سوشل میڈیا سے بدلتے صنفی رجحانات

سوشل میڈیا کے صنفی رویوں میں تبدیلی کے متعلق کچھ لکھنے سے پہلے صنف اور جنس کی وضاحت ضروری ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنس عورت اور مرد کی حیاتیاتی تخصیص جبکہ صنف مرد اور عورت کے متعلق معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں جنس اور صنف کو بیان کرنے میں مذہبی اور معاشرتی بیانیے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن درحقیقت جنس اور صنف کے متعلق معاشرتی بیانیہ مذہب کی نسبت کہیں زیادہ غالب ہے۔

Read more

سوشل میڈیا اور آرٹ

میں نے گزشتہ مضامین میں سوشل میڈیا کی پیچیدگی کے کچھ پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں آرٹ اور سوشل میڈیا کے تعلق کو بیان کرنا سب سے مشکل ہے۔ سوشل میڈیا ایک طرح سے آرٹ کی ایک صورت ہے اور یہ اس کے اظہار کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اس دوہرے تعلق کی وجہ سے کسی ایک پہلو کو لے کر چلنا مشکل امر ہے کیونکہ اس نے آرٹ کے ایک صورت کے طور پر

Read more

مذہب اور سوشل میڈیا

سوشل میڈیا نے زندگی کے ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ اس کا ایک نمایاں عکس مذہبی زندگی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ 1992 ء میں داخل ہوا، 2007 ء سے اس میں برق رفتار تیزی آنا شروع ہوئی اور کرونا کے بعد یہ روابط حتیٰ کہ مذہبی زندگی اور رسومات تک میں اہم حصہ بن گیا ہے۔ کسی بھی سوشل میڈیا ایپ کو دیکھ لیں آپ کو مذہبی اقوال، بحث اور گفتگو

Read more

سوشل میڈیا اور پاکستان میں تعلیم کے بدلتے رجحانات

پاکستان میں نظام تعلیم ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، اکثر مقامات پر سرکاری طور پر تعلیمی سہولیات میسر نہیں ہیں، انفراسٹرکچر غیر معیاری ہے حتیٰ کہ بعض اوقات سرے سے موجود ہی نہیں۔ پرائیویٹ تعلیمی سہولیات کمرشل بنیادوں پر عمل پیرا ہیں جن کی وجہ سے معیاری تعلیم کا انحصار بساط پر مبنی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں بھرتیاں پرائیویٹ اداروں کی بہ نسبت اگرچہ ایک مشکل مراحل سے گز ر ہوتی ہے لیکن سہولیات کی عدم موجودگی کی بنا پر

Read more

سوشل میڈیا کی تصویری دنیا

ہمارے اردگرد کے ماحول کے ادراک میں دیکھنے کی حس کو بہت عمل دخل حاصل ہے۔ قدیم دور میں لوگ خاص واقعات کو حافظے کا حصہ بنا کر مصوری کے ذریعے محفوظ کرلیتے تھے۔ یہ عمل پیچیدہ ہونے کے ساتھ انسانی ادراک پر انحصار کرتا تھا جس کی بدولت اکثر اوقات مصوری کے کسی بھی فن پارہ کی بنیاد پر حقائق کی تصدیق یا تردید کرنا مشکل عمل ہے۔ اہل علم نے اس مسئلے کے مستند حل کی تلاش جاری

Read more

سوشل میڈیا کی اخلاقیات

مابعد جدیدیت کے بارے میں ایک عمومی غلط تاثر یہ ہے کہ اس کی کوئی اخلاقیات نہیں ہے۔ مابعد جدیدیت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس بات کی تخصیص کی جائے کہ یہ اصطلاح کس طرح سے استعمال ہوتی ہے، اس کے اولین فلسفیوں میں ژاں لیوٹارڈ نے مابعد جدیدیت کو جدیدیت سے پیدا ہونے والی کیفیت یعنی پوسٹ ماڈرنٹی اور اس سے نتیجے میں جنم لینے والے فلسفے کو پوسٹ ماڈرن ازم کے نام سے تفریق کیا۔

Read more

سوشل میڈیا کی زبان

کرہ ارض کے ہر خطے اور علاقے کی طرح سوشل میڈیا کی بھی ایک مخصوص زبان ہے جس کے بنیادی فریم ورک کے تحت سوشل میڈیا ایپ کام کرتی ہیں۔ اس سے مراد وہ زبان نہیں جس سے ہم اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں بلکہ وہ زبان ہے جس کے تحت سوشل میڈیا ایپ فنکشن کرتی ہے (لائک، کمنٹ، شیر) ۔ گزشتہ صدی کے بعد از جدیدیت کے عظیم فلسفی مائیکل فوکو نے خیال پیش کیا کہ ’زبان اپنی

Read more

جدیدیت، بعد از جدیدیت اور سوشل میڈیا

حسن عسکری نے پاکستانی معاشرے کو پیش نظر رکھتے ہوئے جدیدیت پر ایک مختصر مگر جامعہ کتاب بعنوان ’جدیدیت‘ تحریر کی۔ اس کی اشاعت 1997 ء میں ہوئی جبکہ دنیا کے دوسرے حصوں میں جدیدیت سے بعد از جدیدیت کے بحث جاری تھی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ جدیدیت کے اثرات پاکستانی معاشرے میں دیر سے پہنچے بلکہ اس کے اثرات تو ترقی پسند مصنفین کے تحریرات کے ذریعے پہلے کے پھیل چکے تھے لیکن حسن عسکری نے جدیدیت کے

Read more

کیا سوشل میڈیا پر صاحب اثر کی کوئی حد ہے؟

مشہور کہاوت ’پر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی‘ سوشل میڈیا پر صادق آتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا کے استعمال کی بے قاعدگیوں کو موضوع تحریر بنایا جا رہا ہے۔ لیکن جس طرح سوشل میڈیا کو ذریعہ معاش بنانے والے افراد دیگر لوگوں کی مختلف صورتحال کو اپنے مقاصد کے تحت استعمال کر کے اپنی فالونگ بڑھاتے ہیں اس کو روکنے کے لئے ابھی تک با ضابطہ لائحہ عمل نہیں بنایا جا سکا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایسا

Read more