جب موت کی چاپ سنائی دینے لگتی ہے
آج میری ایک مریضہ نے مجھے بتایا کہ ان کے ڈاکٹر نے انہیں یہ خبر سنائی کہ ان کے بزرگ والد کا کینسر سارے جسم میں پھیل چکا ہے۔ ڈاکٹر نے کہا اب ہم آپ کے والد کے لیے اور کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ انہیں گھر لے جائیں تا کہ وہ سکون سے موت کو گلے لگا سکیں۔
جب کسی انسان کی زندگی کے آخری دن آ جاتے ہیں اور اسے موت کی چاپ سنائی دینے لگتی ہے تو وہ انسان پیچھے مڑ کر اپنی ساری زندگی پر ایک نگاہ ڈالتا ہے۔ ایسے موقع پر بہت سے انسانوں کے دل میں کچھ حسرتیں اور کچھ پچھتاوے سرگوشی کرنے لگتے ہیں
کاش میں نے یہ کر لیا ہوتا
کاش میں نے وہ کر لیا ہوتا
کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا
میں نے زندگی کی قیمتی گھڑیاں بے مقصد کاموں میں کیوں ضائع کیں؟
میری جب ایک ماہر نفسیات صدف جمال سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ایسے مرد و زن کی کونسلنگ کرتی رہی ہیں جو کرہ ارض پر زندگی کے آخری چند شب و روز گزار رہے تھے۔ انہوں نے ایسے انسانوں کے ساتھ زندگی کی آخری چند گھڑیاں گزاریں اور نہ صرف ان کے دل کی باتیں سنیں بلکہ انہیں ڈھارس بھی دی۔
میں نے صدف جمال سے درخواست کی کہ وہ اپنے تجربات و مشاہدات پر مبنی مجھے ایک خط لکھیں تا کہ میں اس خط کا ترجمہ و تلخیص اپنے کالم میں شامل کر سکوں۔ ان کا خط ’ہم سب‘ کے قارئین کی خدمت میں حاضر ہے
جس کا عنوان انہوں نے رکھا ہے
THE END
قارئین کرام!
بہت سے لوگ اپنی زندگی میں چند دنوں کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ اپنے بقیہ دنوں میں بھرپور زندگی کا اضافہ کیسے کر سکتے ہیں۔
مجھے کینیڈا کے کئی ہسپتالوں ’کلینکوں اور ہاسپیس اداروں HOSPICE ORGANIZATIONS میں ایسے مریضوں کی دیکھ بھال اور خدمت کا موقع ملا ہے جو جان گئے تھے کہ موت ان کے کمرے کے باہر کھڑی ان کا انتظار کر رہی ہے۔
میں نے ان مریضوں کے ساتھ ان کی زندگی کے جو آخری چند دن رات گزارے تو انہوں نے مجھ سے دل کی کیا باتیں کیں
ان کے دل میں کیا حسرتیں تھیں
ان کے دل میں کیا پچھتاوے تھے
وہ میں آپ سے شیر کرنا چاہتی ہوں۔
ہو سکتا ہے یہ خط پڑھ کر آپ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکیں تا کہ مرتے وقت آپ کے دل میں کوئی خلش کوئی حسرت اور کوئی پچھتاوا نہ ہو۔
بعض لوگ اتنے دکھی اور نا امید ہو جاتے ہیں کہ موت کا انتظار کرنے لگتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندگی کے کسی بھی موڑ پر زندگی کا ایک نیا باب شروع کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
جب میرے مریضوں نے مجھ سے دل کی باتیں کیں تو ان میں سے بہت سوں کو اس بات کا پچھتاوا نہیں تھا کہ انہوں نے کیا کیا بلکہ اس بات کا پچھتاوا تھا کہ کیا نہیں کیا۔
بہت سوں نے مجھے بتایا کہ ان کا سب سے بڑا پچھتاوا یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ سے دوستی کیوں نہیں کی۔
اپنی ذات سے دوستی کرنے لیے انہیں چند روایات کو خیر باد کہنا پڑتا اور وہ ایسا نہ کر سکے۔
بعض انسانوں کو یہ پچھتاوا تھا کہ انہوں نے اپنے تکلیف دہ رشتوں کو خیر باد کیوں نہیں کہا۔
بعض مریضوں کو اس بات کا پچھتاوا تھا کہ وہ ساری عمر اپنی انا کی زنجیروں میں جکڑے رہے۔ انہوں نے اپنے کئی عزیزوں اور رشتہ داروں کا دل دکھایا لیکن اپنی غلطی کا اعتراف نہ کر سکے۔
بعض لوگوں کو موت کے قریب پا کر احساس ہوا کہ ان کی شخصیت کی ایک منفی صفت ان کا غرور ’تکبر اور خودپسندی تھی۔ انہوں نے بہت دیر سے جانا کہ زندگی میں کچھ دینے اور کچھ لینے سے زندگی میں ایک توازن برقرار رہتا ہے۔
میں جب ان مریضوں سے ملنے جاتی تھی تو اس بات پر بھی غور کرتی تھی کہ ان سے ہسپتال میں یا ہوسپس سنٹر میں کون ملنے آتا ہے۔ میرا یہ مشاہدہ ہے کہ مرنے سے پہلے لوگوں کو خون کے رشتوں سے کہیں زیادہ دل کے رشتے ملنے آتے ہیں۔ رشتہ دار کم محبوب زیادہ ملنے آتے ہیں. بزرگوں سے وہ جوان بیٹے بیٹیاں زیادہ ملنے آتے ہیں جن سے ان بزرگوں نے بچپن میں اچھا وقت گزارا ہوتا ہے۔
میرے مریضوں سے ان کے رشتہ دار کم اور دوست زیادہ ملنے آتے تھے۔ میرے مریضوں سے ان کے ایسے شاگرد ملنے آتے تھے جن کا اپنے استاد سے محبت عزت اور عقیدت کا رشتہ تھا۔ آخری دنوں میں وہ لوگ ملنے آتے ہیں جن سے انسانوں کا جسمانی سے زیادہ قلبی و روحانی رشتہ ہوتا ہے۔
میں نے ایسے مریض بھی دیکھے ہیں جو سارا سارا دن اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر خلا میں گھورتے گزار دیتے ہیں اور کوئی ملنے نہیں آتا۔ ایسے لوگوں کے دلوں پر ندامت و خجالت کے گہرے سائے لرزاں رہتے۔ انہیں یہ جاننے میں بہت دیر لگی کہ وہ زندگی کے مسائل اور رشتوں کے تضادات کا کوئی تسلی بخش حل نہ تلاش کر سکے۔ مرتے وقت بھی ان کے دل غصے نفرت اور تلخی کے جذبات سے لبریز تھے۔ ان کی انا نے ساری عمر انہیں زندگی کی خوشیوں سے دور رکھا۔ وہ نہ کسی کو معاف کر سکے اور نہ کسی سے معافی مانگ سکے۔ ایسے مریض جب فوت ہوئے تو ان کے اپنوں اور بیگانوں نے یوں محسوس کیا جیسے ان کے کندھوں سے بھاری بوجھ اتر گیا ہو۔ ایسے انسانوں کی موت نے لوگوں کو دکھی کرنے کی بجائے سکھی کر دیا۔
میں سمجھتی ہوں کہ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو مرنے کے بعد بھی اپنے پیاروں اور پرستاروں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
اب آپ اپنی زندگی کا خود محاسبہ کریں۔
کیا آپ کا دل محبت اور شفقت کے جذبات سے لبریز ہے؟
کیا آپ نے اپنے پیاروں کو بتایا ہے کہ آپ ان سے کتنا پیار کرتے ہیں؟
اگر آپ کے دل میں غصے نفرت اور تلخی کے جذبات بھرے ہوئے ہیں تو آپ کو کسی ماہر نفسیات سے مشورہ کرنا چاہیے تا کہ آپ اپنی نفرت کو محبت میں اور اپنے دکھوں کو سکھوں میں بدل سکیں۔ اگر آپ نے ایسا کر لیا تو پھر ایک دن آپ بھی کسی حسرت اور کسی پچھتاوے کے بغیر خوشی خوشی موت کو گلے لگا سکیں گے۔
موت کو خوشی خوشی گلے لگانا زندگی کا آخری امتحان ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں۔
مخلص صدف جمال


