پہلا انسان اور پہلا ایٹم بم : کیا واقعی انھیں آسمان سے زمین پر پھینکا گیا تھا


عوام کو صرف سیدھے سادے اور دو ٹوک الفاظ میں ہی کوئی بات سمجھ آتی ہے۔ مشکل اور پیچیدہ جملے عوام میں مقبول نہیں ہوتے بلکہ خواص انھیں اپنے لیے مختص کرلیتے ہیں۔ پیچیدہ جملوں سے ہی قوانین بنتے ہیں جن کی مدد سے خواص عوام پر حکومت کرتے ہیں، یعنی حکم چلاتے ہیں۔

کبھی کبھار معاملہ الٹ بھی ہوجاتا ہے کہ عوام پڑھے لکھے ہوں اور خواص کم علم یا لاعلم ہوں۔ جیسے ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کسی ملک کے پڑھے لکھے عوام نے انتہائی پیچیدہ الفاظ میں اپنے ان پڑھ وزیر کے نام ایک درخواست لکھی اور عوام کا ایک وفد وہ درخواست لے کر ان وزیر صاحب کے دفتر پہنچا اور درخواست پیش کی۔ وزیر صاحب نے کافی دیر کوشش کی لیکن درخواست میں کیا لکھا تھا، ان کی سمجھ میں نہ آیا۔

آخرکار انھوں نے بڑی سنجیدگی سے عوامی وفد سے کہا:
”آپ کی درخواست تو میں نے پڑھ لی ہے۔ اب یہ بتائیے کہ آپ لوگ کہنا کیا چاہتے ہیں؟“
یہ تو ہوا لطیفہ۔ اب اصل بات کی طرف آتے ہیں۔

سادہ الفاظ آپس میں ملتے ہیں تو بول چال کی زبان بنتی ہے۔ عوام کو یہی زبان سمجھ آتی ہے۔ اسی لیے عوام تک سادہ اور بول چال کی زبان میں ہی کوئی خبر پہنچائی جاتی ہے۔ ایسی ہی دو خبریں اس وقت آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں :

پہلی خبر یہ ہے کہ اللہ نے آدم کو جنت سے نکالا اور دنیا میں بھیجا۔
دوسری خبر یہ ہے کہ دنیا میں سب سے پہلا ایٹم بم امریکا نے ہوائی جہاز سے جاپان پر گرایا تھا۔

یہ دونوں خبریں جس نے پڑھ لیں اور پھر سر ہلا کر اپنے روزمرہ کاموں میں مصروف ہو گیا، اس کا تعلق عوام سے ہے۔ لیکن وہ شخص عوام میں شامل نہیں ہے جو ان خبروں پر غور و فکر کرنے بیٹھ گیا، مثال کے طور پر جنت سے نکالا جانے والا انسان زمین پر بہ حفاظت کیسے اترے گا؟ اگر اس کی ہڈی پسلی ٹوٹ گئی تو؟ اگر زمین کے مدار میں داخل ہوتے ہی اس کے جسم میں رگڑ کی قوت کے باعث آگ لگ گئی تو؟ اگر وہ کسی سمندر میں گر گیا تو؟ اگر وہ کسی لاوا اگلتے آتش فشاں کے اوپر جا گرا تو؟ اگر وہ خونخوار جنگلی جانوروں کے قریب گرا تو؟ کیا وہ کسی شے پر سوار کر کے زمین کی جانب بھیجا جائے گا؟ وغیرہ وغیرہ۔

اسی طرح آسمان سے زمین پر پہلا ایٹم بم گرائے جانے کا معاملہ ہے کہ امریکا جیسا سپرپاور ملک اپنے دو عام سے ہوائی جہازوں سے ایٹم بم جیسا خطرناک ہتھیار، ہیروشیما اور ناگاساکی تک بھیجنے کا رسک کیوں لے گا؟ اگر ہوائی جہاز راستے میں خراب ہو گئے تو؟ اگر ایٹم بم راستے ہی میں پھٹ گئے تو؟ اگر پائلٹ کی نیت بدل گئی تو؟ اگر پائلٹ نے وہ ایٹم بم روزن برگ میاں بیوی کی طرح روس کے کسی خفیہ اڈے پہنچا دیا تو؟ اگر جاپانی جنگی جہازوں نے ایٹم بم بردار امریکی ہوائی جہازوں کو جاپان پہنچنے سے قبل سمندر میں ہی اپنا نشانہ بنالیا تو؟

یہ وہ سوالات ہیں جو کہ ہر عقل رکھنے والے شخص کے ذہن میں آتے ہیں۔ اگرچہ آج کے ایٹم بم سے متعلق سوال پوچھنا عوام تو کیا، خواص کے قد سے بھی چار فٹ اونچا ہے اور عوام کو، عوامی نمائندوں کو اور صحافیوں کو ایٹم بم سے متعلق سوال نہیں پوچھنے چاہئیں۔ البتہ تاریخی واقعات پر سوچنے کا حق تو ہر شخص کو حاصل ہے۔ سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ ایٹم بم پھاڑنا اور کوئی عام سا بم پھاڑنا، اس میں ضرور فرق ہو گا۔ مشہور ایکشن ہیرو جان ریمبو نے اپنی ہالی ووڈ فلموں میں جتنے بھی بم پھاڑے ہیں، چاہے ہاتھ فضا میں بلند کر کے دور پھینک کر پھاڑے ہوں یا ہیلی کاپٹر چلاتے ہوئے زمین پر گرا کر پھاڑے ہوں، وہ سب عام سے بم ہوتے تھے اور ان میں سے کوئی بھی ایٹم بم نہیں تھا۔

ایٹم بم کو ہاتھ سے پھینک کر یا جہاز سے گرا کر پھاڑنا ممکن نہیں ہے۔ کسی بھی ملک نے جب بھی ایٹم بم کا کوئی ٹیسٹ کیا، خواہ زمین پر کیا ہو، پہاڑ پر کیا ہو، سمندر میں کیا ہو، یا کسی دوسرے سیارے پر کیا ہو، ہمیشہ ایک کنفائنڈ اسپیس (Confined Space) تیار کیا، ارد گرد پائے جانے والی مخلوقات کو ممکنہ طور پر پرے ہٹایا، اور پھر اس کنفائنڈ اسپیس کو ٹیسٹ ایٹمی دھماکے میں قربان کیا۔ جہاز سے ایٹم بم گرانا عقل سے ماورا بات ہے۔

اب سادہ الفاظ میں سمجھنا ہے تو خبر یوں ہے کہ پہلا ایٹم بم ایک عام سے ہوائی جہاز سے ہیروشیما پر گرایا گیا تھا۔ سمجھ گئے تو سر ہلایے اور کام پر چلیے۔ آپ عوام ہیں۔ لیکن اگر آپ خواص میں سے ہیں تو یہ سوچیں کہ کیا ہیروشیما میں کسی پہاڑ میں یا کسی کنفائنڈ اسپیس میں ایٹم بم کی پوری مشینری تیار کی گئی تھی اور پھر تمام عملے کو نکال کر اس جگہ پر ایٹمی دھماکا کیا گیا؟ اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو آپ ہرگز عوام نہیں ہیں۔

اسی طرح پہلے انسان کے بارے میں سوچیے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پہلا انسان جنت سے زمین پر بھیجا گیا تھا، اور بس۔ اگر آپ اس سے زیادہ نہیں سوچتے۔ تو جناب آپ عوام ہیں۔ لیکن اگر آپ اس طرح سوچتے ہیں کہ انسان نامی مخلوق کو اس زمین پر پھینکنے سے پہلے ایک کنفائنڈ اسپیس یعنی اس کا ایک جسم اسی زمین پر تیار کیا گیا تھا جو گوشت، خون اور ہڈیوں سے بنا تھا اور سیدھا کھڑا ہو کر پنجوں کے بل چلنے والا ایک جسم تھا۔ جس کی فطرت میں گوشت پوست سے بنے اور پنجوں پر چلنے والے دیگر جانوروں کی طرح سفاکی اور بربریت بھی تھی اور پیار و محبت کے جذبات بھی اس کی فطرت میں موجود تھے۔

اور پھر اس دنیاوی جسم میں جنت سے نکالی گئی ایک روح آئی۔ وہ روح کہ جس کا جنت میں ایک اپنا خاص جسم یا ایک خاص لباس تھا۔ پھر اسے اس کے جنتی جسم سے علیحدہ کر دیا گیا اور زمین پر موجود جسم میں داخل ہونے کا حکم ملا۔ انسانی روح کا جنتی جسم یقیناً ایک ایسا جسم تھا جس سے ناپاک اشیا نہیں خارج ہوتیں اور جنت کو ناپاک نہیں کرتیں۔ ایسا صرف دنیاوی جسم کرتا ہے، جنتی جسم ایسا نہیں ہو سکتا ۔ جنتی جسم اولاد بھی پیدا نہیں کر سکتا۔ یاد رہے کہ جنت میں آدم اور حوا کی کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی تھی۔

جب انسان کا جنتی جسم، اولاد پیدا ہی نہیں کر سکتا تو جنت میں میاں بیوی اور حوروں کا تصور اس دنیا میں موجود مرد و زن کے تصور اور ان کے مابین تعلق سے مختلف ہو گیا۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ مرد اور عورت کا جیسا تعلق اس دنیا میں ہوتا ہے، جنت کے ماحول میں بھی بالکل ویسا ہی تعلق مرد، عورت اور حور کے مابین ہو گا۔ اور پھر غلمان کیا ہوں گے؟ کیا محض ملازم؟ دراصل جنت میں انسانی جسم ہے ہی نہیں، پھر کہاں کے جسمانی تقاضے؟ کہاں کے دنیاوی رشتے؟ کہاں کے دنیاوی طبقات؟

جی ہاں، آپ بالکل ایک جنتی جسم یا جنتی لباس کا تصور کر سکتے ہیں کہ وہ کیسا ہو گا۔ جب آپ اس کے بارے میں سوچیں گے تو آپ دراصل اپنے ہی جنتی جسم کا تصور کر رہے ہوں گے۔ ایسا سوچنا آپ کو آپ کے رب سے قریب کرے گا۔ آپ اسلامی عقائد، نظریات اور تعلیمات کو زیادہ بہتر طور سے سمجھ سکیں گے اور ان نظریات کے جدید فہم سے لطف اندوز ہوں گے۔

کتنا مزا آئے گا نا۔ جب آپ خود کو دریافت کریں گے۔ پھر آپ کی سمجھ میں بآسانی آ جائے گا کہ بھئی اگر آپ انسان ہیں تو دوسرے بھی تو انسان ہی ہیں نا! پھر کہاں رہا کوئی طبقاتی، لسانی یا نسلی فرق؟ اگر کوئی فرق ہے تو صرف تقوی ٰکا ہے کہ کون اللہ کے احکام دل سے مانتا ہے اور اس کی ہر قسم کی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔ بس یہی اس فانی زندگی کا حاصل ہے۔

اگر آپ اس طرح باریک بین اور دوربین ہیں تو آپ عوام نہیں ہیں۔ بلکہ آپ خاص ہیں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اللہ کے خاص بندے بننا چاہتے ہیں یا عام انسان! فیصلہ آپ ہی کو کرنا ہے۔

Facebook Comments HS