رزق

اس نے زندگی میں اتنی بھوک دیکھی تھی کہ اب جب کھلا رزق ملا تو ہاتھ بھی کھل گیا۔ اس کے گھر میں ہمیشہ کھانا کم پڑ جاتا تھا، بہن بھائیوں میں لقمے لقمے اور چائے کے گھونٹ گھونٹ پر لڑائی ہوا کرتی تھی۔ اس ڈر سے ہمیشہ آٹا کم گوندھا جاتا کہ کہیں جلدی ختم نہ ہو جائے۔ روٹیاں محدود تعداد میں بنتی تھیں اور کھانے والوں کی بھوک لا محدود تھی۔
ایک بار اس کی بہن اور بھائی میں اس بات پر لڑائی ہوئی کہ تمہاری چائے کی پیالی بڑی تھی تو تم نے مجھ سے چند گھونٹ زیادہ چائے پی لی۔ لڑائی زبانی کلامی واروں سے ہوتی بہن کے بالوں تک پہنچ گئی اور پھر بہن کے دھکے سے دروازے سے ٹکرا کر بھل بھل لہو بہاتے بھائی کے سر تک۔
خدا نے شکل اچھی دی تھی تو نصیب ایک کھاتے پیتے گھر میں جڑ گیا۔ سسرال میں آسانی تھی۔ جب بھی آٹا گوندھنے لگتی اسے یہی ڈر رہتا کہ کہیں کم نہ پڑ جائے۔ اس لے مٹھی بھر مزید آٹا ڈال دیتی، پھر بھی لگتا کہیں کم نہ پڑ جائے یہی سوچ کر ایک اور مٹھی ڈال دیتی۔ اور ایسا کرتے کرتے پرات آٹے سے بھر جاتی۔ یہی حال روٹی بناتے وقت ہوتا۔ کم پڑ جانے کے ڈر سے وہ ایک کے بعد ایک روٹی پکائے جاتی۔ سالن دیگچی بھر کے بناتی تو چائے پتیلی بھر کے۔
گھر میں کھانے والے چار جی تھے جن میں سے اس کی نند کی خوراک تو چڑیا جتنی تھی۔ باقی بھی کتنا کھا لیتے۔ اتنا زیادہ بچا ہوا کھانا دیکھ کر اس کی ساس کو رزق کے ضیاع پر افسوس ہوتا۔ اس نے سوچا کہ بھرے گھر سے آئی ہے جہاں ماں باپ بہن بھائی، دادی ملا کر کل چودہ افراد بنتے تھے اس لیے کھانا زیادہ پکانے کی عادت ہے۔ پہلے پہل پیار سے سمجھایا۔ پر اثر نہ ہوتا دیکھ کر وہ چڑنے لگیں۔ بات ڈانٹ ڈپٹ سے ہو کر طعنوں تک جا پہنچی کہ تمہارے باپ کے گھر سے نہیں آ رہا جو یوں رزق اجاڑ رہی ہو۔
پہلے پہل تو وہ چپ رہتی آہستہ آہستہ اس کی زبان بھی کھلنے لگی۔ ساس کو جب دوبدو جواب ملنے لگا تو وہ بھی آپے سے باہر ہونے لگی۔ ایک دن بات بڑھتے بڑھتے اتنی بڑھ گئی کہ ساس نے بازو سے پکڑ کر دروازے کی طرف گھسیٹنا شروع کر دیا کہ نکلو میرے گھر سے تم سب اجاڑنے آئی ہو اب ایک منٹ برداشت نہیں کروں گی۔ یہ دیکھ اس کے تو اوسان خطا ہو گئے۔ پھر سے بھوک کا جن آنکھوں کے سامنے ناچنے لگا وہ دوبارہ اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اس نے ساس سے خود کو چھڑانے کے لیے زور لگانا شروع کر دیا اس کی ساس لاکھ صحت مند سہی پر ایک ادھیڑ عمری سے نکل کر بڑھاپے کی حد کو چھوتی خاتون اور ایک بیس سال کی جوان جہان لڑکی کی طاقت کا کیا مقابلہ۔ اس نے ساس کو زمین پر گرا لیا۔ خود کو ہارتے دیکھ کراس کی ساس اب دھمکیوں پر اتر آئی تھی کہ آنے دو میرے بیٹے کو میں اسے سب کچھ بتاؤں گی تمہیں گھر سے نکلوا کر رہوں گی۔ اس دھمکی نے اس کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا۔ کچھ بھی ہو اسے واپس میکے نہیں جانا تھا۔ اس نے کچھ سوچا اور پھر ہاتھ بڑھا کر قریب دھری چارپائی سے تکیہ اٹھایا اور ساس کے منہ پر رکھ دیا۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنے شوہر کو روتے ہوئے فون کر رہی تھی۔
” آپ جلدی گھر آئیں۔ امی بے ہوش ہو کر گر گئیں۔ میں نے انہیں بہت مشکل سے اٹھا کر بستر پر ڈالا ہے وہ ہوش میں نہیں آ رہیں، وہ سانس بھی نہیں لے رہیں۔ آپ بس جلدی آئیں۔

