(1) جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں

کہتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور اُن کا ملن زمین پر ہوتا ہے۔ تمہارے اور میرے ازدواجی بندھن کا وقوع پذیر ہونا اس کہاوت کی سچائی کا زندہ ثبوت ہے۔ تمہارے والد اور والدہ دونوں ہی میرے خالہ زاد تھے۔ باپ کے رشتے کے لحاظ سے تم میری بھتیجی اور والدہ کے ساتھ رشتے کے لحاظ سے تم میری بھانجی لگتی تھیں۔ ہمارے یہاں مروجہ معاشرتی اصولوں کے مطابق ماں کے رشتے کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے تم مجھے ماموں کہہ کر پکارا کرتی تھیں اور عمر میں بھی مجھ سے تقریباً دس سال چھوٹی تھیں۔ اس لیے ایسے حالات میں تو شادی کا تصور بھی بعید از قیاس تھا۔
میں بوریوالا کے ایک سرکاری سکول میں سائنس ٹیچر تھا۔ سارا دن سکول میں بچوں کو پڑھاتا۔ چھٹی کے بعد گھر پہنچتا۔ یہاں پر میرے بھائی میجر ارشاد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ میرے والدین اور بقیہ بہن بھائی قریبی گاؤں میں رہائش پذیر تھے۔ میں بوریوالا میں ہی میجر صاحب کے ہاں رہائش پذیر تھا۔ کھانا وغیرہ کھا کر کچھ آرام کرتا۔ پھر ٹیوشن سنٹر پر آ جاتا۔ مغرب کے بعد یہاں سے فارغ ہو کر شیخ ایوب کی بیٹھک میں مچی دھما چوکڑی میں شامل ہو جاتا۔
بشیرا خوفناک جیسے ادھیڑ عمر لوگوں سے لے کر چھیکا جیسے نو عمر لڑکے بالے تک اس فورم کا حصہ تھے۔ رات گیارہ بجے تک محفل جمتی رات کا کھانا وہیں کھاتا۔ جو دعوت شیراز کا حقیقی مظہر ہوتا۔ ایوب کی والدہ تین بندوں کا کھانا بیٹھک میں بھیج دیتیں۔ دس پندرہ لوگ تو ہر وقت وہاں موجود رہتے۔ اب ایوب گلی میں آ کر اونچی آواز میں پکارتا۔ اوئے چھندی۔ اوئے مولوی۔ اپنے اپنے گھروں سے فالتو روٹیاں اور سالن بھیجو۔ چھندی اور مولوی کے علاوہ کچھ اور مخیر حضرات بھی اس کارِخیر میں اپنا اپنا حصہ ڈال دیا کرتے۔
ویسے اُن گھروں میں سے بیشتر کے نمائندے پہلے ہی ہمارے ساتھ موجود ہوتے۔ اس کے بعد اجتماعی دسترخوان سجتا اور خوب جی بھر کر کھانا کھایا جاتا۔ اس دستر خوان کی ایک بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ اگر حاضرین کی نسبت جمع شدہ کھانوں کی مقدار کم بھی ہوتی تو بھی ہر آدمی خوب سیر ہو کر کھانا کھاتا۔ تشنگی کا حرف شکایت کبھی کسی زبان سے سننے کو نہ ملتا اور اگر کھانا زیادہ ہوتا تو پھر بھی باقی نہیں بچتا تھا۔ بلکہ سارے کا سارا ہی کھا لیا جاتا۔
گویا کھانے کی کمی بیشی کے قطع نظر ہر آدمی جی بھر کر کھاتا۔ سکریبل کھیلنے کے باقاعدہ مقابلہ جات ہوتے۔ کبھی کبھار تاش بھی چل جاتی۔ اس طرح رات گیارہ ساڑھے گیارہ بجے تک یہ ڈیرہ خوب آباد رہتا۔ اس کے بعد میں گھر واپس آ کر سو جاتا اور صبح کو پھر وہی ٹائم ٹیبل شروع ہو جاتا۔ اب اس سارے دن کے اوقات کار میں شادی کی نہ تو کوئی گنجائش تھی اور نہ ہی کبھی اس کی ضرورت محسوس ہوتی اور وقت ایسی ہی دلچسپیوں اور خوبصورتیوں سے بھری ہوئی مصروفیات کے پر لگا کر تیزی سے اُڑا جا رہا تھا۔ جب عمرِ رواں تیس کے خوفناک ہندسے کو عبور کر گئی تو کچھ تو فطری تقاضوں اور کچھ اردگرد کے لوگوں اور یار دوستوں کے طعن و تشنیع سے متاثر ہو کر اس بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس سوچ نے ارادے کی شکل اختیار کر لی۔
اس ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے میری والدہ اور میری بڑی بھابھی دو ارکان پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دیا گیا۔ جس نے اس نیک کام کے لیے فریقِ ثانی کو تلاش کرنا تھا۔ اس بورڈ نے قربُ جوار کے اُن تمام گھروں میں جھانک لیا تھا جہاں کوئی نوجوان دوشیزہ موجود تھی۔ لیکن اس تاک جھانک کا حاصل حصول صفر تھا۔ کیوں کہ اس بورڈ کے دونوں اراکین کی پسند و ناپسند کے انتخاب کے پیمانے یکسر متضاد تھے۔ ایک رکن جس رشتے کے لیے پسندیدگی کا اظہار کرتا وہ دوسرے کو ناپسند ہوتا اور دوسرے رکن کا انتخاب پہلے کے لیے ناقابلِ قبول قرار پاتا۔
بلکہ جس رشتے کو رکنِ اول قبولیت اور پسندیدگی کے سلسلے میں سو فیصد نمبروں سے نوازتا۔ رکنِ ثانی کے نزدیک وہ رشتہ صفر قرار دیا جاتا اور اس کے بر عکس بھی یہی صورتحال ہوتی۔ بلکہ اکثر و بیشتر تو لڑکی والوں کی طرف سے ہی انکار ہو جاتا۔ ہاں اور ناں کا یہ منحوس سلسلہ سال بھر اسی طرح چلتا رہا۔ ایک دن میں نے اس مسئلے کا شماریاتی تجزیہ کیا تو اس مسئلے کا حل بیسویں صدی میں تو نکلتا ہوا دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
میں نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ان معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کے گھروں میں موجود ان دوشیزاؤں پر نظر دوڑائی تو میرے نظر انتخاب تم پر آ ٹھہری۔ ایک لمحے کے لیے تو مجھے یہ سب کچھ بڑا عجیب سا لگا۔ لیکن شریعت کا سہارا لیتے ہوئے میں نے اپنی والدہ کو اس فیصلے سے آگاہ کیا اور ساتھ ہی وارننگ الرٹ بھی جاری کر دیا کہ اگر دو ماہ کے اندر اندر شادی کے انتظامات نہ کیے گئے تو پھر یہ مسئلہ میں بقلم خود حل کر لوں گا۔
میرے اس فیصلے پر میری والدہ نے جس بے ساختہ خوشی و پسندیدگی کا اظہار کیا۔ میرے لیے باعثِ حیرت تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ رشتہ تو اُن کی دیرینہ خواہش تھی۔ لیکن شاید وہ دونوں خاندانوں کے ماحول میں موجود زیادہ تفاوت کی وجہ سے اس کا برملا اظہار کرنے سے گریز کرتی تھیں۔ وہ بڑی خوش خوش ان معاملات کو طے کرنے کے لیے تمہارے گاؤں میں چلی گئیں۔ جہاں اس نئی صورت حال کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا اور وہاں تم بڑی خوشی خوشی میری شادی میں شرکت کے لیے تیاریاں کر رہی تھیں۔
تم نے ماں جی کو بتایا کہ میں نے یہ نیا جوڑا ماموں خالد کی شادی میں شرکت کے لیے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ اس کی شادی کب ہو رہی ہے۔ ماں جی نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ اس کی شادی تو اگلے ماہ ہو رہی ہے۔ لیکن تم اس جوڑے کو پہن لو اس شادی پر میں تمہیں بہت سے خوبصورت جوڑے بنوا کر دوں گی۔ رشتہ طے کرنے کے لیے ماں جی نے روایتی رسومات میں پڑنے کی بجائے رات میں تمام خاندان کے لوگوں کو اکٹھا کر کے بس یہ اعلان کرنا ہی کافی سمجھا کہ عید کے بعد 26 جون کو ہم لوگ بارات لے کر آئیں گے اور خالد کے لیے گڈی کو بیاہ کر لے جائیں گے۔ اپنی رنگیں آنکھوں اور گھنگھریالے بالوں کی وجہ سے خاندان بھر میں تمہیں تمہارے اصل نام سے پکارنے کی بجائے گڈی کے نام سے پکارا جاتا تھا اور اس طرح آسمانوں پر بننے والے ہمارے اس جوڑے کے زمین پر ملن کے پروگرام کو حتمی شکل دے دی گئی

