‘میں مرنے کے بعد دفن نہیں ہوں گی بلکہ مجھے جلایا جائے’


پاکستانی سیما اور انڈین سچن کی بلاک بسٹر فلم ”مرجاؤں گی لیکن پاکستان نہیں جاؤں گی“ کا اینڈ کیا ہو گا؟

”میرا نام سیما سچن ہے آپ مجھے ٹھکرائن بھی کہہ سکتے ہیں“ ، ”میں مرنے کے بعد دفن نہیں ہوں گی بلکہ مجھے جلایا جائے“ ”ایک بار کراچی میں قائد اعظم کے مزار پر گئی تو ان سے شکوہ کیا کہ جناح جی تم نے ایسا کیوں کیا نہ تم ایسا کرتے اور نہ میں انڈیا جانے کے لئے بھٹکتی“ ۔ یہ الفاظ ہیں ایک شادی شدہ اور چار بچوں کی ماں سیما نامی عورت کے جو حال ہی میں پب جی گیم کھیلتے کھیلتے ایک بھارتی شخص سچن کی محبت میں ایسی گرفتار ہوئی کہ نہ اسے یہ یاد رہا کہ وہ کسی کی منکوحہ اور چار بچوں کی ماں ہے اور نہ ہی اسے بھارتی میڈیا کے سامنے قائداعظم محمد علی جناح سے متعلق یہ بیان دیتے ہوئے اپنے ملک اور قائد کی عزت اور وقار کا کوئی خیال رہا۔

سیما حیدر اور سچن کی محبت کے قصے جب پورے پاکستانی اور بھارتی میڈیا پر سنائے جانے لگے تو میں نے سوچا ذرا چل کر سیما کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ چیک کیا جائے اور جب میں نے انسٹاگرام پر سیما کی ویڈیوز دیکھیں تو ایک پل کو میں جم کر رہ گئی کیونکہ جس طرح کی ریلز اور ویڈیوز بنا کر سیما نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی ہوئی ہیں انہیں دیکھ کر دو باتوں کا صاف صاف اندازہ ہوتا ہے پہلی کہ محترمہ بولی ووڈ فلموں اور بھاتی گانوں سے شدید متاثر ہیں اور دوسری بات یہ کہ ایک چار بچوں کی ماں کے پاس کیا اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنا پورا دن پب جی گیم کھیلتے ہوئے اور ایک غیر مرد کے ساتھ واٹس ایپ پر باتیں کرتے ہوئے گزارے بلکہ بولی ووڈ کے گانوں پر ناچ ناچ کر بیہودہ ویڈیوز اور ریلز بنا کر انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ بھی کرے کیا ایسی عورت بھروسے کے قابل ہے۔

یہاں میں آپ کو بتاتی چلوں کہ بولی ووڈ سے متاثر پاکستانی ہیروئن سیما اور اس کے انڈین ہیرو سچن کی رئیل لائف فلم جس کا ٹائٹل غالباً ”مرجاؤں گی لیکن پاکستان نہیں جاؤں گی“ ہونا چاہیے، اس وقت پاکستان اور بھارت کی بلاک بسٹر فلم بن چکی ہے۔ دونوں نے اتنا کمال کا اسکرپٹ لکھا ہے کہ شاہ رخ خان اور سلمان خان کی فلمیں بھی اس فلم کے آگے فیل ہیں اور اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے میڈیا جہاں صرف اور صرف سیما اور سچن کو ہی کوریج مل رہی ہے اور سوشل میڈیا تو دونوں کے محبت بھرے گیتوں اور ویڈیوز سے بھرا پڑا ہے۔

پاکستانی میڈیا پھر بھی اس معاملے کو سر پر سوار نہیں کر رہا لیکن بھارتی میڈیا پروپیگنڈا کرنے اور پاکستان کی معمولی سے معمولی چیز کو بھی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بنا کر پیش کرنے میں ماہر ہے۔ لہذا جب سے ان کے ہاتھ سیما اور سچن کی محبت کا معاملہ لگا ہے تب سے ایسا لگ رہا ہے جیسے بھارت میں ان دونوں کی لو اسٹوری کے علاوہ کوئی اور مسئلہ ہے ہی نہیں۔ بھارتی میڈیا تو لگتا ہے کہ سچن کے گھر کے دروازے سے ہی لگا بیٹھا ہے اٹھنے کو تیار ہی نہیں۔ یہاں تک کہ سچن کے والد ہاتھ جوڑ کر کئی بار میڈیا پرسنز سے التجا کرچکے ہیں کہ وہ انہیں اور ان کے خاندان کو اکیلا چھوڑ دے لیکن اگر میڈیا نے انہیں اکیلا چھوڑ دیا تو ان کے ہاتھ مرچ مصالحے والا اسکرپٹ کہاں سے لگے گا۔

میں یہاں مذہب کا معاملہ نہیں اٹھانا چاہتی حالانکہ ہم یہاں بھارت کا ایک اور دوغلا چہرہ دیکھتے ہیں کیونکہ جب بھارت میں کوئی ہندو لڑکی کسی مسلمان لڑکے سے شادی کرتی ہے تو یہی بھارتی میڈیا اسے ”لو جہاد“ کا نام دے کر ان کا جینا حرام کیے رکھتا ہے لیکن اب جب ایک پاکستانی شادی شدہ عورت اپنا مذہب چھوڑ کر ہندو دھرم میں داخل ہو گئی ہے اور ایک ہندو شخص کی محبت میں گرفتار ہونے کی دعویدار ہے تو جیسے بھارتی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا ہے۔

خیر ہم یہاں صرف اور صرف اپنے پیار کے لئے ہر حد کو پار کر جانے کی دعویدار سیما حیدر کی محبت کی بات کریں گے۔ سیما کے بارے میں ریسرچ کرتے کرتے ایک بڑی حیران کن بات میرے سامنے آئی کہ محترمہ اپنے پہلے شوہر غلام حیدر جو کہ پاکستانی ہیں سے بھی دنیا بھر کی مخالفت مول لے کر محبت کی شادی (کورٹ میرج) کرچکی ہیں، جن سے ان کے چار بچے ہیں اور جب غلام حیدر کمانے کی غرض سے سعودی عرب گیا تو محترمہ کی محبت نہ صرف اڑن چھو ہو گئی بلکہ فوراً ہی دوسری محبت بھی ہو گئی اور ایسی آندھی طوفان والی محبت ہوئی کہ سیما کو اس محبت کی دھند میں نہ پاکستان اور بھارت کا بارڈر نظر آیا اور نہ ہی وطن اور مذہب کی زنجیریں۔

سیما کی اندھی محبت اتنی دلیر نکلی کہ اس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حائل بڑی بڑی رکاوٹوں کو اس طرح عبور کر لیا جیسے یہ کوئی بچوں کا کھیل ہو۔ جب بات پاکستان اور بھارت کی ہو تو دونوں ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیاں سیکیورٹی کے معاملے میں دنیا کی نمبر ون ایجنسیاں مانی جاتی ہیں اور دونوں ممالک کی ایجنسیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کی سیکیورٹی اور نظروں میں آئے بغیر ایک پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ لیکن پاکستان کی سیما جس آسانی کے ساتھ دونوں ملکوں کے سیکیورٹی سسٹم پر لات مار کر بھارت گئی اور بھارتی سچن نے جس طرح اسے اور اس کے بچوں کو باآسانی بھارت منتقل کر کے اسے وہاں کرائے کے مکان میں رکھا اس پورے عمل سے دونوں ممالک کی سیکیورٹی ایجنسیوں پر بڑا بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا ہے کہ یہ ہے آپ کی سیکیورٹی جیسے ایک عام پاکستانی عورت اور بھارتی مرد با آسانی چکمہ دے سکتے ہیں۔

اب ذرا بات کر لیں بولی ووڈ سے متاثر اس اندھی محبت کی کہ کیا سیما اور سچن کی یہ محبت زندگی بھر ساتھ چلے گی۔ آخر اس محبت کا انجام کیا ہو گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس محبت کا انجام کیا ہو گا لیکن سیما کے پچھلے ریکارڈ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس محبت کا نشہ جیسے ہی اس کی آنکھوں سے اترے گا اور اسے کوئی دوسرا محبت کرنے والا مل جائے گا اس کی یہ محبت بھی فوراً ختم ہو جائے گی اور اس کی حالت بالکل اس محاورے کی طرح ہو جائے گی ”لوٹ کے بدھو گھر کو آئے“ لیکن سیما کی حالت تو شاید اس بدھو سے بھی بری ہوگی کیونکہ اس نے واپسی کا کوئی راستہ چھوڑا ہی نہیں۔

Facebook Comments HS