لیٹر باکس نہیں خط کیا لکھیں
لیٹر باکس کہیں نظر نہیں آتے، پتا ہی معلوم نہیں تو آنے والے زمانوں کو کیا خط لکھا جائے گا! اپنی شناخت کی تلاش نہ جانے کب سے گمشدہ راستوں میں بھٹک گئی۔ ماضی میں پلٹ کر جنہیں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے اور ان سے کچھ سیکھنے کی خواہش تھی وہ شاید اس سوچ کے بعد دم توڑ گئی کہ ہمیں نے سب کچھ مسخر کیا اور آنے والے دنوں کی پہچان بھی ہمیں سے ہے۔ جب ڈاک کا رابطہ ہی مفقود ہوتا گیا پھر چٹھی کی تعریف بھی بھول گئے، اسی ایک رقعے میں وہ سب کچھ بیان کر دیتے تھے جسے اکثر زبان پر لانا بھی محال تھا کئی مخفی حقیقتیں عیاں ہو جاتیں زندگی کا چلن تہہ در تہہ کھلتا انسان کے دوسروں سے تعلق کی گرہ بھی انہیں خطوط میں لگتی اور کھولی جاتی۔
ادب کے بے شمار دریچے انہیں سطور پر ایک کے بعد ایک کھل جاتے۔ کسی پیارے سے ملنے کی حسرت سے کہیں بڑھ کر ڈاک بابو کی راہ تکتے نگاہیں تھک جاتیں اور پھر اس کی آمد جیسے امید کی کرن بن جاتی۔ پیار، محبت، عشق ان سب کا فرق اپنے مختلف انداز میں انہیں کی صورت سامنے آ جاتا۔ گزرے وقتوں میں حکمت، سائنس، فلسفہ اور سماج میں آنے والی تبدیلیاں جنہیں سیاست کے اتار چڑھاؤ کہتے ہیں انہیں صفحات پر زیر بحث لائے جاتے۔ ذرائع ابلاغ کے اس وسیلے کو بہت مقدم حیثیت حاصل تھی ان خطوط کی نقل و حمل کا بندوبست نہایت ذمہ داری سے انجام پاتا۔
یہ پیامبر امراء کے ہاں بھی فرائض بخوبی نبھاتے جن کا ذکر شاعری میں جابجا ملتا ہے۔ باہمی رابطے کی خاطر انسان نے بے شمار طریقے اپنا لئے۔ لمحے بھر میں میلوں دور نہ صرف بات ہوجاتی ہے بلکہ ایک دوسرے کی حرکات و سکنات بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ اب کچھ بھی مستور مطلب چھپا نہیں یعنی عورت بھی وہ نہیں رہی جسے کبھی مستورات میں شمار کیا جاتا۔ اب جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں سب کچھ کھول کے رکھ دیا جاتا ہے چاہے اس کے نتائج کیسے بھی ہوں۔
اب انتظار والی حس کافی کمزور پڑ گئی ہے بے چینی کا عالم ایسا ہے کہ کسی کو کسی کا منتظر نہیں دیکھا۔ کوئی اب قاصد پر چٹھی وصول کرنے کے لئے نگاہیں جمائے نہیں بیٹھتا۔ اب ای میل ایس ایم ایس واٹس ایپ اور نہ جانے کئی وسیلے رابطے کے لئے دستیاب ہیں۔ لیکن بات ادھوری نامکمل بغیر تصدیق بھی پہنچ جائے تو معلوم نہیں ہوتا ابلاغ کی زبان میں الفاظ کے چناؤ کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ بس بات کرو لہجہ جیسا بھی ہو دوسرے کو بھلا لگے یا برا کوئی پروا نہیں۔
خط کسے کہتے ہیں نئی نسل اس کی حقیقت اور لطف سے ناآشنا ہے وہ اسے محض وقت کا ضیاع ہی تصور کرتے ہیں کیونکہ بظاہر ہم ایک تیز دور سے گزر رہے ہیں جس میں گھنٹوں بے مقصد موبائل فون پر نہ جانے کس لافانی حقیقتوں کی تلاش میں گزار دیتے ہیں جس کے دوران دنیا اور مافیا سے بالکل لاتعلقی اختیار کیے ہوتے ہیں۔ انہیں خط، قاصد ان بند صفحات میں لکھی تحریر کو پڑھنے کی بے تابی کے جذبات اور احساسات کی کیا خبر؟ ایسے میں آنے والے دنوں کے نام کیا چٹھی ڈالیں


