اکیڈیمیا سے چند اعتراضات ۔ حصہ دوم

اس طویل مضمون کے پچھلے حصے میں ہم نے اکیڈیمیا سے متعلق کچھ اعتراضات۔ حصہ اول کے عنوان سے آپ سے بانٹے تھے، لہٰذا اب اسی سے منسلک مگر کچھ تفصیلی اعتراضات پیش خدمت ہیں۔ پچھلے مضمون میں اہل اکیڈیمیا میں فقدان خود بینی پر بحث ہوئی تھی، اس حصے میں ہم رویہ ٔحصول علم پر کچھ بات کریں گے۔
Ritual انگریزی کا ایک ایسا لفظ ہے جس کا اردو ترجمہ ناممکن نہ سہی، مگر مشکل ضرور ہے۔ سب سے قریب ترین لفظ عادت ہے، مگر ritual کا ماوۂ معنی عادت سے کچھ زیادہ ہے، اس لئے میں ریچوئل لفظ ہی برتنے پر مجبور ہوں۔ ریچوئل ہم ہر اس امر کو کہہ سکتے ہیں جس کے کیے جانے میں کوئی شعوری قوت کار فرما نہیں ہوتی۔ یعنی ریچوئل ایک طرح کی ایسی ذہنی حرکت ہے جس کے کرنے سے آگاہ ہوتے ہوئے بھی ہم انجان ہوتے ہیں۔ ہمارے صبح اٹھنے سے لے کر رات کو سو جانے تک بیسیوں ایسے کام ہیں جو ہم ریچوئلز کے طور پر کرتے ہیں۔
لفظ ریچوئل کو مذہبی لٹریچر میں بھی خبر دار کرنے کے انداز میں برتا گیا ہے، یعنی اپنی عبادتوں کا ایسا دھیان کیا جائے کہ کہیں وہ ریچوئل نہ بن جائیں، مطلب ایسے اعمال نہ بن جائیں جو ہم کر تو رہے ہوں مگر جن کے کیے جانے میں ہماری کوئی ذہنی یا جذباتی وابستگی شامل نہ ہو۔ اس کے علاوہ ریچوئل کو مثبت معنوں میں برتتے ہوئے instinctive thinking کا لفظ بھی ذہن میں ابھرتا ہے۔ گو کہ ریچوئل آخر وجود میں ہی کیوں آتا ہے، یعنی ہم ایسے اعمال کرتے ہی کیوں ہے کہ جن کے بارے میں ہم شعوری طور پر آگاہ نہ ہوں، اس موضوع پر کافی تسلی بخش لٹریچر نفسیات کے ہاں موجود ہے جو اس کے مفید ہونے کو ثابت بھی کرتا ہے، مگر جگہ کی کمی کے باعث ہم اس رخ پر ابھی نہیں جا سکتے ورنہ مضمون مزید طول پکڑ جائے گا۔ اس مضمون میں ہم ریچوئل کو اسی عام معنی میں برت رہا ہوں جس میں ہم ذہنی طور پر غائب ہوتے ہیں۔ میرے مد نظر مسئلہ یہ ہے کہ کیا ایسا رویہ حصول علم میں کسی طرح کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
لہٰذا ریچوئل کو اگر اکیڈیمیا کے رویے کو طور پر دیکھا جائے تو آپ کو جان کر حیرانی ضرور ہو گی کہ درس و تدریس، تحقیق و تعلیم صرف چند ریچوئلز تک محدود ہو گئے ہیں، یعنی ایسے اعمال بن گئے ہیں جو ہم صرف کیے جانے کے لئے کر رہے ہیں۔ شاگرد اس لئے نہیں پڑھ رہا کہ کچھ ایسا سیکھے جو اسے اپنے گرد و نواح میں موجود انجانی چیزوں میں ربط پیدا کرنے کے قابل بنائے۔ نہیں، وہ صرف اس لئے پڑھ رہا ہے کیونکہ پڑھنا صرف ایک ریچوئل ہے اس کی عمر کے، اس کی کلاس کے لوگوں کے لئے، اور شاید یہ اس لئے کہ اگر اس نے اس ریچوئل کو ادا نہ کیا تو کوئی نوکری نہیں دے گا۔
دوسری طرف، اکیڈیمک اس لئے نہیں پڑھا رہا کہ اسے اس عمل میں کچھ ایسا نیا جاننے کو مل رہا ہے جو اس کے خیال میں تو وہ جانتا ہے، مگر جب وہی خیال کئی نئے ذہنوں کے سامنے وہ بانٹتا ہے تو ان میں سے کوئی اسے ٹوکتا ہے، سوال کرتا ہے اور استاد کو احساس ہوتا ہے کہ اس نظر سے تو میں نے دنیا کو پہلے دیکھا ہی نہیں۔ اس رویے کے فقدان سے تو آپ مجھ سے زیادہ واقف ہیں جبکہ اس رویے کو روح علم ہونا تھا۔ نہیں، وہ صرف اس لئے پڑھا رہا ہے کیونکہ اس طرح پڑھانا خود اس کے لئے ایک ریچوئل ہے۔
جیسے ایک کپڑوں کی دکان پر بیٹھا مالک دن کے آخر میں حساب کرتا ہے کہ آج کتنے تھان بک گئے، بعینہٖ ایک اکیڈیمک ہفتے کے آخر میں یہ دیکھتا ہے کہ اس ہفتے کتنے ”سبق“ مکمل ہو گئے۔ اس ریاضیاتی ذہن سے جو کہ آج کی اکیڈیمیا میں عام رواج ہے اور بڑے بڑے ادارے اس طرز فکر کی ترویج میں پیش پیش ہیں (ورلڈ بینک، اور یو این جیسے ادارے ایسی سینکڑوں رپورٹس سالانہ شائع کرتے ہیں جن میں ایسے ہی نمبرز سے تعلیم کو فٹے سے ناپا گیا ہوتا ہے ) ، غلطی یہاں یہ کرتے ہیں کہ یہ سیکھنے، سوچنے، سمجھنے کے نظام کو کسی ریاضیاتی کلیے کی طرح دیکھتے ہیں، جو اگر پورا جھوٹ نہ بھی ہو، آدھے سچ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ یہی رویہ اس طرح کے ریچوئلزم کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
اپنے نقطے کی تفصیل میں ایک تصویر پیش خدمت ہے۔
اس تصویر میں دیے گئے ان چار خانوں میں موجود الفاظ ہی در اصل علم کی کل دنیا ہیں۔ علم کا سفر ہمیشہ ”نامعلوم نامعلوم“ سے شروع ہوتا ہے اور اس کی منزل ہمیشہ ”معلوم معلوم“ ہوتی ہے۔ یعنی انسانی ذہنی کی کاوش کچھ یوں ہے کہ میں نہیں جانتا کہ میں کیا نہیں جانتا۔ یہ نقطہ آغاز ہے، اور انجام اس سفر کا یہاں ہوتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ میں کیا جانتا ہوں۔ اب اس سفر کے درمیان دو منزلیں آتی ہے، دو انتہائی اہم و نا گزیر منزلیں۔
پہلی ہے ”معلوم نا معلوم“ ، یعنی یہ کہ میں جانتا ہوں کہ میں کیا نہیں جانتا۔ آسان لفظوں میں کہیں تو ذہن کو یہ تو ادراک ہوتا ہے کہ وہ کیا نہیں جانتا۔ مثلاً میرے ذہن کو پتہ ہے کہ گریوٹی ہوتی ہے، میں محسوس کرتا ہوں، مگر اسے یہ ہرگز نہیں پتہ کہ یہ کیا ہوتی ہے اور کیسے کام کرتی ہے۔ آئن سٹائن کا یا کسی ماہر طبیعات کے لئے تو یہ معلوم ہو گا، مگر میرے ذہن کے لئے نا معلوم ہے۔ یہ ہے عام سطح شعور ہے جہاں ہم سب کام کرتے ہیں۔ ہم سب صبح اٹھتے ہیں اور اسی میں اپنا وقت گزار دیتے ہیں، یعنی ایسی اشیاء کی تلاش میں، ایسے جوابات کی تلاش میں جن کے بارے میں ہمیں پتہ ہے کہ ہمیں نہیں پتہ۔
اب آتے ہیں چوتھے خانے پر یعنی ”نامعلوم معلوم“ یعنی ایسی اشیاء، افکار، خیالات، تعلقات، نظام معنی وغیرہ وغیرہ جو مجھے بھی نہیں پتہ کہ مجھے پتہ ہیں۔ یہ ہے ہمارے دماغ کی سب سے پسندیدہ، سب سے پیاری نفس شعور۔ اب آپ پوچھیں گے کہ ایسی آخر کیا افکار و اشیاء ہو سکتی ہیں جو شعور میں تو ہیں، مگر اسے ہی نہیں پتہ کہ اسے معلوم ہیں، یعنی کیا کوئی ایسا علم ہے کہ جسے خود اپنا آپ معلوم نہ ہو۔ تو جی جناب! آپ صحیح سمجھے، یہی وہ دنیا ہے جسے فرائیڈ نے اپنی زبان میں لا شعور کہا تھا، جو شاعروں کے ہاں غزل بن کے ان پر اترتی ہے۔ فرائیڈ کے نزدیک لا شعور باہر کی کوئی چیز نہیں بلکہ میرے نفس کے پنہاں کونوں میں مقیم ایسا علم نفسی ہے جو مجھ پر میری شعوری حالت میں آشکار تو نہیں ہے مگر میرے ہونے میں یکساں حالت میں کار فرما ہے۔ انہی کے بارے میں غالب نے کیا خوب کہا تھا۔
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے۔
اس میں میرا اضافہ صرف اتنا ہے کہ یہ غائب خود میرے اندر حاضر ہوتے ہوئے حالت غیاب میں ہے، جیسے کہ فرائیڈ نے باور کروایا۔
یہ ”نا معلوم معلوم“ ہماری روایت میں در اصل وہ مقام فہم ہے جس کے حصول میں بدھا ایسے حضرات اپنی عمریں گزارتے ہیں۔ آخر میں بدھا یہیں نہیں پہنچا تھا کہ جس جواب کو وہ باہر ڈھونڈتا رہا، وہ تو اندر موجود ہے، ہاں مگر نا معلوم ہے، اور اس تک رسائی میں تمہیں حاضر رہنا ہو گا، خود کی غائب دماغی توڑنی ہو گی، خود پر وارد ہونا ہو گا، ریچوئل سے نکلنا ہو گا۔
آپ پوچھیں گے کہ اس سب کا اکیڈیمیا پر اعتراضات سے آخر کیا تعلق؟ اتنی لمبی تشریح کی ضرورت اس لئے پیش آئی تا کہ ہم ایک ایسے مکمل و مضبوط نظام تعلیم کی جڑ تک پہنچ سکیں جو اکیڈیمیا کی آج کل مروجہ مباحث سے غائب ہے۔ انسانی نظام شعور دراصل اسی ”نا معلوم معلوم“ کے بیج سے پھوٹنے والی کائنات ہے۔ مگر یہ عمل صرف اور صرف تب شروع ہو سکتا ہے جب ہم ارباب علم اپنے آپ کو معلوم ہونے کی کرسی سے نیچے اتاریں اور خود بینی و خود شعوری جس کا کہ ذکر پچھلے مضمون میں کیا تھا، اس مقام پر کھڑے ہوں۔
ایک دفعہ وہاں پہنچ گئے تو پھر یہ حقیقت جیسے ایک سچ کی طرح وارد ہو گی کہ کتنا کچھ ہے جو معلوم بھی نہیں کہ معلوم ہے۔ یہ ہے وہ رویہ جو ہمیں سکھاتا ہے کہ سوچنا کیسے ہے۔ یعنی سوچنا ایسے ہے کہ اپنی ہر بات پر ایک مدلل شک کیا جائے۔ رائے ظنی از رائے تفنن و مشغلہ تو شاید اچھی چیز ہے، مگر اگر ہمارے الفاظ ایک سنجیدہ خود کلامی کے عمل سے نہیں گزرتے اور ہم انہیں اپنے مکھوٹے کے طور پر پہننا مشغلہ بنا لیں تو ہم ایک ریچوئل پر عمل پیرا اکیڈیمک تو بن سکتے ہیں، یہ نہیں سکھا سکتے کہ سوچتے کیسے ہیں۔
آج کی اکیڈیمیا پر میرا اعتراض یہی ہے کہ وہ نہ صرف یہ سکھانے سے قاصر ہے کہ سوچنا کیسے ہیں، بلکہ یہ سکھانے پر بضد ہے کہ سوچنا کیا ہے۔ ان دونوں درجہ ہائے علم و تعلیم میں زمین و آسمان جتنا فرق ہے۔ سوچنا کیسے ہے دراصل ایک method کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو تمام ذی شعور نفوس میں زمانۂ ازل سے مشترک ہے، مگر سوچنا کیا ہے ہر ذہن کی اپنی اپنی انفرادی میراث ہے۔ اکیڈیمیا کا کام یہ تھا کہ سوچنا کیسے ہے کا عمل چلتا رہے اور اس میں نت نئے طریقوں کا اضافہ ہوتا رہے، جبکہ سوچنا کیا ہے کا سوال ہر طالب علم کی اپنی ذہنی کاوش پر چھوڑا جائے، اسے آزادی دی جائے لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سوچنا کیسے ہے سے بحیثیت اکیڈیمک چونکہ خود اچھی طرح نہیں گزرے، لہٰذا اب اس عمل کے نا مکمل رہ جانے پر ہم سوچنا کیا ہے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
لہٰذا میں بطور اکیڈیمک ہر اس شخص سے ڈرتا ہوں جو مجھے تھوڑا بھی روٹین سے ہٹ کر سوال کر دے یا خیال سجھا دے۔ اس لئے میں اپنی sense of insecurity کو چھپانے کے لئے لوگوں خصوصاً شاگردوں کے خیالات پر پابندی لگاتا ہوں کہ سوچنا کیا ہے۔ اپنے ارد گرد موجود تعلیمی درسگاہوں پر نظر جائے تو جو موضوعات زیر بحث ہیں اور جن مسئلوں کو ہم سلجھانے میں الجھے ہیں وہ یہی ہیں کہ سوچنا کیا ہے، یعنی یہ نہیں سوچنا، وہ نہیں سوچنا، وغیرہ وغیرہ۔
اور اس کی بہت سی وجوہات میں سے واضح وجہ یہ ہے کہ خود میرے لئے سوچنا ایک عادت سطحی سے اوپر کچھ نہیں، ایک ریچوئل سے زیادہ کچھ نہیں، میرا ”نا معلوم معلوم“ نہ صرف کہ مجھ سے پوری طرح غائب ہے، بلکہ میں اس سے ایسا عاری ہوں کہ اس کی طرف اٹھتے ہر قدم کو بے وقوفی و زیاں وقتی جانتا ہوں، لہٰذا معاشرے کی مجموعی فکری صحت وہی ہے جو ہم سب کے دیکھنے کو تماشا ہے۔ حل شاید یہ ہے کہ میں کیا جانتا ہوں سے دوری اختیار کی جائے اور اس بات کی کھوج لگائی جائے کہ میں کیا نہیں جانتا اور یہاں سے گزرا جائے کہ وہ کیا ہے جو میں جانتا تک نہیں کہ میں جانتا ہوں۔



I totally agree with this nice piece of writing