آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے


فرقہ نزاریہ کے بانی حسن بن صباح نے 1090 ء میں قلعہ الموت پر قبضے کے بعد ایک مصنوعی جنت تیار کروائی۔ اس نے ایک جماعت بھی منظم کی جس کے ارکان فدائین کہلاتے تھے۔ فتنہ پرور حسن بن صباح کا طریقۂ واردات یہ تھا کہ وہ ناپختہ اذہان کے مالک نوجوانوں کی ذہن سازی یوں کرتا کہ وہ فدائین کی صف میں شامل ہو جاتے۔ پھر وہ انہیں حصول مقصد کے لیے استعمال کرتا۔ اس کے کارندے بھولے بھالے تنومند نوجوانوں کو حشیش پلا کر عالم مدہوشی میں اس کی بنائی گئی جنت میں چھوڑ آتے۔

جب وہ ہوش میں آتا تو اپنے آپ کو حوروں کی آغوش میں پاتا۔ حوروں کے حسن سے مدہوش وہ نوجوان ان کے پہلو میں بیٹھ کر ارغوانی شراب کے جام لنڈھاتا، اعلیٰ سے اعلیٰ غذاؤں اور انواع و اقسام کے پھلوں سے لطف اندوز ہوتا۔ وہ یہی سمجھتا کہ بعد از مرگ اسے جنت نصیب ہو گئی ہے۔ پھر اسے دوبارہ حشیش پلا دی جاتی اور ہوش آنے کے بعد وہ اپنے آپ کو بے آب و گیاہ ویرانے میں پاتا۔ اپنی یہ حالت دیکھ کر وہ پاگلوں کی طرح چیختا چلاتا ادھر ادھر دوڑتا رہتا۔ تب کارندے اسے حسن بن صباح کے پاس لے آتے جو اسے تلقین کرتا کہ اگر وہ اسی بہشت میں دوبارہ جانا چاہتا ہے تو فلاں شخص کو قتل کر کے اپنی جان بھی قربان کر دے تو وہ سیدھا اسی جنت میں چلا جائے گا جہاں سے نکالا گیا ہے ٍ۔ وہ فدائی حصول جنت کے شوق میں ابن صباح کی ہدایات پر من و عن عمل کرتا۔

ابن صباح کا یہ مختصر قصہ سنانے کا میرا مقصد یہ ہے کہ ناپختہ ذہنوں کی ذہن سازی کا کام صدیوں سے ہو رہا ہے۔ دور حاضر میں بھی تحریک طالبان پاکستان یہی حربہ استعمال کر رہی ہے۔ طالبان نوجوانوں کو جنت کا لالچ دے کر خودکش بمبار بناتے اور تباہیوں و بربادیوں کی داستانیں رقم کرتے ہیں۔ عمران خاں نے خودکش بمبار تو نہیں بنائے البتہ نوجوانوں کی ذہن سازی کرتے ہوئے ان کے اذہان و قلوب میں نفرتوں کا زہر ضرور بھرا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جلسوں میں ڈی جے اور گلوکاروں کا عنصر عمران خاں ہی لے کر آیا۔

پاکستانی نوجوان تو میوزیکل کنسرٹ کے پہلے ہی بہت شیدائی ہیں پھر ”مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے“ کے مصداق وہ جلسوں کی رونق بڑھاتے رہے۔ ایک طرف موسیقی کی دھن پر بلا امتیاز مرد وزن تھرکتے جسم اور دوسری طرف ایاک نعبدو ایاک نستعین کی صدائیں۔ ایک طرف والہانہ رقص اور دوسری طرف عین اسی وقت ریاست مدینہ کا اعلان۔ بہت سے پاکستانیوں نے سنا ہو گا کہ ایک جلسے میں تقریر کے دوران سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے عمران خاں کے کان میں کہا تھا ”خاں صاحب اسلامی ٹچ دیں“ ۔

یہ تھا وہ طریقۂ واردات جس نے آج بھی بہت سے نوجوانوں کو عمران خاں کا دیوانہ بنا رکھا ہے۔ وہ عمران خاں کے بارے میں ایک لفظ بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ اسی ذہن سازی کے زیر اثر 9 مئی کا سانحہ ہوا اور پورے ملک کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ عمران خاں نے پہلے تو یہ کہا کہ جو کچھ 9 مئی کو ہوا وہ ان کے علم میں ہی نہیں۔ پھر کہا یہ عوامی ردعمل تھا۔ اب کہتے ہیں ”جب مجھے کمانڈو ایکشن سے اٹھایا جا رہا تھا تو لوگوں نے احتجاج کرنے اور کدھر جانا تھا؟“ ۔

حیرت ہے کہ اس اعتراف کے باوجود بھی منصوبہ ساز عمران خاں دندناتا پھر رہا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ کہ اسٹیبلشمنٹ کے بعد عدلیہ نے اسے گود لے لیاہے اور اتحادی حکومت کو معلوم ہے کہ اس کی گرفتاری کی صورت میں اسے ”گڈ ٹو سی یو“ کہنے والی اعلیٰ ترین عدلیہ تاحال موجود۔ ہم خیال ججز کے قصے بہت ہوچکے اور بیشمار تنقیدی کالم بھی لکھے جا چکے لیکن ماں کے جیسی عدلیہ کی الفت و محبت میں سرمو فرق نہیں آیا۔ ظاہر ہے جہاں محبتوں کے سوتے پھوٹ رہے ہوں وہاں آئین وقانون کس کھیت کی مولی۔

سیانے کہہ گئے ”کاٹھ کی ہنڈیا بار بار نہیں چڑھتی“ ۔ یہ بھی عین حقیقت کہ جھوٹ کی آڑھت سجانے والوں کو بالآخر سچ کی شمشیر برہنہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 27 مارچ 2022 ء کو ایچ نائن پارک اسلام آباد میں خطاب کے دوران عمران خاں نے ایک کاغذ لہراتے ہوئے کہا کہ یہ اسے اقتدار سے

بے دخل کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی سازش کا ثبوت ہے۔ یہ دراصل امریکہ میں پاکستان کے سفیر کا سائفر تھا۔ ایسے سائفر تمام حکومتوں کے سفیر اپنے اپنے ممالک کو بھیجتے رہتے ہیں جو کوئی اچنبھے والی بات نہیں تھی لیکن عمران خاں نے اپنی ذات کی خاطر اسے استعمال کرنے کا پلان ترتیب دیا۔ عمران خاں کے قریب ترین ساتھی اور پرنسپل سیکرٹری اعظم خاں نے مجسٹریٹ کے سامنے 164 کے تحت اعترافی بیان ریکارڈ کرایا جس میں اس نے کہا ”سائفر سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پری پلان ڈرامہ تھا“ ۔

اعظم خاں نے سائفر کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔ اس نے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا ”چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سائفر کو غلط رنگ دے کر عوام کا بیانیہ بدل دوں گا۔ عمران خاں نے تمام تر حقائق کو چھپا کر سائفر کا جھوٹا اور بے بنیاد بیانیہ بنایا اور تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لیے سائفر کو بیرونی سازش کا رنگ دے دیا“ ۔ یہ امر تو پہلے ہی مصدقہ تھا کہ سائفر میں رد و بدل کر کے جھوٹا بیانیہ تشکیل دیا گیا کیونکہ اسی معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کی 2 میٹنگز ہوئیں جن میں کسی بھی سازش کو مکمل طور پر رد کر دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھی سائفر میں کسی قسم کا سازشی عنصر موجود نہیں۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ نے بھی اسے رد کر دیا لیکن عمران خاں امپورٹڈ حکومت، کیا ہم غلام ہیں اور غلامی نامنظور جیسے بیانیے گھڑ کر اپنے پیروکاروں کے اذہان و قلوب میں نفرتوں کا زہر گھولتا رہا۔ کچھ عرصے بعد حسب عادت اس نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ دراصل جنرل قمرجاوید باجوہ کا منصوبہ تھا، اس میں امریکہ شامل نہیں اسے مس لیڈ کیا گیا تھا۔ اب 20 جنوری کو اپنے وی لاگ میں پھر کہہ دیا کہ یہ امریکی منصوبہ تھا جس کی تکمیل کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ کو تیار کیا گیا۔

اعظم خاں کے مطابق عمران خاں نے 9 مارچ کو اس سے سائفر لے لیا اور واپس مانگنے پر کہہ دیا کہ وہ تو گم ہو گیا۔ عمران خاں شاید نہیں جانتے کہ یہ سب کچھ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت آتا ہے جس پر آرٹیکل 6 لاگو ہو سکتا ہے۔ اب ایف آئی اے نے انہیں 25 جولائی کو طلب کر رکھا ہے۔ ہمیں یقین کہ وہ عبوری ضمانت کے لیے ہائی کورٹس سے رجوع کریں گے اور اگر انہیں ضمانت قبل از گرفتاری مل گئی تو پھر وہ شاید ایف آئی اے میں پیش ہوجائیں بصورت دیگر وہ حیلے بہانے تراشیں گے کیونکہ اپنے خلاف درج مقدمات سے فرار کے لیے انہوں نے ہمیشہ یہی وتیرہ اختیار کیا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ عمران خاں کو صرف سائفر ہی نہیں توشہ خانہ، 190 ملین پاؤنڈ کیس اور دوران عدت نکاح جیسے ”اوپن اینڈ شٹ“ کیسز کا بھی سامنا ہے۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں تو اعظم خاں کی نیب میں عمران خاں اور شہزاد اکبر کے خلاف گواہی بھی آ چکی۔ کہا جا سکتا ہے کہ اگست عمران خان پر بہت بھاری گزرے گا۔

Facebook Comments HS