدین کو شاید نہیں علم کہ جلدی ایکسپوژر کا خبط ان کے بچوں میں بار بار بیمار ہونے، جس میں بار بار انفیکشن شامل ہے کے علاوہ انہیں سیپریشن اینزائٹی، ڈپریشن، بے جا جسمانی تھکاوٹ، چڑچڑا پن پیدا کر کے آپ کے لئے خطرناک تحفے بھی لا رہا ہے جس کی نوید والدین کو 4 سال کی عمر سے سکول کی شکایتوں کی صورت میں ملنا شروع ہو جاتی ہے۔ ان شکایتوں کے پیکیج میں اے۔ ڈی۔ ایچ۔ ڈی یعنی ارتکاز توجہ کے معاملات اور فوکس نہ کرنے کے مسائل شامل ہیں۔ بات یہیں نہیں ختم ہوتی اب بچہ بڑا ہوتا جا رہا ہے، اپنی بیماری اور تھکاوٹ، گھر کی یاد، آرام کرنے کی اشد ضرورت کا بدلہ لینا شروع ہو گیا ہے۔ اب اس کی قوت برداشت جواب دے چکی ہے اور وہ لا شعوری طور پر دوسرے بچوں کو مارنے بھی لگا ہے۔ اور وہ گھر پر بھی ایسے ہی کرداروں کا مظاہرہ کرنے لگا ہے۔ اس پر سونے پر سہاگہ سکول والوں نے بھی بچے سے بیزار ہو کر کنڈکٹ ڈس آرڈر اور اے ڈی ایچ ڈی کا لیبل لگا کر سکول سائیکولوجسٹ کے حوالے کر دیا ہے۔ ہر ماہ کی تھیراپی سیشن اور ارلی آئڈینٹی فیکشن آپ کے بچے کو اچھی نہیں لگتی۔ وہ کہہ نہیں سکتا مگر یہ اس کی عزت نفس پر حملہ ہے۔ کیا بعید ہے کہ یہ پیارا بچہ یک دم بد تمیز زبان دراز ہو جائے جو کہ اس کی ارلی ٹین ایج کے آثار ہیں۔
یہاں یہ بات کہنے کا ہر گز مقصد نہیں ہے کہ اگر آپ کے بچے میں واقعی کوئی مسئلہ ہے تو بھی آپ ماہر ین نفسیات سے رابطہ نہ کریں، بلکہ ضرور کریں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ بچے کو واقعی کوئی نیورو لوجیکل مسئلہ ہو اور شاید وہ پیدائشی ہو لیکن دماغ کے خلیوں کو شدید نقصان جلدی سکول بھیجنے اور جلدی ٹائلٹ ٹریننگ سے بھی ہو سکتا ہے دونوں صورتوں میں اب آپ کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے کہ معالج سے رابط کیا جائے لیکن اگر آپ نے اوپر بیان کی ہوئی غلطیاں کر بیٹھے ہیں یعنی ارلی ایکسپوژر کے شوق میں آپ نے اپنے پیارے بچے کو دنیا کی بھیڑ میں بہت جلدی دھکا دے دیا ہے، صحت خراب لیکن آرام کی بجائے اسے سکول بھیج رہے ہیں اور اس کی تکلیف کا اندازہ نہیں کر رہے شاید وہ بیماری کا مقابلہ کر کے زندہ تو بچ جائے اور سخت جان بھی بن جائے اور اس کا امیون سسٹم بھی بہتر ہو جائے لیکن جلد ہی آپ کو پتہ چل جائے گا کہ وہ ٹین ایج میں جب پہنچے گا تب وہ سفاک، کٹھور بن جائے اور شاید وہ سکول میں بلی کرنا شروع ہو جائے، اور ٹین ایج میں اینٹی سوشل یا سائیکو پیتھ بھی۔ کیونکہ اس کو اپنے بچپن کے بے وقت بوجھ ابھی تک یاد ہیں۔ دراصل یہ بوجھ ایک طرح کی مصنوعی یتیمی ہے جو اس بد نصیب بچے کو ملی ہے۔ یتیم بچوں پر بلوغت کے منفی آثار جلدی ظاہر ہوتے ہیں۔ آپ نے اس کو جلدی خود مختار بنا دیا اور ٹین ایج میں وہ اس خود مختاری کو شدت سے بلکہ چھین کر استعمال کرے گا۔
مختصراً : غلط خوراک، 4 سال سے کم عمر میں ٹائلٹ ٹریننگ، ڈے کیئر، سکول، شاپنگ پر جانا، 5 دن سکول کے بعد چھٹی کے دن بھی باہر کی سرگرمیاں اور سکول کے اوقات کے بعد بھی مصروفیات اور اوور سٹمولیشن
24 گھنٹے اور سات دن مسلسل جد و جہد؟ کیا آپ کے لئے زیادہ نہیں؟ تو بچے کے لئے کیوں؟
والدین کے لئے رکنے اور سوچنے کا مقام ہے۔ اگر یہ غلطیاں سر زد ہو چکی ہیں تو شدید طوفان کے لئے تیار رہیں۔


