آپ دعائوں پر انحصار کرتے ہیں یا دوائوں پر؟
کیا خدا موجود ہے؟
اگر خدا موجود ہے تو کیا اس کا کوئی وجود بھی ہے؟
اگر اس کا وجود ہے تو کیا وہ کوئی چیز ہے کوئی شے ہے؟
اگر خدا کوئی شے یا کوئی چیز نہیں ہے تو کیا وہ موجود نہیں ہے؟
یا خدا کوئی چیز کوئی شے نہ ہوتے ہوئے بھی موجود ہے؟
کیا خدا کا ایسا وجود ہے جو شے نہیں ہے؟
خدا کے بارے میں یہ سوچ ’یہ فکر‘ یہ تصور اور یہ نقطہ نظر میں نے جون ایلیا کے دیوان شاید۔ کے دیباچے میں پڑھا۔
اگر خدا موجود ہے تو کیا وہ خالق ہے یا مخلوق؟
مسلمانوں میں خدا کے بارے میں دو روایتیں مقبول عام ہیں
ایک روایت ہمہ از اوست کی ہے اور دوسری روایت ہمہ اوست کی ہے اور تاریخی حوالے سے دونوں میں اتنا شدید تضاد رہا ہے کہ ہمہ از اوست کے پیروکاروں نے ہمہ اوست کے پیروکاروں پر نہ صرف کفر کے فتوے لگائے بلکہ انہیں سنگسار بھی کر دیا اور سولی پر بھی چڑھا دیا۔ منصور الحاج کا انا الحق کہنا اس کی صرف ایک مثال ہے۔ خدا کا موجود ہونا اور خدا کا کائنات کا خالق ہونا ایک ایسی فلسفیانہ بحث ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔
خدا کے بارے میں دوسری فلسفیانہ بحث یہ ہے کہ اگر فرض کر لیں کہ خدا موجود ہے تو کیا اس خدا کا انسان سے کوئی خاص رشتہ بھی ہے یا نہیں؟ اس فلسفیانہ بحث کا چونکہ ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے اس لیے میں ایک ماہر نفسیات ہونے کے حوالے سے اس میں کافی دلچسپی رکھتا ہوں۔
خدا کے وہ پرستار جو نمازیں پڑھتے ہیں ’روزے رکھتے ہیں‘ قربانیاں کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں ان کا ایمان ہے کہ اگر ان کی دعا قبول ہو گئی تو
وہ امتحان میں پاس ہو جائیں گے
انہیں اچھی سی نوکری مل جائے گی
ان کے بیٹے کو اچھی سی دلہن مل جائے گی
اور
ان کی بیٹی بیماری سے شفایاب ہو جائے گی
جب میری بھانجی کا کار کا شدید ایکسیڈنٹ ہوا اور اس کی گردن کے چار مہرے ٹوٹ گئے تو ان کی والدہ اور میری بہن عنبر نے نہ صرف خود بہت سی دعائیں مانگیں بلکہ اپنی سہیلیوں سے بھی کہا کہ وہ بھی خدا سے وردہ کی صحتیابی کی دعائیں مانگیں۔ ایک دن عنبر مجھ سے کہنے لگیں سہیل بھائی میں سوچتی ہوں کہ یہ عجیب بات ہے کہ میری سہیلیاں خدا سے اس مریضہ کے لیے دعائیں مانگ رہی ہیں جو خدا کو مانتی ہی نہیں۔
میری بھانجی صحتیاب ہو گئی۔ اس کی ماں کا کہنا ہے کہ یہ ان سب کی دعاؤں کی برکت ہے اور اس کے ماموں کا کہنا ہے کہ یہ دواؤں کا کرشمہ ہے اور اس سرجن کی محنت کا نتیجہ ہے جس نے وردہ کی ٹوٹی ہوئی گردن کا آپریشن کیا اور
TITANIUM PLATES لگا کر اس کی نئی گردن بنائی ورنہ وہ یا تو مر جاتی یا معذور و مفلوج ہو جاتی اور ساری عمر بستر سے نہ اٹھ سکتی۔
میرے ایک دانشور دوست نے کہا کہ دعا اور دوا میں کوئی تضاد نہیں۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں کیونکہ خدا بھی ان ہی لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔
دوسرے روایتی دوست نے کہا جو قسمت میں لکھا ہے وہی ہو کر رہے گا ڈاکٹروں سے علاج کروانا اور دوائیں کھانا بالکل فضول ہے۔
ایک دن میری بہن عنبر اچھے موڈ میں تھیں مجھ سے کہنے لگیں
سہیل بھائی ہم تو خدا کو ماننے والے ہیں ہمارا یہ عقیدہ ہے بیماری بھی خدا کی طرف سے آتی ہے اور شفا بھی۔ اگر آپ خدا کو نہیں مانتے تو پھر آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بیماری اور شفا کہاں سے آتے ہیں؟
میں نے کہا عنبر صاحبہ آج سے تین ہزار سال پیشتر یونانی فلسفیوں نے ہمیں زندگی کی چند راز بتائے اور سکھائے۔ تھیلز آف میلیٹس نے ہمیں بتایا کہ ساری کائنات چند قوانین فطرت سے چل رہی ہے اور بقراط نے اپنے مریضوں کو سکھایا کہ انسانی صحت کا تعلق کسی گناہ ’کسی دعا یا کسی قربانی سے نہیں بلکہ حفظان صحت کے اصولوں سے ہے بقراط نے اپنے مریضوں کو تعلیم دی کہ اگر وہ صحتمند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو انہیں
متوازن خوراک کھانی چاہیے
گہری نیند سونا چاہیے
زیادہ پانی پینا چاہیے اور
روز ورزش کرنی چاہیے
اگر وہ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کریں گے تو صحتمند رہیں گے عمل نہیں کریں گے تو بیمار ہو جائیں گے۔
مذہبی لوگ دعائیں مانگتے رہتے ہیں اور کسی مافوق الفطرت معجزے کا انتظار کرتے رہتے ہیں تا کہ ان کے مسئلے حل ہو جائیں۔ ایسی سوچ کو ہم نفسیات کی زبان MAGICAL THINKING کہتے ہیں۔
غیر مذہبی لوگ سائنس ’طب اور نفسیات کے اصولوں پر عمل کر کے اپنے مسائل خود حل کرتے ہیں۔ وہ قوانین فطرت کو مانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ قوانین فطرت خدا کو ماننے اور نہ ماننے والوں کے لیے یکساں ہیں۔
سب سے پہلے قوانین فطرت سے میرا تعارف میرے ہائی سکول کے سائنس کے استاد نے کروایا۔
ایک دفعہ پشاور میں سخت گرمی پڑ رہی تھی۔ کئی ہفتوں سے بارش نہیں ہو رہی تھی۔ لوگ گرمی سے بے حال تھے۔ ایک سہ پہر میں نے عید گاہ میں سینکڑوں لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھا۔ بابا جی سے پوچھا تو کہنے لگے یہ لوگ نماز استسقا پڑھ رہے ہیں تا کہ بارش ہو۔ میں نے اگلے دن جب اپنے سائنس کے استاد سے پوچھا۔ کیا نماز پڑھنے اور دعا مانگنے سے بارش ہو سکتی ہے؟ تو وہ فرمانے لگے کہ بارشوں ’آندھیوں‘ طوفانوں اور موسموں کا تعلق قوانین فطرت سے ہے نمازوں اور دعاؤں سے نہیں۔
جب میری بہن عنبر نے پوچھا کہ یہ کائنات کیسے چل رہی ہے تو میں نے کہا قوانین فطرت سے چل رہی ہے۔
چونکہ بقراط نے ہمارا حفظان صحت کے اصولوں سے تعارف کروایا اسی لیے اب ہم انہیں HIPPOCRATES…FATHER OF MEDICINE کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بقراط نے سائنس اور طب کی جو بنیاد رکھی اس پر پچھلے دو ہزار سالوں میں ساری دنیا کے سائنسدانوں اور طبیبوں نے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں اور مختلف بیماریوں سے شفایابی کے لیے ادویہ دریافت کیں۔ اس کی دو مثالیں حاضر ہیں
انیس سو اکیس میں کینیڈا کے ایک سائنسدان فریڈرک بینٹنگ نے انسولین دریافت کی اور
انیس سو اٹھائیس میں سکاٹ لینڈ کے ڈاکٹر الیگزینڈر فلیمنگ نے پنسیلین دریافت کی۔
یہ ادویہ صرف عیسائیوں یا یہودیوں کے لیے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ چاہے وہ مشرق ہو یا مغرب ’شمال ہو یا جنوب کسی بھی ڈاکٹر یا نرس کے لیے سب مریض برابر ہوتے ہیں چاہے وہ خدا کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں۔
جب ہسپتال میں ڈاکٹر ولسن وردہ کا آپریشن کر رہے تھے تو نہ وردہ کے لیے اہم تھا کہ ڈاکٹر ولسن خدا کو مانتے ہیں یا نہیں اور نہ ڈاکٹر ولسن کے لیے یہ جاننا ضروری تھا کہ وردہ خدا کو مانتی ہے یا نہیں۔
میں نے بھی یہ جانے بغیر کہ ڈاکٹر ولسن خدا پرست ہیں یا منکر خدا ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے میری بھانجی کی جان بچائی۔
خدا کو نہ ماننے والے خدا کو ماننے والوں سے پوچھتے ہیں کہ خدا جب معصوم بچوں کو تکلیف میں کراہتا دیکھتا ہے تو انہیں خود ہی شفا کیوں نہیں دے دیتا وہ بچوں کے ماں باپ کی دعاؤں کا انتظار کیوں کرتا ہے؟
ساری دنیا میں نجانے کتنے خدا کو ماننے والے ایسے ہیں جو دعاؤں پر اور خدا کو نہ ماننے والے ایسے ہیں جو دواؤں پر انحصار کرتے ہیں۔
آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں جب کسی مسئلے یا بیماری کا سامنا کرتے ہیں تو کیا آپ دعاؤں پر انحصار کرتے ہیں یا دواؤں پر؟

