کیا بھگت سنگھ ہمارا ہیرو نہیں ہو سکتا؟


28 ستمبر 1907 کو غیر منقسم ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے لائل پور ضلع (اب پاکستان کے فیصل آباد) کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونے والے بھگت سنگھ کا نام تاریخ کی کتابوں میں ہمیشہ کے لئے درج ہے۔ اس اعزاز کی وجہ ہندوستانی آزادی کی جدوجہد میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔

انہیں 23 مارچ 1931 کو پھانسی دے دی گئی تھی، جب وہ صرف 23 سال کے تھے۔

انقلابی عزم اس خاندان میں ایک روایت تھی۔ بھگت سنگھ کے دادا ارجن سنگھ کے تین بیٹے تھے۔ ان کے والد کشن سنگھ اور ان کے چچا اجیت سنگھ کئی بار جیل جا چکے تھے۔ اجیت سنگھ نے ہی لالہ لاجپت رائے کو ہندوستانی سیاست میں متعارف کرایا اور سامراج مخالف کئی تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم چچا سورن سنگھ کا ایک خاص مقام تھا۔ دادی جئے کور اکثر بھگت کو بتاتی تھیں کہ جس دن سورن سنگھ کو جیل میں تشدد کے ذریعے موت کا نشانہ بنایا گیا، وہ دن تھا جب بھگت سنگھ پیدا ہوا۔

انقلاب ہر سو فضا میں تھا۔ دنیا میں پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تو ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف قوم پرستی کی تحریک شروع ہو گئی۔ انقلابیوں نے مال بردار ریل گاڑیوں پہ حملے شروع کر دیے تھے۔ انگریز ہندوستان میں سیاسی بیداری کی ہر کاوش کو ختم کرنے کے لئے ایک مثال قائم کرنا چاہتے تھے۔ انقلابی کارکن رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان، ٹھاکر روشن سنگھ اور ریندر ناتھ لہری کو عدالت میں پیش کیا گیا، جس نے ان سب کو موت کی سزا سنائی۔

کالج کے زمانے کے دوران بھگت نے بائیں بازو کی تقریباً ہر کتاب پڑھ لی تھی، چاہے وہ نیشنل کالج کی لائبریری سے ہو یا دوارکا داس لائبریری کی۔ لاہور منتقل ہونے کے بعد بھگت سنگھ کو رام لیلا فیسٹیول کے دوران بم دھماکے میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔ کئی دن قید تنہائی میں رہنے کے بعد انہیں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے آگاہ کیا گیا اور 60 ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ان کے والد کشن سنگھ نے زمین کا ایک قیمتی ٹکڑا بیچ دیا اور بیٹے کو ضمانت پہ گھر لے آئے۔ بھگت کی دادی جئے کور نے جلدی سے ان کی منگنی کی اور شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ بھگت کی شادی دیر پا نہیں ہو گی۔ پولیس کے ہاتھوں ہونے والی بے عزتی نے ان کے سامراج مخالف جذبات کو بہت ہوا دی تھی۔ انہوں نے اپنی شادی کے بارے میں کہا۔ ”اگر میں نے غلام ہندوستان میں شادی کی تو میری دلہن صرف میری موت ہوگی۔“

بھگت سنگھ گھر چھوڑ کر کانپور چلے گئے اور ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن میں شامل ہو گئے۔ بھگت سنگھ نے سکھدیو کے ساتھ مل کر لالہ لاجپت رائے کی موت کا بدلہ لینے کی منصوبہ بندی کی اور لاہور میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جیمز سکاٹ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، غلط شناخت کے باعث اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جان سانڈرز کو گولی مار دی۔

پیدائشی طور پر سکھ ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی داڑھی منڈوا لی اور اپنے بال کاٹ لیے تاکہ قتل کے الزام میں پہچانے جانے اور گرفتار ہونے سے بچا جا سکے۔ وہ لاہور سے کلکتہ (تحریک آزادی میں شامل ایک خاتون رہنما درگا بھابھی کی بدولت) فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

8 اپریل 1929 کو بھگت سنگھ نے مجاہد آزادی بٹو کیشور دت کے ساتھ مل کر نئی دہلی میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے اندر دو بم پھینکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پرتشدد قدم کے پیچھے ان کا اصل مقصد گرفتار ہونا اور بعد میں عدالت میں پیشیوں کو ہندوستان کی آزادی کے لئے اپنی تنظیم ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کرنا تھا۔

بھگت سنگھ نے بموں کے ساتھ اسمبلی میں ایک پمفلٹ کی کاپیاں بھی پھینکیں جس میں ایک فرانسیسی انارکسٹ کے حوالے سے لکھا گیا تھا کہ ’بہرے لوگوں تک پیغام پہنچانے کے لیے زور دار دھماکے کی ضرورت ہوتی ہے‘ ۔ اس پمفلٹ کی عبارت کو ’انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے کے ساتھ ختم کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی گرفتاری کی مزاحمت نہیں کی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران انہوں نے کوئی دفاع پیش نہیں کیا بلکہ اس موقع کو ہندوستان کی آزادی کے تصور کو پھیلانے کے لئے استعمال کیا۔

بھگت سنگھ کے بارے یہ سب قدرے مشہور حقائق ہیں۔ جو چیز اتنی مشہور نہیں ہے وہ یہ کہ بھگت سنگھ نے جیل میں چار کتابیں لکھیں، اور یہ کہ بھگت سنگھ کو شاعری سے جنون تھا!

اگرچہ وہ کتابیں جیل سے اسمگل کی گئیں تھیں لیکن وہ ہمیشہ کے لئے غائب ہو گئیں۔ البتہ 404 صفحات پر مشتمل اس نوجوان کی ایک جیل ڈائری بچ گئی۔ اس میں مختلف موضوعات پر اقتباسات، نوٹ اور تاثرات لکھے ہوئے تھے۔ یہ تحریریں نہ صرف ان کے سنجیدہ مطالعے اور دانشورانہ بصیرت کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ ان کے سماجی اور سیاسی خدشات کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔ یہ ڈائری ستمبر 1929 اور مارچ 1931 کے درمیان لکھی گئی تھی، اور بھگت سنگھ کی موت کے بعد ان کے اہل خانہ کو منتقل کر دی گئی۔

جیل کے دنوں میں ان کے لکھے گئے خیالات اور نظموں کی کچھ جھلکیاں یہ ہیں :
”میں ایک انسان ہوں اور جو کچھ انسانیت کو متاثر کرتا ہے وہ مجھے بھی متاثر کرتا ہے۔“
”راکھ کا ہر چھوٹا سالمیہ میری گرمی کے ساتھ حرکت میں ہے۔ میں اتنا پاگل ہوں کہ جیل میں بھی آزاد ہوں۔“
”عاشق، دیوانے اور شاعر ایک ہی مواد سے بنے ہوتے ہیں۔“
”۔ لوگوں کو کچل کر وہ خیالات کو نہیں مار سکتے۔ “
”قانون کا تقدس صرف اس وقت تک برقرار رکھا جا سکتا ہے جب تک یہ عوام کی خواہشات کا اظہار کرتا ہو۔“

”اگر بہرے کو کچھ سنانا ہے تو آواز بہت اونچی ہونی چاہیے۔ جب ہم نے بم گرایا تو ہمارا ارادہ کسی کو قتل کرنے کا نہیں تھا۔ ہم نے دراصل برطانوی راج پر بم پھینکے تھے۔ انگریزوں کو ہندوستان چھوڑ دینا چاہیے اور اسے آزاد کرنا چاہیے۔“

”سماجی ترقی کا دار و مدار چند لوگوں کی خوشنودی پر نہیں بلکہ جمہوریت کی افزائش پر ہے۔ عالمگیر بھائی چارہ صرف اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب سماجی، سیاسی اور انفرادی زندگی میں مواقع کی برابری ہو۔“

”مجھے آزادی دو یا موت۔ کیا زندگی اتنی پیاری ہے یا امن اتنا دلکش ہے کہ اسے زنجیروں اور غلامی کی قیمت پر خریدا جا سکتا ہے؟“

”زندگی اپنے کندھوں پہ گزاری جاتی ہے۔ دوسروں کے کندھوں کا استعمال صرف آخری رسومات کے وقت کیا جاتا ہے۔ “

انگریزوں سے آزادی کے علاوہ بھگت سنگھ کا مقصد اپنے مادر وطن کی تعمیر کرنا تھا جہاں غربت، سماجی و اقتصادی عدم مساوات اور استحصال موجود نہ رہیں۔

کوئی سترہ سال پہلے شائع ہونے والی کتاب ’دی جیل نوٹ بک اینڈ ادر رائٹنگز‘ میں بھگت سنگھ کے جیل میں رہنے کے دوران لکھی گئی ڈائری کی تحریر کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ایک انقلابی کے طور پر ان کی مقبول انقلابی تصویر کے بالکل برعکس، ان تحریروں سے اس محب وطن کے علمی جھکاؤ اور شاعری سے محبت کا بھی پتہ چلتا ہے۔

لاہور کا شادمان چوک، وہ مقام جہاں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھدیو کو 1931 میں پھانسی دی گئی تھی۔

پاکستان کے ایک گاؤں گنڈا سنگھ والا کے قریب جگہ، جہاں ان تینوں کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں، کو ایک یادگار میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور ہر سال وہاں ایک شہیدی میلہ منعقد کیا جاتا ہے۔ سرحد کے اس پار، مجسموں، سڑکوں، گاؤں اور ٹرسٹوں کے ذریعے ان کی داستان کو زندہ رکھا جاتا ہے۔ جبکہ اس طرف جس جگہ بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی تھی، وہ اب بھی بھگت سنگھ چوک کے بجائے شادمان چوک ہی ہے۔

شہید بھگت سنگھ میموریل فاؤنڈیشن پاکستان نے مطالبہ کیا تھا کہ لاہور کے شادمان چوک کو بھگت سنگھ کے نام سے منسوب کیا جائے اور اسی مقام پر اس کا مجسمہ بھی نصب کیا جائے۔ فاؤنڈیشن کے چیئرمین امتیاز رشید قریشی کا کہنا ہے کہ بھگت سنگھ اتنے ہی پاکستان کے ہیں جتنے وہ ہندوستان کے ہیں۔ وہ موجودہ پاکستان کی سر زمین میں پیدا ہوئے تھے، لہذا وہ ہندوستان کے ہیرو اور پاکستان کے بیٹے ہیں۔

لیکن پاکستان میں ایسا کیسے ہو سکتا ہے! یہاں تو ہم نے تقسیم ہند کے بعد کے اپنے ہیروز کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، جیسے سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کیونکہ ان کا تعلق جماعت احمدیہ سے تھا اور غلامی کے خلاف مہم جو بچہ شہید اقبال مسیح کیونکہ وہ ایک عیسائی تھا۔

Facebook Comments HS