پاکستانی اور بھارتی خواتین کی بارڈر کراسنگ


برصغیر پاک و ہند ہمیشہ سے نت نئی اور عجیب و غریب خبروں کا مرکز رہا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر پاکستانی اور بھارتی خواتین کے بارڈر کراسنگ کے بڑے چرچے ہیں۔ اس دوڑ میں پہل ایک پاکستانی خاتون نے کی۔ پاکستان کی سیما حیدر کی شادی سال 2014 میں جیکب آباد کے رہائشی غلام حیدر سے ہوئی تھی۔ اس شادی سے ان کے چار بچے ہوئے۔ بعد ازاں دونوں کراچی شفٹ ہو گئے اور 2019 میں غلام حیدر کام کے سلسلے میں سعودی عرب چلے گئے۔

یہ وہ وقت تھا جب سیما نے سچن مینا سے بات کرنا شروع کی اور اس کا ذریعہ ایک آن لائن گیم تھا۔ اسی دوران بھارتی خاتون نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور پاکستان پہنچ گئی۔ یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا کے رہائشی نصر اللہ کی چند سال قبل انڈیا کی ریاست اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی خاتون انجو سے سوشل میڈیا کے ذریعے بات چیت ہونا شروع ہوئی جو وقت کے ساتھ دوستی میں بدل گئی جس کے بعد رواں ماہ 21 جولائی کو انجو اس پاکستانی نوجوان سے ’ملنے‘ کے لیے پاکستان پہنچ گئی۔

انجو پہلے سے شادی شدہ ہیں اور وہ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ انڈیا کے الور شہر کے علاقے بھیواڑی میں رہتی تھیں۔

یہ دو شادی شدہ خواتین کی روداد تھی پاکستانی کے چار بچے اور ہندوستانی کے کے دو۔ اس موبائل نے نہ جانے کتنے گھروں کو تباہ کیا برصغیر پاک و ہند میں سمارٹ فون کا استعمال اچھے مقاصد کے لیے کم اور گندگی کے لیے زیادہ ہوتا ہے اور یہی اس کا نتیجہ ہے ایک لمحے کے لیے اندازہ کیجئے پاکستانی خاتون نے انتہا کر دی اپنے شوہر کو چھوڑ دیا جو اس کی خاطر وطن سے دور مزدوری کرنے کے لیے گیا اور محنت مزدوری کر کے بے وفا بیوی کے نام مکان کیا اور بالآخر مہنگا مکان سستے میں دے کر براستہ کھٹمنڈو بھارت پہنچ گئی۔ وہاں پہنچ کر اور انتہا کر دی اپنا مذہب بھی تبدیل کر لیا اور بغیر طلاق حاصل کیے ہوئے شادی بھی رچا لی۔ اس خاتون کو اسلامیات کی بنیادی باتوں کا بھی پتہ نہیں۔ ایک یوٹیوبر نے نمازوں کا پوچھا چھوٹی چھوٹی اسلامیات کی باتیں پوچھیں مگر جواب غلط۔ یاد رکھیں جب انسان پر زوال اتا ہے تو وہ دنیا کے ساتھ ساتھ اخرت کے بھیانک عذاب کی طرف بھی دوڑ دوڑ کر جاتا ہے یہی کچھ اس پاکستانی خاتون نے کیا جب بات پاکستان اور بھارت کی ہو تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کوئی پاکستانی اس کا جواب نہ دے ایسا ہی ہوا اور جواب میں بھارتی خاتون اپنے شوہر خاندان دو بچوں سب سے بڑھ کر اپنے وطن کو چھوڑ کر پاکستان پہنچ گئی۔ اخباری ذرائع کے مطابق بھارتی خاتون نے بھی بغیر طلاق کے شادی کر لی اور اپنا مذہب بھی تبدیل کر لیا۔ سمجھ سے بالاتر ہے ہم کس راستے پر چل پڑے ہیں عزت اور وقار صرف کتابوں میں پڑھتے تھے۔ اب تو نہ کسی کو اپنی عزت کا خیال ہے اور نہ ہی اپنے ساتھ جڑے ہوئے رشتوں کی عزت کا۔ سوچتا ہوں یہ دونوں خاندان کس طرح معاشرے کا سامنا کریں گے۔ دنیا موبائل ایپس کے ذریعے کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ مگر ہماری وہی چھوٹی سوچیں۔ میرے نزدیک سب سے مشکل کام اپنا مذہب تبدیل کرنا ہے اور مذہب بھی خوش قسمتی سے ایسا مل جائے جس کو دین اسلام کہتے ہیں تو پھر اور کیا چاہیے لیکن جس کی قسمت میں ذلت اور خواری لکھی ہو وہ اس کو مل کر ہی رہتی ہے۔ ان دونوں خواتین کو بہت جلد اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ ہزار باتوں کی ایک بات اپ کسی پر اعتماد نہیں کر سکتے

.

Facebook Comments HS