ٹین ایج کے شدید نفسیاتی طوفان (4)
والدین کی ذہنی صحت : وراثتی عوامل بھی کارفرما ہوسکتے ہیں
نیز والدین کے غیر یقینی روئیے مثلاً۔ موڈ ڈس آرڈر، اینزائٹی، ماں کا پوسٹ پارٹم اور مینسٹریشن سے متعلقہ موڈ سونگ (جس دوران عورت میں ہارمون کی وجہ سے حسد اور خود پسندی اور حاکمیت اور جارحیت بڑھ جاتی ہے ) ، بچے تقریباً ہر ماہ ڈپریشن زدہ ماں کے چڑچڑے پن اور جارحیت کو جھیلتے ہیں جس کے نتیجے میں ماں باپ کی چپقلش میدان جنگ بنی رہتی ہے اور والدین کے یہ منفی مزاج بچے کے لئے ہمہ وقت ٹاکسک (کشیدہ) ماحول کا باعث بنتے ہیں۔ جس میں وہ بچے کی ذہنی صحت پر توجہ دینے کے بجائے اپنے ہی مسائل میں الجھے رہتے ہیں اور بچے کی جسمانی اور نفسیاتی ضروریات کو شعوری اور لا شعوری طور پر نظر انداز کرتے ہیں۔
والدین کی بچے کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں ہم آہنگی کا فقدان : والدین اگر ان امور پر ہم آہنگ نہ ہوں تو دونوں ہی بچے پر توجہ کی بجائے اپنے اپنے نظریات و خیالات پر ڈٹ کر اپنی تمام توانائی اپنی ایگو کے دفاع کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ والدین کی یہ ایگو ڈییفینس لگا تار چپقلش اور مسلسل لڑائی جھگڑے ماحول میں زہریلا پن پیدا کر کے بچے تک زہر کی ترسیل کا موجب بنتا ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچہ چھوٹا ہے اسے کیا پتہ کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں، سو رہا ہے اور دوسرے کمرے میں ہے مگر وہ سب سن رہا ہوتا ہے اور والدین کے بسورے ہوئے چہرے اور خراب موڈ کو محسوس کر کے اس لڑائی کی سٹریس اپنے اندر سمو رہا ہوتا ہے۔ وہ تمام منفی باتیں، نفرتییں غیر محسوس طور پر سیکھ رہا ہوتا ہے۔ اور ان رول ماڈلز کا مظاہرہ جلد ہی شروع کرنے لگتا۔ بچپن کی یہ سٹریس اس کے ٹین ایج کو یقیناً خطرناک بنا دیتی ہے۔ ان لڑائیوں کا نتیجہ اگر علیحدگی اور طلاق کی صورت میں نکلے یا بچے کو ہر وقت یہ فکر لاحق رہے کہ دیر یا بدیر میرے والدین الگ ہو جائیں گے۔ یہ خوف پہلے بچے کے بچپن کی خوشیاں چھینے گا اور جلد ہی سکول سے شکایتیں، کرداری مسائل، بلی، لڑائی جھگڑا، دوسرے بچوں کو مارنا، اے ڈی ایچ ڈی یعنی توجہ کے مسائل، گستاخی سرکشی نافرمانی، ٹیمپر ٹینٹرم، انزائٹی، نیند کی کمی اور بات بات پر رونا اور زود حسی اور ارلی ٹین ایج کی آمد جو یقینی طور پر ٹین ایج کے شدید طوفان کا پیش خیمہ ہے۔
والدین کی شخصیت کے منفی پہلو : نارسسزم، سائیکو پیتھ اور مجرمانہ خصائل کے ڈس آرڈر کے حامل والدین جن کی شخصیت کے خطرناک خواص یعنی حسد، دھونس، جھوٹ مکاری غیبت پروپیگنڈا اور دیگر منفی باتیں کسی بھی بچے کے بچپن اور ٹین ایج اور حتی کہ تمام زندگی کو بری طرح متاثر کر تی ہیں۔
ان مجرمانہ اور غیر صحتمند شخصی خصائل رکھنے والے والدین کے بچے بہت ابتدا سے ہی کنڈکٹ ڈس آرڈر اور ٹین ایج میں اینٹی سوشل کردار کے حامل ہوسکتے ہیں۔ لڑائی جھگڑا، گالم گلوچ، جارحیت حتی کہ والدین کو بھی مار پیٹ کا نشانہ بنانا۔ موڈ ڈس آرڈر، بلی، سکول سے فرار، تعلیم سے انکار، کم عمری کی سیکس، اور حمل، چھوٹی عمر میں گھر سے بھاگ جانا، نشہ، اور الکحل کا استعمال کرنا۔ بار بار قانون کی زد میں آنا، گاڑی تیز چلانا، حادثات کا شکار ہونا۔ گینگ کا حصہ بننا۔
اس میں دوسری انتہا ڈپریشن اور خود کشی کے رجحانات اور اقدام خود کشی شامل ہیں۔
کلینکل کیس ہسٹریوں سے شواہد ہیں کہ والدین کے پرسینلٹی ڈس آرڈرز ان کے بچوں کے ٹین ایج کو طوفان بنانے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
کلینکل مثال : ایک 18 سالہ نوجوان یونیورسٹی کے پہلے سال میں نفسیاتی علاج کے لئے ریفر ہوا۔ وہ بچپن سے ہی ارتکاز توجہ کے مسائل کا شکار تھا۔
جیسے تیسے یونیورسٹی پہنچا مگر ٹین ایج کی تمام علامتیں شدت سے ظاہر ہوئیں۔ اگرچہ بچپن میں بھی غصہ، بچوں کو مارنا اور سکول سے شکایتوں کے پروانے ملتے تھے لیکن اب ڈپریشن، اینزائٹی اور پینک اٹیک جیسے کرداری ڈس آرڈرز میں شدت کے ساتھ اضافہ ہو گیا۔
کلینکل سیشن میں یہ نوجوان بتاتا ہے کہ مجھے بہت بچپن سے ہی یہ خوف رہتا تھا کہ میرے والدین علیحدہ ہو جائیں گے۔ اور جب میں 4 سال کا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ میری ماں مجھے میرے باپ سے دور رکھنا چاہتی ہے۔ میں جب بھی باپ سے لپٹنا چاہتا وہ اشارے سے گھورنا شروع ہو جاتی۔ اور جس دن ہم باپ بیٹا کھیلتے اسی رات میری ماں میرے باپ سے کسی نہ کسی بہانے خوب خوب لڑائی کرتی۔ اگلی صبح میری ماں مجھے صبح سے شام تک گھر سے باہر رکھتی اور خوب سیریں کرواتی اور شام سے پہلے کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھلاتی اور ہر بار کہتی اب ہم دونوں الگ رہیں گے تمہارا باپ اچھا نہیں ہے۔ حالانکہ میرا باپ مجھے بھر پور توجہ دیتا اور مجھ سے بہت پیار کرتا اور اور کوالٹی ٹائم دیتا تھا اور جاب کے علاوہ ماں کا خیال بھی رکھتا تھا اور گھر کے کام میں بھی ماں کی مدد کرتا اور ماں کے رشتہ داروں کی بہت عزت سے میزبانی کرتا۔ لیکن۔ میرے باپ کے رشتہ دار آتے تو ماں مجھے سکھاتی کہ ان کو تنگ کرو حالانکہ مجھے باپ کے رشتے داروں سے بھی پیار تھا۔ مگر ماں کے کہنے پر میں اپنی ددھیالی رشتہ داروں کو تنگ کرتا۔ مجھے پہلے تو شرمندگی ہوتی لیکن پھر عادت ہو گئی اور میں سکول میں بھی مارنے لگا۔ میرا پڑھائی میں دل نہ لگتا۔ میں اچھے نمبروں سے پاس تو ہوتا گیا مگر ہائی سکول کے بعد مجھے پینک اٹیک ہونے لگے۔ مجھے غصہ بہت آتا۔ مجھے لگتا کہ میرا باپ مجھ سے جدا ہو جائے گا۔ میں اسی خوف سے ذہنی مریض بن گیا۔ میں اکثر اپنی ماں کو اپنی خالہ کے ساتھ فون پر پر یہ کہتے سنتا کہ میری ماں جلد میرے باپ کو چھوڑ دے گی کیوں کہ وہ نہیں چاہتی کہ میں اپنے باپ سے پیار کروں اور اس کے رشتہ داروں سے محبت کروں۔ مجھے تب سمجھ آئی کہ میری ماں میرے باپ سے حسد کرتی ہے اور مجھے کنٹرول کر کے اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہے۔ حالانکہ میرا باپ بہت شفیق تھا اور اس نے کبھی میری ماں کے بارے میں برائی نہیں کی تھی۔ ماں ہر وقت خالہ کے ساتھ میرے باپ اور ددھیال کی برائیاں کرتی۔ جس سے مجھے بہت تکلیف ہوتی اور پھر میں ہر چیز پر غصہ نکالتا۔ میں ہر ایک سے لڑ پڑتا۔ میرا کوئی دوست نہ بنتا میں الگ تھلگ ہوتا گیا۔ مجھے لوگ اچھے نہ لگتے۔ دل چاہتا کہ ہر ایک کا منہ نوچ لوں ایک مرتبہ مار کٹائی کی وجہ سے پولیس کو بھی مداخلت کرنا پڑی۔ مجھے باپ کا گھر چھوڑنے کا خوف رہتا۔ مجھے اس فکر میں رات بھر نیند نہیں آتی تھی حالانکہ میری عمر ابھی 5 سال کی ہی تھی۔ کیونکہ ماں معمولی باتوں پر باپ کو دھمکی دیتی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائے گی۔ ہر ہفتہ مجھے الگ بیٹھ کر یہی سکھاتی کہ تم تیار رہو باپ کے بغیر رہنے کے لئے۔ میں بچہ تھا کچھ نہیں سمجھ سکتا تھا مگر دل میں باپ پر ترس کھاتا اور پھر سکول میں سب کو تنگ کرتا۔ میری ماں میرے باپ سے حسد کی وجہ سے مجھے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی۔ جب ماں حد سے بڑھ جاتی تو مجھے باہر لے جا کر خوب بھڑکاتی۔
یونیورسٹی پہنچا تو ماں باپ کی طلاق کی خبر سنی تو میں نے خودکشی کی کوشش کی۔ اور مجھے ہسپتال جانا پڑا جہاں میرا علاج جاری ہے۔
ایک دوسری مثال میں ایک سائیکو پیتھ باپ نے بچپن سے ہی اپنے بیٹوں کے ساتھ ماں کے خلاف اس طرح پروپیگنڈا کیا اور اس کی کردار کشی کی کہ بیٹے جو پہلے ماں سے بے پناہ محبت کرتے تھے رفتہ رفتہ باپ کے اکسانے پر ٹین ایج میں ماں پر ہاتھ بھی اٹھانے لگے یعنی باپ نے بچوں کے ٹین ایج کے طوفان کو اپنی بیوی کے خلاف استعمال کیا۔ اور اس طرح بچوں کے ٹین ایج کے نارمل روئیے ان کے مجرمانہ خصائل بن گئے اور وہ اینٹی سوشل ڈس آرڈرز کا شکار ہو کر تنہا ہو گئے۔
سنگل مدرز : کو بچوں کی تربیت میں باپ کے بغیر بے پناہ مشکلات پیش آتی ہیں۔ بچے بہت چھوٹی عمر میں بسوں میں سکول جاتے ہیں اور ماں جاب کی وجہ سے ثمر کیمپوں کے اناڑی ٹین ایجر نگرانوں کے ساتھ بھیج دینے پر مجبور ہوتی ہے۔ جہاں کمسن بچے سارا دن خوار ہوتے اور غیر تہذیب یافتہ ماحول میں گرمیوں کی چھٹیاں بن باپ کے یتیموں کی طرح گزارتے ہیں۔ چنانچہ فادر فگر کا نہ ہونا اور بچوں کا باپ کی دوستی سے محروم ہونا بھی ٹین ایج کو خطرہ بنانے کی ایک وجہ ہے۔
مذہبی شدت پسندی اور بچوں پر زبردستی اپنے عقائد ٹھونسنا، اور مذہبی اقدار مثلاً لڑکیوں کو پردہ اور مذہبی شناخت کے لئے حجاب کا پابند کرنا اور ان کے لئے ڈریس کوڈ مقرر کرنا۔ اور روایتی ٹیبوز کو ٹھونسنا۔ یہ بات مغربی ممالک میں بغاوت کا باعث بنتی ہے اور لڑکیاں گھر چھوڑ دیتی ہیں۔ اور اسی طرح فورسڈ شادیاں بھی ٹین ایجر اور والدین کے لئے چیلنج ہیں۔
سوال ہے کہ ان شدید طوفانوں سے کیسے نمٹا جائے؟
جواب۔ اسی مضمون میں ہے کہ بیان کی گئی غلطیوں / وجوہات کو حفظ ماتقدم کے طور پر دور کیا جائے اور بچے کی تربیت کے ابتدائی 7 سال خاص طور پر اور 18 سال عمومی طور پر والدین کو اپنی انا کی قربانی دینا ہوگی اور بچے کی پیدائش سے قبل اپنی شخصیت کے نقائص اور ذہنی امراض کا علاج کروانا چاہیے جس میں ان کی شعوری اور رضا کارانہ کاوش کا عمل دخل ہو۔ لیکن تمام کوششوں کے باوجود اگر طوفان نہیں تھم رہا تو بچے کو اور پوری فیملی کو لازماً ماہر نفسیات کے سیشن کی ضرورت ہے۔
مزید یہ کہ گھر میں روشن خیالی، دوستی، محبت اور ہنسنے ہنسانے کی فضا قائم ہو۔ فیملی ٹائم، پکنک، فنون لطیفہ کی قدردانی میوزک، ڈانس اور ادب اور تخلیقی مشاغل کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ دونوں والدین بچے کو دونوں طرفین کے گرینڈ پیرنٹس سے محبت اور احترام کا مساوی درس دیں۔ اپنی ٹین ایج پر نظر ڈال کر بچے کی ٹین ایج کا بخوشی استقبال کیا جائے اور مداخلتی رویوں کی بجائے معاونتی رویے اپنائے جائیں۔ دونوں والدین بچے کو اپنے دوسرے پارٹنر کی عزت اور محبت سکھائیں۔


