ڈراما جھوم ختم نہیں ہوا
ڈراما جھوم ختم نہیں ہوا نئی زندگی شروع ہوئی ہے۔ جھوم نے جہاں ایک ٹیبو کو چیلنج کیا ہے وہاں اسے تمام تر مشکلات کے ساتھ پورے سماجی ڈھانچے میں بہت نفاست کے ساتھ نبھا کر بھی دکھایا ہے۔
ایک پروفیشنل، سمجھ دار لڑکی جب کسی مرد کو مسترد کرتی ہے یا منتخب کرتی ہے تو اس کے پیچھے سماج نہیں سمجھ داری ہوتی ہے جو ہمیشہ باہر والوں کے ساتھ ساتھ گھر والوں کو بھی مشکوک رکھتی ہے کیونکہ عورت اور سمجھ داری ہمارے ہاں ابھی تک متضاد الفاظ ہیں۔
مکافات عمل بہت عمدہ دکھایا گیا ہے جو آپ کسی کی بہن کے ساتھ کریں گے وہی کسی نہ کسی طرح، کسی نہ کسی دن صورت بدل کر آپ کی بہن کے ساتھ ہو جائے گا۔
ڈاکٹر مریم اور آریان کی محبت کا جیسا اختتام ہونا چاہیے تھا وہی ہوا ہے۔ محبت یہ نہیں ہوتی کہ سب کو چھوڑ کر دو لوگ نئی دنیا بسا لیں۔ سب کو ساتھ لے کر ایک دنیا بسائی جائے تو انسان کی دنیا مکمل ہوتی ہے نوجوانوں کو محبت کا امن بھرا پیغام گیا ہے۔
اس ٹیبو پہ ضرب پڑی ہے کہ پروفیشنل اور اپنے سے کچھ بڑی عورت محبت نہیں کر سکتی۔ وہ محبت کر سکتی ہے مگر جذبات میں بہہ کر کسی کی زندگی پہ حاوی نہیں ہو جاتی۔ اسے نبھانا اور جانا آ جاتا ہے۔ اس کا ردعمل فوری اور شدید نہیں ہوتا۔
عورت کو اگر انتخاب کی آزادی ہوتو وہ گھر سے نہیں بھاگتی بلکہ گھر میں رہ کر اس وقت کا انتظار کرتی ہے جب چاند ستارے اس کی گود میں خود آ کر گرتے ہیں لیکن اگر اس کو انتخاب کی آزادی نہیں دی جاتی، اس کے فیصلے کو قبول نہیں کیا جاتا تو پھر وہی ہوتا ہے جو خبر بنتی ہے لیکن وہ محبت نہیں رہتی۔
ڈاکٹر مریم چونکہ ایک سمجھ دار لڑکی دکھائی ہے اس کے گرد ہر نفسیات کا مرد رشتہ ہے وہ اکیلی ہے اس لئے وہ مرد کو سمجھ بھی بہتر سکتی ہے
ورنہ جس لڑکی کا بھائی اور محبت دونوں جھگڑالو ہو، سابقہ منگیتر بزدل ہو، وہ لڑکی اکیلی ہی رہ جاتی ہے۔ انکل اپنی تمام تر سمجھ داری کے باوجود زندگی ہارے ہوئے ہوں اور اس نے ماں سے وعدہ کیا ہو کہ چھوٹے بھائی کو پالے گی تو وہ ماں بھی بن جاتی ہے۔ بھائی کی وجہ سے ہاتھ سے نکلتی محبت کو بھی قبول کر لیتی ہے۔ جذباتی فیصلے نہیں کرتی۔
وقت کی روانی کو توڑتی نہیں اس کو اپنے اندر سے گزرنے دیتی ہے۔
اس کہانی میں سب سے اہم بات یہ لڑکی کی کہانی نہیں ہے۔ یہ لڑکوں کی زندگیوں کی کہانی ہے جیسے ایک لڑکی محض اپنے صبر سے جوڑے رکھتی ہے کیونکہ وہ ان سب سے بڑی ہے۔
یہ لڑکے اس کے بھائی سمیت بگڑے ہوئے، سلجھے ہوئے، کچھ پروفیشنل مرد ہیں اس لئے وہ کسی کو بڑا بھی نہیں کہہ سکتی کہ اس کا ہر درد اس کا ظرف بڑا کر دیتا ہے۔
والدین کے انتقال نے تو اسے بڑا کر ہی دیا تھا پروفیشنل لیڈی ہونے کی وجہ سے مزید میچورٹی اس میں در آئی ہے۔
مسیحائی کے پیشے نے جذبے بھی چھین لئے تھے۔ آخری چوٹ جذبوں پہ اس کے منگیتر نے لگائی تھی جو اسے گاڑی پہ حملہ آور ہونے والوں کے حوالے کر کے چلا گیا تھا
زندگی آوارگی مرد کے لئے ہے۔ ڈاکٹر مریم اور اس جیسی کتنی ہی خواتین (چاہے وہ اپنے شعبے کی ماہر ہوں ) کے لئے زندگی تقدیر ہے کیونکہ سماج نے ابھی اتنی ذہنی ترقی نہیں کی کہ ایک عورت کے انتخاب کو قبول کرے۔ اس کی محبت کو کوئی بھی مرد اپنی کسوٹی ہی پرکھتا ہے، کھیلتا ہے اور چھوڑ جاتا ہے۔ ایسے میں ایک ڈراما ایسا مقبول ہوتا ہے جہاں کسی نے کسی کو چھوڑا نہیں اپنا لیا ہے۔
ہر ٹوٹے پھوٹے رشتے کو زندگی ثابت کیا ہے۔ زندگی میں واقعات اور امکانات کی گنجائش پہ بات کی ہے۔
چونکہ یہ بنیادی طور پہ ایک رومانوی ڈراما تھا اس لئے محبت کے فلسفے پہ ہی بات ہوئی ہے جس میں کم از کم زندگی سے دوری پہ نہیں، زندگی کی شروعات پہ بہت شاعرانہ اختتام کیا گیا ہے یہاں ایک لمحے کو محسوس ہوتا ہے کہ ”زندگی آوارگی ہے“


