اردوصحافت میں انگریزی الفاظ کے استعمال کی حدود


جدید مواصلاتی ذرائع کی بدولت دنیا میں ابلاغی فاصلے ختم ہوتے جا رہے ہیں، انگریزی زبان دنیا کی بڑی زبانوں میں سے ہے اور بالادست دنیا کی زبان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک ایک دوسرے سے رسمی بات چیت کے لیے انگریزی زبان کو ذریعہ بناتے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری زبان اردو ہونے کے باوجود سرکاری دستاویزات انگریزی زبان میں مدون کی جاتی ہیں، نصاب تعلیم انگریزی میں ہے۔ ان اسباب کی وجہ سے عملی شعبوں میں بھی انگریزی زبان کا دخل بہت زیادہ ہے۔

پاکستان کی اردو صحافت بھی اس رجحان کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ اخباری صحافت اس اثر سے کافی حد محفوظ ہے لیکن الیکٹرانک میڈیا میں انگریزی الفاظ کا استعمال بہت زیادہ ہے۔ اردو صحافت میں انگریزی یا دیگر زبانوں کے استعمال کا جواز موجود ہے مگر شعبہ صحافت کے ماہرین بخوبی جانتے ہیں کہ دیگر زبانوں کے استعمال کے حدود کیا ہیں؟ جدید رجحانات کی بدولت نوجوان اور نووارد صحافی اردو صحافت میں انگریزی زبان کے استعمال کی حدود کو ملحوظ نہیں رکھتے۔

اردو صحافت میں انگریزی کے استعمال کے رجحان کو کم کرنے کے لیے خصوصی اہتمام کی ضرورت ہے۔ حتی الوسع کوشش کرنی چاہیے کہ اردو لکھتے اور بولتے وقت انگریزی زبان کا استعمال نہ کیا جائے لیکن کچھ صورتوں میں دیگر زبانوں کے الفاظ استعمال کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ذیل میں چند اصول پیش کیے جا رہے ہیں جو ایک صحافی کے پیش نظر ہونے چاہئیں۔

1۔ وہ انگریزی الفاظ جو بطور ’اصطلاح‘ (as term) استعمال ہوتے ہیں ان الفاظ و اصطلاحات کو اردو صحافت میں استعمال کرنا چاہیے، ہر شعبہ کی مختلف اصطلاحات ہوتی ہیں۔ چونکہ وہ اصطلاحات (Terminology) عوام و خواص میں معروف ہوتی ہیں، ان کے استعمال سے مزید وضاحت کی ضرورت نہیں پڑتی اس لیے انہیں جوں کا توں استعمال کرنا زیادہ بلیغ ہوتا ہے۔ شعبہ صحت، قانون اور اسی طرح دوسرے شعبوں کی اپنی اپنی اصطلاحات ہیں۔ مثلاً خبر میں پوسٹ مارٹم کا لفظ استعمال کرنا۔ یا ایم ایل سی یعنی میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ۔

2۔ اشیا، جگہوں اور جانداروں کے نام جس زبان سے متعلق ہوں اسی زبان و لہجہ میں بولے اور لکھے جائیں۔

3۔ وہ الفاظ جو آفاقی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں ان کی آفاقیت کی وجہ سے کا ان استعمال بھی اردو صحافت میں جائز ہے جیسے کرونا وائرس، قارنطین وغیرہ۔

4۔ اداروں اور محکموں کے ناموں کو بھی ان کی اصل پہچان کی نسبت سے بولا جائے۔ جیسے پی سی بی یعنی پاکستان کرکٹ بورڈ۔ البتہ ایسی صورت میں گنجائش ہے کہ جب لکھا جائے تو مخفف لکھا جائے مگر جب بولا جائے تو مخفف کی بجائے اصل الفاظ بولے جائیں۔ اگر مخفف معروف ہے تو مخفف لکھا اور بولا جائے وگرنہ مکمل الفاظ بولے جائیں۔

5۔ کسی خبر پر تبصرہ کرتے وقت، اس خبر کو نشر کرتے وقت یا اس خبر کا بطور حوالہ ذکر کرتے وقت اس خبر میں استعمال ہونے والے لفظ کو متبادل میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر خبر ہے کہ ’آئی سی سی نے ایشیا کپ کا شیڈول جاری کر دیا‘ ۔ صحافی کو چاہیے کہ وہ ’شیڈول‘ کی جگہ ’سکیجول‘ یا کوئی اور متبادل نہ بولے، شیڈول ہی لکھے اور بولے۔

6۔ ایک مشترک غلطی یہ کی جاتی ہے کہ انگریزی الفاظ کی جمع درست لکھی اور بولی نہیں جاتی جیسے ٹیم کی جمع ٹیمیں (غلط) ٹیمیز (درست)، میچ کی جمع میچوں (غلط) میچز (درست) ، 10 اووروں (غلط) میں پچاس سکور۔ اوورز (درست) ۔

7۔ وی لاگ کے شروع اور آخر میں یا مہمان سے مخاطب ہوتے وقت انگریزی کے جملے بولنا عام معمول ہے، اس غلطی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ جیسے ویلکم ویورز (السلام علیکم ناظرین، Stay with us (ہمارے ساتھ رہیے گا) ، مہمان کے لیے کہنا We have with us Babar Azam (ہمارے ساتھ نامور بلے باز/بیٹسمین بابر اعظم موجود ہیں۔)

8۔ سوال کرتے، بات کرتے یا تبصرہ کرتے وقت جملوں میں ضرورت کے بغیر انگریزی الفاظ بولنے سے احتراز کرنا چاہیے، چند سطریں ملاحظہ کریں۔

ناظرین آج آئی سی سی نے او ڈی آئی ورلڈ کپ 2023 کا پرومو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جب جاری کیا تو سوشل میڈیا پے ایک نئی جنگ چھڑ گئی جس میں پاکستانی کرکٹ فینز (شائقین) بہت زیادہ مایوس نظر آئے۔ ایکچولی (دراصل) ہوا یہ کہ پاکستانی پلیئرز (کھلاڑیوں ) کے شارٹس اس پرومو میں نہیں لگائے گے۔

Facebook Comments HS