ابھی تو آغاز ہے!
یہ کہانی ایک ایسے بچے کی ہے جو پنجاب کے ایک متوسط زمیندار گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش کے وقت گھر میں خوشحالی اور مال و مویشی کی وافر مقدار موجود تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات بتدریج بدلتے گئے اور اس کا خاندان مالی مشکلات کا شکار ہو نے لگا۔ یہ بچہ سکول جانے سے بہت گھبراتا تھا۔ اس کے گھر والے اسے زبردستی اور بعض دفعہ مارکر سکول چھوڑ کر آتے تھے۔ ابتدائی تین کلاسوں میں اسے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا لیکن وہ مشکل سے ہر کلاس پاس کر لیتا تھا۔
معاملہ چوتھی کلاس میں خراب ہوا، جب اسے پڑھنے میں بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور وہ انتہائی مشکل سے چوتھی کلاس پاس کر سکا۔ اب اسے تھوڑی بہت پڑھائی سمجھ تو آ گئی لیکن وہ دوسرے بچوں کی نسبت پیچھے اور سیکھنے میں ست تھا۔ اس کے علاوہ وہ کھیتی باڑی اور گھر کے دیگر کاموں میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔ گھر والے اس سکول چھڑوا کر کوئی ٹیکنیکل کام سکھانا چاہتے تھے۔ اس کی جسمانی حالت بہت کمزور ہونے کی وجہ سے اس پر بیماریاں بھی بہت جلد اٹیک کرتی تھیں۔
تاہم قدرت کی کرنی ایسی ہوئی کہ وہ پانچویں جماعت میں چلا گیا جو اس کا اصل امتحان اب شروع ہوا اور گھر والوں کی طرف سے پڑھائی کو جاری رکھنے کا آخری موقع بھی تھا۔ وہ اپنے پہلے امتحان میں ناکام ہوا اور پانچویں جماعت میں فیل ہو گیا۔ عین توقع گھر والوں نے اسے مشنری سکول چھڑوا دیا۔ کچھ عرصہ بعد اسے کسی دوسرے عام سکول میں داخل کرا دیا۔ جہاں وہ ایک مرتبہ پھر فیل ہو گیا۔ اب گھر والے مزید رسک نہیں لے سکتے تھے اس لئے اسے پھر سکول سے چھٹی کر وادی۔
چند ماہ ضائع کرنے کے بعد اس کی خالہ نے، جو خود ٹیچر تھیں۔ اس کے خاندان سے درخواست کی کہ اسے دوبارہ سکول میں داخل کروا دو۔ کیونکہ یہ جسمانی طور پر کمزور ہے۔ اگر کہیں کام سیکھنے لگ گیا اور اس کے استاد اسے ماریں گے تو یہ برداشت نہیں کر سکا گا اور وزنی کام اس سے نہیں ہو گا۔ ایک مرتبہ پھر اس کی والدہ نے اس شرط پر اسے سکول داخل کروا دیا کہ اگر اب وہ فیل ہوا تو پھر کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھے گا۔ یہ اس کا پانچویں کلاس میں تیسرا سال تھا اور اس کا چھوٹا بھائی جو اس سے 2 کلاسیں پیچھے تھا وہ بھی اس کے ساتھ پڑھ رہا تھا۔ دوسری طرف سکول کی طرف سے بھی اس کا آخری چانس تھا۔ اب کی بار فیل ہو نے کا مطلب ہمیشہ کے لئے سکول کے دروازے اس کے کے لئے بند ہونا تھا۔ خیر خدا خدا کر کے اس نے اس مرتبہ پانچویں جماعت پاس کر لی۔ اب زندگی اس کے لئے ایک اور امتحان لے کر اس کا انتظار کر رہی تھی۔ خاندان کے مالی حالات ٹھیک نہیں تھے اس لیے اسے مشنری سکول سے نکالنا پڑا کیونکہ وہاں فیس زیادہ تھی۔ اس کے بعد اسے گورنمنٹ سکول میں 6 کلاس میں داخل کروایا گیا جہاں صرف 5 روپے فیس تھی۔ لیکن یہاں پڑھائی کا کوئی سین نہیں تھا اور صرف انگلش کا ایک ہی مضمون تھا۔
انگلش اس کے لئے موت کی تلوار تھی، مشنری سکول میں پڑھنے کے باوجود اسے انگلش سے سخت نفرت تھی۔ بہر حال گورنمنٹ سکول میں چند ماہ پڑھنے کے بعد اس نے بڑی مشکل سے کلاس ششم کے چند ماہ کی ہی پڑھائی مکمل کی تھی کہ گورنمنٹ نے سکول مشن کو واپس کر دیا اور اسے دوبارہ چند ماہ مشنری سکول میں گورنمنٹ کی فیس پر کلاس 6 مکمل کرنے دی گئی۔ وہاں اسے پھر مشکلات کا سامنا رہا اور بڑی مشکل سے کلاس 6 شرطیکہ نمبروں سے پاس کی۔ زندگی نے پھر ایک موڑ بدلا اور اسے چند خاندانی وجوہات کی بناء پر کراچی آنا پڑا۔ جہاں ایک مرتبہ پھر اسے انگلش میڈیم اسکول میں 7 کلاس میں داخل کروایا گیا۔
یہاں اتنے زیادہ مضامین اور وہ بھی انگلش میں اور تو اور انگلش کے بعد اس کا اور بھی دشمن یعنی کمپیوٹر جو سمجھ میں آنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا نئی مصیبت بن کر کھڑا تھا۔ یہ سکول اس کے لئے بہت عجیب دور تھا، جہاں نیا ماحول، نئی سوچ، نئے لوگ، نیا سلیبس، نیا شہر اور اتنی زیادہ کتابیں تھیں۔ خیر بڑی مشکل سے اس نے چند ماہ سکول میں گزارے۔ امتحانات کا وقت نزدیک تھا ایک مرتبہ پھر اس کے ساتھ وہی سین ہونا تھا جو ہر سال ہوتا تھا اور اس مرتبہ تو اس کے والد صاحب بھی اس کے ساتھ رہتے تھے۔
ایک نیا ڈر، خوف اور دہشت، زندگی نے ایک مرتبہ پھر بازی پلٹی اور وہ گھریلو وجوہات کی بناء پر سکول کو جاری نہ رکھ سکا۔ ایک طرح سے اس کی بچت ہو گئی۔ پھر کیا، گھر والوں کا ہاتھ بٹانے کی خاطر اس نے فیکٹری میں محنت مزدوری کرنا شروع کردی۔ پیسے کمانے کے دوران اور مختلف جگہوں پر کام کرنے کے بعد اس نے اندازہ لگا لیا کہ ایسے کام نہیں چلے گا۔ اسے کچھ منفرد کرنا پڑے گا۔ اسے بڑا آدمی بننا ہے۔ وہ ایسے زندگی بسر نہیں کر سکے گا۔ اسے خوب محنت کرنا ہوگی۔
فیکٹری میں ایک واقعہ پیش آنے کی صورت میں اس نے پختہ ادارہ کر لیا کہ وہ دوبارہ پڑھے گا لیکن اس بار اپنے اخراجات خود اٹھائے گا۔ اس نے اپنی بہن سے یہ آئیڈیا شیئر کیا جس نے اسے گھر کے قریب ہی ایک پرائیویٹ سکول میں کلام نہم میں داخل کروا دیا۔ اب وہ صبح سکول جاتا اور شام کو کام کرتا تھا۔ اس سکول میں بھی انگلش میں ہر مضمون اور وہ بھی سائنس کے، او مائی گاڈ!
یہاں زندگی میں پہلی بار اس کا پڑھنے کو دل چاہا اور اس نے نہم کلاس کا امتحان دیا، ایک پیپر میں فیل ہونے کے باوجود بھی اس نے ہمت نہ ہاری اور میٹرک کی پڑھائی جاری رکھی۔ ٹیوشن سینٹر اور کچھ ٹیچرز کی مدد سے اس نے میٹرک کا امتحان بی گریڈ سے پاس کر لیا۔ یہ بالکل ایسے ہی تھا جسے کسی نے اولمپک میں گولڈ میڈل جیت لیا ہو، کیونکہ اس کے خاندان میں وہ پہلا لڑکا تھا جس نے نئی نسل میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے والد نے اس خوشی میں 4 دیگیں چاول کی پکوائیں اور جشن منایا۔
میٹرک کے امتحانات کے بعد وہ فارغ تھا اس لئے انگلش لینگوئج کورس کیا اور ساتھ ہی فرسٹ ائر پری میڈیکل میں کالج میں داخلہ لے لیا۔ اب وہ محنت مزدوری کر کے اپنے اخراجات پورے کر رہا تھا اس لیے پڑھائی کا شوق پیدا ہو گیا۔ بنیادی تعلیم کمزور ہونے کی وجہ سے اسے انٹر میں بے شمار مرتبہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انگلش نے تھوڑا بہت اعتماد پیدا کر دیا تھا۔ فزکس، کیمسٹری، بونٹی اور زولوجی اس کے پلے نہیں پڑ رہی تھیں۔ وہ تین سال انٹر میں فیل ہوتا رہا اور آخر
کار ایک مرتبہ پھر آخری چانس پر انٹر میں پاس ہو گیا۔ میڈیکل بالکل بھی اس کی سوچ اور نیچر سے میچ نہیں کرتی تھی۔ لیکن والدین کی خواہش کی تکمیل کے لئے اسے قربانی دینی پڑ رہی تھی۔ انٹر مکمل کرنے تک وہ اخبار پڑھنے کی عادت ڈال چکا تھا، دیگر مثبت سرگرمیوں میں شامل ہو چکا تھا اور چند ایک کورسز بھی کرچکا تھا۔ اب وہ ایک جگہ نوکری پر بھی لگ گیا تھا۔ اس سے قبل ٹیوشن، سکول میں پڑھانے اور محنت مزدوری کر کے وہ گزارہ کر رہا تھا۔
اب خاندان کی ذمہ داری بھی اس پر تھی۔ اس نے ایک مرتبہ پھر میڈیکل میں طب آزمائی کی اور B۔ Sc میں ایڈمیشن لے لیا۔ جاب کے ساتھ ساتھ پڑھائی کرنا کافی مشکل تھا، لیکن وہ لگا رہ۔ 5 سال مسلسل بی ایس سی میں فیل ہونے کے بعد اس نے بی اے کا امتحان دیا اور فرسٹ ڈویژن میں پاس کر لیا۔ اب تک وہ لکھنے پڑھنے، مختلف کورسز، ٹریننگز اور سیمینار کے ذریعے اپنی شخصیت میں اعتماد پیدا کر چکا تھا۔ زندگی کے دیگر معاملات بھی ساتھ ساتھ چلتے رہے لیکن وہ روکا نہیں۔ MA کا امتحان دیا تو اس میں بھی آخرکار پاس ہو گیا۔
پھر ٹرینر بننے کا سوچا۔ وقت اور حالات نے موقع دیا تو اس نے MBA میں ایڈمیشن لے لیا اور ساتھ ہی CSS کا امتحان دیا۔ ناکام
ہو نے کے باوجود تجربات شاندار رہے۔ اور تعلیمی سلسلہ مختلف طریقوں سے جاری رہا۔
وہ بچہ جو خاموش طبع، ست، کمزور، نالائق، فیل ہونے والا، پڑھنے لکھنے سے عاری، آج ایک ایجوکیٹر، ٹرینر، لکھاری اور موٹیویشنل اسپیکر ہے۔ اس کے مطابق اس نے زندگی میں سیکھا ہے کہ کبھی حالات کے آگے ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ مسلسل محنت اور جد و جہد جاری رکھیں گے تو کامیابی آپ کا مقدر ہو گی۔ اس کے مطابق خود کو ہمیشہ بہتر سے بہتر بنانے کی عادت اسے اچھا انسان بننے میں مدد کرتی رہی ہے۔ آج وہ بچہ ایک کامیاب انسان ہے جو ہر روز زندگی میں ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے۔
کہتے ہیں کہانی سننا ایک فن ہے، اور کہانیاں بالکل بچوں کی طرح ہوتی ہیں۔ جو وقت، حالات اور واقعات کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہیں۔ ایسے ہی اس بچے کی کہانی ہے جو ہر روز زندگی میں نئے باب کا اضافہ کر رہا ہے۔ میں جب بھی اس ”بچے“ سے ملتا ہوں تو اسے یاد دلاتا ہوں کہ تمہاری کامیابی اور مسلسل جد و جہد اپنی جگہ ایک شاندار کہانی ہے۔ میں تمہاری محنت، لگن اور عزم کو سراہتا ہوں لیکن ایک بات یاد رکھنا کبھی بھی اس کہانی کو یہیں پر رکنے مت دینا، لوگوں کی باتوں، تنقید، الزامات، رکاوٹوں اور سازشوں کے باوجود مسلسل آگے ہی آگے بڑھتے رہنا، اپنا موازنہ کسی دوسرے کے ساتھ مت کرنا، خود کی خود سے ہی تلاش کرنا، اور اپنی کامیابی کو کبھی The End نہ سمجھنا، کیونکہ تم عظیم منزل کے مسافر ہو، تمہاری منزل بہت دور ہے اور آخری بات یہ مت بھولنا ”It is just the beginning۔“


