بلوچستان صحافت کا منتظر


بلوچستان کے حالات پر ہم نے سوچا کچھ لکھا جائے کیونکہ ہمارے بلوچ بہن بھائیوں کی انتہائی تکلیف دہ خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں۔ اسی طرح مین اسٹریم میڈیا میں ہمارے فورسز کے لوگوں پر حملوں کی خبریں اور تصاویر شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ہمیں حیرت اس وقت ہوئی جب ہم نے بلوچستان کے حوالے سے خبریں اور رپورٹس پڑھنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ماسوائے چند تصاویر اور شہ سرخیوں کے کوئی تفصیلی خبر نہیں تھی۔

ایک طرف حکومتی موقف تھا وہ بھی چند سطروں تک محدود، فورسز پر حملوں کی بھی بس چند تصاویر اور واجبی سا بیانیہ اور دوسری طرف عوامی موقف تھا وہ بھی صرف تصاویر تک محدود۔ اب یہ سوچنا پڑا کہ ہم لکھے کیا؟ کیونکہ ہمارے پاس صرف ساکت تصاویر اور چند سطروں کی خبروں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

بلوچستان کے لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ شاید ان کی تکلیف باقی ملک کو محسوس نہیں ہو رہی یا کوئی ان کی پریشانی کو حل نہیں کرنا چاہتا۔ ان کی بات کوئی سننا نہیں چاہتا تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ان کی پریشانی کی وجہ سے پورا پاکستان مضطرب رہتا ہے۔ پچھلے سال بارشوں میں ان کی مدد کے لیے جو فوج کے اعلیٰ افسران گئے وہ بھی ایک حادثے میں شہید ہو گئے۔ ابھی بھی شہادتوں کی خبریں آتی رہتی ہے مختلف فلاحی تنظیمیں ان کے صوبے میں کام بھی کر رہی ہیں۔

پھر سوال یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو پورے ملک سے الگ کیوں سمجھ رہے ہیں ان کو ایسا کیوں لگتا ہے جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے وہ کسی کے ساتھ نہیں ہو رہا ہے۔ جو بات ہماری سمجھ میں آئی وہ یہ ہے کہ وہاں صحافت نہیں ہو رہی۔ صحافت کے معنی ہے کسی بھی معاملے کے بارے میں تحقیق کرنا اور پھر اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانا۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ عوام تک حکومتی موقف نہیں پہنچ رہا ہے چاہے وہ سچا ہو یا مبالغہ آمیز، نہ عوام کی بات حکومت تک پہنچ رہی ہے۔

صرف تصاویر اور چند سطریں شائع کرنے کو صحافت سمجھ رہے ہیں۔ کبھی کبھار غیر مستند ذرائع سے ویڈیوز آجانا بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ جب تک مستند ذریعے سے شائع نہ ہو بات ناقابل بھروسا ہوتی ہے اور جس ذریعے پر بھروسا کیا جاسکتا ہے وہ صرف صحافت ہے۔ صحافت کا سب سے آسان اور سستا ذریعہ تحریر ہے وہ بھی جو اخبار کے ذریعے عوام تک پہنچتی ہے کیونکہ آج بھی پاکستان میں سوشل میڈیا تک بہت کم لوگوں کی رسائی ہے، ہماری قوم ایک تو لکھنے سے گھبراتی ہے اور اگر حالات ٹھیک نہ ہو تو لکھنا پڑھنا بالکل ہی بند کر دیتے ہیں، جبکہ دنیا میں اس کا الٹ ہے۔ بہترین لکھائی بدترین حالات میں ہی سامنے آئی ہے یہ سمجھے جب بھی شاہکار تخلیق ہوئے ہیں وہ ہمیشہ مشکل حالات میں ہی تخلیق ہوئے ہیں۔

باقی صوبوں میں بھی کرپشن ہے، دھاندلی ہے، ظلم ہے، لیکن وہاں کی صحافی برادری ایکٹیو ہے، عوام ایکٹیو ہے۔ اور سب سے اہم بات وہاں کی صوبائی حکومتیں ہو یا اپوزیشن صحافی برادری کے سامنے اپنا موقف پیش کرتے ہیں بات چیت کرتے ہیں۔ حتیٰ کے فورسز کے لوگ بھی اپنی رپورٹس شائع کراتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں دور دراز کے علاقوں کے حالات معلوم ہو جاتے ہیں عوام کے بیچ مکالمہ رکھا جاتا ہے لیکن بلوچستان میں ایسا کوئی کام نہیں ہو رہا۔

اس کی وجہ سے جانی اور مالی نقصان دونوں طرف کا ہو رہا ہے۔ صحافت کا شعبہ بہت بڑا شعبہ ہے اور اس میں عام لوگوں کی دلچسپی ہوتی ہے۔ اس میں دلچسپی کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں آج کی بات ہوتی ہے اپنے جیسے لوگوں کی بات ہوتی ہے، ان کے مویشی اور ان کی زمین کی بات ہوتی ہے۔ اللہ نے انسان کو زبان دی ہے وہ کسی بھی مسئلے کو حل کرنے سے پہلے اپنا دکھ سنانا چاہتا ہے بولنا چاہتا ہے لیکن مسئلہ وہی ہے کہ تینوں فریق بول نہیں رہیں ہیں کیونکہ ان کی بات کو سلیقے سے آگے پہنچانے والا کوئی نہیں ہے ان کا ثالث کوئی نہیں ہے۔

اس وقت جو سیاسی جماعتیں صوبے کی نمائندگی کر رہی ہے یا اپوزیشن میں بیٹھی ہے وہ سب قومی سطح کی ہے اور وہ باقی صوبوں میں حکومت کرچکی ہے یا حکومت کر رہی ہے تو ایسا تو ممکن نہیں ہے کہ ان سے معاملات حل نہ ہو۔ جبکہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے کم یا زیادہ فنڈز بھی لیتی ہے۔ اب یہاں حالات کی مکمل ذمہ داری سیاسی جماعتوں کی بنتی ہے کیونکہ ضلع سے لے کر سینیٹ تک عوامی نمائندے موجود ہیں۔ ان نمائندوں کا کام ہے کہ وہ عوامی مسائل حل کرے اور اگر ان سے معاملات حل نہیں ہو رہے جو کہ صاف دکھائی دے رہا ہے تو صحافی برادری کو جگہ دے اور صحافی برادری کا تحفظ یقینی بنائے ان کی تنخواہیں وقت پر جاری کرے۔

جو لکھنے کی مزدوری کر رہے ہیں ان کی مزدوری ادا کرے دنیا میں کوئی بھی کام بغیر معاوضے کے نہیں ہوتا لیکن پاکستان میں عوامی مسائل پر بات کرنے والوں کو معاوضہ نہیں دیا جاتا یہ خود ہی سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ عوامی مسائل کے لیے بات کر رہے ہیں تو انھیں معاوضہ کی ضرورت نہیں۔ صحافی برادری کے ساتھ یہ رویہ اب ختم کرنا ہو گا تاکہ وہ حقیقی مسائل سب کے سامنے رکھے اور پھر ان مسائل کو حکومت حل کرے۔ حکومت کو چاہیے صوبہ کی بے چینی ختم کرے، کیونکہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور پسماندہ صوبہ ہے۔ یہاں کی عوام شدید غذائی قلت کا شکار ہے جس میں عورتوں اور بچوں کی حالت قابل رحم ہے۔

Facebook Comments HS