تمثیل، استعارہ، علامت اور اساطیر


موضوع سے قطع نظر جب ہم شاعری کی مرکزی ساخت کے متعلقات کی طرف توجہ کرتے ہیں تو حسی ادراک، استعارہ، تمثیل اور دیو مالائی عناصر کی شمولیت کے پیش نظر اس کا نثر سے امتیاز کرنا پڑتا ہے۔ شاعری کی تنظیم کے لیے استعارہ اور بحر کو خاص اہمیت حاصل ہے اور ان دونوں عناصر کے اشتراک کے بغیر اس کا مقصد مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان سے ایک طرف حسی اور جذباتی ادراک ہوتا ہے جو شاعری کو موسیقی اور مصوری کے قریب کر کے سائنس اور فلسفہ سے الگ کر دیتی ہے۔ اور دوسری طرف الفاظ کی خارجی شکل ظہور میں آتی ہے۔ شاعری میں الفاظ کی ایسی ترتیب و تنظیم ہوتی ہے جو اسے امتیازی حیثیت بخش دیتی ہے۔

لفظ امیجری (حسی ادراک) کا تعلق ادب اور نفسیات دونوں شعبوں سے ہے۔ علم نفسیات میں امیج کی اصطلاح گزشتہ جذبات و تجربات کے ادراک اور یادوں کی بازیافت کے معنوں میں رائج ہے۔ اور ضروری نہیں ہے کہ یہ معرض ظہور میں آئے۔ البتہ یہ امیج استعاروں اور تمثیلوں کی حیثیت سے بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ امیجری ہی کی طرح سمبل کی اصطلاح بھی مختلف حیثیتوں سے مستعمل ہے۔ لیکن ادبی نظریات کے سلسلے میں اس سے یہ معنی مراد لیے جاتے ہیں کہ ایک لفظ جو بظاہر کسی چیز کے لیے استعمال کیا گیا ہے اس سے دوسری چیز کی طرف اشارہ ہو۔ لیکن اس کے پیش کرنے کے انداز پر بھی توجہ دینی ضروری ہے۔ سمبل بہت سی جگہوں پر امیج اور میٹا فرس سے مختلف شکلوں میں استعمال ہو سکتا ہے لیکن ان میں ایک طرح کی یکسانیت ضرور پائی جاتی ہے۔

جب بھی شعری علامتوں کا ذکر ہو گا تو جدید شعراء کی ذاتی علامتیں اور قدیم شعراء کی واضح اور روایتی علامتوں کے فرق کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ متھ کی اصطلاح جسے ارسطو کی بوطیقا میں پلاٹ یا بیانیہ، ساخت کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ متھ میں کسی ڈائیلائٹیکل تذکرے کے بجائے بیانیہ داستان پر توجہ دی جاتی ہے۔ دور جدید کے نقادوں کو اس اصطلاح سے خاص لگاؤ ہے جس میں بہت وسعت پیدا کر دی گئی ہے۔ اس میں مذہب، رسم و رواج، عمرانیات، سماجیات، تحلیل نفسی اور فنون لطیفہ سبھی چیزیں شامل کر دی گئی ہیں جو سائنس، تاریخ اور فلسفہ یا دوسرے حقیقت پسندانہ موضوعات سے مختلف تصور کی جاتی ہیں۔

سترویں اور اٹھارہویں صدی میں ایسی دیو مالائی داستان مراد لی جاتی تھی جو سائنسی یا تاریخی لحاظ سے قابل قبول نہ ہوں۔ لیکن جرمن رومان پرستوں کے تصورات کے عروج کے دور میں ان نظریات میں تبدیلی پیدا ہوئی اور اس میں سچائی اور حقیقت کو بھی جزو قرار دیا گیا جو شاعری کی طرح محض تاریخ یا سائنس کا متضاد نہیں بلکہ ان کا معاون خیال کیا گیا۔

موجودہ مفکرین کے نقطہ نظر سے دیو مالائی موضوعات میں امیج بیانیہ داستانوں، تمثیلی اظہار، صوفیانہ خیالات اور سماجی زندگی کے ہر شعبے میں شامل کیے جانے لگے ہیں۔ اس طرح اس کی حدود کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

Facebook Comments HS