چسکہ پارٹی اور سوشل میڈیا


چسکہ پارٹی کہتی ہے کہ 5500 بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوگئی ہے اور ان بچیوں کو میڈیا منظر عام پر لائے، صحافی ایسے ایسے سوالات کریں جس سے دیکھنے سننے والوں کو جنسی لذت ملے۔ اگر کوئی بھی بچی یا کیس منظر عام پر نہیں ہے تو خود سے کسی راہ چلتی سٹوڈنٹ کی ویڈیو بنا بنا کر سوشل میڈیا پر لگائی جائے اور تبصرے کئے جائیں کہ یہ پڑھنے جاتی ہیں لیکن یونیورسٹی میں یہ عیاشی کرتی ہے۔ یہی ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ ہے !

اب دوسری طرف آتے ہیں کہ کسی بھی سرکاری و نجی دفتر، کسی بھی کالج یونیورسٹی، کسی بھی ہسپتال میں ہر جگہ بااثر افسران جنسی استحصال و جنسی ہراسانی کرتے ہیں، اس پر بات کرنا بھی گناہ اور بیہودگی سمجھا جاتا تھا لیکن سول سوسائٹی کی بھرپور جدوجہد اور احتجاجی مظاہروں کے بعد 2010 میں ورکنگ سپیس پر جنسی ہراسگی کے خلاف قانون بنایا گیا اور کسی بھی سرکاری و نجی آفس میں اس قانون کے کوڈ آف کنڈکٹ کو نمایاں جگہ پر لگانا لازم قرار دیا گیا، ہر دفتر میں جنسی ہراسگی کی شکایت سننے کیلئے کمیٹی بنانا لازم قرار دیا گیا اور بہت سے اداروں میں یہ کوڈ آف کنڈکٹ لگے ہوئے بھی ہیں اور کمیٹیاں بھی بنی ہوئی ہیں جہاں مرد، عورت یا خواجہ سرا (ملازم، سٹوڈنٹ) اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں لیکن ابھی بھی اکثریتی اداروں میں نہ کمیٹیاں بنی ہیں اور نہ کوڈ آف کنڈکٹ لگے ہوئے ہیں۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں جو واقعہ رپورٹ ہوا ہے اس میں ایک ہی جیسے واقعے کی دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور مدعا یہ شامل کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی مینجر و ٹرانسپورٹ مینجر سے آئس برآمد ہوئی ہے۔ نجانے کس یوٹیوبر یا کسی سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نے پوسٹ لگا دی کہ 5500 لڑکیوں کی ویڈیوز برآمد ہوگئی ہیں اب ہر بندہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر وٹس ایپ گروپس اور فیس بک پر دیکھ رہا ہے کہ کب کوئی ویڈیو سامنے آئے اور ہم اسے دیکھ کر اپنی لذت پوری کرکے محلے کی یونیورسٹی جانے والی لڑکی پر آوازے کسیں کہ ہمیں پتہ ہے تم کیا پڑھنے جاتی ہو۔
اب کئی معزز گھرانے اپنی بچیوں کو یونیورسٹی نہیں بھیجیں گے، جس کے پاس اسلامیہ یونیورسٹی کی ڈگری ہوگی وہ جہاں انٹرویو دینے جائے گی اسے عجیب نظروں سے دیکھا جائے اور بے باک سوال بھی داغے جائیں گے۔
سوشل میڈیا صرف صحافیوں کا سوشل میڈیا نہیں بلکہ یہاں موجود ہر شخص ہی اب ڈیجیٹل صحافی ہے لیکن اپنی عقل استعمال کرنے کی بجائے دوسروں سے سوال پوچھتے ہیں اور پھر سوشل میڈیا پر دانشور بن کر رائے دیتے ہیں لیکن یہی دانشوری وہ آپ کو جھاڑتے نظر نہیں آئیں گے کہ وہ کسی بھی ایشو پر اپنے جذبات کا لکھ کر یا بول کر اظہار کریں ۔ وہ بس سوال کر دیتے ہیں کہ 5500 ویڈیوز کس جگہ سے ملیں گی، پھر ویڈیو دیکھ کر وہ سوشل میڈیا پر ہی فیصلہ سناتے ہیں کہ یہ بڑا اچھا ہوا، یہ بڑا برا ہوا لیکن وہ کسی بھی ایشو پر چار لائنیں لکھ کر اپنا تجزیہ نہیں دیں گے۔
سوشل میڈیا پر کروڑوں لوگ موجود ہیں اور منفی پروپیگنڈا پھیلانے والے دو تہائی سے زیادہ ہیں۔ انہیں صرف غرض ہوتی ہے کہ ان کے مطلب کی بات ہو، ان کے مطلب کا سین ہو اور ان کے مطابق ہی سب کچھ چلے۔
سوشل میڈیا بے شک آگاہی کا تیز ترین ذریعہ ہے لیکن ساتھ ہی یہ نہ صرف کئی زندگیوں کو کھا رہا ہے بلکہ کاپی پیسٹ جیسے آسان فارمولے نے لوگوں سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی ہے اور لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں۔جو کچھ لکھا نظر آتا ہے اپنی پسند کے مطابق اسی کے پیچھے بھاگ پڑتے ہیں۔

Facebook Comments HS