ایران میں شناسا-1


انسان کے ماں باپ کی طرح اس کی پیدائش کی سرزمین بھی اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ ہاں زندگی کے میلے میں کس سٹیج پر رقصاں ہونا ہے، اس کی چوائس کئی مرتبہ تقدیر ضرور انسان کے ہاتھ میں دیتی ہے۔ میرے ہاتھ بھی تقدیر نے یہ موقع دیا۔ اپنی سرزمین چاہے ماں جیسی نہیں بھی تھی، میرا انتخاب ٹھہری۔ کپلنگ نے کہا تھا کہ مشرق اور مغرب کی روح ہی جدا ہے۔ شاید روح کی یہی فرکشن مجھے واپس لے آئی۔ مشرقی روح یا لاشعور کیسے بنتا ہے۔ گلگت سے پشاور اور کراچی مشرق ہیں۔ یا جو سینکڑوں سال سے ترک، افغان، ہندوستان اور بنگال کے بیچ فضا پنپتی رہی، وہ مشرق ہے۔ آج کے ہندوستان تک رسائی نہیں، بنگال یہی کھوج لے گئی اور اب ایران۔

ایران کیا لینے جانا؟ شیعہ تو نہیں ہو گئے؟ وہاں حالات بہت خراب ہیں۔ بعد میں امریکہ کا ویزہ نہیں لگے گا۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ اپنے لاشعور کا کچھ سامان وہاں پڑا، لینے جانا۔ ہم تو سید، مرزا، افغان سبھی، صرف شیعہ نہیں۔ وطن عزیز میں حالات بہت اچھے ہیں کیا؟ رہی بات امریکہ کی تو، شہر طرب سے ہم ہو آئے ہیں، اور یوں ایران کا سپنا سچ کر لیا۔

شیعہ دوست کام آئے۔ ویزہ لگ گیا، ایرانی کونسلر کو کہا کہ یہ سال ہم نے زیارات کے لیے رکھا ہوا ہے۔ کرتار پورہ اور سعودیہ ہو چکے، اب آپ ٹھپا لگاؤ تو امام رضا اور بی بی معصومہ کے ہاں حاضری ہو۔

ایک صدی سے بھی اوپر کا قصہ کہ مولانا محمد حسین آزاد ایران گئے تھے۔ بڑا متنازع دورہ تھا بھئی وہ۔ مولانا کہتے کہ ایران یاترا مقصود تھی، کتب خریدنی تھیں، لغات مرتب کرنی تھیں مگر شریکوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ وہ جاسوسی کا الزام دھرتے ہیں اب تک، اور پھر مولانا واپس آ کر خرد کی گتھیاں سلجھانے سے بھی معذور ہو گئے تھے۔ سودا بڑا مہنگا پڑا۔ ایک اور ہماری شناسا بھی ہماری پیدائش سے قریباؔ دو دہائیاں پہلے ایران لے جائی گئی تھیں ملکہ کی سوانح لکھنے کے واسطے۔

سوانح کا مسودہ تو گم ہو گیا مگر 96 صفحوں میں محترمہ نے ایسا رپورتاژ لکھا کہ اس خطے کی تاریخ اور جغرافیہ سب سمو دیا اس میں۔ ایرانی کونسلر کے ٹھپا لگانے کی دیر تھی کہ ماہان ایرلائن کا جہاز لاہور سے پکڑا اور کھلے ڈلے ہو کر تہران آ پہنچے کہ جہاز آدھے سے زیادہ خالی تھا۔ ائرپورٹ پر انٹری مہر نہ لگی کہ مسافر ایران آنے کے سٹیگما سے بچے رہیں۔

پہلا پڑاؤ امام خمینی کا مزار تھا۔ ایرانی مزار یا قبر کے احاطے کو استعمال کرتے، اردگرد اک پورا زندہ معاشرہ بسانے کو۔ امام خمینی مزار کامپلیکس بہشت زہرا قبرستان کا اک حصہ ہے مگر وہ درس گاہ بھی ہے، عبادت گاہ بھی، یوتھ سنٹر بھی ہے اور کمیونٹی سنٹر بھی۔ لائبریری بھی ہے اور مندوبین کا ریسٹ ہاؤس بھی۔

اس میں سنہری گنبد کے گرد اک جہان آباد کر دیا گیا ہے اور کیوں نہ ہو؟ مذہبی رہنماؤں کے انقلاب لے آنے کے قصے انبیا اور صحابہ کے بعد خال خال ہی ملتے ہیں۔ حاکم وقت غلطی در غلطی کرتے چلے جاتے ہیں۔ سزا کام آتی ہے نہ جلا وطنی۔ مزار پہ پکنک اور کیمپنگ بھی اہل ایران کا اچھوتا خیال ہے۔

رات کو آن کے ٹینٹ میں یا کھلے میں ہی سو رہتے ہیں اور اس کو انجوائے بھی کرتے ہیں۔ یہ صرف غریبوں کی نہیں بلکہ مڈل اور اپر کلاس کی بھی تفریح ہے۔ مذہبی اور تاریخی جگہوں سے ایسا رشتہ شاید کچھ قوموں کے لاشعور میں ہی ہوتا ہے۔

کسی بھی ملک میں جا کر سیاحت کی شروعات مزارات اور قبرستان سے کرنا کوئی معقول بات نہیں مگر مجبوری تھی کہ ہوائی اڈے کے باجو میں بہشت زہرا تھا۔ امام خمینی کے بعد وہاں داخل ہوئے۔ میلوں پہ پھیلا قبرستان بھی پکنک سپاٹ سے کم نہ لگا۔

معلوم ہوا کہ یہاں لوگ جانے والوں کو اچھا ماحول دیتے اور ان سے اچھے ماحول میں ملتے ہیں۔ شادیوں تک میں تنبو لگا کر مرحومین کو شریک کیا جاتا۔ ایک قطار میں سجی آخری آرام گاہیں۔ زیادہ تر پر مرحومین کی خوبصورت تصاویر۔ یہ ایک خوشگوار اور عجیب رواج لگا۔

کتبے بھی سادہ نہیں۔ سب پر کوئی نہ کوئی فارسی شعر آویزاں۔ ہمارے ہاں جیسے نہیں کہ ایک دو شعر ہی کتبوں کے لیے رکھ چھوڑے ہیں۔ مولانا آزاد کتبوں کی نقل کر کے ہندوستان لے جانے کو ساتھ آن کھڑے ہوئے۔ ہم تو پاکستان سے تھے سو ہندوستان کے مولانا کی شبیہ کو بھی جھٹک ڈالا۔

شہدا، خاص کر ایران عراق جنگ کے شہدا کی قبریں ہر طرف۔ یوں لگا جیسے یہاں طبعی موت کوئی نہیں مرتا، سب شہادت کا کوئی بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ اماموں کی ریت نبھاتے ہیں شاید۔ حسین محمود نژاد، عمر 13 سال، انٹیلی جنس افسر، نہر میں لہروں کے مخالف سفر، گولیوں کی بوچھاڑ، 40 منٹ تہہ میں رہ کر، خفیہ معلومات لے کر واپسی، آج قبر پر ٹینک نصب ہے۔

شہدا کی کوالٹی اور کوانٹٹی دیکھ کر جنگ کی ہولناکی دل دہلا دیتی ہے۔ عورتوں کے لیے مرد ندارد۔ ختم کرنے والوں کا خدا بھی کوئی اور نہیں تھا۔ صدام صاحب کا خیال تھا کہ ایران کا یہ حصہ ان کی طرح کا ہے سو ان کا حق کہ فتح کر ڈالیں مگر ایرانی تر نوالہ ثابت نہ ہوئے اور اپنا علاقہ واپس لے کر ہی ٹلے۔

ایک طرف یادگار ہے شہد آئے پارلیمنٹ کی۔ خودکش دھماکا۔ وزیراعظم، وزرا سب مجاہدین خلق کے غضب کا نشانہ بن گئے۔ ملائی فلسفہ، مارکسی فلسفہ، سب اپنی پاور چاہتے چاہے وہ دوسرے کی ہڈیوں کے گودے کی قیمت پہ ہو۔ جناب محسن جو واقعی قوم کے محسن تھے۔ ناسا امریکہ میں اعلی عہدہ مگر ملک میں انقلاب کی لہر کا حصہ بننے آ پہنچے اور کام آ گئے۔ آخر میں جنگ کے تمام آپریشن اور ان میں کام آنے والوں کے ناموں کا سرمئی مینار تعمیر۔ قبروں پر بار کوڈ سکین کریں اور تاریخ جانیں۔ مگر یہ بھیانک کام کہاں تک کرتے لہٰذا باہر نکل کر شہر رے کی راہ لی۔

شہر رے، ہزاروں سال پرانا شہر۔ صحیفوں تک میں ذکر موجود ہے۔ یزید ملعون نے تو حسین کے سر کی قیمت رکھ دی اس شہر کی گورنری۔ تاریخ کی ہولناکیاں۔ شاہ عبدالعزیز کا مزار یہاں کی سب سے بڑی زیارت ہے۔ سپید و نیلگوں ایرانی مینار و گنبد۔ اندر شیشے کا نفیس کام۔ بزرگوں کے لیے بعد از مرگ ان کے ماننے والے یہاں ہی جنت بنا ڈالتے ہیں۔ یا شاید جو وہاں جنت میں ہوتے، اس کا مظہر یہاں ان کی آخری آرام گاہ ہوتی۔

نواسہ رسول کا نواسہ، ارد گرد مزار کا ملٹی پرپس استعمال اور اک پورا کاروبار زندگی رواں۔ شہر کے ایک طرف بی بی شہر بانو کے آنے اور پہاڑ کے کھل جانے کی روایت بھی موجود تھی۔ عینی بی بی بھی وہ پہاڑ چڑھ گئی تھیں مگر وہ کہاں اور ہم کہاں سو ہم نے اس روایت کو ضعیف گرداننے میں عافیت جانی اور قم کا راستہ پکڑا۔

موٹروے ہمارے ہاں جیسی۔ دنیا کا بائیکاٹ اور پابندیاں، ہم تو سمجھے تھے کہ جوتیوں میں دال بٹ رہی ہو گی، مگر یہاں تو زندگی رواں دواں۔ بلکہ ہم سے بہتر رفتار پر، سڑک پر چلنے والی سب کاریں مقامی۔ بڑے بڑے مال مقامی برانڈز سے بھرے اور سب شاندار۔ پابندیوں کو انہوں نے شاید اپنی طاقت بنا لیا ہے۔

گندم کے کھیت شاید موسم کے فرق کی وجہ سے ابھی جوان تھے۔ سرسوں ویسے ہی پھولی ہوئی جیسے ہمارے پنجاب میں۔ کھیت غائب ہوئے تو بلوچستان کا سا منظر۔ ریت کے بیچ میں سینما سٹی۔ ریت کے پہاڑ، خشک ٹیلے اور ان کا یونیورسل سٹوڈیو۔ سیٹ بھی اور آؤٹ ڈور لوکیشن بھی۔

قم میں داخل ہوئے تو ادھ تعمیر شدہ میٹرو نے استقبال کیا۔ آدھے میں پراجیکٹ بند کر دیا گیا تھا۔ شہر کی ہیئت کسی بھی مشرقی شہر جیسی تھی۔ بازار، بسیں، ٹیکسیاں اور بوجھ ڈھوتا عام آدمی۔ مگر اب تک عام آدمی کے چہرے اور باڈی لینگویج میں وہ اداسی یا بے اطمینانی نظر نہیں آئی تھی جو بنگلہ دیش یا پاکستان کے عام آدمی کا خاصا بن چکی ہے۔

چھوٹے شہروں میں ایک اور بڑے شہروں میں دو یا تین مساجد نماز جمعہ کے لیے مختص۔ پھر چاہے شہر میں کتنی ہی مساجد ہوں اور کتنی ہی بڑی ہوں نماز جمعہ نہیں ہو سکتی۔ جمعہ کا خطبہ بھی ریاست سے منظور ہوتا ہے۔ ملا کی حکومت، ملا دولتمند بھی مگر شتر بے مہار نہیں۔ ہوٹل کی لابی میں مولیٰ علی کی خوبصورت تصویر آویزاں تھی۔

قرۃ العین حیدر ’کوہ دماوند‘ بغل میں دابے پاس آن کھڑی ہوئیں۔ ہمارے ہاں ایمان یا ڈھٹائی کا نام ہے یا کسی کانچ کی گڑیا کا جس میں ارتقا نا ممکن ہے مگر باقی مسلم ممالک بشمول سعودیہ و ایران بڑا مارجن دیتے نظر آتے اس معاملے میں۔ خیر ابھی تو پہلا دن تھا۔

قم کی مرکزی زیارت، بی بی معصومہ کا مزار۔ ساتویں امام کی بیٹی، آٹھویں امام کی بہن۔ جس کی پیدائش کی بشارت کئی دہائیاں پہلے ہو گئی تھی۔ جس کے روضے پر بارہ امام ہوں گے۔ جس کی زیارت پر جنت کی بشارت۔ جو بھائی کی مدد کو مدینہ سے چلی پر نہ مشہد پہنچی اور نہ مدینہ واپس۔ سازشوں کا شکار ہو گئی، امام زادی۔ نبی کا خون، آل رسول۔ نسل در نسل ظلم۔ نطشے مذہب کو نشہ کہتا مگر طاقت کا نشہ سب سے بڑا۔

رسول کی آنکھ بند ہونے سے لے کر آج 2023 تک مذہب کی رسی مذہب کے ماننے والوں کو پرونے میں ناکام۔ امام زادی کو بھی اسٹبلشمنٹ نے نشانے پر رکھ لیا اور شہر قم میں زمیں کے کئی فٹ نیچے پہنچا کر چھوڑا۔ وہ تو مقامی آدمی نے اپنا باغ دان کیا اور مدفون شایان شان ہوا۔ آج بھی کیا بدلہ ہے۔ مدفن شاندار بننے سے اسٹیبلشمنٹ کی واہ واہ ہی ہوتی ہے بہرحال۔ باہر سے وہی سنہری گنبد اور نیلے اور سفید قدیم ایرانی طرز کے مینار۔ اندر ہر ہال کا جداگانہ انداز۔ شیشے کا بے تحاشا کام۔

تمام قبریں تہ خانے میں ہیں۔ اوپر ان کی پر شکوہ نشانی۔ شیشے کے کام کی چھت اور سبز اور سنہری فانوس تلے سونے چاندی میں دبی بی بی معصومہ۔ مزار کے اندر کروڑوں تومان بکھرے۔ سینکڑوں سال سے دبہ بی بی کا جسد خاکی، زائرین اور سائلین کی فریادیں سنتا، ان کی آہ وزاری کو تسلیم کرتا۔ یہاں لوگ کیا لینے آتے ہیں؟ گئی نسلوں کے ظلم کی معافی مانگنے، حاجات پوری کرانے یا روحانی عافیت برقرار رکھنے۔

آخری وجہ شاید سب سے مناسب ہو گی۔ تاریخ اگر ویسی ہی ہے جیسی بتائی جاتی تو جانے ہم کس منہ سے رسول اور آل رسول کے ہاں پہنچ جاتے۔

مزار کے احاطے کے چاروں طرف بڑی رونق تھی۔ ایک طرف دور تک قطار اندر قطار فوارے اور بارہ دری کا سا سماں۔ زیادہ تر خواتین عبایہ پوش۔

عینی بی بی کا واقعہ یاد آیا جو خاص موزے خرید کر زیارت کے لیے آئی تھیں۔ بہت محتاط لکھتی ہیں، مگر یہاں پر لکھا کہ لپ سٹک لگا کے آنے پر کسی دیہاتی خاتون نے جھانپڑ دے مارا تھا۔ ایک طرف عالی شان امام حسن عسکری مسجد۔ وہی عظیم اشان نیلے اور سفید کام والا گنبد اور مینار۔ ایک طرف گزر خان بازار جہان زیادہ عرب۔ اندر بغیر لنٹر کے سادی چھت اور مسالوں کی مہک۔ منی چینجنگ والے دکانوں کے باہر جگہ جگہ کھڑے ہو کر آوازیں لگاتے۔ 100 ڈالر کے کوئی 40 لاکھ تومان ملے۔

ہمارے ہاں بلکہ دنیا بھر میں منی چینجنگ خاصا سنجیدہ کام مگر یہاں انتہائی غیر سنجیدگی سے لب سڑک ہو رہا ہے۔ مین مری روڈ نما بازار سے گزر کر بازار کہن قم کا راستہ پکڑا۔ مین بازار میں ہر قسم کی دکان تھی۔ ہر جگہ انسان کی بنیادی ضروریات ایک سی ہوتیں اور شاید ان کو پورا کرنے والے بازار بھی۔ پیلی ٹیکسیوں والے، مسافر ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔

لوکل بسیں پاکستان سے بہتر اور یورپ سے کمتر لگیں، گو بیٹھنے کا اتفاق نہ ہوا۔ پرانا قم بازار دیکھنے کے لائق جگہ ہے۔ مٹی کی انٹرنس اور تنگ طویل دو رویہ قطار دکانوں کی۔ درمیان سے گاڑی بائیک اور پیدل سب کا راستہ۔ لگا کسی پرانی انگریزی فلم کا شوٹ چل رہا ہے۔ اٹھارہویں صدی کے کسی یورپین بازار کا گمان ہوا۔ انگریزوں نے اپنا ماضی پینٹنگز اور فلموں میں ایسے محفوظ کر رکھا ہے کہ ہر پرانے منظر کی مثال شعوری اور لاشعوری طور پر وہاں ہی سے آتی ہے۔ ملگجے پینٹ بش شرٹ میں ملبوس بڑھئی۔ لکڑی کے کارخانے۔ نجانے اب یہ لکڑی کا کام کون کراتا، اس بازار میں نسلی کام والے اب بھی معاشرے میں ریلیونٹ یا صرف اس لیے ادھر بیٹھے کہ اور کچھ کرنا نہیں جانتے۔

قم آئے اور یہ بازار نہ دیکھا تو گویا بھاڑ ہی جھونکی۔ لوہے کی بھٹیاں۔ لوہار، بھٹی میں لوہا سرخ کرتے ہوئے۔ اب تو سٹیل ملوں کا زمانہ۔ لگتا اپنے ہمسایہ ملک سے بے خبر ایرانی۔ اس بازار سے تو صرف ماضی کی جھلک ملتی ہے، انسان گزشتہ سے پیوستہ محسوس کرتا۔ کوئی سکینڈل نہیں جنما سکتا یہ بازار۔ وہ کام سٹیل مل کر سکتی ہے۔ لمبوترے نانوں کے عجیب طرز کے پرانے تنور۔ بجائے زیر زمین ہونے کے، دیوار کے اندر دہکتا الاؤ۔ اسی سرزمین پر سینکڑوں برس قبل شاید اسی طرح اسی آگ کو پوجا جاتا تھا۔

ایک چاقوؤں کی دکان کے پچھلے حصے میں کچھ بزرگ قہوے اور تاش کا شغل جاری رکھے ہوئے تھے اور کوئی روزوں کا طعنہ دے کر انہیں شرمندہ نہیں کر رہا تھا۔ لگا ہم پنجاب کے دو دہائی پرانے کسی گاؤں کی چوپال میں آ گئے۔

شام کو پہلا پڑاؤ مسجد جمکران تھی۔ قم شہر کے فلیٹ اور سڑکیں دیکھتے ہوئے شہر کے قدرے مضافات میں واقع خوبصورت مسجد پہنچے۔ قریباً 900 سال پہلے کسی کے خواب میں امام مہدی آئے اور یہاں مسجد کی تعمیر کا حکم دیا۔ مسجد بن گئی اور پھر بہتر ہوتے ہوتے 45 ایکڑ رقبے کو چوس گئی۔

عینی بی بی کتنا ٹھیک کہتیں کہ میٹافزکس کو فزکس سے الجھانا نہیں چاہیے اور لاشعوری مذہبی جذبات کی سائنسی توجیہات نہیں تلاشنی اور تراشنی چاہیے۔ ہمارا سائنسی سنی مذہب سویا نہیں تو سستایا ضرور۔

روایتی نیلگوں کے بجائے آبی رنگ کا کام۔ اندر خوبصورت ہرے فانوس۔ اتنی وسیع و عریض مسجد میں بھی جمعہ نہیں ہو سکتا ۔ کچھ سائنس ڈال ہی رکھی حکمرانوں نے غیر سائنسی کام میں بھی۔ سٹیٹ کی طاقت بہرحال مسلم۔ ہاں باقی مذہبی اجتماع خوب ہوتے۔ مذہب کے شانہ بشانہ تہذیب۔ عید سے زیادہ نوروز اہم۔ نیا سال بھی اسی سے عبارت۔

اگلی منزل میزبان کا گھر تھی جو پردیسیان کے علاقے میں تھا۔ شہر کے مضافات میں رہائشی کالونی۔ غیر فوجی ڈی ایچ اے ٹائپ۔ جس طرح ہر قدیم منظر انگریز کی فلم سے واضح کرنا آسان ہوتا، اسی طرح ہم پاکستانیوں کے لیے ہر اچھی رہائشی کالونی ڈی ایچ اے یا بحریہ ٹاؤن سے واضح ہوتی۔ فلیٹ ہی فلیٹ، بجلی، فون، گیس قریباً مفت۔ صرف سروس چارجز۔

اسی وجہ سے عام آدمی کو زندگی کا بوجھ شاید کم لگتا۔ گاڑی بھی سستے ایندھن میں جتنی مرضی بھگاؤ۔ باہر والوں کو شہریت 18 سال بعد دیتے اور وہ بھی باقی ہر شہریت ترک کرنے کی قیمت پر۔

سیکیورٹی کا معیار اتنا اچھا کہ بنکوں کے باہر بھی گارڈ ندارد۔ کہیں کوئی پولیس والا نہیں۔ حرم انٹری پر بھی واجبی سی چیکنگ۔ معیار زندگی اے ون۔ کون سے حالات خراب یہاں۔ عام آدمی تو اتنا عام نہیں یہاں۔ پھر کتب بینی کا رواج۔ جگہ جگہ کتب خانے، پبلشنگ ہاؤس اور دکانیں۔ رات ہائپر سٹار مال میں بک گارڈن نامی جگہ خوب دیکھی۔

کافی کتاب، گراموفون اور صوفے۔ دنیا کے ادب کے فارسی ترجمے۔ باقی مال بھی جدید، خوبصورت اور انتہائی معیاری مقامی برانڈز سے بھرا ہوا تھا۔ بین الاقوامی معیاری کتب کا فارسی ترجمہ یہاں پوری ٹیم دنوں میں کر ڈالتی ہے اور کتاب مارکیٹ میں۔ وہ علمی روایت فارس کی معدوم چاہے ہو گئی ہو، مری ہرگز نہیں۔ مذہبی حکومت مگر غیر مذہبی کتب اور خاص طور پر فن و ادب پر کوئی پابندی نہیں۔

صبح باورچی نے وقت سے پہلے ناشتا بنا کر ہمیں زیر بار کیا۔ حرم کا رخ کیا، اصفہان روانگی سے قبل۔ سنہری گنبد تلے عورتوں کے سلام کی جگہ پر شیشے کا کام دھوپ پی کر چمک رہا تھا۔ شیشے ایسے ٹانکے ہوئے تھے کہ لگتا تھا تیز ہوا چلی تو گر پڑیں گے۔ بی بی معصومہ منوں مٹی تلے سائلوں کے پیغام اوپر والے تک پہنچاتی ہیں۔ نجانے ڈائریکٹ ڈائلنگ ہوتی یا اماموں کے ذریعے تھرو پراپر چینل۔

کیسا تصور مذہب کا دنیا بھر میں اور خاص طور سے مشرق میں۔ کبھی لگتا کہ یہ کمزور اور پسے ہوئے بوجھ ڈھوتے لوگوں کا عارضی عصا ہے۔ کبھی روحانیت کی سائنسی اور غیر سائنسی جہتوں کو ملانے والا پل لگتا تو کبھی محض ملا کی روزی کا ذریعہ۔ ایرانی حکومت بھی سنا حرم کی مقروض۔

ٹیکسی پر اصفہان کا سفر شروع کیا۔ پہلے کھیت پھر وہی اپنی طرف کے بلوچستان سا صحرا۔ سرخ ریت کے پہاڑوں کی قطار، ان کے پیچھے پہاڑوں پر برف۔ عجیب ناممکن سا امتزاج۔

ڈرائیور اور میں ایک دوسرے کی زبان سے نا آشنا مگر وہ باتوں کا شوقین۔ فارسی، انگریزی، اردو، اشاروں اور تاثرات کے مجموعے کی مدد سے تاریخ، جغرافیے، طب، روحانیت وغیرہ پر گفتگو رہی۔ ایران میں بیشتر لوگ انگریزی سے آشنا نہیں۔ یہ بین الاقوامی زبان کچھ عرصہ پہلے ہی نصاب میں شامل کی گئی ہے۔ انسان مگر انسان کو سمجھ ہی لیتا چاہے پوز نہ بھی کرے۔

راستے میں شہر کاشان آیا۔ دل تو چاہا پر تنگی وقت نے مہلت ہی نہ دی سو اسے چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ یہاں کے لوگ گلاب اگاتے ہیں اور پھر ان کا رس نچوڑ کر بیچ ڈالتے ہیں۔ جہاں شاید پانی کی فراوانی تھی، وہاں صحرا میں کھیت آگ آئے تھے ورنہ تین گھنٹے کے سفر میں کم و بیش ایک سا منظر رہا۔ پرویز مشرف یاد آئے جنہوں نے میرانی ڈیم بنا کر تربت و گوادر کے بیچ پنجاب کا گاؤں اگا ڈالا تھا۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS