فی امان الله اے ماں


رات 11 بجے چک نمبر 127 شمالی والے قبرستان میں ہر طرف خاموشی اور اداسی کا راج تھا جب والدہ محترمہ کا جنازہ قبرستان کی حدود میں داخل ہوا تو خاموشی میں ایک مانوس سی خوشبو پھیلی۔ جس نے پورے قبرستان کو معطر کر دیا۔ قبر تیار تھی والدہ محترمہ کا جنازہ قبر کے ساتھ رکھا گیا اور بھائی عمران نے مجھے کہا علی قبر میں اترو ساتھ ماموں مظاہر اور علی کزن قبر میں اترے نعرہ تکبیر کی صدا کے ساتھ اس ہستی کو قبر میں اتارا جس کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اس انمول خوشبو نے زمین سے زیر زمین اپنا سفر مکمل کیا۔ ساتھ ہی یادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔ پکے کمرے اور کچے صحن کی سوہنی، مہکتی خوشبو سے شروع ہونے والا وہ سلسلہ یادوں کا ایک ایک پل محبتوں کا ایک ایک لمحہ سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے شروع کروں۔ آج ایک 12 دن گزرنے کے باوجود ابھی تک الفاظ جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہوں آپ کو مرحومہ لکھوں تو کیسے لکھوں۔ امی پیار تو سارے بچوں سے کرتی تھیں لیکن مجھے کہتی تھی تم میرے لیے خوش بختی کی علامت ہو۔

تمہاری پیدائش کے ساتھ ہی میری جاب لگ گئی تھی۔ آسودہ حال تو پہلے ہی تھے لیکن گھر میں پیسے کی ریل پیل زیادہ ہو گئی تھی۔ والد صاحب سادہ آدمی تھے۔ والدہ سے عمر میں بھی زیادہ تھے اس وجہ سے ان کا خیال بھی زیادہ رکھتے تھے۔ دونوں میاں بیوی گورنمنٹ ٹیچر تھے۔ بچوں کی تربیت اخلاقی اور سماجی رویوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کی۔ امی بتایا کرتی تھی کہ سادہ گھر تھا۔ پیچھے والے دو کمرے پکے اور صحن کچا تھا۔ چھ بچے ساتھ ملازمت اور پھر دیہاتی سا ماحول گھر میں بھینسیں بھیڑ بکریاں بھی موجود تھیں۔

لہذا کام بھی زیادہ تھا۔ امی کہتی تھیں کہ میں کام سے کبھی بھی نہیں تھکتی تھیں۔ مائیں واقع ہی کبھی نہیں تھکتی۔ بڑی ہنسی خوشی لائف گزر رہی تھی پتہ نہیں والد صاحب کے من میں کیا آیا انہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ والد صاحب ریٹائرمنٹ کے کچھ عرصہ بعد ہی سنہ 2000 میں صرف 54 سال کی عمر میں داغ مفارقت دے گئے۔ ان کے جانے کے بعد ایک مشکل دور کا آغاز ہوا۔ والدہ جوان تھی 40 42 سال عمر تھی۔ ہمیں بھی پتہ چلا کہ اصل یتیمی کیا ہوتی ہے۔

واقعتاً حقیقی معنوں میں اصل امتحان اب شروع ہوا تھا۔ والد صاحب کے آخری دنوں میں مالی حالات کچھ خراب ہو گئے۔ پینشن کے سارے پیسے میں سے کچھ مکان میں خرچ ہو گئے اور کچھ بزنس فلاپ ہونے کی صورت میں ضائع ہو گئے۔ یہاں تک کہ آخری وقت میں ان پر کچھ قرضہ چڑھ چکا تھا۔ مشکل حالات شروع ہو چکے تھے۔ چھوٹے چھوٹے بچے جوان بیوہ صرف ایک تنخواہ اور اوپر سے قرضوں کا بوجھ بچوں کی تعلیم کے اخراجات۔ لیکن آفرین ہیں ہماری والدہ صاحبہ کو انہوں نے قلیل آمدنی سے قرضے بھی اتارے، سفید پوشی، بھرم، انا، اور خودداری بھی قائم رکھی۔

رشتوں کے مسائل کو بھی جھیلا۔ ہم سب بہن بھائیوں کو پاس بٹھا کر تین نصیحتیں کی بیٹا اپنی تعلیم جاری رکھنا حالات چاہے جیسے بھی ہوں۔ دوسرا کم کھا لینا نارمل پہن لینا لیکن اپنی انا اور خودداری پر حرف نہ آنے دینا۔ کسی کے آگے ہاتھ مت پھیلانا۔ تیسرا کسی سے لڑنا نہیں ہے ہر ایک کے ساتھ اخلاق کے ساتھ پیش آنا ہے۔ لیکن کہتے ہیں نا کہ اچھے لوگوں کے ساتھ ساتھ برے لوگ بھی اسی دنیا میں موجود ہیں اور پھر یتیمی۔ پیسے کا مسئلہ تو کسی نہ کسی طرح سے حل ہو ہی رہا تھا۔

ساتھ والدہ کی ہمت اور محنت سے ہم بہن بھائی اپنی انا اور خودداری قائم رکھتے ہوئے تعلیم جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ والد صاحب کی وفات کے دو سال بعد بھائی اسد کی ملازمت ہو گئی اور 2003 میں بھائی عمران کو نادرا میں ملازمت ملی گئی۔ سنہ 2006 میں جب میں نے نادرا جوائن کیا تو حالات کافی حد تک بدلنا شروع ہو گئے تھے۔ قرضوں کا بوجھ اتر چکا تھا اور گھر میں آسودگی آنا شروع ہو گئی تھی۔ لیکن بچوں کی شادیوں، رشتوں کے مسائل بہرحال جوں کے توں موجود تھے۔

کہنے کو یہ صرف چھ سال تھے لیکن یہ چھ سال کا عرصہ ہم نے کیسے گزارا بھائی اسد شام کے وقت بک ڈپو پر ملازمت کرتے تھے۔ بھائی عمران ایک کارگو کمپنی میں پاٹ ٹائم کام کرتے تھے۔ میں مارکیٹنگ کا کام کرتا تھا۔ چھوٹا بھائی لکڑی کا کام کرتا تھا لیکن تعلیم سب کی جاری تھی یہ سارے کام پارٹ ٹائم کیے جا رہے تھے۔ والدہ کا ہر کام پر مکمل چیک اینڈ بیلنس تھا۔ 2016 تک چار بچوں کی شادی کرنے کے بعد والدہ مطمئن ہوئی اور حالات اچھی ڈگر پر چلنا شروع ہو گیا تھے۔

2019 میں پانچویں بیٹے کی شادی کے بعد ابھی ایک بھائی جو انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا اس کی شادی رہتی تھی۔ لیکن والدہ صاحبہ نے کہا کہ علی اب مجھے زیارات اور عمرہ کرواؤ۔ 2019 میں والدہ صاحبہ نے زیارات کی اور 2023 جنوری میں عمرہ کے لیے روانہ ہوئی۔ اب گھر میں خوشحالی تھی والدہ مطمئن تھیں تمام بچے ایڈجسٹ تھے۔ ان کا الگ کمرہ تھا جس میں دنیا جہان کی سہولیات موجود تھی۔ آخری بیٹا انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کر چکا تھا۔

سب بہن بھائیوں نے خوشی خوشی والدہ صاحبہ کو 12 جنوری کو عمرے کے لیے الوداع کہا۔ 12 جنوری کی رات ہی والدہ صاحبہ نے اپنا پہلا عمرہ کیا۔ چار دن مکہ مکرمہ میں گزارے اور 16 جنوری کو مدینہ پاک روانہ ہو گئیں۔ لیکن بدقسمتی سے 19 جنوری کو والدہ صاحبہ کا مدینہ میں بایاں گھٹنا فریکچر ہو گیا۔ کنگ فہد ہاسپٹل میں ایڈمٹ رہی۔ دوست مقبول اور اس کی فیملی نے مدینہ میں بے انتہا خدمت کی۔ واپسی پر کامیاب آپریشن ہوا لیکن 31 جنوری کو والدہ کو فالج کا پہلا اٹیک ہوا۔

یہ ہم سب بہن بھائیوں کے لیے قیامت کی گھڑی تھی ایم ایچ پنڈی میں ایڈمٹ رئیں۔ کافی حد تک ریکور ہو گئیں۔ لیکن بدقسمتی سے 27 مارچ کو دوسرا فالج کا اٹیک ہوا جس کے بعد تمام باڈی مفلوج ہو گئی۔ دوبارہ ایم ایچ میں ایڈمٹ کروایا۔ شفا انٹرنیشنل لے کر گئے لیکن ڈاکٹرز کہتے تھے کہ ریکوری بہت مشکل ہے۔ اٹیک بہت شدید ہے۔ دعا کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ یہ زندگی کے مشکل ترین لمحات تھے مشکل ترین دن تھے۔ ساری رات والدہ صاحبہ کے پاس گزارنی ایک ایک لمحہ ان کے ہاتھوں کو چہروں کو دیکھنا بھابھی نے بہن نے سب بھائیوں نے خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

لیکن من کل نفس ذائقۃ الموت۔ 12 جولائی کو جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو مجھ سے بڑے بھائی ان کو سی ایم ایس سرگودھا لے کر گئے۔ ڈاکٹرز نے ایمرجنسی میں اے سی جی کیا۔ ڈاکٹرز نے کہا ہارٹ بیٹ بہت سلو ہے واپسی تقریباً ناممکن ہے۔ ساڑھے تین بجے ڈاکٹر نے بھائی کو کہا انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جب دس منٹ بعد میں آفس سے ہاسپٹل میں پہنچا تو بڑے بھائی نے گلے لگا کر صرف اتنا کہا امی جان نہیں رہیں۔ امی کے چہرے پہ نظر پڑی اتنے پرسکون چہرہ کے ساتھ سوئی ہوئیں تھیں کہ بیان سے باہر ہے۔

یقین نہیں آتا تھا ہمیں چھوڑ کے جا چکی ہیں۔ آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ دل غم کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔ بس 66 سال امی ابھی تو آپ کے سکھ کے دن آئے تھے۔ اے کاش کہ وقت وہیں رک گیا ہوتا جب آپ مکہ میں عمرہ کی سعادت حاصل کر رہی تھیں۔ اپنے بچوں کے لیے دعائیں مانگ رہی تھیں۔ آپ صحت مند تھی اور بیٹا اپ کے ساتھ ساتھ تھا۔ کیسے گھر لائے سارے معاملات طے ہوئے پتہ ہی نہیں چلا۔ ایک خواب سی کیفیت تھی۔ جب رات 11 : 30 بجے بوجھل دل کے ساتھ قبر پر مٹی ڈالی تو وہ خوشبو جو قبرستان میں چاروں سو پھیل ہوئی تھی ظاہری طور پر ہمیشہ کے لیے قبر کی تاریکیوں میں گم ہو گئی۔

کائنات کی عزیز ترین ہستی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی۔ آپ کا وہ چہرہ آنکھوں کے سامنے سے نہیں ہٹ رہا جب آپ مکہ سے ویڈیو کال پر بتا رہی تھیں کہ میں تمام بچوں کی صحت، ترقی، خوشحالی اور لمبی زندگی کے لیے دعائیں مانگ رہی ہوں۔ کتنا پرسکون چہرہ تھا آپ کا۔ سمجھ سے بالاتر ہے اپنے ہاتھوں سے قبر میں اترنے کے بعد بھی بے یقینی سی کیوں ہے؟ کیوں ایسے لگتا ہے کہ آپ اچانک سے آ جائیں گی۔ لیکن جانے والے بھی کبھی لوٹے ہیں۔ آپ کے احسانات، محبتوں کے قرض کبھی نہیں اتارے جا سکتے۔ کائنات میں آپ کا نعم البدل کوئی نہیں۔ ذات باری تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آپ کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں۔ آمین، الہی آمین۔

Facebook Comments HS