بھٹو، نواز اور عمران میں فرق


ذوالفقار بھٹو پر احمد رضا قصوری کی والد نواب محمد احمد خان کے قتل کا الزام تھا اسی قتل کے الزام میں ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ نواز شریف پر سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کا طیارہ ہائی جیک کرنے کا الزام تھا جس میں نواز شریف کو عمر قید کی سزا اور جہاز میں بیٹھے ہر مسافر کو فی کس 20 لاکھ ادا کرنے کی سزا سنائی گئی پھر پاناما کیس میں نواز شریف پر الزام تھا انہوں نے اپنے بیٹے سے 10 ہزار درہم تنخواہ کیوں نہیں لی۔

اس کیس میں نواز شریف کو 11 سال قید اور تاحیات نا اہلی کی سزا دی۔ عمران خان پر 127 کے قریب مقدمات ہیں صرف ایک مقدمے میں نیب نے ان کو گرفتار کیا اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر دیا جبکہ اسی دن اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس گرفتاری کو قانونی قرار دیا۔ اگلے دن توشہ خانہ کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد کردی گئی اور پھر اس سے اگلے دن ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی قرار دے دی اور کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا ساتھ عمران خان کو گیسٹ ہاؤس میں رات رکھنے اور تمام سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا ساتھ دس مہمانوں سے گپ شپ لگانے کی بھی اجازت دی۔

اگلے دن اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی دے دی ساتھ سونے پر سہاگہ توشہ خانہ کیس پر عائد ہوئی فرد جرم پر بھی حکم امتناع جاری کر دیا۔ یہ پاکستان کے تین وزراء اعظم کے کیسز کی مختصر کہانی ہے جس میں دو کے ساتھ عدالتوں کا الگ سلوک رہا اور ایک کے ساتھ الگ چل رہا ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف سب سے پہلے الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آیا جس میں الیکشن کے ممبران نے متفقہ طور پر عمران خان کو جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کے جرم میں نااہل کیا اور تحریک انصاف پر فارن فنڈنگ لینا ثابت ہوئی، الیکشن کمیشن نے اپنا کام مکمل کر کے وزارت داخلہ کو ریفرنس بھیج دیا جو تاحال وزارت داخلہ کی الماریوں پر گرد چاٹ رہا ہے۔

عمران خان پر ان کی مبینہ بیٹی ٹیرن وائٹ کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چل رہا ہے جس کا فیصلہ تاحال محفوظ ہے جبکہ ایک جج نے اپنا فیصلہ ازخود جاری کر دیا جس میں عمران خان کو کلین چٹ دی گئی تھوڑی دیر بعد اس فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔ عمران خان پر اسلام آباد میں 27 کے قریب مقدمات درج ہیں جن میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر پر قتل کا الزام لگانے کا مقدمہ بھی درج ہے جبکہ انہی مقدمات میں محسن رانجھا قتل کیس، الیکشن کمیشن حملہ کیس، خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کا کیس، توشہ خانہ کیس جس میں سات ماہ سے عمران خان ایک بار بھی پیش نہیں ہوئے شامل ہیں یہ نمایاں کیسز ہیں جن کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔

جبکہ لاہور میں ظل شاہ قتل کیس، جناح ہاؤس حملہ کیس، عسکری ٹاور حملہ اور مسلم لیگ نون کے سیکرٹریٹ کو آگ لگانے کے کیسز میں عمران خان نامزد ملزم ہیں جبکہ بلوچستان کے سینئر وکیل عبدالرزاق قتل کیس میں عمران خان نامزد ملزم ہیں۔ وکیل نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کرنے کی پٹیشن بلوچستان ہائیکورٹ میں جمع کروائی تھی۔ کیس کی سماعت سے ایک دن قبل وکیل عبدالرزاق کا قتل ہو جاتا ہے۔ اس کیس میں بلوچستان ہائیکورٹ نے پہلے عمران خان کی ضمانت مسترد کی پیش ہونے کا حکم دیا، پھر سپریم کورٹ نے ضمانت کی درخواست خارج کی، اگلے دن اسلام آباد ہائیکورٹ اس کیس میں عمران خان کی ضمانت منظور کر لیتی ہے۔

فی الحال ایک سال سے یہی ہو رہا ہے اسلام آباد کی ماتحت عدالتی یا لاہور کی کوئی ماتحت عدالت عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہیں یا ضمانت خارج کرتی ہیں تو اعلیٰ عدلیہ خصوصا لاہور ہائیکورٹ، اسلام آباد ہائیکورٹ ان کو ضمانت عنایت فرما دیتی ہیں۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کے ورکر خوش قسمت ہیں کہ ان کے لیڈر پر پہلے فوج اور عدلیہ مہربان تھی اب فوج تو نیوٹرل ہو گئی لیکن عدلیہ تاحال مہربان ہے جبکہ لیگی اور جیالے اس حوالے سے کافی بدقسمت ہیں ان کی لیڈرشپ کو ہمیشہ فوج اور عدلیہ نے رگڑا بھی لگایا اور دیوار کے ساتھ بھی لگایا۔ 127 کیسز کا ملزم آزاد بھی ہے اور روزانہ قوم سے یوٹیوب پر خطاب کر رہا ہے جبکہ ایک مقدمے والا نواز شریف انصاف کا متلاشی ہے۔

Facebook Comments HS