جنرل مشرف : پلے بوائے ڈکٹیٹر
یہ 1990 کا ذکر ہے جب میجر جنرل کے عہدے پر ترقی کے لیے ایک درجن سے زائد آرمی کے برگیڈیئرز کی سمری جی ایچ کیو سے وزارت دفاع کے ذریعے اس وقت کی وزیراعظم (محترمہ بے نظیر بھٹو مرحوم) کو منظوری کے لیے بھجوائی گئی۔ وزیر اعظم نے برگیڈیئر پرویز مشرف کے سوا تمام برگیڈیئرز کی میجر جنرل کے عہدے پر ترقی کی منظوری دے دی۔ کچھ دنوں بعد وزیراعظم نے جی ایچ کیو کا رسمی دورہ کیا۔ بریفنگ کے بعد غیر رسمی ملاقات کے دوران اس وقت کے آرمی چیف (جنرل مرزا اسلم بیگ) نے وزیراعظم سے اس سمری کی بات چھیڑی اور موقف اختیار کیا کہ تاریخی و روایتی طور پر عموماً وزیراعظم جی ایچ کیو سے منظور شدہ سمری پر صرف دستخط کرتا ہے۔
اس پر وزیراعظم نے پہلے تو انکار کر دیا مگر پھر آرمی چیف کے اصرار پر برگیڈیر پرویز مشرف کی بطور میجر جنرل پرموشن کی منظوری دے دی۔ کچھ عرصے بعد کسی اور ملاقات میں جب بے نظیر بھٹو ”اچھے موڈ“ میں تھیں تو باتوں باتوں میں سمری کی بات آ گئی۔ بے نظیر بھٹو نے پہلی دفعہ منظوری نہ دینے کی یہ وجہ بتائی : He looks too ambitious (وہ بہت جاہ طلب محسوس ہوتا ہے ) ۔
پرویز مشرف کا کارگل آپریشن جاہ طلبی کی ناقابل تردید مثال تھا۔ اس معرکہ آرائی سے پاکستان کو نہ صرف عالمی سطح پر پشیمانی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس کے بعد کے حالات و واقعات سے ملک میں جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا۔ پاکستان ایک دفعہ پھر کئی دہائیاں پیچھے پھینک دیا گیا۔ کیونکہ جب جنرل مشرف کو کارگل کی حماقت کی پاداش میں رخصت ہونے کا پیغام ملا تو انھوں نے آئین پاکستان کو معطل کر کے خود کو فوجی طاقت سے ملک کا چیف ایگزیکٹو بنا لیا۔ بعد میں جو ہوا وہ اس ملک کی بد قسمت تاریخ کا حصہ ہے۔ بلا شبہ مشرف کی فوجی مداخلت بلا جواز اور اقتدار پسندی اور جاہ طلبی کا شاخسانہ تھی۔
1990 ء میں اگر بے نظیر بھٹو کو پرویز مشرف کو ترقی نہ دینے کی بات مان لی جاتی تو یقیناً پاکستان کی تاریخ آج مختلف ہوتی۔ میری رائے میں جنرل مشرف کی شخصیت کے دو پہلو تھے۔ ظاہراً وہ ایک وجیہہ، روشن خیال اور رومان پسند انسان تھے۔ مگر ان کے باطن میں ایک جاہ طلب، ہٹ دھرم اور آمر شخص براجمان تھا۔
بطور فوجی آمر انھوں نے ایک وقت میں ملک کے اعلیٰ ترین عہدے اپنے قبضے میں لے لیے، صدر پاکستان، چیف اگزیکیٹو، چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی۔ ان عہدوں پر بیٹھ کر ان کی قومی حماقتیں ملک پاکستان کو ناقابل تلافی پہنچا گئیں۔ اگر عظیم ترین قومی حماقتوں کی بات کی جائے تو کارگل کی جنگ، افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دینا، لال مسجد پر فوج کشی، چیف جسٹس آف پاکستان کی نظر بندی اور ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ پرویز مشرف کے ناقابل معافی گناہ تھے۔ کارگل ایک ایسی فوجی حماقت تھی جس پر کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے ان کے نام آخر میں لکھ دیے جائیں گے۔
کوئی بھی فوج جب لڑتی ہے تو اس کے حصے میں یا تو فتح آتی ہے شکست۔ اگر آپ کا بیانیہ قابل فہم ہے، منصوبہ بندی قابل عمل ہے اور منصوبے پر عمل دل و جاں سے ہوا تھا تو شکست ہو جانے پر بھی دنیا آپ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی شے بھی ناقص ہے تو دنیا ایک طرف آپ کو اپنے بھی معاف نہیں کرتے۔ پرویز مشرف نے اپنی کتاب ”ان دی لائن آف فائر“ کے باب نمبر 11 (کارگل کا تنازعہ) میں کارگل کی لڑائی کی جو وجہ تنازعہ بیان کی ہے اس کا بیانیہ قابل فہم نہیں۔ وہ لکھتے ہیں :
”کارگل کوئی ایک یک و تنہا واقعہ نہیں تھا جو لائن آف کنٹرول پر واقع برف زاروں اور دشوار گزار شمالی علاقے میں رونما ہوا بلکہ یہ ان فوجی چپقلشوں میں سے ایک فیصلہ کن یلغار تھی جو پاکستان اور ہندوستان کی افواج کے درمیان آئے روز اس علاقے میں جاری رہتی تھیں۔ جہاں ہماری پوزیشن کمزور ہوتی وہاں ہندوستانی فوج قبضہ کر لیتی اور جہاں ہندوستان کمزور ہوتا وہاں ہماری افواج اپنا قبضہ جما لیتی تھیں۔ اس کی ایک مثال ہندوستانی فوج کا سیا چین پر قبضہ ہے۔ جو انہوں نے نے اپنی حکومت کی منظوری کے بغیر کر لیا تھا۔ اس طرح کارگل دراس کی پہاڑیوں پر اس وقت ہمارے مجاہدین نے قبضہ کر لیا جب شدید سردی میں ہندوستانی فوج سرد مہینوں میں چھوڑ جاتی تھیں مقصد یہ تھا کہ کامیابی کی بصورت میں کشمیری مجاہدین اور کارگل مجاہدین آپس میں مل جاتے اور مقبوضہ کشمیر پر ہمارا ہو سکتا تھا۔“
اس کے برعکس اگر کارگل کی لڑائی کا بیانیہ رکھا جاتا کہ : سیاچن پر ہندوستانی افواج کا ناجائز قبضہ ہے۔ وہاں سے انخلا کروانے کے لیے ہماری فوج نے سیاچن میں موجود ہندوستانی سپاہ کا ”مین سپلائی روٹ“ ( رسد کا راستہ) بند کر دیا ہے تاکہ ہندوستان سیاچین پر بات چیت کرے اور وہاں سے اپنی افواج کا انخلا کرے۔ ”
جہاں تک منصوبہ بندی کا تعلق ہے وہ اس قدر ناقص تھی کہ جس کچی سڑک سے پاکستانی افواج کو راشن اور اسلحہ فراہم ہو نا تھا اس کی چوڑائی بمشکل چھ فٹ ہے۔ پہلے منصوبے کے مطابق دراس کارگل کا باٹل نیک (تنگ گزرگاہ) جہاں سے سیاچن میں موجود ہندوستانی سپاہ کا واحد سپلائی روٹ گزرتا تھا، کاٹ کر ہندوستان کی سیاہ چن میں موجود ہندوستانی سپاہ کو بے دست و پا کرنا تھا۔ جس سے یقیناً ہندوستان بات چیت پر مجبور ہو جاتا اور بین الاقوامی عمل و دخل سے سیاچن کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا۔
مگر ”جاہ طلب“ مشرف کی خواہش پر ہماری افواج، ہندوستانی کشمیر کے اتنے اندر چلی گئیں کے ان کو ہتھیار اور راشن پہنچانا ایک ڈراؤنا خواب بن گیا۔ موسم مزید سرد ہوا تو ہمارے جوان گھاس اور برف کھانے پر مجبور ہو گئے۔ اس اثنا میں ہندوستان نے بین الاقوامی برادری کی توجہ اس جنگ کی طرف دلائی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان نے کارگل کی پہاڑیوں کا قبضہ چھڑانے کے لیے برف میں لڑنے کی ماہر سپاہ کے ذریعے ہماری فوج پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے۔ گھمسان کا رن پڑا۔ دونوں طرف شدید جانی نقصان ہوا۔ امریکی مداخلت سے سیز فائر تو ہوا مگر ہمارا زیادہ نقصان اس وقت ہوا جب ہماری آرمی یونٹس کو واپس لوٹ آنے کا حکم ملا۔ نتیجہ ہزیمت اور رسوائی جو ہماری فوج اور ملک کے حصے میں آئی۔
9۔ 11 کے بعد امریکہ نے افغانستان میں اس وقت فوج کشی کر دی جب طالبان کی حکومت نے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ اس صورت حال میں پاکستان کو غیر جانبداری اختیار کرنی چاہیے تھی۔ مگر جنرل پرویز مشرف نے ایک حکم بردار اور اطاعت گزار کی طرح اپنا وطن امریکی افواج کو گروی رکھ دیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ دہشت گردی کی نہ ختم ہونے والی جنگ تھی۔ جب پاکستان نے امریکیوں کا غیر مشروط ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو افغان طالبان اور پاکستان طالبان ہماری فوج کے، جس کی وہ اس وقت سے قبل دل و جاں سے عزت کرتے تھے، خلاف ہو گئے۔ بالخصوص قبائلی علاقوں کے بزرگ پشتوں ہماری فوج کے آگے ہاتھ جوڑتے رہے کہ ہم امریکہ کی حمایت میں ان پر فوج کشی نہ کریں۔ نتیجہ؟ دہشت گردی کی آگ میں پاکستان آج بھی جل رہا ہے۔ اس سے پاکستان کے دیرینہ دشمنوں کو انہی طالبان کو استعمال کر کے اپنے اپنے بدلے چکانے کا موقع بھی مل گیا ہے۔
لال مسجد کا قضیہ اس وقت کھڑا ہوا جب لال مسجد میں موجود مولوی برادران نے اپنی سلطنت وسیع کرنے کے لیے سڑک کی پار موجود قیمتی پلاٹوں پر قبضہ جمانے کے لیے دوسری طرف بھی مسجد کا ایک اور حصہ تعمیر کروا لیا۔ مگر جب سی ڈی اے کی طرف سے ان کو کہا گیا کہ وہ مسجد کی اتنی جگہ رکھیں جو اصل میں ہے تو انھوں نے نہ صرف اس پر عمل نہ کیا بلکہ الٹا مسجد کے اندر اسلحہ اکٹھا کرنا شروع کر دیا اور اسلام آباد سے بے حیائی کے خاتمے کے لیے جہاد بالعمل کا اعلان کر دیا۔
اس بلا جواز جھگڑے کو ختم کرنے کا سیدھا سادہ طریقہ یہ تھا کہ خفیہ کے چند لوگ مذاکرات کے بہانے اندر جا کر دونوں مولویوں کو گرفتار کر لیتے۔ مگر ایک تو اس کام کو لٹکا دیا گیا دوسرا قسطوں قسطوں میں فوج اندر داخل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پھر ایک فوجی افسر کی شہادت کے بعد فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ جو بلا جواز جانی ضیاع کا باعث بنا۔ اسی طرح چیف جسٹس کو نظر بند کرنا اور ایمرجنسی کا نفاذ جیسی حماقتیں جنرل مشرف کے ایسے بلنڈر تھے۔ جن کو قوم اور تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی اور تاریخ جنرل مشرف کو ایک پلے بوائے ڈکٹیٹر کے طور پر یاد رکھے گی۔
کارگل پر لکھی گئی کتابوں کے نام:
FROM KARGIL TO THE COUP by Nasim Zehra,
WITNESS TO BLUNDER by Col Ashfaq Hussain (Retired)
KARGIL CINFLICT 1999 by Dr Shireen Mazari


