لیکچرر بننے کا میرا ادھورا خواب
”چوبیس نومبر 2019 کے اخبار میں سندھ پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار کے لیے کچھ آسامیوں کا اشتہار آیا ہوا تھا۔ میں نے اسے موقع غنیمت جانتے ہوئے معذور کوٹا رورل میں اردو لیکچرار کے لیے اپلائی کیا۔ رورل کی صرف دو سیٹس تھی۔ سترہ مارچ 2021 بدھ کے دن ٹیسٹ۔ ہوا۔ 8 دسمبر 2022 کو رزلٹ آیا میں نے کی کے مطابق رزلٹ چیک کیا تو الحمدللہ میرے نمبر 72 بنے۔ اس ٹیسٹ میں سندھ سے ٹوٹل سپیشل پرسن صرف 13 پاس ہوئے تھے۔
مئی 2023 میں سندھ پبلک سروس کمیشن والوں کی آفس سے کال آئی کہ اپنے ڈاکومنٹس بھیج دے۔ انٹرویو کے لیے اٹیسٹ کیے ہوئے سندھ پبلک سروس کمیشن والوں کو میں نے ڈاکومنٹس بھیج دیے۔ 12 جون 2023 پیر کے دن سیکرٹیریٹ کراچی میں اردو لیکچرار کے انٹرویو شروع ہوئے میرا 23 جون 2023 شیڈول کے مطابق حیدرآباد سینٹر میں انٹرویو تھا لیکن 15 جون کی کال آئی کہ آپ کا انٹرویو 16 جون بروز جمعہ کے دن ہو گا یہ سن کر میرا ہوش اڑ گیا میرے حواس باختہ ہو گئے۔
مجھے یقین نہیں آیا۔ اس لیے دوبارہ کال کر کے پوچھا کہ سر میرا انٹرویو شیڈول کے مطابق 23 جون حیدرآباد میں رکھا گیا ہے پھر یہ اچانک کال کر کے پریشان کر دیا کہیں آپ سے کوئی غلطی تو نہیں ہوئی۔ آگے سے جواب آیا کہ نہیں۔ کل 16 جون کو آپ کا انٹرویو ہے صبح 9 بجے پہنچ جانا۔ اب میں ساکت ہو گیا۔ کافی دیر بعد ہوش میں آیا اور خود کو کہنے لگا کہ بھائی دو تین سال انتظار کیا ہے ابھی حیدرآباد سے کراچی جانا ہمارے لیے سوہان روح تھا۔
لیکن جانا تو پڑے گا۔ کیوں کہ میری زندگی کا اہم فیصلے کا دن تھا میری منزل بھی یہی ہے۔ خیر 16 جون صبح 9 بجے سندھ سیکریٹریٹ کراچی پہنچا۔ 9 : 30 بجے اوریجنل ڈاکو مینٹس چیک کر کے ہال میں بیٹھنے کو کہا گیا۔ ادھر ادھر نظر گھمائی تو جنرل میرٹ والوں کے ساتھ سب اسپیشل پرسن کو بھی بلایا ہوا تھا۔ میں نے گنے تو ٹوٹل 13 تھے جنہوں نے ٹیسٹ کوالیفائی کیا تھا۔ صبح سے 1 بجے تک جنرل میرٹ پر جو آئے تھے ان کا انٹرویو لیا گیا۔
باقی ہم صرف 13 لوگ رہ گئے تھے۔ دوپہر 2 بجے ہم چھ بندوں کو بلایا باہر کرسی پر بیٹھنے کو کہا گیا۔ میں آخری چھ نمبر والی کرسی پر بیٹھا گیا۔ جو پہلی کرسی پہ بیٹھا تھا سب سے پہلے ان کو اندر بلایا میں نے ٹائم نوٹ کیا تو 2 : 06 منٹ ہوئے تھے۔ دو منٹ کے بعد واپس آ گیا پھر دوسرا گیا وہ بھی بمشکل تین سے چار منٹ لگے اس طرح چوتھے کی باری آئی۔ میں سوچ رہا تھا یہ انٹرویو لے رہے ہیں یا ہم سے اٹھکلیاں کھیل رہے ہیں۔ 2 : 22 منٹ میں چار بندوں کو فارغ کر دیا 2 : 23 منٹ پر مجھے بلایا مجھے سے موبائل لیا گیا۔
سندھ پبلک سروس کمیشن میں اردو لیکچرار کے لیے میرا انٹرویو۔
(ڈس ایبل کوٹا)
بتاریخ 23۔ 6۔ 16
بروز جمعہ
سلام کیا۔ سب نے جواب دیا۔
چیئرمین صاحب نے بیٹھنے کو کہا اور سوال کیا کہ محمد یونس آج کل کیا مصروفیات ہیں؟
میں۔ سر آج کل اپنے گاؤں میں پرائمری استاذ ہوں اور درس و تدریس کے فرائض سر انجام دے رہا ہوں۔
چیئرمین صاحب۔ اچھا پرائمری ٹیچر ہے۔ جی سر مجھے 8 ماہ ہو گئے ہیں۔ یہ کہہ کر چلے گئے۔
ماہر مضمون۔ نے پہلا سوال کیا کہ۔
حیدرآباد کے نشریاتی اداروں کا اردو میں فروغ کس نے دیا؟
میں۔ سر معذرت
ماہر مضمون۔ مولانا ظفر علی کو پڑھا ہے؟
میں۔ جی سر
ماہر مضمون۔ وہ بطور کیا تھے۔
میں۔ سر صحافت کرتے تھے۔
ماہر مضمون۔ اس کے علاوہ کیا کرتے تھے۔
میں نے کہا سر شاعر تھے۔
ماہر مضمون کس قسم کی شاعری کرتے تھے۔
میں۔ معذرت سر۔
ماہر مضمون۔ سید ثابت علی کو پڑھا ہے۔
میں جی سر۔
ماہر مضمون۔ کیا تھے۔
میں۔ سر شاعر تھے۔
ماہر مضمون۔ کس قسم کی شاعری کرتے تھے
میں نے معذرت کی۔
ماہر مضمون۔ آپ کو غزل پسند ہے یا نظم۔
میں۔ سر دونوں پسند ہیں۔
ماہر مضمون۔ رباعی میں دل چسپی رکھتے ہیں۔
میں۔ سر رباعی پڑھی ہے لیکن خاص دل چسپی نہیں۔
ماہر مضمون۔ یہ الفاظ جا کر باہر کسی کو کہنا آپ لیکچرار بننے جا رہے ہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے۔
میں۔ جی سر آپ کی بات پر اتفاق کرتا ہوں۔ الطاف حسین حالی کی نعت سنا سکتا ہوں۔
ماہر مضمون۔ اچھا سنائیں۔
میں۔ الطاف حسین کی نعت کا ایک شعر سنایا (وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا)
ماہر مضمون۔ آپ نے کس یونی ورسٹی سے ڈگری کی ہے۔
میں۔ سر سندھ ورسٹی سے۔
ماہر مضمون۔ ریگولر یا پرائیوٹ؟
میں سر پرائیوٹ۔
ماہر مضمون۔ اوہ اوہ پھر آپ کو یہ سوال کہاں آئیں گے۔
ماہر مضمون۔ آپ کو نثر میں کیا پسند ہیں۔
میں۔ سر ناول۔ افسانہ اور سفرنامہ۔ پسند ہیں۔
ماہر مضمون۔ مستنصر حسین کو پڑھا ہے۔
میں۔ جی سر۔
ماہر مضمون ان کے کوئی سفر نامے بتائیں۔
میں۔ سر۔ کے ٹو کہانی۔ نانگا پربت۔ دیو سائی۔ سنو لیک۔ ہنزہ داستان۔ چترال داستان۔ کالاش۔ رتی گلی۔ آٹھ سفر نامے بتائے نو بھی بتانے والا تھا تو۔ ماہر مضمون نے سوال کیا۔
ماہر مضمون۔ مستنصر حسین سندھ آئے تھے۔
میں۔ جی سر
ماہر مضمون۔ ان کا کوئی سفرنامہ؟
میں سر اور سندھ بہتا رہا۔
ماہر مضمون۔ سلیبس پڑھا ہے۔
میں۔ جی سر
ماہر مضمون۔ سلیبس میں کوئی اس کا حصہ ہے۔
میں۔ جی سر تھر کی نادیہ بچی کا بتانے لگا تو ماہر مضمون کہنے لگا بس بس مجھے پتہ لگ گیا کہ آپ کا پڑھا ہوا ہے۔ اب میڈم کی طرف اشارہ کیا۔
میڈم۔ آپ کو جیوگرافی پسند ہے؟
میں۔ میں سوچنے لگا کہ اگر (ہاں ) کہتا ہوں اور سوال کریں پھر جواب نا دے سکو تو یہ میرے لیے باعث شرمندگی ہوگی۔ پھر سوچ کر جواب دیا کہ نہیں میڈم۔
میڈم۔ آپ کو کیا پسند ہے۔ کیا پسند کرتے ہیں؟
میں۔ میڈم مجھے پاکستان کے شمالی علاقے بہت پسند ہیں۔
میڈم۔ آپ گئے ہیں؟
میں۔ جی میڈم۔
میڈم۔ کیا کیا دیکھا ہے؟
میں۔ میڈم میں نے رتی گلی ٹریک کیا ہے۔ فیری میڈوز۔ جاز بانڈا اڑنگ کیل۔ ہنزہ۔ سکردو۔ چترال کالاش۔ دودی پت۔ دیو سائی مطلب پاکستان کا ہر کونہ کونہ بتایا۔
میڈم۔ آپ کو سب سے اچھی جگہ کون سی لگی؟ اور کیوں؟
میں۔ میڈم ہنزہ بہت اچھا لگا کیوں کہ ہنزہ میں تعلیم کی شرح بہت زیادہ ہے۔ لیکن انسانیت کی شرح اس سے بھی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ہنزہ میں۔ امن۔ محبت۔ خوش اخلاقی ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ بہت ہے۔ ہر شخص پڑھا لکھا ہے۔ جرائم ناپید ہیں خواتین کو تنگ کرنے کا معاملہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ صفائی پسند لوگ ہیں۔
میڈم۔ آپ کو لیفٹ لیگ میں پولیو ہیں اور آپ نے مشکل ٹریک کیے ہیں یہ آپ کی ہمت ہیں۔
میں۔ میڈم یہ اللہ کا کرم ہے جس نے مجھے ہمت دی اس کی عنایات مہربانیاں ہیں۔ اور مجھے کاہل اور سست ہو کر ایک جگہ پر بیٹھنا اچھا نہیں لگتا۔
میڈم ماہر مضمون کو کہا کہ اور کچھ۔ ماہر مضمون نے کہا بس۔ میڈم نے کہا بیٹا اب آپ جا سکتے ہیں۔
میں۔ شکریہ میڈم۔ یہ بول کر کمرہ سے باہر نکل کر ٹائم دیکھا تو 2 : 45 منٹ ہوئے تھے۔
اور ہاں آخر تک چیئرمین صاحب نہیں آئیں۔ شروع میں جو پوچھ کر چلا گیا تو پھر واپس نہیں آئے۔
مجھے مکمل یقین تھا کہ میرا انٹرویو باقی لوگوں سے اچھا ہوا ہے۔ اردو لیکچرار کے آخری انٹرویو 23 جون تک ہوئے۔ 26 جون پیر کے دن انٹرویو رزلٹ کی فہرست لگی تو میرا اس میں نام ہی شامل نہیں۔ مجھے سخت مایوسی ہوئی۔ لیکن فہرست دیکھتے ہوئے سب سے زیادہ حیرانی اس بات کی ہوئی کہ جس بندے کا سیٹ نمبر جنرل میرٹ میں ہے تو۔ اسپیشل پرسن کوٹہ میں کیسے پاس ہوا؟ اور جس بندے کا رول نمبر اور نام تھا اس سے میری رزلٹ آنے سے پہلے میری اچھی گفتگو ہوئی تھی اور میں نے ان سے پوچھا کہ آپ سے کون سے سوالات پوچھے تو کہنے لگا میرا انٹرویو صرف پانچ منٹ کا ہوا اور یہ سوال پوچھے۔
س۔ حمد کسے کہتے ہے۔
س۔ نعت کسے کہتے ہے۔
س۔ منقبت کسے کہتے ہے۔
س۔ قصیدہ کسے کہتے ہے۔
س۔ اردو کی پہلی شاعرہ کا نام۔
بندے کا جواب۔ سر ماہ لقا چندہ تو میڈم نے کہا کہ نہیں۔ پھر سوری کہہ کر کہنے لگا کہ ادا جعفری پھر میڈم نے کہا کہ گڈ۔ آپ جا سکتے ہے۔ اب اس بندے کا انٹرویو ہوا ہے۔ اور اس کا سیٹ نمبر جنرل میرٹ میں ہے۔ افسوس اس بات کا ہو رہا ہے کہ جب سندھ پبلک سروس کمیشن والوں نے سب اسپیشل پرسن کو 16 جون کو بلایا ہے تو ان کو ایک دن پہلے یعنی 15 جون کو بلا کر الگ سے انٹرویو لیا گیا۔ ایسا کیوں ہوا؟
میں اس وجہ سے مایوس نہیں کہ میں ناکام ہوا۔ بلکہ اس وجہ سے مایوس ہوں کہ آخر اس گلے سڑے اور بوسیدہ سفارشی نظام سے نکلنے کا کوئی راستہ ملے گا یا مجھ جیسے لوگ جن کے پاس قابلیت تو ہے لیکن سفارش نہیں وہ یونہی دھکے کھاتے اور نا انصافی کا شکار ہوتے رہیں گے؟
میں یہاں اپنی معذوری یا لاچارگی کا رونا نہیں تو رہا۔ بلکہ ہمارے نظام کی بوسیدگی سے آگاہ کرنا چاہ رہا ہوں جو رفتہ رفتہ ہمیں دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ خیر اچھا برا وقت چھپن چھپائی کے کھیل کی طرح چلتا رہتا ہے۔ بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہوا کرتی ہے۔ لیکن میرے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے نے میری تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے ہمارے ارباب اختیار ایک ایسے اندھیرے کی نذر ہو چکے ہیں جہاں سے روشنی کا کسی صورت گزر نہیں۔
کہاں ہیں انصاف کے علمبردار؟
کہاں ہیں اسپیشل پرسن کو معاشرے کا اہم حصہ بنانے کا دعویٰ کرنے والے سیاستدان؟
کوئی ہے جو اس نا انصافی کو روکے؟
اسپیشل پرسن کے باوجود تعلیم کی آخری حدوں کو مکمل کرنے کے باوجود بھی مجھے سفارش اور رشوت کے کلچر کی نذر کیا جا رہا ہے۔ کیا پاکستان کی کوئی عدالت یا اسپیشل پرسن کے حقوق کی علمبردار کوئی تنظیم اس کا نوٹس لے گی؟ ”
ایسا کیوں ہوا کے سوالات کی گونج ابھی تک میرے دل و دماغ پر قائم ہے۔ کاش کہ میں خود کو ان سوال کا کوئی جواب دے سکتا۔ شاید آپ احباب میں سے کوئی ایسا عظیم انسان ہو جو انصاف دلا سکے۔ اور معاشرے کے ایک اہم فرد کو مایوسی کی گہرائیوں میں گرنے سے بچا سکے۔





