ناول مکھوٹا پر تبصرہ
ڈاکٹر نجیبہ عارف ان چند متاثر کن شخصیات میں سے ہیں، جن سے ہمیں عقیدت و محبت ہے اور جو ہمیشہ ہماری دعاؤں میں شامل رہتی ہیں۔ اللہ پاک ہماری پیاری میڈم کو دین و دنیا میں ہمیشہ ممیز و سرفراز رکھے، آمین!
چند ماہ قبل ہم نے میڈم کا تحریر کردہ اپنی نوعیت کا منفرد ناول ”مکھوٹا“ خریدا، میڈم کی تحریر سے عقیدت اور تحریر کی غیرمعمولی ادبیت و جاذبیت کے سبب کم وقت میں قرات مکمل کر لی۔ ابتدائی تبصرہ نگاری کی جسارت بھی کر لی، مگر گھر کی اچانک بڑھنے والی مصروفیات کے باعث یہ جسارت معصومہ نوٹ پیڈ میں ہی مقید رہ گئی۔ اب مصروفیت قدرے ہلکی ہوئی تو اس جسارت کو سر عام کر رہی ہیں۔
*مکھوٹا (ناول) اور فہم من*
یہ کائنات ایک تجریدی حقیقت ہے، اسے مجسم نہیں کیا جا سکتا؛ الفاظ میں نہ اصوات میں، مصوری میں نہ موسیقی میں، ادبی تخلیقات میں نہ فنی محاکات میں۔ کوئی فن کار اس تجرید کو مجسم شبیہ دینا چاہے تو وہ ملمع و تصنع میں لپٹا ایک فن تو ہو سکتا ہے جوہر حقیقت پر مشتمل تخلیق پارہ نہیں۔ ناول ”مکھوٹا“ تجریدی حقیقت کو تجریدی لفظ گری میں سموتا ہوا دور رواں کا ایک منفرد ادب پارہ ہے۔ لفظ ”مکھوٹا“ انسانی نفسیات کی بہ طور مجموع عکاسی کر رہا ہے۔ بہ ظاہر سادہ، محدود اور ایک جیسے نظر آنے والے انسان بہ باطن کس قدر پیچیدہ، وسیع اور متفرق ہوتے ہیں۔ متفرق تصورات اور متنوع نظریات انسان کے ظاہری چہرے کے اندر چھپا ایک چہرہ ہی تو ہے ؛ جب بات کرتا ہے تو نظر آتا ہے ؛ جب کام کرتا ہے تو دکھائی دیتا ہے۔ ناول کا عنوان ناول کی پڑھت کے لیے متجسس کرتا ہے۔
الفاظ کے ارتباط سے واقعات کو بیانیہ صورت میں پیش کرتے ہوئے مصنفہ نے کہانی میں منظر و محاکات نگاری اور کردار نگاری کو ایسے نبھایا ہے کہ قاری منظر میں گویا داخل ہو کر اسے محسوس کرنے لگتا ہے ؛ کردار اسے اپنے سامنے متحرک محسوس ہوتا ہے۔ لفظی مصوری کے ذریعے مصنفہ مختلف شعبہ ہائے حیات سے متعلق نفسیات انفس کی عکاسی کرتے ہوئے سوچ کے کئی زاویے بہم کرتی ہیں۔ مع ازیں، تہذیب و ثقافت کے متنوع پہلو بھی عکس بند ہوتے چلے جاتے ہیں۔
مزید برآں، بیسویں صدی کے نصف ثانی کی دہائیوں پر رونما ہوتے مختلف تاریخی واقعات کو رومانی پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ کائناتی تجریدیت کو منعکس کرتے ہوئے ناول خود تجریدیت میں متشکل ہو جاتا ہے۔ ناول اگرچہ طویل نہیں ہے مگر مرکزی کردار کے خواب، امنگیں، جدوجہد اور طرز تخیل زندگی کی گہری معنویت اور کائنات کی پراسراریت کا تعمق لیے ہوئے ناول کو وسیع ضرور کر دیتا ہے ؛ گویا ناول متذکرہ ثقالت طوالت سے مبرا، معنوی و موضوعی وسعت کا حامل ہے۔ واقعات حیات کے پس پردہ حقائق کو جانچتے الفاظ، کائنات کی معمہ سازیوں کو کھوجتے جملے مصنفہ کی متجسس شخصیت سے منعکس ہوتے ہوئے قاری کے دل و دماغ کو متنوع خیالات سے لبریز کر دیتے ہیں۔
کہانی کے نقطہ عروج پر کہانی کا تکملہ زیر تبصرہ ناول کی بنیادی اور امتیازی خاصیت ہے۔ اس کی وجہ مصنفہ نے رومانی اور افسانوی رنگ میں ناول کے اندر ہی عیاں کر دی ہے۔ یقین کیجیے کہ ناول کا وہ حصہ جس میں مصنفہ نے توجیہہ کو طشت از بام کیا ہے، دل چسپ اور معنی خیز ہے۔ تخلیق کار کی معصومانہ خودمختاری اور قارئین کی محکومانہ بے بسی بے اختیار مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ مصنفہ تخلیق ناول پر مکمل قابض اور قارئین کی دل چسپی و وارفتگی کو اپنے قلم و تخیل کے ماتحت رکھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ تخلیق کار کا یہی استحقاق ہے کہ وہ اپنی تخلیق کے لیے خودمختار ہو اور تخلیق کا یہی حسن ہے کہ وہ اپنے تخلیق کار کے ماتحت ہو۔
مصنفہ کا فطری مزاج شگفتہ اور متبسم چہرہ اس حصے میں صریحاً پر تو انداز ہوتا ہے۔
تخیل، رومان اور حقیقت کے ادغام سے مرکزی کردار کے نام پر مصنفہ کا پراسرار اور پرکشش بیان جاذب نظر اور منفرد ہے۔ ناول پر پس و پیش منظری تنقید کا ابتدائی خاکہ خود ناول نگار نے بین السطور تجریدی صورت میں پیش کر دیا ہے۔
موت و حیات کے پیچیدہ اور معماتی نوعیت کے باہمی تعلق و تصور کی فلسفیانہ عکس بندی فن پارے کی داخلیت اور موضوعیت میں گہرائی و گیرائی کا باعث ہے۔
ابتداً، ناول ایک پلاٹ کے تحت منظم محسوس ہوتا ہے، تاہم ناول کی قرات جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے، ویسے ویسے اس پہلو کا ادراک پختہ ہونے لگتا ہے کہ کہانی منظم پلاٹ اور ثقہ بند ناول نگاری کے اصولوں سے مبرا، جدید تجرید پر محیط ہے۔
نفسیات انسان کے مطالعے کی کوشش، واقعات کے پس پردہ حقائق کی تلاش، کائنات کے سربستہ رازوں کی کھوج، رومانیت تخیل کی شیرینی اور شدت حقیقت کی تلخی کا امتزاج، عزم و انہماک کی بار آوری، جہد مسلسل کی نتیجہ خیزی اور تعلق موت و حیات میں نسبت لزوم اس تجریدیت سے ہماری فہم ہے۔


