ہزار داستان: ریاض شاہد کا ایک عمدہ ناول


اجمل کمال کے توسط سے اب تک ہم نے دنیا بھر کی دوسری زبانوں کے نئے پرانے ناول تو پڑھے ہی ہیں، ساتھ ہی اردو کے بھی کچھ ایسے اہم ناول انہوں نے بازیاب کروائے ہیں، جن تک شاید اتنی آسانی سے ہماری نظر نہ پہنچتی۔ آج کے نئے شمارے میں شامل ریاض شاہد کا یہ ناول بھی ایک ایسا ہی فکشن پارہ ہے، جو ان تک محمودالحسن کے ذریعے پہنچا۔ ناول کے تعلق سے کچھ اہم باتیں خود اجمل کمال نے اس کے تعارف اور انتساب کے حوالے سے کی گئی اپنی باتوں میں کی ہیں، جو قابل غور ہیں۔

پچھلے دنوں میں اپنے تاریخ داں دوست رماشنکر سنگھ کی بانس کا کام کرنے والی ذاتوں پر ایک اہم مضمون پڑھ رہا تھا، جس میں انہوں نے کاشی ناتھ سنگھ کی کتاب ’گھر کا جوگی جوگڑا‘ کا ذکر کیا تھا۔ اس ذکر کا حوالہ یہ تھا کہ پچھڑی جاتیوں کو ہندوستان میں اس حد تک تعصب جھیلنا پڑتا تھا کہ ان کے گاؤں سے آنے والی ہواؤں کو بھی بیماریوں کا سبب گردانا جاتا ہے۔ کاشی ناتھ نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا ذکر کیا ہے، پڑھنے پر برا لگتا ہے، مگر امبیڈکر کی کتاب ’جاتی کا خاتمہ‘ میں اس سے بھی زیادہ اور خطرناک قسم کا پکش پات تاریخی ثبوتوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

ظاہر ہے کہ اس موضوع پر کتابوں کی یا خود ناولوں کی کوئی کمی نہیں۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ اردو میں اس طرح کے ناول بہت کم لکھے گئے ہیں، جو لکھے بھی گئے، ان کا خاص تذکرہ نہیں ہوا۔ مراٹھی ناول نگار ملکہ امر شیخ کی سوانح عمری ’میں خود کو برباد کرنا چاہتی ہوں‘ میں نے اس تجسس سے پڑھنے کی کوشش کی تھی کہ شاید اس میں مہاراشٹر کے دلت مسلمانوں کے حالات زندگی پر بہتر ڈھنگ سے روشنی ڈالی گئی ہو، مگر ملکہ کی سوانح میں ایسی کوئی خاص تفصیل اس حوالے سے نہیں ملتی۔

ایسا نہیں ہے کہ ہمارے یہاں غریب مزدور یا غیر تعلیم یافتہ مسلم سماج پر کہانیاں یا ناول نہ لکھے گئے ہوں، مگر یہ بات سچ ہے کہ ایسے مسائل کو خاص توجہ حاصل نہیں ہوئی، حالانکہ ریاض شاہد کا ناول جس موضوع پر ہے، اسی پر شوکت صدیقی کا خدا کی بستی بہت تفصیل سے روشنی ڈالتا ہے۔ وہاں تعلیمی مسائل کے ساتھ ساتھ، مسلمانوں کے یہاں مذہب کے نام پر ہونے والی گندی سیاست کو بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اردو والوں نے زبان کی نفاست اور دہلوی لکھنوی کے قصوں میں ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں بولی، پڑھی اور لکھی جانے والی اردو کے ساتھ جو ناروا سلوک اختیار کیا، اسی کی بھینٹ یہ ناول بھی چڑھ گیا ہو گا۔

میں نے خود اپنے بہت سے دوستوں کی محفلوں میں ایسے ادیبوں، شاعروں پر بہت سے لطیفے سنے ہیں، جن کی مادری زبان اردو کے بجائے پنجابی، سندھی یا کچھ اور رہی ہو۔ ناول میں زبان کے اضافی مارکس دینے کا ہمارا یہ رویہ کسی مذہبی جنون کی طرح ہر وقت ہمارے سروں پر سوار رہتا ہے۔ ہم اچھی زبان میں لپٹے ہوئے کچرا ادب کو ہنس کر قبول کرلیتے ہیں، مگر ذرا لسانی معاملہ ٹیڑھا میڑھا ہوا اور ہم نے اس کو ادب باہر کردینے میں دو منٹ سے بھی کم نہ لگائے۔

ریاض شاہد کا ناول بہت حد تک مجھے اپنے بچپن سے جڑا ہوا محسوس ہوا۔ ان کے ناول ’ہزار داستان‘ کے مرکزی کردار فیاض کی طرح میں نے بھی بچپن میں بڑی عجیب و غریب افلاس اور تنگدستی کی ایسی دنیائیں دیکھی ہیں کہ مجھے کئی بار ناول پڑھتے ہوئے انیس سو پچاس کی دہائی میں جنم لینے والے فیاض کے چہرے میں اپنا چہرہ نظر آنے لگا۔ وہی گلی محلے کی سیر، وہی دوست کے ساتھ سیر سپاٹا، اسی میں لکھنے پڑھنے کا شوق، وہی غریبی کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے کی مجبوری، ماں کا روپوں پیسوں کے لیے پریشان ہو کر پھرنا، بھائی کا چھوٹی عمر میں ہی دکان پر جا بیٹھنا۔

الغرض فیاض کے گھر میں جتنی غربت ہے، اس کے مکان میں جتنا اندھیرا ہے، جتنی تکالیف اس کے سینے میں جمع ہیں اتنی ہی بے شرمی سے باہر محلے کی آباد دنیا میں بے تکان جہالت سر کھولے گھوم رہی ہے۔ بندو نائی، حنیف گویا، ٹھیلہ پہلوان اور میاں حیات یہ سب مل کر جو دنیا بناتے ہیں، وہ بہت دیکھی دکھائی ہے۔ اس بات سے مجھے ریاض شاہد کے لکھے ہوئے دیباچے کی یہ بات بالکل سچ معلوم ہوئی کہ وہ ایسے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی کہانیاں لکھنا چاہتے تھے، جن کی زندگیاں موت کی نمائندگی کرتی ہیں۔

یہ ناول بظاہر ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو حالات کی مجبوری کے سبب تعلیم ادھوری چھوڑ کر اپنے گھر کا خرچ اٹھا رہا ہے، اس کا باپ تبھی مر گیا تھا، جب وہ پندرہ برس کا تھا، مگر جن کے باپ زندہ ہوتے بھی ہیں، انہیں بھی تعلیم کے صحیح اصولوں سے ہماری دنیاؤں میں آگاہی مشکل سے ہی ہو پاتی ہے۔ میں آج جس محلے میں رہتا ہوں، وہاں کئی اچھے انگریزی سکول قائم کیے گئے ہیں، مگر ان سب میں پڑھنے والے بچوں کو اسلامی تعلیم کا ایک خاص سبجیکٹ پڑھایا جاتا ہے، اس پر زور دیا جاتا ہے اور کچھ سکول تو خود کو باقاعدہ اسلامی سکول کہلانے پر زور دیتے ہیں۔

تشدد کی راہ پر گامزن اس دنیا میں ہماری حصہ داری اس حد تک ہے کہ ہم اپنے سکولوں، کالجوں میں اپنی مذہبی شناخت کا وہ حوالہ زیادہ مضبوط بناتے جا رہے ہیں، جو ہمیں عقبیٰ کے راستے پر گامزن کرتا ہے اور جس دنیا میں ہم جیتے ہیں، اس سے کاٹنے اور الگ ہونے کے سارے راستے ہم پر کھولتا ہے۔ یہ دنیا ہمارے پاس صرف نئے پرانے تعلیمی نظاموں، عام زندگی میں شریعت کو ٹھونسنے کی ضد اور دنیا سے خود کو ممتاز سمجھتے ہوئے بھی، اس سے الگ رہنے کی ہٹ دھرمی کے ذریعے ہی نہیں پہنچی بلکہ تصوف جیسے عام طور پر ’لبرل‘ روحانی تصور سے بھی اس کا گہرا واسطہ ہے۔

اسی لیے تو ہزار داستان میں داتا گنج بخش کی مزار پر افیم اور چرس کے نشے میں آسمانی درجے پانے والے مولیٰ کے متوالوں کا جو حشر دکھایا گیا ہے، وہ ہمیں عام طور پر سبھی مزاروں پر دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ یہاں جب یہ ذکر ہوہی رہا ہے تو عرض کرتا چلوں کہ ریاض شاہد کا مشاہدہ بڑا کمال کا ہے، انہوں نے ملنگوں کی جو گفتگو اس موقع پر پیش کی ہے اور جس طرح ’امریکہ‘ کے بادشاہ چڑچل کو افیمچی، اور کوٹلے والے بابا کو اس کی بادشاہی کی بشارت دینے کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ بے حد مزیدار اور حقیقت پسند ہے۔

ریاض شاہد کا ناول عام زندگی کی بات کرتا ہے، یہ بات سچ ہے کہ اس پر تقسیم کے بعد پاکستان میں ہندؤوں کے گھروں، محلوں، دکانوں پر قبضہ کر لینے کی ایک الم ناک فضا تو طاری ہے، مگر اب چونکہ یہ دنیا بس چکی ہے تو اس میں ہونے والے لالچی سیٹھوں، سرمایہ داروں، قرآن پڑھانے والی خاتونوں سبھی کی سچائی کو بڑی عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔ اس معاشرے میں ایسا نہیں ہے کہ مرکزی کردار خود کسی طرح کے انسانی سقم سے پاک ہے، اس کے یہاں بھی چوری، بددیانتی، غصہ اور بے وفائی، بزدلی کے عناصر پائے جاتے ہیں۔

مگر ان سب کی اپنی وجہیں ہیں۔ دراصل یہ معاشرہ بنا ہی ایسی اینٹوں سے ہے، جن میں چھپ کر، دب کر اور پس کر سب کچھ سہتے رہنے کی اذیت کو انسان کا اصل کردار تصور کر لیا گیا ہے۔ تقویٰ کے جھوٹے دعووں کی چادر اوڑھ لینے پر اسے مجبور کیا گیا ہے۔ یہاں ایک چور وہ ہے، جس نے مجبوری کے سبب چوری کی ہے، مگر دوسرا چور وہ ہے، جس نے کھلے عام سینہ زوری کرتے ہوئے غریبوں کا خون چوسا ہے، انہیں لوٹا ہے، ان کا استحصال کیا ہے، ان کا حق مارا ہے۔

مگر دوسرا چور، جو کہ اصل معنی میں بڑا چور ہے، عزت دار بن گیا ہے۔ اس کے آگے سماج کی گھگھی بندھی ہوئی ہے۔ فیاض کا ایک دوست ہے ماجد۔ جو کہ پڑھا لکھا ہے، وہ دنیا بھر کے ملکوں کی عورتوں کے تذکرے کرتا ہے، دنیا بھر کی عورتوں کی خوبصورتی کا بکھان اس کے یہاں مل جائے گا، اور وہ خود کو ادیب کہتا ہے، اس کی باتوں میں عورت کا ذکر اس حد تک ہے، اتنا زیادہ اکتا دینے والا محروم کردار ہے کہ فیاض بھی اس سے ایک جگہ بیزار ہوجاتا ہے۔

اس ناول کا ایک اہم کمال یہ بھی ہے کہ یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں ادیب و شاعر، فن کار یا عالم کچھ بھی ہوں۔ عورت ہمارے لیے ایک ہمہ وقتی مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ ہماری محرومیوں سے جنم لیتا ہے۔ ہم ایک ’شاطی‘ نامی لڑکی کے ٹھکرائے ہوئے ہیں، ہماری اوقات اور ہماری حیثیت اتنی ہی ہے، مگر ہمارے خواب سپین کی عورتوں سے مرصع ہیں، مصر کی قلوپطرہ سے لگا کھاتے ہیں اور دنیا جہان کے حسن کو بیان کردینے کی اپنی تھکی ہوئی صلاحیت کو ہی ایک ’ادیب‘ کی صلاحیت مان لیتے ہیں۔

ریاض شاہد کی یہ کہانی، مفلسی کی کہانی ہے، صرف ایسی مفلسی کی نہیں، جو نہ جانے کتنے فیاضوں کو خون تھوکنے پر مجبور کر دیتی ہے، بلکہ اس ذہنی مفلسی کی بھی۔ جو اس سماج کو ایک طرف اندر ہی اندر استحصال پسند اور فریبی بناتی ہے تو دوسری طرف شرافت بھی ایسے مراعات یافتہ طبقے کی جھولی میں وراثت کی طرح ڈالتی ہے، جس نے کبھی بھوک کی گندی نالی میں جھانک کر نہیں دیکھا۔ جس نے امن و آشتی کے کتابی سبق پڑھ کر، گوتم بدھ کا گیان رٹ کر، سرمایہ داروں کے یہاں جنم لے کر بس زندگی کی ان نالیوں میں تیرتے ہوئے زندہ لوگوں پر ہوسٹائل، جنگلی، جاہل اور معاشرے سے دھکیل کر باہر نکال دیے جانے کے لائق ہونے کا لیبل چسپاں کر دیا ہے۔

اردو میں لکھے گئے ایسے ناولوں کو پڑھا جانا چاہیے، ان پر بات ہونی چاہیے اور ان کے آئنے میں ہمارے موجودہ سماج کو دیکھا جانا چاہیے۔ شاید ہمیں پتہ چلے کہ انسانی ترقی کے زینوں کو چڑھنے کی ہماری ترکیب اس قدر معکوسی رہی ہے کہ یہ ناول اور ان کے کردار ہمارے لیے آج بھی بے حد ریلیونٹ ہیں اور شاید آگے کئی برسوں تک رہیں گے۔

Facebook Comments HS