میں شرمندہ ہوں! تجھے کیسے پڑھاؤں



میں اپنے آفس میں بیٹھا ایک فائل کی پڑتال کر رہا تھا کہ دروازے پر دستک کی آواز آئی، متوجہ ہوا تو نائب قاصد نے بتایا کہ ان کے گاؤں سے ایک بزرگ تشریف لائے ہیں جنہیں باہر بٹھا دیا گیا ہے میں نے نائب قاصد کو کچھ دیر انتظار کا کہہ کر اپنی فائل کے تمام کاغذ سمیٹے اور فائل کو کیبنٹ میں رکھ کر مہمان کو بھیجنے کا کہہ دیا۔ کچھ ہی دیر میں میرے گاؤں کے بزرگ جنہیں سب چاچا کریم کہتے تھے اندر داخل ہوئے تو میں نے گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا اور انہیں سائیڈ پر رکھے صوفے پر بیٹھنے کا کہتے ہی نائب قاصد سے فوری طور پر کھانے پینے کا بندوبست کرنے کا حکم دے دیا۔

اس دوران چاچا کریم سے میں نے گاؤں کی صورتحال اور وہاں کے چھوٹے بڑے سب افراد کا حال احوال لیا۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ چاچا کریم کچھ پریشان لگ رہے ہیں مگر کچھ بولتے یا بتاتے ہوئے جھجک محسوس کر رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ پہلے کچھ خاطر داری ہو جائے تو تسلی سے پوچھوں گا۔ کچھ ہی دیر میں چائے، بسکٹ، سینڈوچ، سموسے وغیرہ آ گئے اور پھر باتوں کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے موقوف ہو گیا۔

چائے پینے کے بعد جب دوبارہ بیٹھک شروع ہوئی اور میں نے چاچا کریم سے ان کے چہرے پر لکھی پریشانی بارے کریدا تو وہ چپ نہ رہ سکے اور بلک بلک کر رونے لگ گئے، تسلی اور دلاسوں سے چپ ہوئے تو انہوں نے جو بپتا سنائی اسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ چاچا کریم خود تو مڈل پاس ہی تھے تاہم انہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور دو تین ایکڑ زمین سے آنے والی آمدنی اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کے تین بیٹے اور تین ہی بیٹیاں تھیں جن میں سے ایک چھوٹا بیٹا اور بیٹی مدرسہ میں پڑھ رہے تھے تو باقی بڑے بیٹے بیٹیاں سکول اور کالج میں تھے، ماشا اللہ سے چاچا کریم کے تمام بچے ہی نہایت فرمانبردار اور ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت تہذیب و احترام کے زیور سے لیس تھے۔

جو پریشانی انہیں مجھ تک لائی تھی وہ ان کے بچوں کے حوالے ہی سے تھی مگر جو واقعات یکے بعد دیگرے رونما ہوئے وہ ان کے گاؤں کے دوسرے بچوں کے بارے میں تھے مگر چونکہ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں تو وہ اسی وجہ سے شہر دوڑے چلے آئے۔ ان کے پاس دو سے تین ایسے واقعات تھے جنہیں سن کر ہر باشعور شخص کی روح تک کانپ جائے۔ میرے بھی ہوش اڑ گئے جب میں نے پے درپے یہ واقعات سنے اور پھر چاچا کریم کی پریشانی کو گہرائی کو جانچا۔

چاچا کریم نے بتایا کہ کچھ ہفتے قبل گاؤں کے قریب ہی بڑے مدرسہ میں زیر تعلیم ایک بچہ لاپتہ ہو گیا تھا جس کی نعش گم ہونے کے دو روز بعد ہی مدرسہ کے پچھواڑے کھیت سے برہنہ حالت میں برآمد ہوئی، وہ بچہ حافظ قرآن بن رہا تھا اور تقریباً ڈیڑھ سال سے وہ اس مدرسہ میں تھا، بچے کے ساتھ بدفعلی کی بعد اسے قتل کیا گیا تھا، پولیس نے چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ مدرسہ کا ایک نامی گرامی معلم بچے کے قتل میں ملوث تھا جسے گرفتار بھی کر لیا گیا تھا اب اس معلم کو بچانے کے لیے نجانے کہاں کہاں سے علما حضرات دن رات گاؤں میں متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈال کر صلح اور معافی تلافی کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

چاچا کریم نے کہا کہ میری تو روح ہی کانپ اٹھی ہے کہ مدارس جو اسلام کے قلعہ کہلائے جاتے ہیں وہاں پر بچوں کے ساتھ کیسے گھناؤنے کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ یہ بتاتے ہوئے اس کی آواز رندھ گئی اور کپکپاتی آواز میں بالکل سپاٹ لہجے میں وہ گویا ہوا کہ اس کی بیٹی اور بیٹا بھی ایک مدرسہ میں پڑھ رہے ہیں کیا وہ اس مدرسہ میں محفوظ ہوں گے ؟ اس سوال پر میں بھی ہکا بکا رہ گیا اور سوچنے پر مجبور ہوا کہ اس کا جواب تو کوئی بھی نہیں دے سکتا۔

چاچا کریم نے ایسے ہی دو مزید واقعات سنائے جن میں ایک سکول ماسٹر کی طالبعلم بچی کے ساتھ غلط قسم کی کارستانی تھی تو ایک کالج کے پروفیسر نے اپنی ہی سٹوڈنٹ سے عشق کی شادی کر رکھی تھی۔ غرض کہ چاچا کریم کی مدرسہ، سکول اور کالج کی داستانوں نے میرے ذہن کو پراگندہ کر دیا اور ان گنت سوالات چھوڑ دیے۔ چاچا کریم ان واقعات سے اس قدر گھبرایا ہوا اور پریشانی میں لاحق ہو گیا تھا کہ اس نے اپنے بچوں کی تعلیم ادھوری چھوڑنے کا فیصلہ سنا دیا اور کہا کہ بیٹا میں اب اپنے بچوں کو مزید پڑھانے کا رسک نہیں لے سکتا اور انہیں گھر بٹھا دوں گا کیونکہ بچوں کے لیے سب سے محفوظ ان کا اپنا گھر ہے جس میں بچوں کی نفسیات پر بھی اثر نہیں پڑے گا اور اہل خانہ بھی مطمئن رہیں گے یہ کہہ کر چاچا نے رخت سفر باندھا اور پریشان ذہن کے ساتھ واپس روانہ ہو گیا۔

ان کی روانگی کے بعد میں یہ سب سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ کیا ان حالات و واقعات کے بعد میرا دل اور دماغ اس بات کو تسلیم کرے گا کہ میں اپنے پھول جیسے بچوں کو کسی بے رحم، جنسی مریض کے رحم و کرم پر اس کے پاس چھوڑ دوں جو کسی بھی لمحے بھیڑیا بن کر میرے لخت جگر کو کھا جائے۔ نہیں کوئی بھی شخص ایسا نہیں چاہے گا۔ آپ خود بھی ذرا سوچیں کہ اگر آپ نے اپنے بچے کو دینی تعلیم دلانی ہو، قرآن حفظ کرانا ہو یا اسے عالم بنانا ہوتو آپ بچوں سے زیادتی اور قتل جیسے واقعات کو اپنے ذہن سے کس طرح نکال پائیں گے اور کس حد تک مدارس میں داخل کرانے پر راضی ہوں گے ۔

اسی طرح جس سکول، کالج یا یونیورسٹی میں طلبا کے ساتھ جنسی کھیل کھیلا جاتا ہو، انہیں نمبر گیم میں پھنسا کر بلیک میل کیا جاتا ہو یا پھر ان کی معصومیت سے کھلواڑ کر کے انہیں نشے جیسی قبیح لت میں لگا دینے کے درجنوں واقعات آپ کو روز سنائی دیں، دکھائی دیں یا خدانخواستہ آپ کے ساتھ پیش آئیں تو کیا ان حالات میں کسی ادارے پر بھروسا کیا جاسکتا ہے، تو اس کا 100 میں سے 90 فیصد لوگوں کا یہی جواب ہو گا کہ نہیں قطعاً بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔

بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جنہیں آج بھی پھول کے ساتھ کانٹوں، برائی کے ساتھ اچھائی اور غم کے ساتھ خوشی جیسے فقرے ازبر ہیں اور وہ اس زہر کو قطرہ قطرہ پینے پر راضی ہوں گے مگر خوشی کے ساتھ نہیں بلکہ نہایت دکھ اور مجبوری کے ساتھ وہ اپنے بچوں کے بارے میں سوچ سوچ کر روز جیتے ہوں گے اور روز ہی مرتے ہوں گے ۔ ان کے دل و دماغ پر ایک ہی فقرہ ہو گا کہ میں شرمندہ ہوں! تجھے کیسے پڑھاؤں؟

بہت سے لوگ ضرور یہ بات کریں گے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں مگر آنکھوں دیکھی مکھی نگلی نہیں جا سکتی۔ لاکھ بار بھی یہ سوچیں کہ ہر ادارے میں اچھے برے لوگ موجود ہوتے ہیں اور ہر کسی کے ساتھ یہ واقعہ نہیں ہو گا تو آپ کی بھول ہے، جس لڑکی یا لڑکے کو ہراساں کیا جا رہا ہے یا ہراساں کیا گیا ہو گا وہ نفسیاتی طور پر کبھی نارمل زندگی نہیں گزار سکیں گے۔ وہ اپنی زندگی تو جیسے تیسے گزار لیں گے مگر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی، ہراسانی، جنسی واقعات کو اپنے بچوں کے ساتھ رونما ہونے کو وہ کبھی برداشت نہیں کریں گے اور یہی وجہ ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میں ایسے تمام مدارس، سکول، کالج یا یونیورسٹیز کے خلاف آوازیں بڑھتی جائیں گی اور وہ لوگ جو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر کسی نہ کسی وجہ سے خاموش تھے اپنی خاموشی کو توڑ کر خود سامنے آئیں گے اپنی آواز بلند کریں گے۔

آپ پاکستان سمیت دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کے اندر جھانکیں، مدارس، مساجد، مندر، چرچ، گرجا گھروں میں باریک بینی سے وہاں کی مذہبی و دنیاوی تعلیمی حرکات و سکنات پر غور کریں گے تو معلوم ہو گا کہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں اور مذہبی یا دنیاوی اعلیٰ تعلیم ایک بھیانک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ جنسی ہراسانی، بلیک میلنگ عام ہے، میرٹ یا اعلیٰ نمبروں کی دوڑ، سکول، کالج، یونیورسٹی رینکنگ گیم ایک طرح کے شکاریوں کے جال یا آکاس بیل ہے جس میں جو پھنس گیا وہ مرنے تک باہر نہیں نکل سکے گا۔ لہذا یہ کہنا قطعاً درست نہیں ہو گا کہ موجودہ تعلیمی نظام سے ہم کوئی اعلیٰ پائے کے ڈاکٹر، انجینئرز، سائنسدان یا افلاطون پیدا کر رہے ہیں بلکہ ہم نفسیاتی طور پر بیمار نسل کو جنم دے رہے ہیں جن کے ذہنوں پر ہمیشہ ہی خوف طاری رہے گا اور وہ نارمل زندگی جینے کی تمنا دل میں لیے دنیا سے رخصت ہوجائیں گے

جن اداروں میں کسی طالبعلم کو فیل یا پاس کرنا، گریڈ بڑھانا یا کم کرنا ادارے کے اپنے اختیار میں ہے اور وہ اپنے ادارے کی رینکنگ کا فیصلہ بھی خود کر رہے ہوں تو وہ کسی بھی طرح معصوم ادارہ نہیں کہلا سکتا۔ وہاں ضرور گھناؤنے کھیل رچائے جاتے ہوں گے ۔ وہ طلبا کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے لیے چوبیس گھنٹے چال چلتے ہوں گے ۔

جنسی ہراسانی، زیادتی یا بلیک میلنگ کے تمام واقعات میں ایک بات قابل غور ہے کہ یہ تمام واقعات ایسے طلبا و طالبات کے ساتھ رونما ہوتے نظر آ رہے ہیں جو بہت زیادہ ذہین فطین ہیں، اعلیٰ سرکاری عہدوں پر اپلائی کرنے میں سنجیدگی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، امیر کبیر خاندان سے ہیں یا پھر صرف شوقیہ تعلیم حاصل کرتے ہیں، یا کلاس میں (سی آر) بننے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں، انہیں اپنے نمبرز، گریڈ کی انتہا کی حد تک فکر ہے وہی طلبہ ایسے شکاریوں کی جال میں پھنس کر بلیک میل ہوتے ہیں اور ان کی ہر جائز و ناجائز بات ماننے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ شاید میرے اس نقطہ سے قاری بھی اتفاق کریں۔

جس معاشرے میں تعلیم کاروبار بن جائے، نسل نو کی آبیاری محض خانہ پری رہ جائے، بدتہذیبی، بداخلاقی، نشہ کرنا فیشن قرار پائے، تعلیمی ادارے ہوس کے پجاری سنبھال لیں، ڈگری کے نام پر کاغذ کا بے کار اور بے وقعت سا ٹکڑا تھما دیا جائے تو ایسے اداروں سے ابن سینا، ابن خلدون، ابن البیطار، ابن الہیثم کبھی پیدا نہیں ہوسکتے، متذکرہ بالا صورتحال میں ان بڑے بڑے نامور اور قدآور تعلیمی اداروں (ماسوائے چند ایک کے ) جن کی پاکستان سے باہر ٹکے کی اوقات نہیں سے آپ کو ماہر ترین ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان اور نجانے کس کس شعبہ کے ہیڈ پیدا ہوتے نظر آئیں گے اور آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ ان اداروں کے مابین رینکنگ کی جنگ چھڑی ہوئی ہوگی، یہ ادارے اپنے آپ کو ایسا پیش کریں گے جیسا کہ دنیا بھر میں ان کا ڈنکا بجتا ہے اور یہاں سے تعلیم حاصل نہ کی تو ہمارے بچے ان پڑھ اور جاہل کہلائیں گے، غرض کہ ان اداروں کے سربراہان کی لینگوئج سن کر آپ کبھی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں گے کہ سربراہان ادارہ نے کبھی کسی کالج کا منہ دیکھا ہو گا مگر ہمارا معاشرہ بھیڑ چال بن چکا ہے ہر گھٹیا چیز کی اتنے اچھے پیرائے میں تشہیر کی جاتی ہے کہ وہ سب سے اچھی لگنے لگتی ہے اور یہ سب سے بڑی خرابی ہے جس سے چھٹکارا مرتے دم تک نہیں مل سکتا۔ لہذا ان تمام بداخلاقی حرکات سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ جن اداروں میں سمیسٹر سسٹم رائج ہے اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے، امتحانات کا سلسلہ بورڈز کے طریقہ کار پر سالانہ بنیادوں پر لیے جائیں تو ان خرافات سے نجات مل سکتی ہے۔

Facebook Comments HS