عائشہ نسیم نے کرکٹ کو الوداع کہہ دیا


کہا جاتا ہے کہ دنیا کے بیشتر مذہب پسند دنیا کی عارضی اور بے وقعت سی خوشیوں کے مخالف ہوتے ہیں، اسی لیے مذہبی پیشوا  دنیا کی عارضی خواہشات کا گلا گھونٹ کر آخرت کی ابدی خوشیوں کے حصول کے لیے کوشاں رہنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کی نظر میں دنیا مثل "مردود” ہے، انتہائی رذیل اور مکروہ چیز ہے جس کی چاہ کر کے آخرت کی ابدی خوشیوں کو برباد نہیں کیا جا سکتا اور جو لوگ بلندیوں کے طالب ہوتے ہیں وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے خالق حقیقی سے لو لگا لیتے ہیں۔ یہ تصور شروع دن سے ہے اور اس کے پرچارک نجانے کتنے ہنر مندوں کو تارک الدنیا بناتے چلے آرہے ہیں۔
ان کی نظر میں اپنے "نیچرل سیلف” کا گلا گھونٹ دینے سے ہی ابدی گیان و راحت نصیب ہوتی ہے، اپنی تخلیقیت کو دفن کر دینے سے ہی دل کا سکون حاصل ہوتا ہے۔ یقین مانیں نجانے کتنے فنکار، گائیک، اداکار اور آرٹسٹ اسی روایتی کنڈیشننگ یا ان ڈاکٹری نیشن (تلقین) کی وجہ سے اپنے ہنر سے ہاتھ دو بیٹھے۔
جنید جمشید کی مثال ہمارے سامنے ہے، انہوں نے اپنی خوبصورت سی آواز کو جو پوری دنیا میں گونجا کرتی تھی صرف اس وجہ سے قربان کر ڈالا کہ "موسیقی حرام ہے اور گناہ والی زندگی جینے سے بہتر ہے کہ اپنے آلات موسیقی کو دفن کر کے ابدی سکون حاصل کیا جائے” اسی شش و پنج میں وہ ایک طویل عرصہ تک احساس گناہ اور اپنے حقیقی ہنر کے بیچ جھولتے رہے، مذہب کی طرف راغب ہوئے موسیقی چھوڑی لیکن کچھ عرصہ بعد پھر شوبزنس کی طرف راغب ہو گئے اور آخر میں تو بالکل ہی خیر آباد کہہ دیا تھا۔ اس کے پیچھے فلسفہ صرف ایک ہی تھا کہ ” اگر ایک اچھا اور پریکٹسنگ مسلمان بننا ہے تو پھر دنیاوی شہرت کو قربان کرنا پڑے گا ورنہ سب کچھ لاحاصل”
اور اب ایک ابھرتی ہوئی نوجوان کرکٹر عائشہ نسیم، جس کی عمر صرف 18 سال ہے، اس نے بھی ایک اچھا مسلمان بننے کی خاطر کرکٹ کو خیر آباد کہہ ڈالا۔ یعنی زندگی کی صرف 18 بہاریں دیکھنے کے بعد اسے ادراک ہو گیا کہ "کرکٹ” اس کے ایک اچھا مسلمان بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اب یہ اس بچی کی خود کی چوائس ہے یا معاشرتی جبر کا شاخسانہ ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
مگر ایک بات تو طے ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کا آؤٹ ڈور سرگرمیوں میں حصہ لینا ایک معیوب عمل سمجھا جاتا ہے اور اگر کوئی خاتون غلطی سے کسی فیلڈ کو جوائن کر لے تو اس کے کردار کو مشکوک نظروں سے دیکھا جانے لگتا ہے اور طنز و تنقید اور تذلیل کے ایسے نشتر چلائے جاتے ہیں کہ بہت سی بچیاں تو شروع میں ہی ہمت ہار جاتی ہیں آ گے بڑھنا تو بہت دور کی بات ہے۔
جہاں مولانا صاحبان بشمول اوریا مقبول جان ایسے یہ بتانے لگیں کہ کھلاڑی گیم کے دوران گیند کو اپنے جسم کے ایسے ایسے حصوں پر رگڑتا ہے جس سے دیکھنے والوں کی حس شہوانی بیدار ہونے لگتی ہے تو وہاں بھلا بچیاں آزادانہ اور بے خوف ہو کر کے کیسے کھیل سکتی ہیں ؟جہاں کے پار ساؤں کی نظریں ہمیشہ انسان کے جنسی اعضا پر ٹکی رہتی ہوں وہاں خواتین بے خوف ہو کر کے کیسے اپنے پیشے کا انتخاب کر سکتی ہیں؟ اس قسم کے تنگ نظر معاشروں میں خواتین زیادہ سے زیادہ یہی کچھ کر سکتی ہیں جو عائشہ نسیم نے کیا۔
یہ تو خیر کرکٹ کی بات ہے بہت ساری بچیاں تو معاشرتی طعن و تشنیع کی وجہ سے اپنی تعلیم تک ادھوری چھوڑ دیتی ہیں۔ اس جیسے بہت سے ایسے سوالات ہیں جن پر مذہبی رہنماؤں کو غور کرنا چاہیے اور نوجوان نسل کو "یس مین” کا کردار نبھانے کی بجائے ان صاحبان مذہب سے پوچھنا چاہیے کہ
کیا مذہب اور دنیا ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے؟
کیا ایک اچھا یا پریکٹسنگ مسلمان بننے کے لیے اپنے ٹیلنٹ کو قربان کرنا ضروری ہوتا ہے؟ اپنے حقیقی ٹیلنٹ کے ساتھ مذہب کو پریکٹس کرنے سے مذہب کا وجود خطرے میں کیوں پڑ جاتا ہے؟
کیا مذہب کا اولین مقصد انسانی زندگیوں میں سے خوشی جیسے اہم عنصر کو نکال باہر کرنا ہوتا ہے؟
لوگوں کے چہروں پر مسکان امڈ آنے سے، خوشی سے نہال ہو کر بے خودی سے ناچنے یا تالیاں بجانے یا سرور و مستی میں ڈوب کر کے زندگی کے پر لطف اور حسین لمحات کو انجوائے کر لینے سے مذہب کو بھلا کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟
پارسائی کے ڈھونگ میں لپٹی سنجیدگی سے یہ کہیں بہتر نہیں ہے کہ اپنی ذات کے حقیقی سچ کو تسلیم کرتے ہوئے پوری دیانتداری سے جیا جائے؟
احساس جرم کے سائے میں زندگی بسر کرنے سے کیا من کی شانتی حاصل ہو سکتی ہے؟
آ خر یہ کون لوگ ہیں جو ان کھلاڑیوں، فنکاروں، اداکاروں یا گلو کاروں کے ذہنوں میں یہ سب ڈالتے ہیں کہ ” اپنا ہنر یا جوہر قربان کیے بغیر آپ ایک سچے مذہبی نہیں بن سکتے؟
سوال یہ ہے کہ جو جانثار قسم کے پختہ مذہبی ہیں انہوں نے بطور "نمونہ” کیا ایسا منفرد کارنامہ سرانجام دیا ہے جس سے دنیا بھر کے کروڑوں لوگ مستفید ہو رہے ہوں اور ان کا یہ کارنامہ دوسروں کے لیے حجت یا دلیل بن سکے؟
کیا کوئی اس سلسلے میں رہنمائی کر سکتا ہے کہ ہمارے ہاں مبلغین کی بھرمار ہے ان کی وجہ سے معاشرے میں کیا بڑی تبدیلی وقوع پذیر ہوئی ہے؟
یہ وہ بنیادی ترین سوالات ہیں جن کے متعلق ہر ذی شعور کو پرکھ کرنی چاہیے اور مذہبی بڑوں سے پوچھا جانا چاہیے کہ "اگر سچا مذہبی بننے کی یہی بنیادی ریکوائرمنٹ ہے کہ اپنے ٹیلنٹ کو قربان کر دیں تو پھر ہمارے پلے کیا رہ جائے گا سوائے بے ہنر لوگوں کے۔ جن کا مقصد فقط یہ رہ جائے گا کہ ” اوروں کو کیسے مذہبی بنایا جائے”

سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کی ذہنیت کے ساتھ سر اٹھا کے جیا جا سکتا ہے؟

Facebook Comments HS