صفدر زیدی کا ناول: "بنت داہر” اور بن قاسم

ناول کا انتساب مفتوح اقوام کے نام ہے۔
خود کلامی میں اپنے خلاف تھیسس کھڑا کیا گیا ہے
اور اختتامی انتساب کی روایت قائم کرتے ہوئے
راج کماری کو اس کا حق دار ٹھہرایا گیا،
اور پھر البرٹ کامیو کے قول کو جھوٹ اور سچ کی صلیب پر رکھے فکشن نگار نے اپنے ہنر کی تابانیاں دکھائی ہیں۔
ہر سامراج کے اپنے ظلمات ہوتے ہیں۔ لیکن ہر اچھے ناول نگار کے اپنے بحر ظلمات بھی ہوتے ہیں۔ بنت داہر دو کرداروں کے گرد گھومتی کہانی، دراصل دمشق اور دیبل کا قصہ ہے۔
مکالمات میں علم الانسان اور علم الابدان کی کہانی اور رموز کا انکشاف ہے۔ ایک رمز شناس گرو ہے اور اطاعت گزار چیلا اس کے سامنے دو زانو ہے۔ آپ اسے دو تہذیبوں کا مکالمہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ فاتح کا مفتوح بن کر رہ جانے کا منظر بھی کہا جا سکتا ہے۔ ناول بادشاہوں اور فاتحین کے شوق اور ان کے عیش کے خام مال (غلاموں ) کی داستاں ہے۔ اور خوبصورت کنیزوں کے گدرائے جسموں سے لذتیں کشید کرتے ہوئے فاتحین کی ان روحوں کے زخموں سے کھیلنے کا مکروہ قصہ بھی ہے۔
ہاں ان تہذیبوں کی عمر کا فرق مد نظر رہے۔
بن قاسم دو سو سال کی ثقافت کے نمائندہ ہیں اور بنت داہر کی تہذیبی عمر کئی ہزار سال ہے۔
تہذیبی جمال اور جلال دیکھنا ہو تو صفدر زیدی کا یہ ناول ضرور پڑھیے۔
اپنے ہیجان کو معنی اور ادراک کی سطحوں سے آگے نہ بڑھنے دیں گے تو کہانی اپنے بہت سے راز منکشف کرے گی۔ تاریخ کے راز بھی اور روح انسان میں ہمکتے لمحوں کے راز بھی۔
سندھ کی فتح پر لٹکائے روایتی بیانئے کب سے سوالوں کی زد میں ہیں۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن اہم سوال تو دیباچہ نگار نے پہلے ہی پوچھ لیے ۔ اس کے بعد جنگی خمار کے درمیان کے وقفوں کی داستان ہے۔ ناول کے بنیادی موضوع کے حق میں جواز تنقیدی سراغ رساں منان احمد آصف کی تحقیقی اور تنقیدی تصنیف، : The chahcnama:A Book of conquest and Muslim Origins in South Asia سے لیا گیا ہے۔
فکشن نگاری اور تاریخ کے حوالے سے صفدر زیدی اپنی بات کا اختتام کچھ یوں کرتے ہیں۔ گو کہ تاریخی ناولوں کی بطور خاص تاریخی اعتبار سے اس درجہ علمی حیثیت تو نہیں ہوتی لیکن وہ قارئین، دانشوروں اور پالیسی بنانے والوں کے اذہان میں کچھ سوال ضرور ابھار سکتے ہیں۔
یہ ناول تاریخ کو مسخ بھی کر سکتے ہیں اور تاریخ کی تار تار چادر میں پیوند کاری بھی کر سکتے ہیں۔
بنت داہر تاریخ کی تار تار چادر میں پیوند کاری کی کامیاب کوشش ہے۔ اگر مرکزی کرداروں کی نفسیات اور ان کے مکالموں پر غور کریں تو ہمیں اس حوالے سے تاریخ کا ایک الگ فہم حاصل ہوتا ہے۔ کچھ اہم اور ضروری سوال اٹھتے ہیں۔ جن کا جواب آہستہ آہستہ سہی تقدس اور ملامت کی مختلف سمتوں میں اٹھا کر رکھی گئی تاریخ کی کامیاب رفو گری شمار ہو گا۔
ناول میں مختصر کردار ہوں تو کہانی کا سرا ہاتھ میں رہتا ہے اور کردار شناسی مشکل نہیں ہوتی۔
صفدر زیدی نے اس ہنر کو سلیقے اور کمال ہنر مندی سے برتا ہے۔ دو بڑے کردار بن قاسم اور بنت داہر ہیں۔ ایک لمحے کو لگتا ہے کہ گفتگو مکالمے اور نشست و برخاست میں بن قاسم بیبا سا کیوں اور بنت داہر اس قدر ذہین کیوں ہے۔
ضرور اس میں مصنف نے ڈنڈی ماری ہے یا تعصب کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن میں نے اوپر جن سطور میں مکالمہ نگاروں کی تہذیبی عمر کا ذکر کیا ہے یہ مکالمہ اور گفتگو اسی بزرگ دانش اور جواں فہم کے درمیان ہے۔
بن قاسم عربی تہذیب کا نمائندہ ہے جو ابھی پنگھوڑے میں ہے۔ اور بنت داہر ہندی تہذیب کی نمائندہ ہے جس کے پاس کئی ہزار سال کی دانش ہے۔ بن قاسم بنی ثقیف کا یتیم نوجواں جس کے قبیلے نے بنو امیہ کے لیے اپنی جان سوز اور ایماں سوز وفاداری سے مقام حاصل کیا اور دربار تک رسائی پائی۔ لیکن افسوس کہ یہ رسائی اور تربیت وفاداری اور جنگ آزمائی تک محدود رہی۔ ویسے بھی دمشق کے محلات میں ترکتازیوں کے علاوہ تو کبھی کچھ نہیں تھا۔
دانش کے اصل منبع خانوادہ رسول کو مائنس کرنے کے بعد ان کے پاس کیا رہ جانا تھا۔ سو کچھ نہ رہا فقط گھوڑے مال غنیمت لونڈیاں بھرے جسم۔ خواب گاہیں حکیموں کے نسخے اور خیموں میں عجمی جسموں کی نمائش۔
سندھ کی فتح بھی وسعت خلافت یا تبلیغ اسلام نہیں تھی اس سمت آنے کی بنیادی ضرورتیں دو تھیں حجاج اپنے قبیلے کا اقتدار اور بنو امیہ اپنے باغیوں کو پناہ دینے کی سزا کے متمنی تھے۔
سو دونوں کی تمناؤں کو کچھ بہانے ہاتھ آئے۔
غلاموں کی تجارت اؤر شاہی محلات میں محکوم قوموں کے حسن کا جمع کرنا تقریباً سب فاتحین کا مشترکہ شوق رہا ہے۔ بنو امیہ اس حوالے سے عورت کو بھی بھیڑوں کے گوشت کی طرح چباتے تھے۔ عربی تہذیب میں جنس کے حوالے سے نزاکتیں بہت کم رہی ہیں۔ جو عراق اور انڈین تہذیبوں میں تھیں۔ بنیادی وجہ وہی کہ یہ ایک قبائلی اور نئی اڑان بھرتی ثقافت تھی۔
بنت داہر کی تربیت تعلیم اور تہذیب کے سات ہزار سالہ تاریخ رکھتی دھرتی پہ ہو رہی تھی۔ اور محمد بن قاسم صرف ایک چھاؤنی میں نیزہ بازی سیکھ کر آیا تھا۔
پھر بھی میں سمجھتا ہوں جس تحمل اور جس توجہ سے وہ راج کماری سے سیکھ رہا ہے یہ اس کی سلامت طبعی اور صلح جوئی کی علامت ہے۔
خواتین کے حوالے سے عربی اور ہندوستانی نفسیات میں جو بعد ہے وہ بنت داہر اور بن قاسم کے مکالمے سے ظاہر ہوتا ہے۔
بن قاسم اور بنت داہر کے درمیان مکالمے کے بہت خوبصورت لمحے روایت کیے گئے یہ تخیل کی جولانی اور ناول نگار کی انسانی نفسیات پر دسترس ہے۔ لیکن دریائے سندھ کے کنارے جب راج کماری انسانی وجود اور پھر عورت کی نسبت سے نشاط و توانائی کے دھاروں کا ذکر کر رہی تھیں
اس سمے بن قاسم کی جو کیفیت بیان کی گئی
وہ کسی بلند ذوق کے مرد کی نہیں
جہاں یہ کردار کپڑے گیلے کر دیتا ہے۔ وہاں مکالمہ اتنا خوبصورت سنجیدہ ہے کہ جنسی ہیجان کے یوں طاری ہونے کا جواز نہیں۔ ایسا تبھی ممکن ہے کہ بن قاسم راج کماری کی گفتگو کی نفاست کو نہ جان پا رہا ہو۔ اور اس کی جبلتیں خال و خد میں اٹکی ہوں۔ کچھ اور مقامات بھی ایسی کمزوریوں کے ساتھ موجود ہیں۔ لیکن ناول نگار کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ قاری کے اپنے نقطہ نظر سے جہاں بھی پلاٹ یا کردار نگاری میں کوئی خامی ہے وہ ناول کی قراءت میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ دلچسپی کم نہیں ہوتی۔
ورنہ قاری کسی اہم موڑ پر بدک بھی جاتا ہے۔
ان کرداروں کو مکالمہ تفویض کرنے میں وہی سائنس ہے۔ جس کی سمت میں نے ابتدائی سطور میں اشارہ کیا ہے۔ اس لیے یہ چند کمزوریاں اتنی اہم شمار نہیں ہوتیں۔
بنت داہر اور بن قاسم کا زیادہ تر مکالمہ انڈین کلچر عورت اور مرد کے تعلق کے علاوہ جنگی نفسیات پر رہتا ہے۔ عشق حسن کے حضور شکست کھا چکا تھا۔ وجود کی دنیا جس رقص میں گھری رہتی ہے۔ اس کا ذکر انتہائی نفاست سے دریا کی لہروں اور شکتی کی پشت پر فنی مہارت اور تخیل کی نفاست کے ساتھ کچھ اس انداز سے ہے کہ سرشاری کی گہری کیفیت جسم و روح کو روایتی ملامت اور ندامت سے نکال لاتی ہے۔
لگتا ہے یہ ایک معبد ہے۔ جہاں مو بہ مو طواف ہے۔ رقص ہے۔ بے خودی ہے۔ سرشاری ہے۔ اور دھیان کی دنیا میں ماسوا کچھ بھی نہیں۔ لمحہ موجود کی خوشبو ہے۔ اور ایک گہرا استغراق، اور سندھو دریا کی لہروں پر سندھ کی راج کماری کی بانہوں میں گمشدگی اور ہوشمند سا خمار لیے ایک جواں سال اور خوش فکر عرب نوجواں۔ سندھو کی بانہوں میں ہی زرخیزی کی دیوی اور دیوتا اس تعظیم سے وابستہ ہوئے۔ جو تخلیق انسان کے عمل میں قدرت کی ساجھے دار ہے۔
راج کماری نے فاتح پر یہ راز کھولا کہ تم دھرتی کی کوکھ میں پرورش پا کر اس کی تعظیم سے گریز کرنے لگے ہو۔
ناول کے دوسرے بڑے کردار حجاج بن یوسف کی سندھ کی مہم کے دو جرنیل ابو یزید اور ابو ہشام اور خلیفہ دمشق ہیں۔ لیکن ان کی گفتگو سازشوں اور اطاعت شعاریوں اور جنگی مہمات سے باہر نہ نکل سکی کہ کسی دانش اور علمی ذکاوت کا پتہ چلے۔
سندھ میں بن قاسم کا مختصر قیام تھا اور وہ راج کماری کی ذہانت کے حصار میں تھا مہمات زیادہ تر حجاج کے نامزد جرنیلوں کے ذمہ رہیں۔ ادھر دمشق اپنے عروج کی سازشوں میں مصروف تھا خلیفہ اور حجاج ایک دوسرے سے بد ظن تھے۔ سو محلاتی سازشوں کا شکار ہو گئے۔ اور یوں عتاب کا کوڑا صرف نسبت اور اطاعت کی بنا پر بن قاسم کا مقدر بنا۔
عرب قوم کی فتوحات مہذب دنیا کے لیے تاتاریوں سے صرف اس لحاظ سے مختلف تھیں کہ تاتاری اپنی ثقافت اپنے کلچر اور اپنے مذہب کی پہچان مفتوح قوموں کے ہاں پہنچ کر برقرار نہ رکھ سکے اور عرب اقوام نے کچھ لے دے کیا۔ ہندوستان کا سخت جاں کلچر گم نہ ہو سکا۔ یوں مفتوحہ علاقوں سے اگر جنگی مزاحمت ناکام ہو گئی لیکن ثقافتی مقابلہ میں مفتوحہ اقوام نے اپنی پہچان برقرار رکھی اور فاتح کو ہی مفتوح کر لیا۔
انڈین کلچر آرین تہذیب کے ساتھ اشتراک کے بعد بہت سخت جاں ہو گیا تھا۔ مقامی مذاہب مقابلہ نہ کر سکے لیکن اپنے لیے کچھ مذہبی اور ثقافتی نرم گوشہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کی کچھ اور وجوہات بھی تھیں۔
بہرحال طویل اقتدار اور فاتحانہ یورشوں کے باوجود مقامی مذاہب اور ہندو مذہب کی بقا مسلمان حکمرانوں اور مفتوحہ قوموں کا ایک دوسرے کے لیے قابل قبول رویہ بھی ہے۔
بنت داہر آگہی کا سفر ہے۔
راج کماری کی سی دانش کا مقدر گہرے پانیوں کی لہریں شعلے یا کہکشاؤں کی وسعتیں ہیں۔ اور عربی تہذیب کو ہندی حکمت کے آگے سرنگوں کرنے والے نو عمر سپہ سالار کا مقدر زنجیریں۔
آگہی کا مقدر ہمیشہ صلیب رہی ہے۔
بنت داہر کے مطالعہ میں بہت سے مقامات آہ و فغاں بھی ہیں جو نقاد کو پریشاں سکتے ہیں۔ لیکن ایک قاری ان مقامات پر ذرا بھی رکے بغیر گزر جاتا ہے۔
اس لیے کہ اس نے کہانی کار کا ہاتھ پکڑا ہے نہ کہ نقاد کا۔
راج کماری عورت کی نفسیات کے حوالے سے سوال اٹھاتی ہیں، عورت کے جسم میں جاری مہابھارت سے صرف عورت اکیلی ہی نبرد آزما کیوں ہو؟
راج کماری کو اس موضوع پر گفتگو کا موقعہ تقدیر نے نہیں دیا کہ جس طرح ایک عورت کو اپنی مہابھارت خود جیتنا ہوتی ہے۔ ایسے ہی ایک قدیم تہذیب کو اپنی راکھ سے جنم لینا ہوتا ہے۔
اس مکالمہ میں ایک ہی تہذیب نبرد آزما ہے۔
مرکزی کرداروں کا مکالمہ دو تہذیبوں کی ایسی فکری مہابھارت ہے۔ جس میں ایک فریق مقابلہ ہی نہیں کر رہا۔
دوسری تہذیب کو ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اور شو مئی قسمت کہ نوجواں سالار
جسم کے بھیدوں سے نکل کر دھرتی اور وجود کی کائنات کی دہلیز تک پہنچا تھا کہ اقتدار کے لیے جاری جنگ کا نشانہ بن گیا۔ اور یوں یہ تہذیبی مکالمہ آج تک ادھورا ہے۔ بن قاسم اور بنت داہر کی روحیں پھر کسی جنم کا روپ نہیں دھار سکیں
کون، کب یہ راز افشاں کرے گا کہ
تقدیر کی لوح پر ادھورے نقش کیوں زیادہ ہیں۔


