اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل پر ہمارے متھ یا مغالطے اور لڑکیوں کی سیلف گروتھ


اس وقت زبان زد عام اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا اسکینڈل ہے۔ ہر طبقے سے مختلف قسم کے سوال اور تجزیے اٹھ رہے ہیں اور اس گھناوٓنے کھیل میں ملوث لڑکیوں کو برابر کا شریک بھی کہا جا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہونے والے سرکس مین جو سب سے گھٹیا کردار ہے۔ وہ ہمیشہ عورت کو سونپا جاتا ہے جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے۔ ہم سب ہی جانتے ہیں۔ ہر وہ کام جس میں اس معاشرے کے مرد کو گھٹیا نقاب چڑھانا یا اتارنا پڑ جائے اس کی ذمہ دار ہمیشہ عورت ہی قرار دی جاتی ہے۔

عورت چاہے تو یہ نہیں ہو سکتا عورت چاہے تو وہ نہیں ہو سکتا ایسے متھ یا مغالطے ہم ہوش سنبھالتے ہوئے ماوٓں کی گود سے سنتے آرہے ہیں اور غیرت کا بوجھ اٹھانے کو ہم عورتیں مردوں سے زیادہ مضبوط قرار دی گئیں جس کی اجرت میں ہم عورتوں کو کاری کر دیا جاتا ہے۔ کم عمری کی شادی ہمارا مقدر بنا دی جاتی ہے۔ ونی ہو جاتی ہیں۔ سلنڈر پھٹ جانے سے مر جاتی ہیں۔ پنچایت کے فیصلے پر دس مردوں سے ریپ بھی کروائی جاتی ہیں۔ ہمارے جسم کے مختلف اعضا کاٹ دیے جاتے ہیں لیکن اب زمانہ کافی بدل چکا ہے۔

اب ایسا وہاں ہوتا ہے جہاں ڈیجیٹلائزیشن کی چڑیا پر بھی نہیں مار سکتی۔ شہروں میں یہ اجرت ذرا سی اپ ڈیٹ ہو چکی ہے۔ یہاں پر لڑکیوں کی ذاتی سرگرمیوں کو ٹریک کر کے فلٹر لگا کر وہ سرگرمیاں ریکارڈ کی جاتی ہیں جس کی بنیاد پر ان کو بلیک میل کر کے مجبور کیا جاتا ہے۔ ان کو ذہنی طور پر اس قدر ہراساں کیا جاتا ہے کہ وہ شکنجے میں آجاتی ہیں۔ شہروں میں لڑکیاں اپنے مستقبل کو کسی حد تک بہتر بنانے کے لئے آتی ہیں جس میں سارا کریڈٹ گھر والوں کی اجازت اور منوں کے حساب سے وزنی غیرت کو دیا جاتا ہے جو کہ لڑکیوں کے پیروں میں زنجیر بنا کر باندھ دی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ اڑ نہیں سکتیں۔ پیر جو اتنے بھاری ہوتے ہیں پھر ان کو اس غیرت کو سنبھالنے کے لیے اپنے ہر خواب کو دنیا کے دستور کے مطابق پورا کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے جس میں ان کو تعلیمی قابلیت کو اچھا دکھانے کے لیے مرد کے گھٹیا جال میں پھنسنا ہوتا ہے جو کہ اس کے لیے شروع میں ایک گھٹیا سمجھوتہ ہوتا ہے اور پھر وقت کے ساتھ وہ خود کو سمجھا لیتی ہے کہ جب ہمیشہ سے عورت ہی سیکس اوبجیکٹ ہے تو وہ اکیلی کیا کر لے گی۔

غیرت کا بوجھ اٹھانے کی اجرت شہروں میں کس طرح عورتوں کو ملتی ہے جس یونیورسٹیوں میں کس طرح ملتی ہے۔ ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ ابھی تک جتنے بھی سکرین شاٹس منظر عام پر آئے ہیں۔ ان میں کہیں بھی نہیں یہ دیکھا جا سکتا کہ لڑکیوں کے ساتھ زبردستی کی گئی ہے۔ ان میسیجز میں جو بھی بات ہو رہی ہے۔ وہ دو طرفہ رضامندی کو واضح کر رہے ہیں۔

میں یہ سمجھتی ہوں کہ دو لوگوں کا باہمی رضامندی سے ساتھ ہونا ان کی ذاتی چوائس ہے۔ مگر ایسے دو لوگوں کا باہمی رضامندی سے ساتھ ہونا جس میں بسا اوقات مرد کا عمر، عہدے، یا پاور میں لڑکی کی عمر، عہدے یا پھر پاور سے زیادہ ہونا ہمارے معاشرے میں کافی پیچیدہ اور مشکل ہے۔ کسی بھی تعلق کی خوبصورتی برابری اور عزت ہے۔

استاد اور شاگرد کے تعلق کی خوبصورتی بھی برابری اور عزت ہے لیکن ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ طلبا و طالبات کو ہمیشہ پروفیسرز کی ہر جائز اور ناجائز بات کو ماننا ضروری ہے کیونکہ ہمارا نصاب اور تدریس ہمیں سوال کرنا نہیں سکھاتا ہے۔

ہمارے اداروں میں نہ صرف لڑکیوں بلکہ لڑکوں کو بھی اپنی ڈگری کے حصول کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ یہ تجربہ مجھے ابھی ہی ہوا ہے۔ جہاں میں نے اپنے دوست کو اس کی ایم فل کی ڈگری کے لیے دھکے کھاتے اور خوار ہوتے دیکھا ہے۔ اس دوران میں نے بہت سے لوگوں کو اسے یہ کہتے ہوئے بھی سنا کہ کوئی مال پانی دو کوئی تگڑا سا ریفرنس لڑاوٓ تا کہ تم اپنی ڈگری لے سکو۔ اب آپ لوگ اندازہ لگا لیں کہ جس ادارے میں لڑکے کو یہ سب تجربات ہو رہے ہیں۔ وہاں لڑکیوں کو کیسے کیسے اور کون کون لوگ استحصال نہ کرتے ہوں گے۔

بہت سے لوگوں خاص کر عورتوں کی طرف سے یہ ردعمل سامنے آ رہا ہے کہ ہم نے بھی تو پڑھا ہے، مجال ہے جو کسی پروفیسر کی خوشامد کی ہو یا ان کے پیچھے پھر کر اپنے کام نکلوائے ہوں کسی نے ہمارے سامنے تو یہ جرات نہیں کی کہ ہمارا استحصال کرے۔

یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ کو اس طرح کا تجربہ نہیں ہوا یا پھر آپ کی سیلف گروتھ اتنی ہو چکی تھی کہ آپ کو ایسی مشکلات اور پھر ان کے نتائج کا علم تھا۔

ہمارے گھروں یا معاشرے میں لڑکیوں کی سیلف گروتھ پر کتنا ہی کام کیا جاتا ہے۔ بہت ساری عورتوں کو پتہ بھی نہیں ہو گا کہ سیلف گروتھ کا مطلب کیا ہوتا ہے لیکن ان کے پاس ڈگریاں ہوتی ہیں اور وہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔ وہ اپنے ارد گرد لڑکیوں کی سیلف گروتھ کو نہیں بڑھا سکتیں میں نہیں سمجھتی کہ اس میں سارا قصور عورتوں کا ہے۔ اس میں قصور پدرشاہی کا ہے جو عورتوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ مرد کے کنٹرول میں رہے سیلف گروتھ سے لڑکیاں اس قابل ہوں گی کہ وہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ کون سا راستہ ان کے لیے بہتر رہے گا۔ سیلف گروتھ میں لڑکیوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ان کی خوبیاں اور خامیاں کیا ہیں۔ وہ کس طرح سے ہراسانی اور زبردستی سے خود کو اور دوسری لڑکیوں کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ وہ یہ جان سکتیں ہیں کہ اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے والوں سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔

ان کے پاس یہ اختیار ہو کہ جب وہ اپنے کسی ساتھی کے ساتھ وقت گزاریں تو ان لمحات کو کیمرے میں ریکارڈ کرنے کو روک سکیں۔ ان کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ وہ اپنے ساتھی کی اس غیر سنجیدہ حرکت پر مذمت کر سکیں اور اگر کوئی بلیک میل کرے تو اس کو وہ رپورٹ کرنا جانتی ہوں۔ لڑکیوں کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ جہاں پر آپ کو سامنے والے کو یہ کہنا پڑ جائے کہ (دیکھ کر ڈیلیٹ کر دینا) وہاں پر اعتبار کھوکھلا ہوتا ہے۔ اگر کوئی لڑکی شراب پینا پسند کرتی ہے تو اس کو شراب پینے سے کوئی نہیں روک سکتا بلکہ اس کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ وہ جس سوسائٹی میں شراب پیتی ہے وہاں تو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ یہ اور پیے تا کہ یہ اپنا کنٹرول کھودے اور پھر لڑکی ہمارے کنٹرول میں آ جائے۔ سیلف گروتھ کے سینکڑوں سیشنز آپ کو انٹرنیٹ سے مل سکتے ہیں جس سے آپ اپنے بہت سارے متھس یا مغالطوں کو ختم کر سکتے ہیں۔

میں نہیں جانتی کے اس سکینڈل کی وجہ سے کتنی لڑکیوں کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کتنی ہی لڑکیوں کی پرائیویسی کو برباد کر دیا گیا ہے۔ کتنی ہی لڑکیوں کے خواب ادھورے رہ گئے ہوں گے۔ کتنی لڑکیوں کو جھوٹے خواب دکھا کر ان کو ریپ کیا گیا ہو گا۔ کتنی ہی لڑکیاں نشہ کی عادی ہو گئی ہوں گی اور اب وہ اپنی زندگی کو کس طرح سے نارمل کریں گی۔ کتنی ہی لڑکیاں ہوں گی جن کو اب ساری زندگی اپنے اوپر لگے ٹیگ کو مٹانے میں گزارنی ہوگی کتنی ہی لڑکیاں کسی پر اعتبار کرنے سے ڈریں گی اور کتنی ہی لڑکیاں اب بھی اس موجودہ لمحے میں ان سب برائیوں کا شکار ہو رہی ہوں گی۔

میرا ان سب کو یہی پیغام ہے جو تم سب اس وقت سہ رہی ہو اس سے زیادہ تکلیف دہ کچھ نہیں ہو سکتا لیکن زندگی میں کبھی بھی صرف اپنی ذات کو اس پشیمانی یا گلٹ میں نہیں رکھنا کہ قصور وار تم ہی تھی۔ اپنی سیلف گروتھ کو بڑھاوٓ تا کہ تم زندگی میں دوبارہ کسی لیڈی وارڈن، بوائے فرینڈ، ریٹائرڈ فوجی، پروفیسر، کلرک، سیکیورٹی افسر یا اعجاز شاہ جیسے ساہوکاروں کو نمٹ سکو۔

Facebook Comments HS