میرے گاؤں کے دو نوجوانوں کی افسوس ناک ہلاکت


ضلع مالاکنڈ کے گاؤں جولگرام میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دو خوب صورت نوجوان بہت درد ناک اور افسوس ناک موت سے دوچار ہوئے۔ میں تو مسافر ہوں اور مسافر تو ویسے بھی معمولی بات پر بہت جلد اشک بار ہو جاتے ہیں لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ ان دو نوجوانوں کے خاندانوں کے علاوہ جولگرام کے سب خواتین و حضرات، بچے، بوڑھے اور نوجوان، ان بدقسمت نوجوانوں کے سانحے پر نہایت غم زدہ اور دکھے ہوں گے۔ بد قسمتی اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ دونوں ایک ہی قبیلے یونس خیل کے چشم و چراغ تھے۔ ذاتی طور پر مجھے ان دو واقعات نے جیسے ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اگر ان نوجوانوں عبید الرحمن اور حارث الطاف کی المناک اموات پر غور کیا جائے تو اس کے لئے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ اس ذمہ داری میں پورا معاشرہ اور ریاست برابر کے شریک ہیں۔ ان میں ایک عبیدالرحمٰن نے خودکشی جیسا بڑا قدم اٹھایا تھا۔ یہ کتنے دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ ایک انسان جب اپنے حالات سے اتنا تنگ آ جائے کہ اسے اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہوئے اپنے والدین، بہن بھائیوں، رشتہ داروں، دوستوں اور گاؤں والوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ دوسرا نوجوان حارث الطاف یتیم تھا۔ اس کے والد کی بے وقت وفات کی وجہ سے اسے اپنے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری نبھانی تھی جس کے لئے وہ سعودی عرب گیا ہوا تھا لیکن بدقسمتی سے وہاں درندہ صفت انسانوں کے ہتھے چڑھ گیا۔

عبیدالرحمٰن بچپن میں یسیر ہو چکا تھا۔ وہ پڑھا لکھا انسان تھا۔ انٹر میڈیٹ کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ڈپلوما کرچکا تھا اور اپنے بہن بھائیوں کو سپورٹ کرنے کے لئے درزی کا ہنر سیکھ کر جولگرام کے بازار میں درزی کا کام کرتا تھا۔

خودکشی کی وجوہات بہت سی ہو سکتی ہیں لیکن پاکستان میں بے روزگاری، صحت کے مسائل، غربت، خاندانی اور گھریلو تنازعات، ڈپریشن اور بعض اوقات غیرمعمولی سماجی دباؤ خودکشی کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں میں ہیرو ازم اور ایڈونچر ازم کے رجحانات بھی نوجوانوں کی خودکشیوں کا باعث بنتے ہیں۔

عبیدالرحمٰن نے اس وقت اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا جب سب لوگ گہری نیند سو رہے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ساری رات جاگ کر اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا۔

جس طرح خودکشی کی وجوہات فوراً نہیں سامنے نہیں آتیں اور اس میں کئی سال لگ جاتے ہیں، اسی طرح خودکشی کی سوچ پیدا ہونے اور پھر اس کو عملی جامہ پہنانے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ انسان کو دوسرے انسان کے خیالات کا پتہ نہیں چلتا جو اس کے دماغ میں گھومتے ہیں اور نہ ابھی تک ایسا کوئی آلہ ایجاد ہو چکا ہے جس سے انسان کے دماغ میں موجود سوچ کا پتہ چلایا جا سکے۔ لیکن ایسا ہو نہیں سکتا کہ عبیدالرحمٰن کی پریشانیوں اور مشکلات کا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔

ضرور اس نے اپنے مسائل اور تکالیف کا اگر بلاواسطہ نہیں تو بالواسطہ ضرور کسی کے ساتھ شیئر کی ہوں گی۔ اس کے قریبی دوستوں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتا تھا جس سے آسانی سے اس کے ذہن اور دماغ میں گردش کرنے والے لاوے کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا کیوں کہ جو لوگ سماجی یا گھریلو تنازعات یا ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، ان کی روزمرہ زندگی میں سماجی رویے عام لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ماں باپ، پڑوسیوں، رشتہ داروں اور احباب نے یقینی طور پر اس کی حرکات و سکنات اور رویے غیر معمولی محسوس کیے ہوں گے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بہ حیثیت انسان ہم سب نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہیں اور جتنا وہ خود ذمہ دار ہے، اتنا ہی ہم بھی قصور وار ہیں۔ مہذب اور خوشحال معاشرے میں حکومت سے زیادہ عوام ایک دوسرے کے متعلق فکر مند ہوتے ہیں۔ میں انگلینڈ میں اپنے فارغ اوقات میں مختلف محکموں کے لئے پشتو سے انگریزی میں ایک پروفیشنل مترجم کی حیثیت سے فرائض انجام دیتا ہوں۔ ایک دفعہ مجھے فون آیا۔ جب میں نے اٹھایا تو ایک خاتون پولیس افسر گھر کے اندر سے بول رہی تھی۔

متعلقہ پولیس افسر ایک تفتیش کے سلسلے میں ایک گھر میں آئی تھی لیکن گھر میں موجود افراد انگریزی نہیں سمجھ سکتے تھے، اس لئے ترجمانی کے لئے میری خدمات حاصل کرلی گئی تھیں۔ افسر نے کہا گھر میں موجود خاتون سے پوچھ لیں کہ اس کے گھر میں کیا مسئلہ درپیش ہے۔ میں نے جب خاتون سے دریافت کیا تو وہ ہنس کر بولی: ”میں نے ان دو پولیس آفیسرز سے یہ پوچھنا ہے کہ یہ کیوں ہمارے گھر آئے ہیں۔“

جب میں نے پولیس افسر کو اس کی بات بتائی تو اس نے کہا کہ ”اس کے پڑوسی نے فون کیا تھا کہ اس گھر سے چیخنے کی آوازیں آر ہی ہیں۔“

اس پر گھر میں موجود خاتون نے جواب دیا کہ ”ہم سب ماں، بیٹے اور بیٹیاں ٹی وی دیکھ رہے تھے اور ساتھ ہی باتیں بھی کرتے جاتے تھے، شاید پڑوسیوں کو ہماری آوازیں کچھ زیادہ بلند محسوس ہوئی ہوں گی اور انہیں یہاں کسی مسئلے کے حوالے سے غلط فہمی ہوئی ہے۔“ اس کے بعد پولیس نے اپنے طریقہ کار کے مطابق ضروری کارروائی کی اور مطمئن ہو کر وہاں سے واپس چلی گئی۔

یہاں یوکے میں عوام ایک دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرتے لیکن جب کس کو غیرمعمولی چیز نظر آجاتی ہے اور جب یہ ان کی نظر میں عوام یا ملک کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے تو وہ فوراً پولیس کو یا ایمبولنس کو اطلاع دیتے ہیں۔

اس سلسلے میں میں اپنا ایک واقعہ لکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے جم میں ورزش کے دوران دل کا دورہ پڑا۔ جم والوں نے ایمرجنسی نمبر پر ایمبولینس کے لئے فون کیا اور ایمبولنس پانچ سے آٹھ منٹ میں پہنچ گئی۔ جم والے نہ میرے رشتہ دار تھے، نہ دوست اور نہ ہی گاؤں والے تھے۔ مجھے ان کی وجہ سے بروقت طبی امداد ملی اور خدا کے کرم سے مجھے نئی زندگی مل گئی۔ جم والوں کے پاس میرے گھر کا درست ایڈریس موجود نہیں تھا۔ مجھے ہسپتال پہنچانے کے بعد وہ تمام قریبی مساجد میں گئے تاکہ میری فیملی کو اطلاع دے سکیں۔

جس مسجد میں میں نماز پڑھتا تھا، وہاں تین چار پشتون باقاعدگی سے نماز پڑھنے آتے تھے۔ انہوں نے جم سے آئے ہوئے اہل کاروں کی بات سنی لیکن وہ خاموش رہے۔ انہوں نے جم کے عملے سے کوئی تعاون نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے معاشرے میں ان کی تربیت ایسی نہیں ہوئی ہے کہ وہ مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی کریں یا ان کی مدد کریں۔

عبیدالرحمٰن کی ناگہانی موت کے اعلان کے ساتھ حارث الطاف کی موت کی خوفناک خبر نے گاؤں میں کہرام مچا دی تھی۔ حارث الطاف گاؤں جولگرام کا ایک خوبصورت نوجوان تھا۔ اس کا باپ بیماری کی وجہ سے جوانی میں اس فانی دنیا سے رخصت ہوا تھا اور اس طرح حارث نے یتیمی کا دکھ بچپن میں ہی سہ لیا تھا۔

وہ اپنے خاندان کا واحد سہارا تھا اور سعودی عرب اس لئے مزدوری کرنے گیا ہوا تھا تاکہ اپنے خاندان کی مالی ضروریات کو پورا کرسکے۔ وہ وہاں ٹیکسی چلاتا تھا۔ ایسا سننے میں آ رہا ہے کہ ٹیکسی کے کاروبار میں اس کا ایسے لوگوں کے ساتھ تعلق استوار ہو گیا تھا جو سعودی عرب میں غیر قانونی طریقے سے مال کمانے میں ملوث تھے۔ غیرقانونی اور غیر اخلاقی دھندا کرنے والوں کے لئے کسی کا گھر اجاڑنا، قتل کرنا اور کسی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانا کوئی خاص بات نہیں ہوتی۔ ان کاموں کو وہ اپنے دھندے کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اکثر اس قسم کی واردات میں بے گناہ اور چشم دید گواہ کو راستے سے ہٹایا جا تا ہے۔ شاید حارث کو وحشیانہ طریقے سے اس لئے قتل کیا گیا تھا کہ وہ کسی غیرقانونی معاملے کا چشم دید گواہ تھا۔ یوں اسے بے دردی سے قتل کر کے قاتلوں نے اپنے کسی غیرقانونی یا غیر انسانی واردات کا ثبوت اور گواہ راستے سے ہٹا دیا تھا۔ حارث کے قتل کے سلسلے میں سعودی حکومت نے گرفتاری کی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اس کے پس ماندگان کو انصاف ملتا ہے یا نہیں۔

سعودی میں غیر قانونی دھندے کا رواج وقت گزرنے کے ساتھ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اس غیر اخلاقی دھندا کے نتیجے میں جو لوگ پیسہ بناتے ہیں، وہ

پاکستان میں شاندار مکانات تعمیر کرتے ہیں۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں اور اس طرح لوگ ان کو گلوریفائی کرتے ہیں اور عزت دیتے ہیں۔ اس کی عزت اور ٹھاٹ بھاٹ کو دیکھ کر اکثر نوجوان ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی طرف راغب ہو جاتے ہیں کیوں کہ نوجوانوں میں ہیرو ازم اور ایڈونچر ازم کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔

کوئی معاشرہ اس وقت ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے جب اس کے افراد مثبت سوچ رکھ کر ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو اپنی پڑوس یا محلے میں کسی کے گھر میں کوئی پریشانی کا احساس ہو جائے یا کسی مسئلے کا پتہ چلے تو اسے فوراً اپنے محلے یا گاؤں کے اچھے اور با اثر بزرگ کے علم میں لاکر اپنا انسانی فریضہ پورا کرنا چاہیے کیوں کہ یہ چھوٹے چھوٹے مسائل بڑی تباہی کے پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ فرد کے اس طرح کے مسائل اور مشکلات منتخب چیئرمین اور کونسلرز کے نوٹس میں لائے جا سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے تفویض شدہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مسئلے کا مناسب حل ڈھونڈے اور حکومت کی طرف سے متاثرہ بندوں کے لئے کونسلنگ کا انتظام کریں۔ انسانوں کی میتوں پر آنسو بہانے سے بہتر ہے کہ اس نقصان کو رکوانے میں اپنا رول ادا کیا جائے۔

اسی طرح جو نوجوان باہر کے ملکوں میں مزدوری کے لئے جاتے ہیں تو ان کے ماں، باپ، بہن بھائیوں، رشتہ داروں اور دوستوں کو چاہیے کہ وہ باہر جانے والے کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی کاموں سے پرہیز اور برے لوگوں کے صحبت سے دور رہنے کی نصیحت کریں۔ معاشرے میں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ جو لوگ باہر ناجائز پیسہ کمانے میں ملوث ہوں، ان کو گلوریفائی نہ کیا جائے۔

حارث الطاف کے جنازہ پر مولانا حبیب الحق صاحب کی نصیحت آموز باتوں کو وہ والدین ہمیشہ اپنے ذہنوں میں تازہ رکھیں جن کے بچے بیرون ممالک میں نوکریاں کرتے ہیں۔ آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے گاؤں کو اس قسم کی دردناک اموات سے محفوظ رکھے۔

Facebook Comments HS