میرے شہر کے دانشور
آج میں بہت تھک گئی تھی۔ آج کی تھکن دوسرے دنوں کی نسبت کچھ غیرمعمولی تھی۔ جسمانی سے زیادہ دماغی تھکن۔ شاید اس کی ایک وجہ اس 28 سالہ نوجوان کے کینسر کا کیس تھا جسے رپورٹ کرتے ہوئے میں اپنے احساسات پر کنٹرول نہیں کر پا رہی تھی۔
دروازے سے اندر داخل ہوئی تو خود کو ایک بڑے سے دائرے کی طرح گول لیکن اندھیرے کمرے میں پایا۔
اندھیرا۔ اور خاموشی۔
مجھے گھبراہٹ سی محسوس ہونے لگی۔ میں نے تیز آواز میں پکارا، کہاں ہو تم سب! تمہیں اچھی طرح سے معلوم ہے مجھے اندھیرے میں گھٹن ہوتی ہے۔ جلدی سے کوئی موم بتی یا ٹارچ لے کر آؤ۔ لیکن کسی نے میری آواز نہیں سنی۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے میری آواز میرے گلے میں پھنس چکی ہو۔ جتنی میں آواز نکالنے کی کوشش کر رہی تھی اتنی ہی گلے میں پھنس رہی تھی۔ میں گھبراہٹ میں کمرے کے اگلے سرے پر ایک دروازے سے آتی ہوئی ہلکی سی روشنی کی طرف بھاگی۔ پاس ہی میز پر ایک کتاب تھی۔ مجھے یاد آیا دو دن پہلے یہ کتاب مجھے خالد سہیل نے اپنے آٹوگراف کے ساتھ دی تھی۔ اور میں اس کو جلد سے جلد پڑھنے کے لئے وقت تلاش کر رہی تھی۔ میں نے کتاب اٹھائی اور دروازہ کو ہلکا سا زور لگا کر کھولا۔
باہر نکلتے ہی سامنے ایک تنگ سا راستہ نظر آتا ہے۔ میں بے اختیار اس پر چل پڑتی ہوں۔ راستہ ایک کھلے، گول اور روشن میدان میں داخل ہوتا ہے۔ میری آنکھیں روشنی سے چندھیا جاتی ہیں۔ فضا میں ایک تازگی محسوس ہوتی ہے اور مجھے لگتا ہے، جیسے میری گردن سے کسی نے دبانے والا ہاتھ ہٹا دیا ہو۔ میری سانسیں بحال ہوتی ہیں، تو میں کسی قدر حیرانی سے ارد گرد نظر دوڑاتی ہوں۔ تھوڑے ہی فاصلے پر مجھے اپنے بابا نظر آتے ہیں، ایک مسکراہٹ کے ساتھ باہیں پھیلائے۔ میں بے اختیار ان کی طرف دوڑتی ہوں اور ان سے بغل گیر ہو کر مجھے چھوڑ کر چلے جانے کی شکایت کرتی ہوں۔ وہ میری پیشانی پر بوسہ دیتے ہیں۔ میں پوچھتی ہوں، یہ کون سی جگہ ہے؟
یہ روشنی کی جگہ ہے۔ یہاں وہ لوگ ہیں جو روایات کے خلاف اپنے خوابوں کے راستے پر چلتے ہیں اور دوسروں کے لئے راستے بناتے ہیں۔ یہ کریئٹؤ مائینارٹی (creative minority) کا دائرہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں۔
بابا میرے ہاتھ میں کتاب دیکھتے ہیں۔ تو مسکرا کر پوچھتے ہیں، خالد سہیل؟
میں ان کو یاد دلاتی ہوں، وہی خالد سہیل جو اسی چارسدہ روڈ پر رہ چکے ہیں، جہاں ہمارا گھر تھا۔ اسی عیدگاہ کے میدان میں کھیل چکے ہیں جہاں میں بھی اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔ اور اسی خیبر میڈیکل کالج جا چکے ہیں جہاں بعد میں، میں بھی گئی۔ یہاں تک کہ کالج کے اسی سینا میگزین کے مدیر، رہ چکے ہیں، جس کی میں بھی بعد میں بھی مدیر بنی۔ انہوں نے اپنی تخلیقات کا آغاز وہیں سے کیا اور آج بیشمار کتابوں کے مصنف ہیں۔ کیا خوب لکھتے ہیں۔
پھر میں قدرے افسوس کے ساتھ کہتی ہوں، سینا سے سفر کا آغاز تو میں نے بھی کیا تھا لیکن میں روایتی اکثریت کے راستے پر نکل کر کچھ خواب پیچھے چھوڑ گئی۔ بابا میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سمجھاتے ہیں، زندگی سفر کا نام ہے۔ سفر جاری رکھو، خواب دیکھنے والوں کی صحبت میں رہا کرو۔
کچھ فاصلے پر سفید اور کالے کی خوبصورت آمیزش والے بالوں، نیلگوں مسکراتی آنکھوں اور سفید موچھوں کے ساتھ ایک قد آور شخص چارپائی پر لال رنگ کے تکیے سے ٹیک لگائے نظر آتا ہے۔ وہ ایک شفیق سی مسکراہٹ کے ساتھ میری جانب دیکھتا ہے۔ میں تیز روشنی میں اپنی چندھیائی آنکھوں سے غور سے دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ تو جیسے دل کے کسی خانے میں موجود ایک محبوب انسان کی تصویر میرے سامنے آ گئی ہو۔ میں بے اختیار کہتی ہوں، غنی خان بابا، آپ؟ یہاں؟ میں آپ کو بہت یاد کرتی ہوں، آپ کی شاعری پڑھتی ہوں اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کس صورت میں ساری دنیا کو بتاؤں کہ آپ کیا ہیں۔ اور آپ کی تخلیق کا کیا درجہ ہے۔ افسوس کے مین آپ کے سائے میں وقت گزار سکتی۔ آپ کی دانائی سے مستفید ہوتی۔
پاس ہی میں احمد فراز نظر آئے ہیں۔ میں کسی قدر جذباتی انداز میں انہیں سلام کرتی ہوں۔ اور انہیں بتاتی ہوں کہ میں کس قدر خوش ہوں ان کو دیکھ کر۔
میں آپ دونوں سے شرمندہ ہوں کہ میں آپ کا انٹرویو اپنے کالج کے میگزین میں نہیں چھاپ سکی تھی۔ خان بابا اور آپ کا انٹرویو میں اور میرے ساتھیوں نے کس قدر شوق سے کیا تھا۔ لیکن جماعت اسلامی کے طلبا نے ہنگامہ مچا دیا تھا۔ اور ہمارے پرنسپل نے اس سال کا سینا ہنگاموں کے ڈر سے چھپنے سے روک دیا تھا۔ مجھے اس کا افسوس ساری عمر رہے گا۔
میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر غنی خان بابا اسے میرے ہاتھ سے لیتے ہیں اور اس پر غور سے نظر ڈالتے ہیں۔
پچھلے اندھیرے اور یہاں کی سفید روشنی کی مانند اس کتاب کے کور کا رنگ بھی کالے اور سفید کی آمیزش کا ہے۔ روشنی ایک چہرے پر پڑ رہی ہے، ایک درویش نما داڑھی والا شخص، شکل سے درویش بلکہ صوفی لیکن سر پر انگریزوں جیسا ہیٹ پہنے۔
پیچھے درخت جن میں سے روشنی چنتی ہوئی ایک راستے کو اجاگر کرتی ہے۔ اس شخص کی آنکھیں جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہیں۔ چہرے پر تجسس کے تاثرات، جیسے کسی تلاش میں نکلا ہوا شخص۔
بابا دھیرے سے کتاب کا ٹائیٹل دہراتے ہیں۔
خالد سہیل، فن اور شخصیت،
خالد سہیل؟ احمد فراز یہ نام سن کر چونکتے ہیں۔ خالد سہیل،
مجھے یاد ہے یہ نوجوان، میڈیکل کالج کے مشاعرے میں میں نے اس کی شاعری سنی تھی،
سرخ دائرہ، کیا نظم تھی، بالکل الگ، منفرد خیال، گہری، معنی خیز،
مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ نوجوان آگے شاعری کے میدان میں بہت کچھ کرنے والا ہے۔
میں جلدی سے بات آگے بڑھاتی ہوں۔ شاعری؟ صرف شاعری نہیں اس نے تو 70 کتابیں اپنی سترہویں سالگرہ تک لکھ ڈالیں ہیں۔ اور ابھی پوری توانائی سے لکھنے میں مصروف ہے۔ نثر میں بھی اس نے اتنے ہی جوہر دکھائے ہیں جو شاعری میں۔ ناول بھی لکھتا ہے، افسانے بھی لکھتا ہے، کالم بھی لکھتا ہے۔ اور اب تو خطوط لکھتا ہے۔ کتنے ہی نئے لوگوں کو ادبی چاشنی چٹا چکا ہے۔ سب لوگ بڑے شوق سے اس سے خط و کتابت کرتے ہیں۔
غنی خان بابا سامنے والے کور پر تصویر کو غور سے دیکھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں، اس کی آنکھوں میں تلاش ہے۔
تلاش!
میں یہ لفظ دہراتی ہوں۔ تو مجھے خان باب کی نظم یاد آتی ہے۔
خان بابا آپ کی تلاش والی نظم کا میں نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ سب لوگوں کو بہت پسند ہے۔ میری پسندیدہ نظم ہے۔ لیکن کاش میں آپ کا انداز اور آپ کا احساس لوگوں تک پہنچا سکوں۔ بہت کوشش بھی کروں تو ممکن نہیں ہو پاتا۔ وہ بہت محبت سے میری طرف دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں، ہر انسان اپنی سی کوشش کرتا ہے۔
میں فوراً بات کاٹ کر بتاتی ہوں، آپ کو معلوم ہے، خالد سہیل کی بھی ایک نظم تلاش کے عنوان سے ہے۔
میں چل رہا ہوں
میں ایک مدت سے چل رہا ہوں
میں زندگی کی حقیقتوں کی تلاش میں ہوں
میں منزلوں کے سراغ میں ہوں
میں روشنی کی تلاش میں ہوں
میں آشتی کا، سکون دل کا پتہ لگانا بھی چاہتا ہوں
اور آنسوؤں کو گلے لگا کر
میں مسکرانا بھی چاہتا ہوں
میں ایک مدت سے چل رہا ہوں
بابا سن کر مسکراتے ہیں،
میں پھر جلدی سے بول پڑتی ہوں،
انگریزی میں بھی شاعری کرتے ہیں۔ اور ان کی ایک نظم invisible chains تو مجھے بے حد پسند ہے، اس کا اردو ترجمہ میں نے یوں کیا ہے۔
ہم جب بھی چاہیں
کچھ الگ سا کرنا
کچھ منفرد
کچھ تخلیقی
تو ہم
محسوس کرتے ہیں
دباؤ! کچھ ان دیکھی زنجیروں کا
روایات کی زنجیریں
جو خبردار کرتی ہیں
کہ حد کو پار مت کرنا
اور اگر پار کر لو تو!
ایک قیمت ادا کرنی پڑے گی
روایتی لوگ!
حوصلہ نہیں رکھتے
ان حدوں کو پار کرنے کا
مگر
تخلیقی لوگ پار کر لیتے ہیں
اور قیمت ادا کرتے ہیں
ان زنجیروں کو توڑنے کی
اور یوں۔
ایک نئی دنیا میں داخل ہوتے ہیں
اپنے خوابوں کی دنیا میں
نئی منزلوں کی دنیا میں
وہ کتاب کے پچھلے کور پر نظر ڈالتے ہیں۔ کالے بیک گراؤنڈ پر سفید حروف میں لکھی تحریر بآواز بلند پڑھتے ہیں۔
”خالد سہیل بے پناہ تخلیقی قوت کے حامل، اور روایت کے باغی ہیں، وہ محفوظ راستوں سے دور رہتے ہیں۔ ان کی فکر کے سرے کسی روایت سے نہیں ملتے“ ۔
اور ان سطروں کے نیچے ایک خوبرو شخص کی تصویر۔
امیر حسین جعفری، وہ نام پھر سے دہراتے ہیں امیر حسین جعفری،
میں فوراً بتاتی ہوں، یہ خود بھی بہت اچھے شاعر ہیں۔ اور اختر حسین جعفری کے صاحبزادے ہیں۔ اس پر بابا کہتے ہیں، اختر حسین جعفری، ترقی پسند شاعر،
ہم سب ہر اس وقت کے حالات کا اثر تھا۔ میں بھی اس ٹولے کا حصہ تھا۔
پھر اپنے مخصوص انداز میں دھیرے سے دہراتے ہیں، اختر حسین جعفری، زبردست شاعر،
ریت صحرا نہیں، ریت دریا نہیں
ریت بس ریت ہے
میں فقط میں ہوں اور میری تصویر پر جو ہے مذکور
پہچان میری نہیں
مجھ میں کتنا ازل
مجھ میں کتنا ابد، کتنی تاریخ ہے
میں نہیں جانتا
میں بات آگے بڑھاتی ہوں، امیر حسین جعفری خالد سہیل کے دوست ہیں۔ ویسے میں سوچتی ہوں کہ خالد سہیل کا کون دوست نہیں ہو گا۔
امیر حسین جعفری نے ہر طرف پھیلے مضامین کو اس کتاب کی شکل میں ایک جگہ جمع کر کے ہمارے لئے کتنا آسان کر دیا ہے۔ اگر کسی کو خالد سہیل کو ایک ہی کتاب پڑھ کر سمجھنا ہو تو یہ کتاب ہے۔ ان کی تخلیقات پر تبصرے، خیالات، ان کی سوانح عمری کی تلخیص، ان کی شاعری کا نمونہ، ان کے فلسفے اور نفسیات، ہر چیز کو ایک کوزے میں دریا کی مانند اس کتاب میں بند کیا ہے انہوں نے۔
اتنے میں ایک انتہائی با رعب، لمبے قد والا، سادہ کدھر کی شلوار قمیض میں ملبوس اور کندھے پر ایک خوبصورت، روایتی شال پہنے ایک شخص قریب آتا ہے۔ میں ان کی طرف دیکھتی ہوں۔ میں عقیدت اور جذبات سے بھری آواز میں پکارتی ہوں، غفار خان بابا؟ عدم تشدد کے بانی، خدائی خدمت گاروں کے محبوب رہنما!
خالد سہیل نے آپ کے بارے میں بہت لکھا ہے۔ وہ آپ کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں اور آپ ہی کی طرح عدم تشدد اور انسانوں کی بے لوث خدمت کو اپنی زندگی کا اصول سمجھتے ہیں۔
وہ مسکرا کر، میری طرف جھک کر کہتے ہیں، بچے! میں بہت خوش ہوں کہ تم ایسے دوستوں کے حلقے کا حصہ ہو۔
اتنے میں قریب ہی میں ایک چارپائی پر، خاموشی سے آنکھیں موندے ایک شخص جو ابھی تک سب سن رہا تھا۔ اٹھ بیٹھتا ہے۔ اور کہتا ہے، خالد سہیل ایک بہترین دوست ہے۔
میں فوراً ان کی طرف متوجہ ہوتی ہوں، ڈینس آئیزک؟ میں کتنی خوش ہوں آپ کو دیکھ کر، میرے شہر پشاور کی جان، پشاور کا فخر،
میں انہیں بتاتی ہوں کہ میں کتنے شوق سے ان کے ڈرامے دیکھتی تھی۔ اور یہ کہ اب میں بھی کینیڈا کے اسی شہر میں رہتی ہوں، جہاں وہ رہتے تھے۔ کاش میری آپ سے ملاقات ہوتی۔ میں آپ سے کتنا کچھ سنتی اور سیکھتی۔
وہ اپنا ہاتھ آگے کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک تصویر ہوتی ہے۔ میں دیکھتی ہوں تو خالد سہیل کی تصویر ہے۔ میں تصویر کے بارے میں سوال کرتی ہوں تو وہ بول پڑتے ہیں۔ اپنے دل میں بس چند ہی لوگوں کی تصویریں لایا ہوں۔ ان میں سے ایک یہ ہے۔
میں تھوڑے تذبذب سے گویا ہوتی ہوں۔
معلوم نہیں، خالد سہیل کچھ عجیب سا شخص ہے۔ اپنے آپ کو درویش کہتا ہے۔
کبھی شادی نہیں کی، کوئی بچہ نہیں، ملک چھوڑا تو کبھی پیچھے مڑ کر رنجیدہ نہیں ہوا، مجھے تو کچھ بے حس سا آدمی لگتا ہے۔ لیکن پچھلے دنوں اپنی بھانجی کے ایکسیڈنٹ کے وقت اس نے مجھے حیران کر دیا۔ میں نے اس کی ذات میں ایک شفیق باپ کو دیکھا جو دل و جان سی اس بچی کی تیمارداری کرتا رہا۔ اور جب بھی اس کے بارے میں بات کرتا اس کی آنکھیں بھر آتیں۔
وہ ایسا ہی ہے۔ ڈینس آئزک میری بات کی تصدیق کرتے ہوئے دھیمے سے کہتے ہیں۔
اس پر احمد فراز بولتے ہیں۔ بچے اس سے سیکھا کرو۔ اس کے حلقے میں رہا کرو۔
میں اداس ہو کر نظر نیچے کر لیتی ہوں۔ ”میں نے انہیں کچھ زیادہ متاثر نہیں کیا ہے۔ وہ مجھے کریئٹو مائنارٹی میں شامل کرنے کی بہت کوشش کر چکے ہیں۔ اور میری خواہش کے باوجود میں زندگی کے دوسرے کاموں سے نہیں نکل پاتی“
ویسے مجھے کچھ سمجھ بھی نہیں اتی۔ میں انہیں کوئی نظم یا مضمون لکھ کر بھجواتی ہوں تو کبھی ایک لفظ جواب میں بھجوا دیتے ہیں
پروفاؤنڈprofound، امیزنگ Amazing وغیرہ
میں پریشان ہو جاتی ہوں کہ یہ انہوں نے مذاق کیا ہے یا تعریف۔ اب ان کے مختصر الفاظ کا میں کیا نتیجہ اخذ کروں۔
اتنے میں ایک تیز گھنٹی کی آواز آتی ہے، میں چونک پڑتی ہوں،
تو خود کو کرسی پر بیٹھا پاتی ہوں، میرے سامنے خالد سہیل کی کتاب ہے اور وہ کاغذ پڑا ہے، جس پر ابھی دو دن پہلے انہوں نے دو دائرے بنا کر مجھے کرئیٹو مائنارٹی اور ٹریڈیشنل مجارٹی کے روزمرہ کے وقت کے استعمال کا فرق سمجھایا تھا۔ گھنٹی کی آواز پھر بجتی ہے۔ اور میں فون اٹھاتی ہوں۔ دوسری جانب سے آواز آتی ہے، میں ایریکا بات کر رہی ہوں سکوشیا پرائیویٹ کلائنٹ گروپ سے، ہماری کل کی میٹنگ کی یاد دہانی کے لئے فون کر رہی ہوں۔ میں جواب دیتی ہوں۔
پلیز کینسل دا میٹنگ۔ آئی چینجڈ مائی مائینڈ، (please cancel the meeting، I changed my mind)
اور ایک سکون کے احساس کے ساتھ میں کتاب کھولتی ہوں۔ اور دھیمے سے دہراتی ہوں،
کریئٹؤ مائینارٹی!
از اٹ ٹو لیٹ؟ (Is it too late)
(یہ مضمون جناب امیر حسین جعفری کی مرتب کردہ کتاب، ”ڈاکٹر خالد سہیل، فن اور شخصیت“ کی تقریب رونمائی کے موقع پر پڑھا گیا)


