سوشل میڈیا اور آرٹ


میں نے گزشتہ مضامین میں سوشل میڈیا کی پیچیدگی کے کچھ پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں آرٹ اور سوشل میڈیا کے تعلق کو بیان کرنا سب سے مشکل ہے۔ سوشل میڈیا ایک طرح سے آرٹ کی ایک صورت ہے اور یہ اس کے اظہار کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اس دوہرے تعلق کی وجہ سے کسی ایک پہلو کو لے کر چلنا مشکل امر ہے کیونکہ اس نے آرٹ کے ایک صورت کے طور پر پذیرائی حاصل کی ہے ساتھ ہی آرٹ کی مختلف صورتوں کو بھی اپنے اندر سمو لیا ہے۔

تاہم اس کا سب سے بڑا انقلابی پہلو آرٹ کو نقادوں کے ایک مخصوص حصے سے آزادی دلانا ہے۔ اس سے پہلے کسی آرٹ کی کسی بھی صورت کو بطور آرٹ مقام دلانے کے لئے اس سے وابستہ افراد کی رائے اہمیت رکھتی تھی۔ اب ایسا نہیں ہے، سوشل میڈیا پر آپ کے فالورز ہی فن کی مقبولیت متعین کریں گے۔ اس سے آرٹ کی ہیئت اور اظہار میں ایک ایسی تبدیلی ہوئی جس سے ہر کوئی آرٹسٹ بن کر ابھرا ہے۔ آپ کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر آپ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ جس سے آرٹ ایک غیر متعین ہیئت اختیار کر گیا ہے۔

پاکستان میں تصور آرٹ کو مابعد جدیدیت نے چیلنج کیا۔ مابعد جدیدیت کے نزدیک آرٹ کا ہمہ گیر بیانیہ نہیں ہے۔ اس خیال نے پاکستانی آرٹ کو قدرے آہستہ متاثر کیا پھر بھی اس میں اطالوی فن کار موریزو کاٹلین کے شہکار کیلے کے پھل کو بطور آرٹ کی طرز پر کچھ بھی سامنے نہیں آیا۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جس میں سب سے بڑی معاشرے میں مذہب کے ہمہ گیر بیانیہ کی صورت میں موجودگی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں مابعد جدیدیت کی بدولت اخلاقیات، سچ اور مذہب انفرادی قدر کی حد تک محدود ہو گئے ہیں جس پر کسی فرد، مذہب یا ادارے کی اجارہ داری نہیں۔

پاکستان میں ایسا نہیں ہے لوگوں کی اکثریت کسی صورت میں مذہب کو دنیا اور حقیقت بیان کرنے پر اجارہ داری حاصل ہے جس میں انفرادی تفسیر کی کسی حد تک اجازت ہے لیکن بعض صورتوں میں وہ بھی ممکن نہیں ہے۔ ان حالات میں آرٹ کا کسی حد تک ہمہ گیریت کا مدعی ہونا حیران کن بات نہیں ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کی آمد اور پذیرائی سے یہ صورت حال یکسر تبدیل ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا نے پاکستان میں آرٹ کو ہمہ گیر بیانیے سے آزاد کر دیا ہے۔ آپ کسی بھی جملے، مصوری، انداز اور پہلے سے موجود شے کی نقل کر کے اسے اپنے قالب میں ڈھال کر پیش کر سکتے ہیں جسے آرٹ کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اس کی دو مثالیں پی ایس ایل کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والے چاہت علی خان اور ان سے پہلے ناصر جانی ہیں۔ دونوں نے پہلے سے موجود آرٹ کو نقل کر کے اپنے انداز میں پیش کیا جس کو لوگوں نے تفریح کا درجہ دیتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں دیکھا۔

اس پر نشر کرنے والے، جانچ پڑتال، سرمایہ دار کسی کی کوئی گرفت نہیں ہے۔ یہ سوشل میڈیا کی بدولت ممکن ہو سکا ہے۔ مابعد جدیدیت میں آرٹ کا تصور جدیدیت کے ہمہ گیر بیانیے سے مربوط ہے کیونکہ اس کی کوئی آزاد حیثیت نہیں ہے۔ مابعد جدیدیت میں آرٹ جدیدیت کے خلاف ردعمل میں ابھرا جو بعد ازاں مروجہ اصولوں کی گرفت میں آ گیا۔ لیکن سوشل میڈیا کی بدولت مابعد جدیدیت آرٹ نے ہمارے معاشرے میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ آرٹ کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے کسی درمیانی کی ضرورت نہیں۔ آرٹ کی کوئی بھی صورت آپ انٹرنیٹ کی مدد سے دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔

مابعد جدیدیت میں Kitch کی اصطلاح مستعمل ہے جسے اردو میں نمائشی ادب کہا جا سکتا ہے تاہم کوئی ترجمہ اس خیال کو پورے طور پر بیان نہیں کر سکتا۔ ایسا ادب پہلے سے موجود شے کو لوگوں کی داد حاصل کرنے کے لئے تخلیق کیا جاتا ہے جس کا کوئی خاص اہتمام ضروری نہیں۔ یہ تصور سوشل میڈیا آرٹ کی ہوبہو تصویر پیش کرتا ہے۔ ٹک ٹاک، فیس بک، یوٹیوب کسی پر بھی خال ہے حقیقی معنوں میں محنت کر کے آرٹ کی کوشش کرتا ہے۔ سب لائک کے لئے فکر مند ہوتے ہیں۔ کسی فلم کے بول پر لب ہلانے پر بھی آپ ایک آرٹسٹ سمجھے جائیں گے۔ سوشل میڈیا کے صاحب اثر افراد کی منفرد تخلیق کیا ہے؟

اس سب سے آرٹ کو سب سے بڑا نقصان یہ پہنچا ہے کہ یہ اب تصویر تک محدود رہ گیا ہے۔ آپ نے کوئی فن پارہ جیسے مجسمہ بنایا لیکن اس کی بجائے اس تصویر کو پذیرائی ملے گی۔ اس فن پارہ کے اصل حیثیت، اہمیت اور نوعیت کے متعلق اکثریت کو کوئی سروکار نہیں۔ اس آرٹ کا استعمال کرنے والے انفرادی صلاحیت کا احترام بھی نہیں کرتے۔ کسی دوسرے فنکار کا کام لے کر اسے اپنے انداز میں پیش کر دینے سے بھی آپ کی مقبولیت عین ممکن ہے کسی تخلیق کار سے بھی زیادہ ہو جائے۔

اس کی مثال چاہت علی خان صاحب ہیں جو اصل موسیقی کو اپنے انداز میں پیش کر کے لوگوں کو محظوظ کرتے ہیں۔ بہت لوگ ان کے اس فعل پر اعتراض ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے بنائے گئے مواد سے محظوظ ہوتے ہیں۔ ان کی ایک وڈیو کو سوشل میڈیا پر متعدد بار دیکھا جاتا ہے۔ کوئی بھی ان کے تخلیق کار ہونے سے متفق نہ بھی ہو لیکن آخر میں ان کے وڈیو کے لائک اور ان لائک ان کی مقبولیت کا ثبوت ہیں۔ آپ ان کو ناپسند کر کے بھی اتنا ہی مقبول بنا دیتے ہیں جتنا کسی کو پسند کر کے۔ یعنی پسند اور ناپسند موجودہ دور میں غیر متعین بن گئی ہیں۔

سوشل میڈیا آرٹ کی ایک ہیئت کے طور پر بھی سامنے آیا ہے جس سے انسان معاشرے میں اپنے تخلیق کار کو دنیا سے سامنے پیش کرتا ہے۔ اس میں رنگ، مذہب، عمر اور جنس کی کوئی قید نہیں ہے۔ آپ کوئی بھی ہوں ایک اکاؤنٹ بنا کر اپنے فن کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ اس میں وسائل کو بھی قید نہیں رہی ایک سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کنیکشن سے آپ کسی بھی قسم کا مواد تخلیق کر سکتے ہیں کسی کو بھی وہ پسند آ گیا آپ وائرل ہو گئے تو آپ اپنا مقام بنا لیں گے۔

اس کے لیے آپ کو کسی پیچیدہ مراحل سے بھی گزرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کا مواد تخلیق کرنے کی بھی کوئی حد نہیں۔ لیکن ایک طرح سے یہ اظہار محدود بھی ہے اور اسے بہت سے آرٹ کی دوسری صورتوں کو محدود کر دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں کو پیش کرنے کے لئے اس میڈیم کا سہارا لیں۔ مثلاً ایک شاعر، نقاد اور مصنف کو چارو نہ چار اس کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سوشل میڈیا ایک غالب ہیئت بن گیا ہے جس کا سامنا آئندہ سالوں میں ممکن نہیں ہو گا۔ یہ سچ، جھوٹ سب کا پیمانہ بن گیا ہے۔ جس سے مابعد جدیدیت کا تصور سچ (یعنی کوئی عالمگیر سچائی نہیں ) تیزی سے پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ اسی طرح آرٹ کیا ہے یہ بھی غیر متعین ہو گیا ہے سوشل میڈیا کی دنیا میں سب آرٹ ہے یعنی کچھ بھی آرٹ نہیں۔

Facebook Comments HS