آج کی نسل میں خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان


کسی بھی معاشرے کی کی ترقی کا انحصار وہاں کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ آج کل کے دور میں بچوں اور نوجوانوں کی زندگی چیلنج بن چکی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ کئی نفسیاتی، اور معاشرتی دباؤ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں کو خودکشی کی راہ میں دھکیلنے والی وجوہات کئی ہیں۔ جو ان کی زندگیوں کو مشکلات کا شکار بنا رہی ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیوں آج کی نسل زندگی جیسی نعمت کو ختم کر کے گناہ کی طرف اپنے آپ کو دھکیل رہی ہیں۔

تناؤ اور دباؤ

آج کل کے دور میں مختلف ذہنی اور جسمانی تناؤ کی بنا پر بچے اور نوجوان متاثرہ ہو رہے ہیں۔ ان کے گھریلو معاملات، تعلیمی دباؤ، محیطی پرسر، اور روابطی امور ان کے دل و دماغ کو اس حد تک مایوس کر چکے ہیں کہ یہ دباؤ انہیں خودکشی کی راہ میں دھکیل دیتا ہے۔

خاندانی اور روابطی مسائل

خاندانی اور روابطی مسائل بھی بچوں کو خودکشی کی راہ اپنانے کا سبب بن رہے ہیں۔ ماں باپ کے درمیان لڑی جھگڑے، تنگدستی، بچوں پر بے جاہ سکتی مارنا پیٹنا، دوسروں سے ان کا مقابلہ کرنا، ان کے سامنے دوسروں کے بچوں کی تعریف کرنا، ان کی مرضی کے خلاف ان کو اپنی مرضی کی تعلیم دلانا، ان کی بات سنے بغیر غلط سمجھنا ان سب سے دل شکستہ ہو کر بچے خودکشی جیسے عمل سے بھی پرہیز نہیں کرتے۔

انٹرنیٹ کے مثبت اور منفی اثرات

انٹرنیٹ کے آنے سے نوجوانوں کی دنیا میں کئی تبدیلیاں آئی ہیں۔ وہ اب روایتی بچے نہیں رہے، بلکہ علم و فنون میں ترقی اور کھیلنے کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر موجود منفی مواد اور گیمز جیسے پب جی وغیرہ نوجوان نسل کے دماغوں پر ایسے منفی اثرات پیدا کر رہے ہیں کبھی فن کے طور پر تو کبھی گھر والوں کے کسی کام کے منع کرنے پر خود کشی کی راہ اپنا لیتے ہیں۔

ناکامی کا ڈر

کئی بچے اور نوجوان زندگی کے سفر میں ناکامی کا شکار ہوتے ہیں اور جب وہ اپنے مقصد تک نہیں پہنچ پاتے ہیں تو انہیں چاروں طرف سے شکست اور احساس کمتری محسوس ہوتی ہے۔ جس سے ان کے اندر خودکشی کے خیالات آنے لگتے ہیں۔ کیونکہ ان کو مسائل کا حل صرف اپنی موت میں نظر آتا ہے۔

آج کل کے دور میں بچوں اور نوجوانوں کی خودکشی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے، معاشرے، خاندان، تعلیمی اداروں اور مختلف حلقوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کو بھی آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی ادارے انسان کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں اور ان کو مثبت مقاصد تک پہنچنے کے سفر میں ان کے ذہنوں کو تیار کر سکتے ہیں کہ کامیابی، ناکامی، ہر وقت اپنے مقاصد کے لئے محنت کرنا اور سیکھنا اس زندگی کا حصہ ہے۔ اس بات کو سمجھنا کے ہار جیت سے ہی منزل ملتی ہے۔ اس سلسلے میں والدین اور خاندان والوں کو بھی چاہیے بچوں کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کرے۔ ان کو اس بات کا یقین دلائے کے جب تک وہ ہارے گے نہیں تب تک اپنی منزل کو پانے کی حقیقی خوشی سے محروم رہے گے۔

Facebook Comments HS