ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں


shahidsaqlain.hed@gmail.com

شاہد ثقلین
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے حالیہ منشیات فروشی اور جنسی ہراسانی سکینڈل کا سنتے ہی ساحر لدھیانوی کی نظم ”چکلے“ کے مصرعہ ”ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں“ کی بازگشت سنائی دی۔ اوائل عمری سے مملکت خداداد میں اکثریت کو تہذیبی نرگسیت کی لپیٹ میں دیکھا ہے۔ جس نے مغرب کو جنسی تعلیم، انفرادی آزادی، مخلوط تعلیم وومن امپاورمنٹ وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے حقارت کا مستحق ٹھہرایا ہے۔ جیسے جیسے بڑے ہوئے اور اپنے معاشرے کو اپنے چشمے سے دیکھنا شروع کیا تو آئے روز ہونے والے جنسی ہراسانی کے واقعات نے آشکار کیا کہ ہم کس قدر گھٹن اور تعفن زدہ معاشرے میں سانس لے رہے ہیں۔ مدارس و سکولز ہوں، یونیورسٹیز ہوں یا دفاتر ہوں اپنے منصب کو جنسی اور دوسرے ناجائز مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے بھیڑیے ہر جگہ موجود ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی کے حالیہ سکینڈل میں جامعہ کے چیف سکیورٹی افسر سے چند گرام ( 6 سے 8 گرام) منشیات اور موبائل فون میں ہزاروں نازیبا ویڈیوز/تصاویر برآمد ہوئی ہیں۔ تفتیش کے دوران چیف سکیورٹی افسر اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ جامعہ کے ہر شعبہ سے کچھ پروفیسرز بھی طالبات کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بناتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس اعتراف اور بیان کے باوجود جنسی ہراسانی سے متعلقہ دفعات ایف آئی آر میں شامل نہیں کی گئی۔

پولیس کے مطابق کیونکہ انہیں جنسی ہراسانی کے ضمن میں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی اس لئے صرف منشیات برآمدگی کا مقدمہ ہی بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف جامعہ کے وائس چانسلر کا موقف یہ ہے کہ ایک سازش کے تحت جامعہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ جب تک یہ پگڑی (وہ کسی شخص کی ہو یا ادارے کی) آڑے آتی رہے گی۔ درندے محفوظ اور بچے مظالم کا شکار ہوتے رہیں گے۔ کوئی بھی پگڑی کسی زندگی سے زیادہ معتبر نہیں ہوتی۔

والدین کو ایسے مظالم کا شکار ہونے والے بچوں کی آواز کو دبانے کی بجائے ان کا حوصلہ بننا ہو گا ان کی آواز کو شکتی دینا ہوگی تاکہ ایسے درندوں کو مزید زندگیاں برباد کرنے سے روکا جا سکے۔ اور ان کا سماجی بائیکاٹ کرتے ہوئے انہیں قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔ ان واقعات کے بعد تعلیمی اداروں میں طلبا یونینز کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ طلبا یونینز ہی ایسے درندوں کے صوابدیدی یا منصبی اختیارات کے ناجائز استعمال کا قلع قمع کر سکتی ہیں۔ طلبا یونینز ہی طلبا کے حقوق کا دفاع اور ان کی آواز کو شکتی دے سکتی ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں

  • 26/07/2023 at 8:38 صبح
    Permalink

    ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا

Comments are closed.