نسل پرستی۔ : ایک سرسری جائزہ
وطن عزیز میں فکری سطح پر نسل پرستی سے مراد جنوبی افریقہ اور نووبیا میں Aparthied قوانین کے نفاذ اور ردعمل میں برپاء ہونے والی مزاحمتی تحریکوں سے لی جاتی ہے۔ پھر ضمنی طور پر گاندھی جی کا ذکر بھی لازمی آتا ہے کیونکہ ساوتھ افریقہ میں مزاحمتی تحریکوں کا حصہ بننے کی پاداشت میں سمیت اپنی بکری کے وہ پٹے تھے چلتی ٹرین کے بیچ۔ بعد میں پھر اسی چکر میں نیلسن منڈیلا نے بھی دنیا بھر سے خاصی داد وصول کی۔
امریکہ میں برپاء ہونے والی شہری حقوق کی تحریک ( 1954۔ 1968 ) جو کہ نسل پرستی کے پس منظر سے ہی ابھری اور اپنے وقت کی ایک بڑی تحریک جس کی خاصی کامیابیاں بھی ہیں۔ مارٹن لوتھر کنگ اور میلکم ایکس اس تحریک کے بڑے لیڈر مانے جاتے ہیں۔ اسرائیلی ریاست کی طرف سے فلسطینی باشندوں کے خلاف کی جانے والی نسل پرستانہ کارروائیوں کا بھی بڑا شہرہ اور مذمت بھی کی جاتی ہے۔
پاکستان میں نسل پرستی کے خلاف شائع شدہ تحریریں جو ہماری نظر سے گزریں وہ مذکورہ تاریخی حقائق کی روشنی میں جزوی یا کلی بنیادوں پر لکھی گئیں ہیں اور پھر اس تکرار سے لکھی گئیں کہ آج ہر پاکستانی دانشور، جوان اور بوڑھا یہی سمجھنے لگا ہے کہ نسل پرستی صرف ساوتھ افریقہ میں ہوتی ہے یا پھر امریکہ اور اسرائیل میں ہوتی ہے اور باقی کی تمام دنیا بشمول پاکستان کے نسل پرستی سے یکسر پاک ہے۔
پاکستان میں نسل پرستی کو گورے اور سیاہ فام کی آپسی لڑائی کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے اور سمجھا یہ جاتا ہے کہ یہ لڑائی محض رنگ کی بنیاد پر یا گورے کی کالے پر برتری کے معاملے کے طور پر دیکھتے ہیں جو کہ ایک نہایت سطحی اور ادھوری بات ہے۔
سوچ کا ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ برصغیر کے باشندے چونکہ گندمی رنگ کے ہیں اور یہ رنگ گورے اور کالے رنگ کی کوئی درمیانی شکل ہے اور پھر اسی مناسبت سے یہ تصور بھی کر لیا گیا کہ گندمی رنگ گورے سے کم تر لیکن کالے سے افضل ہے۔ اپنی ساری زندگی گاندھی جی اور تقریباً سارا برصغیر بھی اسی طرح کے اوہام کا شکار ہے۔
ہمارے بعض مارکسی دانشور و کارکن جو کہ فکر چے گویرا کے بھی ترجمان بلکہ وارث ہیں ان کے نزدیک نسل پرستی فقط ایک غلط یا قبیح ’عمل‘ کا نام ہے اور انسانی سوچ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کی مثال یہ دی جاتی ہے کہ امریکہ میں سیاہ فام جارج فلائیڈ ایک گورے پولیس افسر کے ہاتھوں اگر قتل ہو جائے تو اسے نسل پرستی کہا جائے گا اور اگر وہ غلطی سے بچ جائے تو اسے نسل پرستی نہیں کہا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے حال پر رحم کرے۔
اس مضمون کی تیاری سلسلے میں ہم نے تھوڑی تحقیق کرنے کی کوشش کی تو معلوم پڑا کہ اس ضمن میں اکثر تحریریں اور تعریفیں اس طرح سے مبہم اور پیچیدہ کر کے لکھیں گئیں ہیں کہ کوئی طالب علم نسل پرستی کی روح کو ٹھیک طریقے سے سمجھ ہی نہ سکے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لکھنے والے بذات خود ہی فکری ابہام کا شکار ہوں۔
نسل پرستی کے یہ دو لفظ اپنے اندر ہی شاید بہترین معانی رکھتے ہیں۔ نسل سے مراد موجودہ یا زندہ فرد، اس کے آبا و اجداد اور ان کی آنے والی اور ہونے والی اولادوں سے ہے۔ پرستی یا پرستش سے یہی مراد لی جا سکتی ہے کہ گزر جانے والی نسلیں یا آباء چونکہ افضل تھے اس لیے ان کی نسبت سے موجودہ نسل سمیت آنے والی تمام نسل یا آل اولاد بھی اعلیٰ اور برتر ہی ہوں گی۔ یاد رہے کہ نسل پرستی کلی طور پر تخم سے جڑا ہوا رجحان ہے اس لیے لے پالک کبھی بھی نسل کا ”درجہ“ حاصل نہیں کر سکتا۔
کرہ ارض کے دوسرے باشندوں کی طرح انسان کو بھی جبلی طور پر اپنے ماں باپ اور اولاد سے محبت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ نسل پرستی یا نسلی تفاخر کلی طور پر جبلت یا فطرت سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ ماہرین نفسیات و انسانیات نے مختلف زاویوں سے 18 تک کی مختلف انسانی جبلتوں کو بیان کیا ہے ان میں اپنی ذات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنا، معاشرت، جنس، بھوک و پیاس، خوف، خوشی، غم، غصہ، ہنسنا، ممتا، بے چینی، مایوسی، گھبراہٹ یا ذہنی دباؤ، اکیلا پن، بوریت، احساس گناہ، لالچ وغیرہ۔ سگمنڈ فرائڈ نے انسانی جبلتوں کو زندگی اور موت میں تقسیم کر کے دیکھا اور بیان کیا یعنی زندگی کی جبلتیں اور موت کی جبلتیں انہیں اکثر منفی اور مثبت جبلتیں بھی کہا جاتا ہے۔
انسان ہمیشہ کے لیے جینا چاہتا ہے یا ابد تک اپنا نام بمعہ جاہ و حشمت کے قائم رکھنا چاہتا ہے اس انسانی جبلت نے مختلف شاخسانوں قبر پرستی، روح پرستی، ستارہ پرستی، اجداد پرستی، عظیم مقابر و احراموں کی تعمیر، کے علاوہ صرف ”اپنی ہی نسل کی پرستی“ کو بھی جنم دیا۔
قدیم مصر، یونان، روم کے لوگ اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کے لیے ستاروں اور دیوتاؤں کی اولاد تصور کرتے۔ بین اسی طرح آج بھی ہمارے ہاں انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے آپ کو سورج ونشی اور چندر ونشی قرار دے کریا تصور کر کے اپنی نسل کو پائیدار سمجھے ہوئے ہے۔ ان کے خیال میں چاند اور سورج نے چونکہ تا قیامت رہنا ہے اس لیے ان کی نسل بھی تاقیامت رہے گی۔ کوئی بھی موجودہ انسان ہمیشہ اپنے آپ کو گزری ہوئی اور مستقبل کی پیڑھیوں میں ناصرف دیکھتا ہے بلکہ انہیں افضل اور برتر بھی مانتا ہے۔
ہر نسل پرست گروہ ہمیشہ اپنے آپ کو کم از کم ایک عدد جد امجد سے ضرور نسبت کرتا ہے۔ حضرت نوح ؑ کے بیٹوں حام، سام اور یافت اور ان کی اولادوں کا ذکر عام سی بات ہے۔ ایک کی اولاد ایشیاء میں، دوسرے کی اولاد یورپ میں اور تیسرے کی اولاد افریقہ میں بس گئی۔ اہل عرب عام طور پر پہلے حضرت سام اور بعد میں حضرت ابراہیم سے اپنی نسبت جوڑتے ہیں۔ اسی طرح یہودی کلی طور پر اپنی نسبت حضرت یعقوبؑ اور ان کے بارہ بیٹوں سے جوڑتے ہیں۔
کالے، گورے، گندمی، پیلے رنگ کے انسانوں کا آپسی تضاد یا تعصب محض جلد کے رنگ کا تضاد نہیں بلکہ اس کی نفسیات یا پس منظر میں پوشیدہ تصور یہی ہے کہ گوروں کا جد امجد اور کالوں کا جد امجد الگ الگ انسان تھے اور گوروں کا جد امجد اعلیٰ تھا اور کالوں کا ادنیٰ اور اسے ثابت کرنے کے لیے سچے جھوٹے قصے کہانیوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔
ہم نے پہلے عرض کیا ہے نسل پرستی کلی طور پر جبلی تقاضا ہے جسے انسان جنگل سے یا اپنی ارتقائی منازل سے اپنے ساتھ لایا۔ شعور بہت بعد کی انسانی منزل ہے۔ انسانی شعور نے دو طرح سے انسانوں پر اپنے اثرات مرتب کرنے شروع کیے۔ ایک طرف شعور نے بے لگام انسانی جبلتوں کو کنٹرول، معتدل اور مثبت کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف شعور نے جبلی تقاضوں کو ہی زندگی کے ازلی و ابدی یا حتمی حقائق جان کر جبلتوں کی ہر جائز اور ناجائز طریقوں سے تسکین کو ”فکری“ بنیادیں فراہم کرنا شروع کر دیں۔ نسل پرستی کے ضمن میں خاص طور پر انوبس دیوتا، زیوس دیوتا، اپالو دیوتا، کوہ الپس، عشتار دیوی وغیرہ سے منسوب دیو مالائی داستانیں گھڑی گئیں۔
عیسائیت اور اسلام کی تعلیمات اور جدوجہد نسل پرستی کے خلاف تھیں جبکہ دوسری طرف یہودیت نے نسل پرستی کے وجود اور فروغ کو الوہی بنیادیں فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ادھر برصغیر میں قدیم ہندو مت (سناتن دھرم) نے نسل پرستی کی نفی کی جبکہ آریائی پنڈتوں اور براہمنوں نے جدید یا آج کے ہندو مت کی عمارت کو کلی طور پر نسلی بنیادوں پر تعمیر کیا۔
دور جدید میں نازی جرمنی کونسل پرستی کی بد ترین مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ نازی پارٹی جرمن نسل کے بالاتر ہونے پر مکمل یقین رکھتی تھی۔ مضبوط فولاد سازی اور جدید ٹکنالوجی کی ایجاد سے ان کا نسل پرستی والا مفروضہ گویا یقین میں ہی بدل گیا اور دنیا پر نازی جرمنی کے سیاسی غلبے کو یقینی بنانے کے لیے دوسری جنگ عظیم دوئم برپاء کر دی۔ نازیوں کی یہودیوں کے ساتھ تضاد کی کچھ اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں لیکن یہودی بھی چونکہ زمانہ قدیم سے اپنے آپ کو نہایت اعلیٰ اور چنیدہ نسل تصور کرتے تھے اس لیے اب دو اعلیٰ نسلوں کے باہمی تضاد میں ایک ہی نسل زندہ رہ سکتی تھی لہذاٰ قرین قیاس ہے کہ ہالوکاسٹ بھی نسل پرستی کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔ نازی ازم کی شکست کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہٹلر نے نسل پرستی کی دکان تاریخ کے اس سمے میں چمکانے کی کوشش کی جب نسل پرستی دنیا میں روبہ زوال تھی۔
نسل پرستی شاید انسانی زندگی کا ایک پیچیدہ ترین مسئلہ ہے۔ ہم شعور یا نظریہ کو جبلت کی ضد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ نسل پرستی اور معاشرت بیک وقت انسانی جبلت کا حصہ ہیں مگر اپنی نوعیت میں ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ نسل پرستی میں انسان کو صرف اپنی نسل کا ہی خیال ہو تا ہے لیکن معاشرت میں انسان کو روز مرہ میں ایسے انسانوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جن کے آبا و اجداد کا ٹھیک سے یا بالکل علم ہی نہ ہو۔ اس صورتحال سے نبٹے کے لیے نسل پرستوں نے اپنے حق میں جبکہ ان کے مخالفوں نے نسل پرستی کے خلاف نظریات کو مرتب کیا۔ یہ فکری اور عملی لڑائی آج دن تک جاری ہے۔
ہمارے ترقی پسند دوست جس طبقاتی جنگ کی تکرار کرتے ہیں وہ اپنی اصل میں نسل پرستی کے خلاف جنگ ہی ہے۔ ذرائع پیداوار اور ”پیدا گیری“ ۔ پر قابض افراد اور طبقات ہمیشہ نسل پرست یا ان کے آلہ کار ہوں گے اور محروم طبقات اپنی نوعیت میں ہمیشہ نسل پرستی کے خلاف ہوں گے۔ بالشویک پارٹی اور ان کے مخالف زار نکولس دوئم اینڈ کمپنی کا اگر ایک نظر موازنہ کیا جائے تو بالشویک پارٹی کی قیادت میں لینن سے لے کر گورباچوف تک کوئی ایک فرد بھی نسل پرستانہ افکار اور اعمال میں ملوث نظر نہیں آتا۔ انہوں نے نظریہ اور معاشرہ کی ترقی کو فوقیت دی اور اپنے گھروں کو نہیں بھرا اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آج کوئی نہیں جانتا کہ اس عظیم لیڈر شپ کی اولادیں کس حال میں ہیں۔
علمی و فکری ارتقاء کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یونانی فلسفے کے دور میں نسل پرستی کی مخالفت اور حمایت کی کوئی خاص مثال نہیں ملتی۔ رومن فلسفیوں نے رومن قیصروں کی حمایت کر کے باقاعدہ نسل پرستی کی آبیاری کی اور نتیجے میں وہ مار کھائی کہ اگلے ایک ہزار سال تک دنیا سے فلسفی اور فلسفہ کا وجود ہی مٹ گیا۔ آج کی دنیا جدید فلاسفی کے اینگلو سیکسن فلسفے کے دور سے ناصرف گزر رہی ہے بلکہ اس کے گرد ہی گھوم رہی ہے اور اس فلاسفی میں نسل پرستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ فلاسفی کے اس دور اور اوپر سے سائنس کی روز افزوں ترقی کے تناظر میں دنیا میں نسل پرستی کا چورن زیادہ دیر تک بکتا نظر نہیں آتا۔


