ڈاکٹر فاروق عادل کی کتاب: ہم نے جو بھلا دیا


مجھے بالکل یاد نہیں کہ میری ڈاکٹر فاروق عادل سے ملاقات کب، کیسے اور کس کی وساطت سے ہوئی۔ بہرحال جوں جوں ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا یہی محسوس ہوا کہ ہجوم سے الگ یہ وہ شخصیت ہے جس کے لیے احترام واجب ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر فاروق عادل انتہائی نفیس، مخلص، وضع دار اور با اخلاق انسان ہیں۔ بہت نپی تلی گفتگو کرتے ہیں اور ایک شفیق سی مسکراہٹ ہمیشہ ان کے لبوں پر رقصاں رہتی ہے۔ مسکراہٹ کا سبب تو شاید فیصل آباد کی زرخیز مٹی سے ہو۔ مگر ان کا رہن سہن ان کی ایماندارانہ صاف شفاف زندگی کا امین ہے۔

ایک دفعہ کسی مشہور شخصیت کے گھر کی وائرل ہونے والی کہانی کے حوالے سے میں نے ان سے تفصیلات پوچھنی چاہی تو ڈاکٹر فاروق عادل نے برملا جواب دیا میں کسی کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ایسے خیالات ہی تو شخصیت کے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

تاریخ پاکستان کے گم شدہ اوراق ”ہم نے جو بھلا دیا“ ایک تاریخی دستاویز ہے جسے قلم فاؤنڈیشن نے بڑے اہتمام سے چھاپا ہے۔ میں اس کتاب کو گم شدہ اوراق تو نہیں کہوں گی کیونکہ یہ جبری۔ آنکھ اوجھل اوراق تو ہو سکتے ہیں مگر قابل فراموش یا گمشدہ ہر گز نہیں۔ جب تک فاروق عادل جیسے منصفانہ تجزیۂ نگار، بے لاگ مبصر اور جرات مند جرنلسٹ موجود ہیں بھلا عہد حاضر کی تاریخ گم کیسے ہو سکتی ہے۔ یہ کتاب چھپ کر آئی تو میں بے چین ہو گئی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب فوری طور پر میری نظر سے نہ گزرے۔ ڈاکٹر فاروق عادل صاحب کی عزت افزائی کہ وہ بہ نفس نفیس کتاب پیش کرنے آئے اور میں نے بھی اسی محبت اور یکسوئی کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا۔

چار سو چونتیس صفحے کی اس کتاب کو پڑھتے ہوئے بارہا دل کو تھامنا پڑا، آنسوؤں کو پینا پڑا، اور سسکیوں کو چھپانا پڑا۔ بار بار خیال آتا رہا ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارے ملک پاکستان کو مٹھی بھر لوگوں نے اپنے ذاتی مفاد، اقتدار کی ہوس اور طاقت کے نشے کی بھینٹ چڑھا دیا ہو۔ ڈاکٹر صاحب نے کتاب کے آغاز میں اپنے والد کا ایک قول نقل کیا ہے کہ آج اگر قائد اعظم اور اقبال بھی زندہ ہوتے تو یقیناً جیل میں ہوتے۔ پوری کتاب پڑھنے کے بعد یہ حقیقت من و عن آشکارا ہو جاتی ہے۔ کہ اعلیٰ منصب پر بیٹھے لوگ کتنے چھوٹے ذہنوں کے ہوتے ہیں۔ جن کی سوچ ان کی ذات سے نکل ہی نہیں پاتی۔ اور جو جسد خاکی کے پنجرے میں قید رہ کر ہی کنویں کے مینڈک بنے رہتے ہیں۔ اور ہم انہیں کیا سے کیا سمجھتے ہیں اور کیسی کیسی اونچی مسند پر بٹھاتے ہیں۔

کتاب پڑھنے کے بعد مصدقہ دلائل کی وجہ سے شخصیتوں کے بہت سارے برج گرتے ہیں بہت سے واقعات کی روشنی میں طے شدہ رائے بدل جاتی ہے۔

میں اپنے مطالعے کی روشنی میں چیدہ چیدہ واقعات کی طرف اشارہ کرنا چاہتی ہوں۔ تاکہ آپ کے تجسس کو بڑھاوا ملے

آپ اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجیئے کیونکہ عہد حاضر کی تاریخ سے مکمل آگہی سے ہی تاریخی واقعات کو جاننے، سمجھنے اور آئندہ کے لیے راہ عمل درست کرنے کا موقع ملے گا۔

پہلے باب میں یعنی قیام پاکستان کے فوراً بعد لیاقت علی خاں اور وزیر اعلیٰ سندھ ایوب کھوڑو کی کشمکش، مہاجرین کی بحالی، کراچی کی زمین لیز پر دینے کا معاملہ، مہاجرین کو مالکانہ حقوق نہ دینے کی چال، لیاقت علی خاں کا نمائشی پودوں کے لیے پانی کی قلت کے باوجود زائد پانی کا مطالبہ اور وزیر سندھ ایوب کھوڑو کی معذرت، بھارت کے حصے کے طیارے بھارت کو نہ دینے پر وفاق اور صوبے کی کشمکش۔ ایوب کھوڑو وفاقی رائے کے حق میں نہ تھے۔ سو ایوب کھوڑو کو برطرف کر کے خورد برد کے افسوسناک الزامات لگانا۔

روس کا دورہ، امریکہ نواز لابی کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا یعنی غیر متعلقہ لوگوں کا خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کی اندرونی کہانی،

مرزا عبدالرحمان اور انیس مجید ڈانڈیا کے بقول حکومت کی مصلحتوں کی وجہ سے پاکستان میں ہمیشہ ایسا طاقت ور طبقہ موجود رہا ہے جس کے جرائم سے آنکھیں بند کر لی گئیں اور اس کا نقصان حکومتوں کو برداشت کرنا پڑا

پیر علی محمد راشدی کے بقول گورنر جنرل غلام محمد کی خوشی کا لب لباب ملاحظہ فرمائیے۔

”تم کو معلوم ہے اللہ تعالیٰ نے کس طرح پاکستان کو بچا لیا ہے؟ لیاقت علی خاں کے مرنے کے بعد خزانہ بالکل خالی ہو چکا تھا ملازموں کی تنخواہوں کے لیے بھی پیسہ نہیں تھا۔ میں بھاگتا ہوا امریکہ گیا وہاں بڑی دوڑ دھوپ اور انتہائی منت سماجت کر کے میں نے امریکہ کو رضا مند کر لیا ہے کہ وہ ہماری مالی مدد کرے۔ امداد کے عوض ہم کو ان کے ساتھ کچھ دوستی کے معاہدے کرنے پڑیں گے جن کی تفصیل طے کرنے کے لیے ظفراللہ (وزیر خارجہ) وہاں گیا ہوا تھا خدا کے رحم و کرم سے اب سب باتیں طے ہو گئی ہیں۔ اور 1953 میں حکومت نے امریکہ سے اتنا گر کر غذائی امداد مانگی کہ کراچی کی بندرگاہ پر اترنے والی گندم جن اونٹوں پر لادی گئی، ان کے گلے میں تھینک یو امریکہ کی تختیاں لٹکا دی گئیں۔

1984 میں برصغیر کی تقسیم کے لیے قائم کیے جانے والے باؤنڈری کمیشن کے رکن اور نظریہ ضرورت متعارف کروانے والے جسٹس منیر کی ناعاقبت اندیشی کے فیصلے۔ جنہوں نے پاکستان کو سیاسی، سماجی اور اقتصادی اعتبار سے تباہی کی طرف دھکیلا۔

عدلیہ کا اقتدار کی کشمکش میں حصہ بننا، گورنر جنرل غلام محمد اور جسٹس منیر کی ملی بھگت کا قصہ

ایوب کا دور حکومت اور اس کی شاطرانہ چالیں۔ ایبڈو ( الیکٹو باڈیز ڈسکوالیفکیشن آڈر) قانون کے تحت سیاست دانوں کے ساتھ غنڈا گردی۔

بیورو کریٹ کی نااہلیاں تاشقند پہنچتے ہی معلوم ہوا کہ وزارت خارجہ نے ایوب خاں کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کے لیے ان کی تقریر کا مسودہ ہی تیار نہیں کیا۔ بیوروکریسی کے سامنے ایوب خاں کی بے بسی۔ تاشقند مذاکرات کی ناکامی

شیخ مجیب کا بھارت کی طرف جھکاؤ کا قصے کا ذکر مگر میرے رائے میں محض اس خیال کو سقوط ڈھاکہ کے سانحے کا جواز بنا کر ہم اپنی کوتاہیوں اور نا انصافیوں کا ازالہ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے برسوں کا سفر کرنا پڑتا ہے اگر بھارت بنگلہ دیش میں یہ سفر طے کر رہا تھا تو انتظامیہ کہاں سو رہی تھی۔

شیخ مجیب الرحمان کی سرگرمیوں کو مغربی پاکستان کے صحافیوں اور صاحب اقتدار نے کیوں غفلت میں رکھا
حیدرآباد سازش کیس کے معاملے میں بھی عدلیہ کے کردار پر سوالیہ نشان ہیں؟

انتشار میں مخفی پھندا۔ بھٹو صاحب کے سری لنکا کے نجومیوں کی بات ادھوری ہی رہی۔ اور حالات کے آہنی ہاتھوں نے بھٹو کو دبوچ لیا

اصغر خاں کے خط کا معاملہ، جنرل ضیاء کی حد سے تجاوز شاطرانہ چالیں اور مارشل لاء کا راستہ ہموار کرنے کے معاملے میں اصغرخان کی درپردہ کاوشوں نے تو آنکھوں سے یوں پٹیاں اتاریں ہیں کہ سیاست کدہ اور حکمران کدہ حیرت کدہ بن کر سامنے آتا ہے اور یوں لگتا ہے شہنشاہیت کی خو بو تقسیم کے ساتھ ہی انگریزوں نے ایک پوٹلی میں باندھ کر ہمراہ کردی تھی جو جناح کی نظروں سے اوجھل رہی

بھٹو کی پھانسی کے بعد سندھ میں ضیاءالحق کے استقبال کے مناظر بھی دلچسپی سے خالی نہیں
نواز شریف کی اعتماد کے ووٹ کی کہانی کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
اور
دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
صدر مملکت رفیق تارڑ اور چیف ایگزیکٹو جنرل مشرف کے درمیان ہونے والے مکالمات میں یہی کہہ سکتے ہیں

جنہیں تہہ خاک اور تہہ تیغ ہونا چاہیے وہ دندناتے پھرتے تھے اور جو عنان اقتدار کے قابل تھے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری گئیں۔ کتنی مجروح اور کراہت آمیز ہے ہماری تاریخ۔

پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدام کی پھرتیاں
ضلعی انتظامیہ کا قتل۔ میں فیض آباد دھرنے کی تفصیلات کو مزید کھول کر بیان کرنے کی ضرورت تھی۔

اس کتاب کا آخری باب بھی بہت دلچسپ ہے۔ ”یہ توہم کا کارخانہ ہے“ میرا خیال اس باب کا عنوان ہونا چاہیے تھا بڑے لوگوں کے چھوٹے ذہن اور کمزور عقیدے۔

گورنر جنرل محمد علی کا حاجی وارث علی شاہ، ایوب خاں کا پیر دیول شریف، بھٹو کا جمن فقیر، بے نظیر کا اجمیر شریف اور ملتانی بابا، نواز شریف کا بھی دیوانہ بابا، زرداری کا پیر محمد اعجاز اور فقیر ممتاز علی اور عمران خان نے تو لٹیا ہی ڈبو دی

یہ ہیں ہمارے اور آپ کے حکمران۔ اللہ اور خیر سلا

Facebook Comments HS