مانگی ہوئی محبت
قرآن مجید فرقان حمید کے گیارہویں پارے کی آیت نمبر بارہ میں ارشاد ربانی ہے کہ ”لوگو! تم سے پہلے کی قوموں کو ہم نے ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی“ ۔ انسانی تہذیب کے عروج و زوال کی داستان محض ایک آیت میں ہی مضمر کر دی گئی کہ نہ جانے کتنی اقوام اس کرہ ارض پر انسانی تہذیب کے عروج پر متمکن ہو کر روبہ زوال ہوئیں۔ بنی نوع انسانی کے عروج و زوال یا تہذیب و تمدن کے پنپنے سے تباہ و برباد ہونے کا احاطہ ول ڈیورانٹ اور اس کی بیوی ایریل ڈیورانٹ نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف The story of civilization میں بہت احسن طریقے سے کیا ہے۔
اس کتاب کو منصہ شہود پر لانے کے لئے انہیں چالیس برس کا عرصہ لگا۔ ویسے بھی تہذیبوں کا ارتقا کوئی پل دو پل کی بات نہیں ہوتی بلکہ صدیوں پرانے اساطیری قصہ کی طرح ہمیں کتب التواریخ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تہذیب کا آغاز کب ہوا؟ اس کے بارے میں اکثر مورخ اور معاشرتی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جب جنگلات سے نکل کر حضرت انسان نے منظم زندگی کے بارے میں سوچ کر معاشرہ کی صورت رہنا شروع کیا تو معاشرتی تشکیل کے ساتھ ساتھ انسانی تہذیب بھی جنم پذیر ہوئی۔
کرہ ارض پر جتنی بھی پرانی تہذیبوں کے آثار دریافت ہوئے ہیں، وہ میسوپیٹیمیا ہو کہ سومیری، اکادیان، بابلی، قدیم مصری، قدیم چین، یونان، کریٹ یا قدیم وادی سندھ کی تہذیب سب کی سب کی پیدائش، بلوغت دریاؤں کے کنارے ہوئی اور کروٹ زمانہ کے ساتھ ساتھ قدرتی عوامل کی لپیٹ میں آ کر ان تہذیبوں نے دم توڑ دیا۔ گویا ہست تہذیب سے نیست تک پانی ہی باعث تباہی یا زوال رہا۔ گمشدہ تہذیبوں کے احیا میں کھدائی کے عمل سے دریافت شدہ باقیات کے علاوہ جو سب سے موثر ذریعہ رہا وہ کتابی صورت میں تاریخ، تہذیب اور تمدن کا جمع کرنا ہے۔
وہ خالصتاً تاریخی کتب ہوں کہ صورت گر ناول، اگر رچناوی تہذیب و تمدن، اس وسیب کے وسنیک کی نفسیات، انسانی رویے، رسم و رواج، دیہی لوگوں کی نظر میں رشتوں کی اہمیت اور پیار و محبت کا تقدس ایک کتاب میں جاننے کی جستجو ہو تو اس میں نہ ہی کوئی دو رائے ہے اور نہ مبالغہ آرائی کہ یہ سب ایک قاری کو محمد اقبال عابد کے ناول ”مانگی ہوئی محبت“ میں ملے گا۔ کہتے ہیں دیگ کے چاول کا ذائقہ جاننے کے لئے چاول کا ایک دانہ ہی مذاق بتا دیتا ہے، ایسے ہی ناول کا ایک فقرہ ہی میرے لئے ناول کے آہنگ کو جاننے کے لئے کافی تھا کہ
”چھینی ہوئی اور مانگی ہوئی محبت کسی کام کی نہیں ہوتی“ ۔
جیسے جیسے ناول پڑھتے جائیں قاری خود ہی محسوس کرے گا کہ کہ کسی گل اندام کے سحر میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اچھے ناول اور ناول نگار کی خوبی بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ قاری کو اپنی لفاظی، فقروں کی بناوٹ اور اسلوب سے اپنے ناول کا ایک کردار بنا لیتا ہے۔ ”مانگی ہوئی محبت“ میں ان تمام جزئیات کا خیال رکھا گیا جو ناول کی ہیئت کے لئے ضروری ہوتا ہے جیسا کہ کہانی، پلاٹ، کردار، مکالمے، زبان و مکان، اسلوب اور موضوع۔
ظاہر ہے اس ناول کا موضوع محبت اور وہ بھی مقدس محبت جو انسانی اشتہا سے کوسوں دور، بلکہ میں تو کہوں گا کہ احساس محبت میں بدلتی دلی کیفیت، بدلتے ماحول کو قرطاس قلم کرتے ہوئے کرداروں کے اردگرد پیدا شدہ ماحول کا خیال رکھنا ناول نگاری کے فن میں یکتائی رکھنے والے ناول نگار کا ہی کام ہوتا ہے اور مانگی ہوئی محبت میں اس فن میں اقبال عابد نے خوب مشاقی دکھائی اور اس میں کامیاب بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جیسے کہ ناول کا ہیرو جب ہیروئن کو نیم نیند، بخار کی حدت میں دھکتے ہوئے جسم کو دیکھتا ہے تو ایک دم اس کے منہ سے سبحان اللہ نکلتا ہے، یہ اس بات کی غمازی ہے کہ مصنف حسن پرست ہی نہیں ستائش کا بھی قائل ہے۔
وہ جانتا ہے کہ محبت ایک ایسا مقدس و پوتر جذبہ ہے جس میں جسم کا نہیں انسان روح کے بندھن کا قیدی ہوتا ہے۔ اپنی محبت کے تقدس کا ہی خیال نہیں بلکہ گاؤں کی عزت کا جب مسئلہ ہوتا ہے تو وہ بشیر کی بہن کو اپنی اور گاؤں کی عزت سمجھتے ہوئے سینہ تان کر گھڑا ہو جاتا ہے۔ یہاں اقبال عابد نے ایک منجھے ہوئے اور کامیاب ناول نگار کی طرح ہیرو کے کردار کو بہت خوبصورتی سے پیش کرتے ہوئے اس میں تکبر و غرور کا جذبہ پید انہیں ہونے دیا بلکہ احساس تفاخر پیدا بھی کیا تو ایسے کہ محبت کو ایک مقدس اور لافانی طاقت کا روپ یہ کہتے ہوئے عطا کیا کہ ”انسان کچھ نہیں۔
سب خدا کرتا ہے۔ وہی کرواتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال عابد کے قلم سے نکلے ہوئے لفظ جب قرطاس پر بکھرتے ہیں تو انہی لفظوں کی بنت، سوچ، لہجہ، انسانیت اور انسانی نفسیات قاری کو فطرت کے قریب تر اور ناول نگاری کو حقیقت نگاری میں تبدیل کرتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک کامیاب ناول نگار کے شمائل و محاسن کا حصہ ہے۔ اقبال عابد ناول نگاری کے اس پیرا میٹر میں سو فیصد پورا اترتے ہیں۔ بعض اوقات ناول پڑھتے ہوئے قاری ناول نگار کے ساتھ ساتھ محو پرواز ہوتا بھی دکھائی دیتا ہے لگتا ہے جیسے کوئی سفرنامہ تحریر کر دیا ہو، میرے خیال میں یہ ایک اضافی خوبی ہے۔
الغرض ناول کا ایک ایک لفظ رچناوی رہن سہن، رسم و رواج، روایات، میلے ٹھیلے اور دریائے راوی کے کناروں کے ساتھ ساتھ پھلتی پھولتی فصلوں سے انسانی محبتوں تک کا سفر جو محض مقامی تہذیب ہی نہیں بلکہ ہزاروں سال قبل تباہ شدہ ہڑپائی تہذیب تک لے جاتا ہے ۔ رچناوی تہذیب کی اروما اپنے سحر میں ایسے کنڈلی مار لیتی ہے جیسے ایک گل اندام کے گیسو کسی عاشق مزاج کو اپنے سحر میں لپیٹ لیتی ہے۔ لفظوں کا جادو ایسے سر چڑھ کر بولتا ہے کہ ایک عام قاری کو بھی اپنے آپ کو گرفت میں دیے بنا گزارہ نہیں، جیسے کہ چلم، نیچا، چگل، سفیل، سر پوسی، داؤدی کندھ، گوہے ریوڑی، پڑوپی وغیرہ۔
کامیاب ناول نگار اپنے قاری کو کبھی بھی اکتاہٹ کا شکار نہیں ہونے دیتا، اسی لئے اقبال عابد نے اپنے ناول مانگی ہوئی محبت میں یہاں کہیں محسوس کیا مزاح کے عنصر کو بھی شامل ناول کیا تاکہ قاری محظوظ ہوتا رہے جیسے کہ ”میرا نام سکندر ہے میں نے بی اے کیا ہے، چھ سات ماہ پہلے میں نے بی بی کر لی یہ والی“ یا پھر ایک جگہ ہیروئن کہتی ہے کہ ”آر یو شور۔ جواب ملتا ہے کہ“ یس آئی ایم شوہر آف مائی وائف ”
میری ذاتی رائے میں ایک اچھے ناول اور کامیاب ناول نگار میں تین خوبیوں کا ہونا ضروری ہے، فلسفہ، ادبی نظریات اور علم نفسیات، مانگی ہوئی محبت میں اس تثلیث کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ واقعی اقبال عابد صاحب
جو پانی اج پتنوں لنگھدا
اوہ نہ اوند ا بھلکے
بیڑی دا پور، ترنجن دیاں کڑیاں
فیر نہ بیٹھن رل کے


