امریکی سازش سے امریکی حمایت تک کا سفر


کسی دانش ور نے کہا ہے کہ جب آدمی حد سے بڑھ جاتا ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انسانوں کا خدا بننے کا خواہشمند ہوتا ہے تو دراصل اس طرح وہ طاغوت کی راہ میں لڑ رہا ہوتا ہے جیسے کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”ایماندار لوگ وہ ہیں جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں“ ۔ تاریخ انسانی ایسے بے شمار ہیروز سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں میں چند ایسے کام کر ڈالے کہ جن کا تصور بھی محال تھا۔

بعض کے اٹھائے گئے اقدامات نے آئندہ آنے والی نسلوں کو صدیوں تک اپنے کاموں کے ثمرات سے سیراب کیا، کچھ کے فیصلوں نے انسانی تاریخ کا دھارا ہی بدل ڈالا اور کچھ کے غلط فیصلوں نے ملک و قوم کو برباد کر دیا۔ جو سچ کہوں تو برا لگے، جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں۔ یہ سماج جہل کی زد میں ہے یہاں حق کہنا گناہ ہے۔ آپ جان لیں کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد شروع ہونے والی جنگ، قانون کی حاکمیت اور لاقانونیت کی ہے، ایمان دار اور بے ایمان کی ہے، اصول پسندی اور بے اصولی کی ہے، حسینیت اور یزیدیت کی ہے، غرباء اور امراء کی ہے، عوام و خواص کی ہے، جمہوریت اور آمریت کی ہے، میرٹ اور اقربا پروری کی ہے، منصفانہ تقسیم اور لوٹ مار کی ہے، انسانیت اور حیوانیت کی ہے، صبر اور جبر کی ہے، جزا اور سزا کی ہے۔

اگرچہ عوام کے لیے نئے پاکستان کا خواب تو کب کا ٹوٹ چکا، مگر کچھ پرامید لوگ ابھی تک ایسے پاکستان کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں جہاں انصاف ہونا تھا، مساوات کو قائم ہونا تھا، بھائی چارے کو فروغ ملنا تھا، کرپشن کا ناسور ختم ہونا تھا، آزادی اظہار کا حق ملنا تھا، اقرباء پروری کی بیخ کنی ہونا تھی، جزا و سزا کا دور شروع ہونا تھا، اسلامی معاشرے کی تشکیل ہونا تھی، نفرتوں کو دفن کرنا تھا اور محبت و وفا کے پھول کھلنے تھے۔

مگر صد افسوس! پچھلے چند سالوں میں بالکل ہی مختلف نتائج نکلے ہیں۔ جب مہنگائی کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہو، نوکریوں کا حصول ناممکنات میں سے ہو، تعلیمی اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہو، خودکشیوں کا رجحان بڑھ رہا ہو تو ایسے میں معاشرے میں بڑھتا ہوا بگاڑ، رشتوں کے تقدس کی پامالی، اخلاقی قدروں کا جنازہ، دینی لوگوں کا میڈیا میں تمسخر اڑانا، معاشرے میں بے حیائی کا فروغ، مغرب سے مستعار، حواس باختہ نئے قوانین کا نفاذ، ریاستی اداروں سے ٹکراؤ، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی اور عدم برداشت کے رویوں میں اضافہ ہی نظر آئے گا، تب لوگ نیا پاکستان مانگنے کی بجائے ”میرا پاکستان“ بچانا چاہیں گے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی دور حکومت میں سیاست دانوں کے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس سے عوام کی لوٹی ہوئی رقم واپس نہیں آئی جبکہ عوامی قربانی کا سلسلہ ہر دور میں جاری رہا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اتنا کچھ ہو جانے کے بعد بھی اب تک عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز نہیں ہوا اور نہ ہی انہوں نے سیاست دانوں کے فریب کو سمجھا ہے۔ ملک میں بھوک پیاس کا دور دورہ ہے، چہار سو آہ و بکا کا عالم ہے۔ کہا جا رہا تھا کہ تجربہ کار لوگ آئیں گے تو ملک سنبھلے گا مگر حالات بتاتے ہیں کہ سوا سال کی کارکردگی میں عوام کا بھرکس نکل گیا ہے۔

کہا جا رہا تھا کہ ہماری عمدہ منصوبہ بندی سے عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات ملی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سال گرمیوں کے آتے ہی لوڈ شیڈنگ کا عفریت اپنا منہ کھولے عوام کو نگلنے کے لیے تیار بیٹھا ہے، گیس کی لوڈ شیڈنگ مسلسل جاری ہے جبکہ عوام کو پینے کے لیے صاف پانی دستیاب نہیں اور صحت کے مراکز کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر شیخوپورہ کے ضلعی ہسپتال میں مریضوں کے لیے ناقص انتظامات ہیں، ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے چند قیدیوں کی اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر کی عدم دلچسپی کی وجہ سے شہر ناجائز تجاوزات اور گندگی کا گڑھ بن چکا ہے اور حکومت کی جانب سے آٹا، چینی اور گھی کی کم کی گئی قیمتوں کے ثمرات، اب تک مقامی لوگوں کو نہیں مل سکے۔

اب بھی وقت ہے کہ حکمران طبقہ کو عوامی عدالت لگنے سے پہلے آنکھیں کھول لینی چاہیے مگر افسوس! ہمارا حکمران طبقہ اس وقت خاندانی درباریوں میں گھرا ہوا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ خاندان مراثیہ کا کام صرف حکمرانوں کو ذہنی سکون فراہم کرنا اور اپنا دال دلیہ چلانا ہوتا ہے اس کے علاوہ درباری حضرات کا فرض ہے کہ عوام کو مہاراج تک رسائی سے محروم رکھیں اور مہاراج کو دنیاوی تفکرات سے رہائی دلانے کے لیے خوش فہمیوں میں مبتلا رکھیں۔

پاکستانی سیاست کی یہ روایت رہی ہے کہ ہمیشہ سے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والے جلد ہی عوام سے اپنا رابطہ منقطع کر دیتے ہیں اور پھر ان کا نئی منزلوں کی طرف سفر شروع ہو جاتا ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ لہذا لا محدود خواہشات کے اس لامتناہی سفر کی رنگینیوں میں یوں گم ہوتے ہیں کہ اقتدار کے اختتام پر پہنچ کر ہوش میں آتے ہیں مگر تب تک بہت دیر ہو جاتی ہے جبکہ دوسری طرف بھولی بھالی اور مایوس عوام اگلی بار پھر آزمائے ہوئے سیاست دان سے امیدیں وابستہ کر لیتی ہے جو اپنے ہر دور حکمرانی میں اختیارات کا جھولا خوب جھولتے ہیں یوں اہل اقتدار کا دستر خوان وسیع ہو جاتا ہے جبکہ غریب کا چولھا بند ہو جاتا ہے۔ 1947 ء سے پاکستانی قوم کی بس یہ ہی کہانی ہے اور لگتا ہے کہ کاتب تقدیر اس سے آگے لکھنا بھول گیا تھا یا پھر اس کا قلم اس مظلوم قوم کے برے نصیب دیکھ کر احتجاجاً ٹوٹ گیا تھا۔

Facebook Comments HS