روبینہ فیصل کے ناول ”نارسائی“ پر تبصرہ



مجھے ایک محفل میں ایک اجنبی ادیب ملے۔
ان کے ساتھ ایک دلچسپ مکالمہ ہوا
کہنے لگے۔ کیا آپ روبینہ فیصل کو جانتے ہیں؟
’جی ہاں۔ ‘ میں نے مختصر سا جواب دیا
’کب سے جانتے ہیں؟‘
’برسوں سے۔ اس وقت سے جب انہوں نے افسانے لکھنے شروع کیے تھے۔ ‘
’سنا ہے ان کا پہلا ناول۔ نارسائی۔ سنگ میل پبلشرز نے لاہور سے چھاپا ہے۔ کیا آپ نے پڑھا ہے؟‘

’نہ صرف پڑھا ہے بلکہ غور سے پڑھا ہے۔ اس ناول میں روبینہ کا تخلیقی وفور اپنی معراج پر ہے۔ وہ ایک سنجیدہ ناول نگار بن کر سب کے سامنے آئی ہیں،

’آپ کی ان کے ناول کے بارے میں کیا رائے ہے؟‘

’میں نے وہ ناول ایک ادیب کے طور پر بھی پڑھا ہے اور ایک ماہر نفسیات کے طور پر بھی۔ میری نگاہ میں اس ناول کو اردو ادب کے ہر سنجیدہ ادیب اور طالب علم کو پڑھنا چاہیے کیونکہ وہ اردو ناول کی روایت میں ایک گرانقدر اضافہ ہے۔ یہ ناول ان لوگوں کو بھی پڑھنا چاہیے جو عورتوں اور ادیبوں کے نفسیاتی اور سماجی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں‘

’ڈاکٹر سہیل جن لوگوں نے ابھی ناول نہیں پڑھا انہیں یہ بتائیں کہ اس ناول کا موضوع اور تھیم کیا ہے؟‘

’ میری نگاہ میں روبینہ فیصل نے اپنے چھ سو صفحوں کے ناول۔ نارسائی۔ میں ایک ایسی عورت کی کہانی رقم کی ہے جو سچ کی تلاش میں ہے کیونکہ وہ سچ سے محبت کرتی ہے

وہ سچ سوچنا چاہتی ہے
سچ بولنا چاہتی ہے
سچ لکھنا چاہتی ہے
لیکن اس کے سچ کو لوگ جھوٹ سمجھتے ہیں کیونکہ
کسی کے سچ کسی کو جھوٹ لگتے ہیں

روبینہ فیصل کی ہیروئن سائرہ ایک مثالیت پسند شاعرہ ہے۔ اس کی مثالیت پسندی زندگی کے ہر موڑ پر جب حقیقت پسندی سے ٹکراتی ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر انسان کو اپنے سچ کی ایک قیمت ادا کرنی پڑتی ہے کبھی کم کبھی زیادہ۔ سچ جتنا غیر روایتی ہو گا اس کی قیمت بھی اتنی ہی بھاری ہوگی۔

ہر جینوئن ادیب شاعر اور دانشور کو اپنی صلیب اٹھانی پڑتی ہے۔
سائرہ کی صلیب بہت بھاری تھی۔

میں نے جب۔ نارسائی۔ کو ایک ماہر نفسیات کے طور پر پڑھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ سائرہ نے بہت کوشش کی کہ وہ زندگی کا توازن قائم رکھے لیکن وہ زندگی کا توازن قائم کرنے کی کوشش میں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی اور اس کے اپنوں نے اسے پاگل خانے بھجوا دیا جہاں وہ نفسیاتی ڈاکٹروں کے لیے بھی ایک معمہ ایک بجھارت اور ایک پہیلی بن گئی۔

جب سائرہ نے دوبارہ ذہنی توازن قائم کرنے رکھنے کی کوشش کی تو زندگی کا توازن کھو بیٹھی اور اس نے ایک سے زیادہ بار اقدام خود کشی کی۔ بہت سے دکھوں کے ساتھ اسے یہ بھی دکھ تھا کہ وہ زندگی میں ہی ناکام نہیں ہوئی خود کشی کرنے میں بھی کئی بار ناکام رہی۔

اس اجنبی ادیب سے خارجی مکالمہ ختم ہوا تو گھر آ کر بطور ادیب اور ماہر نفسیات میرا خود سے داخلی مکالمہ شروع ہو گیا۔

میں نے اپنے آپ سے یہ سوال پوچھا کہ سائرہ اتنی دکھی کیوں ہوئی کہ اس نے خود کشی کر لی؟ میں نے نوجوانی میں جب اپنے شاعر چچا عارف عبدالمتین سے پوچھا تھا کہ لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا تھا کہ جرمن فلسفی شوپنہار کا کہنا ہے کہ

WHEN HORRORS OF LIVING OUTWEIGH THE HORRORS OF DEATH HUMAN BEINGS COMMIT SUICIDE
سائرہ نے اپنی مختصر زندگی کون سے ایسے دکھ سہے کہ اس نے خود کشی میں پناہ ڈھونڈی۔
کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ سائرہ کو جب زندگی نے دھتکار دیا تو اس نے موت کو گلے لگا لیا۔

سائرہ کو ساری عمر دھتکارنے والوں اور تذلیل و تحقیر کرنے والوں میں اس کے اپنے خاندان والے سر فہرست تھے

اس کے باپ نے اسے تیرہ برس کی عمر میں ہی بیچ ڈالا
اس کے پہلے شوہر نے اسے ذلیل و خوار کیا اور اس کے تین بچے لے کر اسے گھر سے نکال دیا

اس کے بھائیوں اور بھابیوں نے اسے اپنے ہی گھر میں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اسے اپنی بدنامی کا سبب جانا

اور
جب اس کے بیٹے نے اسے ماں کہنے کی بجائے فاحشہ کہا تو اس کا دل ٹوٹ گیا۔

سائرہ کو ایک ادیبہ اور ایک شاعرہ بننے کا بہت شوق تھا۔ اس کا خیال تھا کہ سب ادیب شاعر اور دانشور اعلیٰ آدرش رکھتے ہیں وہ اپنے قارئین اور عوام کو بہتر زندگی کے ’امن کے‘ آشتی کے اور انسان دوستی کے خواب دکھاتے ہیں لیکن جب اس نے انہیں قریب سے دیکھا تو وہ دکھی ہو گئی۔ اپنے آپ سے شرمندہ ہو گئی

مجھ کو خود اپنے آپ سے شرمندگی ہوئی
وہ اس لیے کہ تجھ پہ بھروسا بلا کا تھا

وہ روشن خیال لوگ اندر سے اتنے تاریک ہوتے ہیں گورے چہرے رکھنے والے کالے دل رکھتے ہیں اور مشاعرے لوٹنے والے بڑے شاعر اتنے چھوٹے انسان ہوتے ہیں اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔

اس کے ادیب اور شاعر دوستوں اور حریفوں ’رفیقوں اور رقیبوں نے اسے جسم کی شاعرہ جانا کیونکہ ان کی کوتاہ نگاہوں کی رسائی اس کی روح تک نہ ہو سکی جو سچی اور سچی تھی۔

نجانے کتنے دغا بازوں ’شاطروں اور چلتروں نے اس کی سادہ لوحی سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور پھر اسے بدنام بھی کیا۔

سائرہ کو اندازہ ہو گیا کہ وہ ایک منافق معاشرے کی باسی ہے جہاں جھوٹ کو سچ اور شہوت کو محبت کہہ کر پیش کیا جاتا ہے۔

سائرہ کی روح کے زخم اتنے گہرے تھے کہ وہ ان کی تاب نہ لا سکی۔

سائرہ ساری عمر محبت کی متلاشی رہی لیکن اسے نہ تو محبت اپنے باپ اور بھائیوں سے ملی نہ شوہروں اور محبوبوں سے اور نہ ادیبوں شاعروں اور دانشوروں سے۔

سائرہ عمر بھر یہ کوشش کرتی رہی کہ اس کا انسان ہونے کے ناتے احترام کیا جائے شاعرہ ہونے کے ناتے اس کی عزت کی جائے لیکن اسے ایک عورت ہونے کے ناتے دیکھا گیا اور اس کے فن کو اخلاقیات کی کسوٹی پر پرکھا گیا جس سے اس کی عزت نفس بہت مجروح ہوئی اور ایک حساس انسان اور ادیبہ ہونے کے ناتے وہ بہت دلبرداشتہ اور دکھی ہو گئی۔

سائرہ کی زندگی میں نجانے کتنے شاعروں اور ادب کے نقادوں نے ہوس کو محبت کے روپ میں پیش کیا اور وہ عورت جو باپ اور بھائیوں کی محبت اور شفقت سے محروم بچی تھی ساری عمر محبت اور شہوت کے فرق کو نہ سمجھ سکی۔ منافق معاشرے میں جدائی کے بعد مرد شاعر اور دانشور سرخرو ٹھہرے اور وہ عورت ہونے کے ناتے ادب اور زندگی میں بدنام ہو گئی اور آخر اس نے خود کشی کر لی۔

سائرہ کی خودکشی سے مجھے سلویا پلاتھ اور ورجینیا وولف کی خودکشی یاد آ گئی جنہوں نے ایک روایتی معاشرے میں غیر روایتی ادب عالیہ تخلیق کرنے کی کوشش کی اور اپنے سچ کی بھاری قیمت ادا کی۔ ان کی صلیب بھی سائرہ کی صلیب کی طرح بھاری تھی۔

میرے لیے یہ بات باعث مسرت ہے کہ میں نے روبینہ فیصل کو ایک ننھے منے ادبی پودے سے ایک گھنا ادبی درخت بنتے اور اپنے عزیزوں ’دوستوں اور اردو ادب کے سنجیدہ قاریوں کو کڑوے سچ کی کوکھ سے نکلے میٹھے ادبی پھل کے تحفے پیش کرتے دیکھا۔

روبینہ نے اپنے ناول میں جو کردار تخلیق کیے ہیں وہ دلچسپ اور پراسرار ہیں وہ زندہ کردار ہیں اور وہ ہمارے منافق معاشرے کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ عین ممکن ہے ان کے ناول پر وہ قارئین اور ناقدین سنگباری کریں جو سماجی آئینہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کا ناول پڑھ کر مجھے اپنا ایک شعر یاد آیا

زمانہ چھپتا ہے ان شاعروں سے اب خالد
جو شہر زیست میں آئے ہیں آئنوں کی طرح

روبینہ فیصل کا ناول ان ذہنی بالغوں کے لیے ہے جو عورتوں اور ادیبوں کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا چاہتے ہیں۔ دکھی دلوں کے بارے میں ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں اور ادب پاروں کو مذہب روایت اور اخلاقیات کی کسوٹی کی بجائے ادب فن اور انسانی نفسیات کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔

روبینہ فیصل کا ناول پڑھتے ہوئے میں اپنے آپ سے یہ سوال پوچھ رہا تھا کہ ان سے شدید نظریاتی اور سیاسی اختلافات کے باوجود ہماری بیس برس کی ادبی دوستی کیسے قائم رہی؟ تو میرے دل نے سرگوشی کی کہ آپ دونوں ایک دوسرے کے خیالات جذبات اور نظریات کا احترام کرتے ہیں اور یہی ایک مخلص دوستی کی نشانی ہے۔

اسی لیے مجھے ان کی ادبی دوستی پر فخر ہے۔

میں روبینہ فیصل کو کئی برسوں کی ادبی محنت اور تخلیقی ریاضت کا ماحصل۔ نارسائی۔ جیسا بامعنی اور بھرپور ناول تخلیق کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail