یورپ میں قرآن کی بے حرمتی: مذہبی منافرت یا سیاسی حکمت عملی

اٹھائیس جون کو سٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے سامنے عیدالاضحی کے موقع پر ایک عراقی مہاجر سلوان ممنکی نے قرآن پاک کی ایک جلد کو پہلے پھاڑا اور پھر اس کو آگ لگائی۔ اس دن تقریباً دس ہزار سے زائد مسلمان اس مسجد میں نماز عید کے لیے اکٹھے تھے۔ یہ واقعہ پولیس کی موجودگی میں ہوا اور ایک نوجوان کو اللہ اکبر کا نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا گیا۔ اس سے پہلے اکیس جنوری کو ترکی کے سفارت خانے کے باہر راسمیس پالیوڈن نے ایسی ہی حرکت کی تھی۔ ان دونوں واقعات کے بعد جہاں مذمتی بیانات اور مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا وہیں ان کے حق میں بیانات کی شدت بھی کچھ کم نہ تھی۔ سویڈیش اور یورپی حکام کے مطابق ایسی تمام حرکات کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ یہ قابل مذمت فعل تھا لیکن آزادی رائے جمہوری سماج کا ایک بنیادی عنصر ہے۔
اگرچہ مغرب میں ایسی حرکات کی ایک طویل تاریخ ہے لیکن آج ہم اس عمل کے ایک دوسرے پہلو پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ حق آزادی رائے کی بنیادی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی ان لوگوں کے حق آزادی رائے پر پابندی ہے جو یورپین پالسیزپر تنقید کرتے ہیں، اس کے نو آبادیاتی اور صہیونی مظالم کو اجاگر کرتے ہیں اور اس کی فوجی مداخلتوں پر احتجاج کرتے ہیں۔
فلسطینی بائیکاٹ مہم (B D S ) طویل عرصے سے مغربی معاشروں اور اس کے اداروں میں اسرائیلی قبضے اور مظالم کے خلاف پرامن ذرائع سے صرف درست اصطلاحات اور الفاظ کے استعمال کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ ہزاروں لوگوں کو مغربی سوشل میڈیا پر اسرائیلی جنگی جرائم پر بات کرنے پر پابندی کا سامنا ہے۔
اسی طرح زیادہ تر مغربی ممالک میں ایرانی میڈیا اور اس کے افراد پر پابندی ہے ایسی اور بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ گزشتہ سال کے شروع میں روس یوکرائن جنگ کے شروع میں روسی ٹی وی اور دوسرے میڈیا دفاتر بند کر دیے گیے بلکہ یوٹیوب، گوگل وغیرہ پر بھی ایسی کسی آواز پر پابندی لگا دی گئی۔ اسی طرح گزشتہ سال انگریزی زبان کے چینی ٹی وی چینل پر بھی پابندی لگا دی گئی۔
یہ عجیب بات ہے کہ ان تمام پابندیوں اور سنسرشپ کے لیے ان کے پاس اخلاقی اور قانونی جواز موجود ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ مسلمانوں اور ان کی علامات کی تذلیل اتنی عزیز کیوں ہے اور سرکاری سطح پر صرف لفظی مذمت ہی کیوں کافی سمجھی جاتی ہے۔ اور یہ کہ آج قرآن کو جلانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلاموفوبیا کے اثرات مغرب حکومتوں کی اعلی ترین سطح پر موجود ہیں؟ مغربی سیاستدان اور قانون دان قرآن جلانے والوں کی حمایت اس لیے کرتے ہیں کہ بظاہر قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے لیکن درون خانہ حکمران طبقے اسلامی علامات کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں اور ہم صرف انتہائی دائیں بازو کے شدت پسندوں کو موجب الزام سمجھتے رہتے ہیں۔ یہ بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی۔
اس دل آزار واقعہ پر ردعمل بھی آیا بالخصوص مسلم دنیا میں جہاں عوامی مظاہروں کے دوران مغربی ممالک کے سفارت خانوں کے باہر نعرے لگے، پرچم جلائے گئے اور مغربی سیاستدانوں اور دانشور حلقوں نے ان مظاہروں کو بطور دلیل استعمال کرتے ہوئے جہاں مغربی جمہوری نظام کی برداشت اور حقوق کی پاسداری کی بات کی وہیں اسلام میں عدم برداشت اور آمرانہ سوچ کی نشاندہی کی۔ اب تو یہ عمل اور اس کا ردعمل دائروں کا سفر لگتا ہے۔ مغرب میں کوئی شخص بھی کسی چوراہے یا وقت کی مناسبت سے کسی اور جگہ اس عمل کا آغاز کر سکتا ہے اور پھر جواب در جواب ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو کچھ دن جاری رہتا ہے۔
کیا اس سارے عمل میں میں وقت کی اہمیت ہے؟
کیا آپ نے غور کیا کہ جب کبھی بھی یورپ کسی کرائسس سے گزر رہا ہو تو اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ان کے پاس مسلمانوں سے بہتر کوئی اور ہدف نہیں ہوتا اور اسلامی علامات کی تذلیل یا قرآن کو جلانے کے عمل کے ذریعے وہ اپنا مقصد حاصل کر لیتا ہے۔ ایسے واقعات سے یورپی تاریخ بھری پڑی ہے۔
ماضی میں خانہ جنگی، انقلاب اور معاشرتی بے چینی سے توجہ ہٹانے کے لیے مذہبی جذبات کو بھڑکاتے ہوئے چرچ کے تعاون سے حکمران طبقوں نے صلیبی جنگوں کا راستہ اختیار کیا۔ لیکن آج کون سی کرائسس ہے جس سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ سب ہو رہا ہے۔ یوکرائن کی جنگ اور تبدیل ہوتا عالمی منظر نامہ جس میں دولت اور طاقت کا بہاؤ اب مغرب مخالف سمت ہے۔
یوکرائن جنگ میں روسی شکست کے لیے ناٹو کی اب تک کی تمام حکمت عملی ناکام ہوتی نظر آتی ہے۔ یوکرائن کی موسم بہار کی مہم، جس کے لیے ناٹو اور یورپ نے جدید ترین ہتھیاروں کے ساتھ بے بہا وسائل جھونک دیے، اپنے متعین کردہ اہداف کے حصول کے لیے اگر مکمل ناکام نہیں ہوئی تو کامیاب بھی نہیں کہی جا سکتی۔ اور ناٹو ممبران میں باہمی اختلافات اور رنجشیں بعض اوقات میڈیا پر آنا شروع ہو گئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں روسی صدر کے خلاف ہونے والی واگنر (Wagner) بغاوت، جس سے مغرب نے اندرونی طور پر روسی صدر سے نجات کی امیدیں وابستہ کر لی تھیں، بھی نا صرف ناکام ہو گئی بلکہ اب اس گروپ کے فوجی بیلاروس میں منتقل ہو گئے ہیں جہاں وہ سرحد پر اب ناٹو کے سامنے جا کھڑے ہوئے ہیں۔
بات یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ مسلم ممالک بالخصوص عرب تو روس اور چین کے اور نزدیک ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران میں دہائیوں سے جاری کشمکش ( جس کے برے اثرات سے وطن عزیز متاثر ہوا) بھی بظاہر چین کے توسط سے ختم ہو کر باہمی تعاون میں تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ جہاں الجزائر نے حالیہ دنوں میں روس سے باہمی تعاون کے بڑے سمجھوتے پر دستخط کیے وہیں برکس (BRICS) ، جو کہ ایک قوت کے طور پر ابھر رہا ہے، میں شمولیت کیے لیے ممالک کی قطار لگ رہی ہے۔
مغرب کی ان سیاسی، اخلاقی اور فوجی مشکلات کے پس منظر میں ایک شخص سٹاک ہوم کی مسجد کے سامنے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی مذہبی نشانی کے خلاف اپنے خود ساختہ اصول لیے کھڑا نظر آتا ہے اور مغربی میڈیا کا تفریحی میلہ پورے جوش و خروش کے ساتھ شروع ہو جاتا ہے۔
اس شخص اور ایسے ہی دوسروں کے نزدیک آزادی رائے کے اصول کا تحفظ کوئی بہت اہم نہیں ہے بلکہ یہ عمل تو متنوع حکمت عملی کا ایک جز ہے اور اس کے اصل سہولت کار کوئی پاگل نہیں بلکہ بہت چالاک اور اہم عہدوں پر فائز اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہین۔
درحقیقت یہ توہین آمیز عوامل اس مغربی ذہنیت کو پرتو ہیں جس کے مطابق مغرب تو جمہوری، کشادہ دل معاشرے ہیں جبکہ باقی سب غیر جمہوری، عدم برداشت اور ظالمانہ معاشرے ہیں۔ اس ذہنیت کی عکاسی یورپین فارن پالیسی چیف جوزف بوریل کے اس بیان سے ہوتی ہے جو گزشتہ سال انہوں نے پراگ میں ایک تقریب سے خطاب میں دیا جس کے مطابق ”یورپ تو ایک باغ ہے جبکہ باقی دنیا ایک جنگل“ ۔
ان توہین آمیز عوامل کو حق آزادی رائے کے جھنڈے تلے روکنے کے لیے حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے پاکستان کی طرف سے پیش کردہ قرار منظور کر لی جس کے تحت مذہبی منافرت اور قرآن کو جلانے کے مذمت کی گئی۔ حق آزادی رائے کے نام پر یورپین ممالک اور امریکہ نے اس کی مخالفت کی۔
اس طرح کے واقعات پر ہمارا روایتی ردعمل درحقیقت اس مغربی حکمت عملی کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت وہ ایک پنتھ اور دو کاج کے محاورے کے مطابق جہاں لوگوں کے توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہیں وہ باقی دنیا کے بارے میں غیر مہذب اور ”جنگلی“ ہونے کا تاثر بھی قائم رکھتے ہیں۔

