منشی پریم چند کے ”عید گاہ“ اور ”حج اکبر“ کے ادبی جمالیات
چاہے وقت ریت کے مانند ہمارے انگلیاں سے کھسکتا ہے، منشی پریم چند کے افسانے کی ادبی جمالیات الماس کی طرح کبھی زائد المیعاد نہیں۔ افسانے ”عید گاہ“ اور ”حج اکبر“ ادیب کے جمالیاتی نشان ہیں جو یہ آفاقی سچائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ احساس شکرگزاری انسانی شعور کا پوشیدہ، لیکن سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ اگر ہم ان دونوں افسانوں کو ایک ساتھ پڑھیں تو پریم چند کی مرکزی فلسفیانہ فکر ہمارے سامنے آ جائے گی کہ اگر ہم اس قدردانی کو قائم رکھیں تو ہماری زندگی کتنی ہی ناپائیدار اور تکلیف دہ کیوں نہ ہو، ہم زندگی کے نشیب و فراز آسانی سے عبور کر سکتے ہیں اور ہمیں تمام پچھتاوے و پشیمانی سے نجات مل سکتی ہے۔ پریم چند کے نزدیک، انسانی مقصدیت کی جستجو کے لیے زاہدانہ و پرہیزگار انداز کی زندگی کے طریقے کو اختیار کرنے پر انحصار نہیں کرتا ہے، بلکہ دشواری میں الجھا ہوا انسان بے لوث اور ایمانداری کے حسن کو مکمل طور پر انجام دیتا ہے۔
دو نوں افسانوں میں دو دادیوں کے درمیاں مماثلت کو روشن کرنا آسان ہو گا۔ امینہ اور عباسی مثالی خواتین ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اپنے بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر دی۔ پر، دونوں افسانوں کے درمیاں ہونے والے جمالیاتی تعلق کو سراہنے کے حوالے سے دونوں دادیوں کے درمیان، موازنہ سے زیادہ بہتر طریقے ہیں۔ مثال کے طور پر، عباسی کو حامد کے دست پناہ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ یہاں، عباسی کی شخصیت کے بجائے، نیاز مند کی نجات عباسی اپنے آپ کو وقف کرنے کے عزم دست پناہ کی طاقت کے برابر ہے۔ عباسی اور حامد کی شخصیت میں یہی مماثلت ہے کہ افسانوں کے درمیان جمالیاتی تعلق کو مزید روشن بناتی ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ حامد اور عباسی کے پاس معصوم شخصیات ہیں۔ اس کے بجائے، انسانی رشتے اور شفقتی نیاز کے تئیں حامد اور عباسی کی ذکی الحس شخصیت دونوں افسانوں کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔
یہ دونوں افسانے دیگر وجوہات کی بنا پر زائد المیعاد نہیں۔ غربت یقیناً ایک اہم موضوع ہے اور اس وقت بر صغیر میں بہت سے بچے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ اس کے علاوہ، عصری دنیا اکثر انصاف کے معاملے پر منقسم رہی ہے۔ پر انسانی شفقت کے مقابلے، انصاف کی جستجو صرف خصومت و ملامت کی وجہ ہے کیونکہ انصاف ہمیشہ جانبدار رہتا ہے۔ رستم ہند کے سامنے وکیل خاموش رہیں گے۔ اگر چہ ہر کوئی عدالتی انصاف سے راحت حاصل کر سکتا ہے، لیکن آپ کی دادی گلے ملنا اور دعا آپ کو منفرد ثواب دیتی ہے۔ مجھے یقیں ہے کہ انسانی لگاؤ اور لگن کے لازوال و پائیدار ہونے سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہوگی۔
یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی پریم چند جیسے ادیب نہیں، جو ادبی جمالیات، برصغیر کی منفرد سماجی اور ثقافتی خصوصیات اور روحانی بیداری کے حسن کو ہم آہنگ کر کے اتنی عالی نثر پیش کر سکیں۔ اس وقت سادہ جملے لکھنے کے لئے بھی لوگ مصنوعی ذہانت پر انحصار کرتے ہیں! ایک اجنبی ہونے کے ناتے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ افسانے نہ صرف اسکول کے نصاب میں کیوں شامل کیے گئے ہیں، بلکہ ایم اے کے نصاب میں بھی ہیں۔ ان کی جمالیاتی گہرائی الفاظ سے بالاتر ہے۔
اچانک میرے ذہن میں ایک سوال آتا ہے۔ اگر مجھے ”عید گاہ“ اور ”حج اکبر“ کے جامل و کامل اختتام میں ایک اور سطر شامل کرنے کی اجازت ملے تو میں کیا لکھوں گا؟ اس وقت اذان شروع ہوئی اور مجھے جواب معلوم ہوا:
پیارے بچے نے مسکرا کر اپنی دادی سے اعتماد کے ساتھ کہا:
”اللہ اکبر“


