مکمل نہیں انسان تو ہوں
وہ پیدا ہوا تو گھر میں خوشی کی بجائے صف ماتم بچھ گئی۔ ماں پریشان، باپ خاموش۔ رشتے دار منہ میں انگلیاں ڈالے دبی دبی سرگوشیاں کرتے۔ لیکن غفورے کی ماں اور بہنوں کو کسی کا ڈر نہیں تھا۔ اس لیے وہ علی اعلان کہتیں ہمارے خاندان میں تو آج تک ایسا نہیں ہوا، غفورے کی ووہٹی جیراں نے تو غضب ہی ڈھا دیا، یہ کیا پیدا کر دیا اس نے۔ بچے کا نام کیا رکھتے خوبصورت چہرے والے اس نومولود کی شکل دیکھنے کا تو کوئی روادار نہیں تھا۔ گھر کی عورتیں اس کمرے کے پاس سے بھی نہ گزرتیں، مبادا زچہ و بچہ کا سایہ نہ ان پہ پڑ جائے۔
کافی دن کی سوچ بچار رشتے داروں کے دباؤ اور شریکوں کے طعنوں کی وجہ سے غفورے نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بچے کو ادھر چھوڑ آئے گا جہاں اس جیسے ہی ہوتے ہیں۔ جیراں رو رو کے ادھ موئی ہو گئی۔ ایک طرف بچہ تھا جسے نو مہینے پیٹ میں رکھا تھا، اپنے خون سے اس کی آبیاری کی تھی۔ اسے خود سے الگ کرنا مشکل تھا۔ تو دوسری طرف رشتہ دار تھے۔ ساس، نندیں ایک طرف اس کے تو اپنے سگے بہن بھائیوں نے سو سو باتیں کیں۔ دل سے تو غفوراً بھی راضی نہ تھا اسے کسی کو دینے کو، لیکن اسے یہ کام کرنا ہی تھا۔ نہ کرتا تو خاندان برادری سے الگ کر دیا جاتا۔ اور خاندان برادری سے الگ ہو کے کون رہ سکتا ہے بھلا۔
غفورے نے اشرف گرو سے بات کی کہ وہ اس کے بچے کو لے جائے۔ تو تجھے بھی اس معاشرے نے ٹھکرا دیا۔ ایک اور ہمارے جیسا آ گیا اس دنیا میں۔ تجھے بھی بنا جرم کے سزا دے گی یہ دنیا۔ نم آنکھوں کے ساتھ گرو اشرف نے بسم اللہ کر کے بچہ اٹھا لیا۔ رات کے اندھیرے میں بچہ اپنے ساتھ لگائے بوجھل دل کے ساتھ گرو اشرف گھر میں داخل ہوا تو سارے کنبے نے بچے کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اشرف گرو نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔ زخم سبھی کے تازہ ہوئے، سب نے کسی نہ کسی کونے میں چھپ کر آنسو صاف کیے اور پھر اپنے اپنے غم کو خوشی میں بدلنے کی کوشش میں ڈھولک رکھ لی، خوب ناچ گانا ہوا۔ گرو اشرف کو بھی کمرے سے کھینچ کر باہر لایا گیا۔ بچے کا نام حور رکھا گیا۔ وہ تھا ہی اتنا خوبصورت کہ اس کے سوا اس کا کوئی اور نام ہو ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ کھسروں کے گھر بچہ آیا تھا۔ بچہ جتنا پیارا تھا وہ سب تو سچ میں چوم چوم کر مار دیتے۔
خوبصورت حور روپ کا خزانہ تھی۔ اس کے اتنے ہی لاڈ اٹھائے جاتے جتنے وہ اٹھا سکتی تھیں۔ بڑھتی عمر کے ساتھ حور کے لیے لاڈ کم اور اس کی خوبصورتی سے حسد بڑھنے لگا۔ سب حور کے حسن سے خائف تھیں۔
جبکہ ان سب باتوں سے بے نیاز حور کھڑکی سے اکثر سامنے والے گھر میں رہنے والوں کو دیکھتی رہتی۔ کتنا اچھا لگتا تھا اسے ان سب کو دیکھ کر۔ اسے اس گھر میں کشش محسوس ہوتی۔ وہاں کوئی عورت سگریٹ نہیں پیتی تھی، کبھی وہاں سے لڑنے جھگڑنے یا گالیوں کی آواز نہیں آئی تھی۔ گلی سے گزرتے ہوئے کبھی اس کے گھر جیسی بو بھی نہیں آئی تھی۔ کتنا صاف گھر تھا ان کا۔ حور کا کتنا دل کرتا اس کا بھی ایسا ہی گھر ہوتا۔ وہ بھی سکول جاتی، بچوں کے ساتھ کھیلتی۔
لیکن اس کے نصیب میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ جب فارغ بیٹھے بیٹھے تھک جاتی تو پھر ناچنے لگتی۔ کہ یہی اس کی واحد تفریح تھی۔ وہ ناچنا نہیں چاہتی لیکن اسے اور کچھ کرنا بھی تو نہیں آتا تھا۔ اس کے بدن میں فطری لچک تھی۔ پیروں پہ گھنگرو باندھ کے کمال ناچتی۔ لیکن وہ صرف اپنے لیے ناچنا چاہتی تھی گھر گھر جاکر لوگوں کے سامنے نہیں۔ اسی ماحول میں آنکھ کھولنے کے باوجود حور اس ماحول کا حصہ نہیں بن پائی تھی۔ ریما، کشش اور دیگر فنکشنز پہ جانے سے پہلے یا واپسی پہ آ کر جب آپس میں باتیں کرتیں، تو حور کو ان باتوں سے کراہیت آتی۔ آپا رسولن جب اس کو گر کی باتیں سمجھا رہی ہوتی تو وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتی۔ لیکن کدھر جاتی۔
طے تھا کہ سولہ سال سے پہلے حور کو فنکشنز پہ نہیں لے کے جانا۔ اور حور اب سولہویں برس میں داخل ہو چکی تھی۔ آج اس کا پہلا فنکشن تھا، وڈیرے کے پوتے کے عقیقے کا فنکشن۔ نسوانی روپ میں تیار روپ سچ میں ایک عورت ہی لگ رہی تھی۔ معصوم حسن کے ساتھ بے مثال ناچ۔ حور نے محفل لوٹ لی تھی، خوب ویلیں ہوئیں۔ مردوں کی مستیاں عروج پہ تھیں۔ وڈیرے کے بیٹے کا اس پہ دل نہیں آیا تھا بلکہ زنخے کے بھاگ جاگنے کا وقت آ گیا تھا۔ نہ آتا تب بھی اسے رات تو یہیں گزارنا تھی۔
کہ یہی ان جیسوں کا روزگار اور شرافت کے لبادے میں چھپے اکثر مردوں کا چلن ٹھہرا۔ نوٹوں سے بھرے تھیلوں اور بھاری دل کے ساتھ گھر واپسی پہ حور نڈھال تھی۔ ساتھیوں کی چھیڑ چھاڑ اور کھلی ڈلی باتیں اسے زہر لگ رہی تھیں، وہ سارا دن کمرہ بند کیے پڑی رہی۔ گرو اشرف نے کسی کو بھی اس سے بات کرنے سے منع کر دیا تھا۔ کہ اذیت سے گزرنے کا یہ اس کا پہلا دن ہے، سوگ اس کا حق بنتا ہے۔ اس ذلت کی آہستہ آہستہ ہی عادی ہوگی۔ آہستہ ہی عادی ہوگی۔
اگلے دن حور کمرے سے باہر نکلی تو گرو اشرف نے اس کی بلائیں لیں، صدقہ اتارا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔
مائی ( اشرف گرو کو گھر میں سب مائی کہتے ) لوگ ہماری بد دعاؤں سے ڈرتے ہیں انھیں یہ پتہ ہی نہیں کہ ہماری تو دعا کبھی قبول نہیں ہوتی، بددعا کیا سنی جائے گی۔ دعا سنی جاتی تو کیا ہم اس ذلت میں رہتے۔ مجھے یہ ذلت والا کام نہیں کرنا مائی۔ رو رو کے نڈھال حور کی آنکھیں ایک بار پھر چھلک پڑیں۔ گرو اشرف نے اسے سینے سے لگا لیا۔ وہ اس کا درد سمجھ سکتا تھا۔
ایک ہی فنکشن سے حور کے چرچے ہو گئے، گاہکوں کی لائنیں لگ گئیں۔ آرڈر تھے کہ ختم ہونے میں نہ آرہے تھے۔
آج ایک بہت بڑا فنکشن تھا اور حور نہ جانے کی ضد پہ قائم تھی۔
مائی میں لوگوں کے گھروں میں کام کر لوں گی لیکن وہ سب تماشے کرنے نہیں جاؤں گی۔ مجھ سے لوگوں کی گندی نظریں برداشت نہیں ہوتیں۔ ان کے جملے میرا سینہ چھلنی کرتے ہیں۔ ان کی لپک سے مجھے گھن آتی ہے۔ جسم کا درد کچھ نہیں کہتا لیکن جو تکلیف روح کو ہوتی وہ نڈھال کر دیتی ہے۔ میں نہیں جاؤں گی۔
دیکھ حور ہماری روزی روٹی اسی کام سے بندھی ہے۔ ہم بھی اسی تکلیف سے گزرے ہیں۔ میں اور رسولن نے اسے چھوڑ کر ہر کام کرنے کوشش کی۔ لیکن لوگ ایسے ظالم ہیں کہ اس کام کے علاوہ ہمیں کہیں اور قبول نہیں کرتے۔ کوئی اور کام نہیں کرنے دیتے، جہاں بھی جاؤ یہ اپنی ہوس لے کے پہنچ جاتے۔ جس راہ سے گزریں ان کی گندی نظریں ہمارے ساتھ چل پڑتیں ہیں۔ ہم چاہیں بھی تو یہ ہمیں نیک دامن نہیں رہنے دیتے۔ جب ہم نے ان کی ہوس ہی پوری کرنی ہے تو پھر اسی طرح کریں کہ معاوضہ تو ٹھیک ملے۔
مائی میں بھیک مانگ لوں گی۔
تمھیں نہیں پتہ ہمیں لوگ بھیک بھی ایسے نہیں دیتے۔ اللہ کے نام پہ دیتے ہوئے بھی ہم سے بہت کچھ لیتے ہیں۔
مائی مجھے بھیجنا ہی ہے تو پھر صرف ناچ گانا کروں گی لیکن وہ دوسرا کام نہیں۔ وہ اپنی طرف سے ہر کوشش کر رہی تھی گرو اشرف کو منانے کی۔
دیکھ حور اپنا ٹیم ضائع کر نہ میرا۔ ناچ گانا تو بہانہ ہے اصل کام تو یہی ہے جس کے لیے مرد اتنا روپیہ لٹاتے ہیں۔ کام تو تجھے یہی کرنا ہے ہنس کے کر یا رو کے۔ ہنس کے کر لے تو بہتر ہے۔
میں نہیں جاؤں گی۔ مجھے عزت کی زندگی گزارنی ہے تمھارے جیسی نہیں۔ مجھے میرے ماں باپ کا پتہ بتا دو مجھے ان کے پاس جانا ہے۔ حور نے اشرف گرو کے آگے ہاتھ جوڑے۔
کون سے ماں باپ وہ جنھوں نے پیدا ہوتے تجھے گھر سے نکال دیا۔ تو ہماری اولاد ہے ہم نے تجھے پالا ہے، پیسہ لگایا ہے تجھ پہ اور اب تجھے گھر بٹھا لیں۔
نہیں نکالا تھا انھوں نے مجھے جھوٹ ہے یہ، تم سب جھوٹی ہو۔ حور چیخی تھی۔ گرو اشرف اس کے چیخنے سے سیخ پا ہو گیا۔ اس نے حور پہ تھپڑوں اور ٹھڈوں کی بارش کر دی جھوٹا ہوں، میں جھوٹا ہوں، تو مجھے جھوٹا کہتی ہے، مجھے۔
کیا ہو گیا اشرف تجھے، بچی ہے سمجھ جائے گی۔ عمر رسیدہ بیمار رسولن نے گرو اشرف کی گرفت سے حور کو آزاد کروایا۔
چل حور میرا بچہ تیار ہو جا کے ہمارے پاس ٹیم کم ہے اور فنکشن بہت خاص ہے۔ اری ریما اس کو خوب سجائیو۔ دیکھو تو رونے سے کیسے کملا گئی ہے۔ رسولن نے آواز لگائی۔ حور کا رونا دھونا سب بیکار گیا اسے جانا ہی پڑا۔ خالص مردانہ محفل جہاں صرف وہ تھی اور بہت سارے مرد اور ہر مرد کا اپنا تقاضا۔ ساری رات فنکشن جاری رہا اور پھر اسے اپنے خاص مہمان کے پاس بھیج دیا گیا۔
صبح ملک صیب کے فون پہ گرو اشرف دوڑا دوڑا پہنچا تھا۔ حور بے ہوش تھی۔ بدن پر کہیں کاٹنے کے نشان تھے تو کہیں جگہ جگہ سگریٹ لگنے کے سے زخم بن گئے تھے۔ اس کے برہنہ بدن کو احتیاط سے ڈھانپتے گرو اشرف کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ کاش میں حور کی بات مان لیتا اور اسے نہ بھیجتا۔ لیکن کل بھی تو یہی کچھ ہونا تھا۔ ملک نہ سہی چوہدری سہی۔ ہمیں تو راہ چلتے پھیری والے نہیں چھوڑتے یہ تو پھر وڈے لوک ہیں۔
ملکوں کے ڈیرے پہ دس گاڑیاں کھڑی تھیں لیکن کوئی بھی گاڑی حور کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی تھی۔ نیم مردہ حور کو رکشہ میں ڈال کر سرکاری ہسپتال لے جایا گیا۔
مجھے چھوڑ دو، خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو۔ مجھے میری ماں کے پاس بھیج دو۔ خدا کے لیے مجھے میری ماں کے پاس جانا ہے۔
ہوش میں آنے کے بعد حور نے سب سے پہلا جملہ یہی کہا۔
تو بس ٹھیک ہو جا میری بچی میں تمھیں لے کے جاؤں گا تیرے ماں باپ کے پاس۔ میرا وعدہ ہے بس تو جلدی سے ٹھیک ہو جا۔ گرو اشرف اولاد پیدا نہیں کر سکتا تھا لیکن حور کو تو اس نے اولاد کی طرح پالا تھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا جو بھی ہو، وہ حور کو وہاں لے جائے گا۔
حور کے ٹھیک ہونے پر گرو اشرف اسے ساتھ لے کے چل دیا۔ اور وہی ہوا جس کا اسے پہلے سے پتہ تھا۔ دروازے پہ بیل بجا کر دونوں انتظار کرنے لگے۔ دروازہ غفورے نے ہی کھولا۔ کون ہو تم، کیا کام ہے۔ غفوراً گرو اشرف کو دیکھتے ہی پہچان تو گیا لیکن ظاہر نہیں کیا۔ یہ حور ہے تمھاری اولاد، تم سے ملنا چاہتی ہے، ہمیں اندر آنے دو۔
تمھاری جرات کیسے ہوئی اسے میری اولاد کہنے کی۔ تم کہاں سے آ گئے نوسر باز نکلو یہاں سے۔ دوبارہ اس گلی میں بھی نظر آئے تو چھوڑوں گا نہیں۔ غفورے کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ان دونوں کو جان سے مار دے۔
تم لوگوں نے تو لگتا ہے نیا طریقہ ڈھونڈا ہے لوگوں سے پیسے نکلوانے کا۔ اللہ رکھے ہمارے سات بچے ہیں اور سب ہمارے ساتھ رہتے ہیں، غفورے کے پیچھے کھڑی جیراں نظریں چراتی اعتماد سے بولی۔ ثنا کے ابا تم چلو اندر منگنی کی رسم کے لیے دیر ہو رہی ہے۔ اور دھڑ سے دروازہ بند کر دیا۔ حور اور گرو اشرف دونوں کی آنکھیں نم تھیں، دونوں ایک دوسرے سے نظر چرا رہے تھے۔ واپسی دونوں کے لیے مشکل تھی لیکن انھیں واپسی کا یہ سفر طے کرنا ہی تھا۔


