آتشیں رنگت کا عروسی جوڑا پارٹ(2)


26 جون کا دن سال کا شاید گرم ترین دن تھا۔ صبح سویرے ناشتہ کرنے کے بعد باہر کھیتوں میں سیر کو نکل گیا۔ واپسی پر دیکھا کہ میجر صاحب نے بارات روانگی کے تمام معاملات اپن ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں، مجھے دیکھتے ہی فوراً بولے تم کہاں پھر رہے ہو؟ اب تک تیار نہیں ہوئے، تمہیں پتہ ہے آج کونسا دن ہے؟میں نے سادگی سے نفی میں سر ہلا دیا۔وہ مسکراتے ہوئے بولے جلدی کرو،تیار ہو جاؤ بس تمہاری ہی دیر ہے۔ آدھ پون گھنٹہ کے بعد ایک عدد بس اور دو چھوٹی چھوٹی کاروں پر مشتمل بارات کا قافلہ منزل مقصو د کی طرف روانہ ہو گیا۔بارات کی روانگی کے پندرہ بیس منٹ بعد معلوم ہوا کہ اسلم تو گھر میں ہی رہ گیا ہے، اب اس کے والد کی ناراضگی قابل دید تھی۔اس موقع پر ان کے بولے ہوئے ڈائیلاگ مجھے آج بھی یاد ہیں "شادی ہوتی میرے بیٹے کی اور میں دیکھتا کہ تم لوگوں کے بغیر بارات روانہ کیسے ہو جاتی، دیکھو لوگو غضب خدا کا میرا بیٹا تم لوگوں کی کسی گنتی میں ہی شامل نہیں ہے، تم نے چلتے وقت اس کا دھیان ہی نہیں کیا۔”بہر حال کچھ دیر بحث و تکرار، معافی تلافی اور منت سماجت کے بعد بارات کاروان دوبارہ اپنی منزل کی جانب گامزن تھا۔تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے کے سفر بخیر کے بعد ہم تمہارے گاؤ ں کے نزدیک پہنچ گئے۔ جب ہم بڑی سڑک کو چھوڑ کر تمہاری بستی کی طرف روانہ ہوئے تو یہاں پر کوئی باقاعدہ راستہ موجود ہی نہ تھا۔ زمینوں کے درمیان سے ایک راستے پر تین چار بار ٹریکٹرگزار کر بس ایک نشاندہی سی کی ہوئی تھی۔ ہمارا قافلہ اس راستے پر چیونٹی کی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک نالہ کو عبور کرتے ہوئے ہماری بس ایک ہچکولے کے ساتھ رُک گئی۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر دونوں نے نیچے اُتر کر بس کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اعلان کیا کہ بس کا ایکسل ٹوٹ گیا ہے۔ یہاں سے تمہاری بستی زیادہ سے زیادہ تین چارسو فٹ کے فاصلے پر ہو گی۔ چنانچہ لوگوں کو بس سے اُتر کر بقیہ فاصلہ پیدل طے کرنے کی ہدایت کر دی گئی اور ڈرائیور اور کنڈیکٹر ایکسل کو کھول کر ورکشاپ لے جانے کے لیے اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔ سب لوگ پیدل چل رہے تھے۔ چاروں طرف تا حد نگاہ زمینیں بنجر اور بے آباد نظر آ رہی تھیں۔ کسی بھی فصل کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ بلکہ درخت بھی شاذ شاذ ہی نظر آ رہے تھے۔ ایسے لگتا تھا کہ مدت سے ان زمینوں میں کوئی کاشت نہیں ہوئی۔ عجیب سی وحشت محسوس ہو رہی تھی اور اس کے اثرات بارات میں موجود لوگوں پر بھی بآسانی محسوس کیے جا سکتے تھے۔ چلتے چلتے ایوب میرے قریب آیا اور بولا۔ تم کہاں پھنس ہو گئے ہو؟ بنجر اور بانجھ زمینوں میں۔ ظاہر ہے اس کے اثرات یہاں کے مکینوں پر بھی ہوں گے۔ میں خاموش رہا۔ مجھے علم تھا کہ گذشتہ دو سالوں سے نہری پانی یہاں نہیں پہنچ رہا۔ کیونکہ اس نہری پانی کو ایک سائفن کی مدد سے بڈھا دریا عبور کروا کریہاں پہنچایا گیا تھا اور پچھلے دو سالوں سے سائفن ٹوٹ جانے کی وجہ سے نہری پانی یہاں پہنچ نہیں پا رہا تھا۔ زیرِزمین پانی نہ صرف یہ کہ کاشت کے قابل نہیں تھا بلکہ وہ زمینوں میں کلر اور تھور پیدا کرکے انہیں تیزی سے ناکارہ بنا دیتا تھا۔ اس لیے لوگ باگ نہر کے پانی کی بحالی کے انتظار میں تھے۔ ہم بستی میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ پوری بستی کو رنگ برنگ کی جھنڈیوں سے خوب سجایا گیا تھا۔ استقبالیہ میں موجود عورتوں اور مردوں کے علاوہ بچوں کی کثیر تعداد نے ایوب کے خدشات کو کافی حد تک دورنہیں تو کم ضرور کر دیا تھا۔
یہاں ہم نے ماموں نظام دین کے گھر میں ایک بہت بڑے شیشم کے درخت کے نیچے بچھی ہوئی چارپائیوں پر قیام کیا۔ کیونکہ تمہارے گاؤں میں بجلی نہیں تھی۔ اس لیے ہم اپنے ساتھ ایک چھوٹا سا جنریٹر اور تین چار پیڈسٹل فین بھی لے کر گئے تھے۔ یہاں پر جنریٹر چلا کر پنکھے چلا دیے گئے اور ایک پنکھا تمہارے کمرے میں بھی تمہارے لیے بجھوا دیاگیا۔ میرے ہاتھوں پر مہندی لگی ہوئی تھی۔ ایک ہاتھ کی کلائی پر گھڑی اور دوسرے ہاتھ کی کلائی پر دھاگے سے بنائے گئے رنگ برنگے پھولوں والا گانا باندھا ہوا تھا اور گلے میں نوٹوں والے بہت سارے ہار پہنے ہوئے تھے۔ پنجابی فلموں میں دکھائے گئے روایتی دلہے اور مجھ میں فرق صرف سہرے اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہاکی کا تھا۔ باقی سب شگن مکمل تھے۔ نکاح کے بعد چارپائیوں پر بیٹھ کر ہی کھانا کھایا گیا۔میں ابھی کھانے سے فارغ ہوا ہی تھا کہ گھر سے ایک چھوٹی سی بچی آئی اور میرے کان میں اطلاع دی کہ باجی کے کمرے والا پنکھا بند ہو گیا ہے۔میں اسی طرح بے دھیانی میں اٹھ کر اس کے ساتھ چل دیا،جوں ہی تمھارے کمرے میں داخل ہوا تو تمہاری تین چار سہیلیاں شور مچاتی ہوئی آگے بڑھیں "تم کیا کر رہے ہو، تمہارا یہاں کیا کام ہے، یہ دلہن کا کمرہ ہے” اب مجھے صحیح صورتحال کاادراک ہواکہ میں تو آج کی اس بارات کا دلہا ہوں۔میں نے تمہاری طرف نگاہ دوڑائی تو تمہارے آتشی رنگ کے عروسی جوڑے سے آگ کے شعلے لپکتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔میں نے وضاحت کی کہ میں تو اپنی دلہن کو گرمی سے بچانے کے لیے یہ پنکھا ٹھیک کرنے آیا ہوں۔وہ پنکھا بھی کوئی بھلی نسل کا ہی تھا کہ ریگولیٹر کے ساتھ بس ایک دو بار چھیڑ خانی کرنے سے ہی دوبارہ چل پڑا۔دودھ پلائی کی رسم میں لاگ کی سودے بازی کا آغاز صادق صاحب نے چونی کی خطیر رقم سے کیا، جس پر حزب مخالف نے شدید احتجاج نوٹ کروایا۔اس کے بعد لاگ کی رقم اس دلیل پر بڑھا کر ایک روپیا کر دی گئی کہ آپ دس لڑکیوں کے حصے میں دس پیسے فی کس کے حساب سے ایک معقول رقم آجائے گی۔ تھوڑی دیر کی لے دے کے بعد اس معاملے کو فریقین کی باہمی رضا مندی سے ایک ہزار روپے میں نمٹا دیا گیاا۔ اس کے بعد سلامیوں کی رسم میں دلہا اور اس کی ماں بہنوں کو سٹھنیوں سے نوازا گیا۔ سٹھنیاں دراصل وہ منظوم گالیاں ہوتی ہیں جن کو گا کر دلہا اور اس کے اہلِ خانہ کی عزت افزائی کی جاتی تھی۔ ماں جی بارات کے ساتھ نہیں آئی تھیں کیونکہ اُن دنوں مائیں بارات کے ساتھ جانے کی بجائے گھر کے بکھرے ہوئے معاملات کو سمیٹتی تھیں۔ بارات جس گھر میں گئی تھی وہ میری بہن کا گھربھی تھا، میرا ننھیالی گھربھی تھا اور تمہارا ننھیالی گھر اور تمہارا ما ئیکہ بھی وہی تھا کیونکہ بڑی نواسی ہونے کی وجہ سے تم اپنے ننھیال میں ہی پلی بڑھی تھیں۔ اس لیے بارات بھی یہی اتری تھی۔ گویا کہ سٹھنیوں کا بڑا حصہ تو واپس انہی کی طرف جا رہا تھا بہرحال ان تمام رسومات کی ادائیگی کے بعد ہم رات گئے واپس گھر پہنچے۔ میں اپنے گھر کی بیٹھک کے سامنے بنے ہوئے تھڑے پر بیٹھا کافی دیر تک یار دوستوں سے گپ شپ کرتا رہا۔ تقریباََ آدھی رات تک یہ محفل جمی رہی۔ اس کے بعد مقامی دوست تو اُٹھ کر گھروں کو چل دیے۔ مہمان وہیں پر بچھی ہوئی چارپائیوں پر سیدھے ہو گئے۔ میں سونے کے لیے اپنے گھر میں داخل ہوا تو صحن میں چارپائیوں کی ایک لمبی قطار میں خواتین پڑی سو رہی تھیں۔ ان میں ہی کہیں تم بھی موجود تھیں۔ میں کچھ دیر تک وہاں کھڑا سر کھجاتا حالات کی گھمبیر تا پر غور کرتا رہا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا کرنا ہے۔ اتنی دیر میں میری ایک بھابھی کی آنکھ کھل گئی۔ وہ آہستہ سے بولی۔ تم یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو؟ جاؤ باہر جا کر آرام سے سو جاؤاور میں حسبِ ہدایت تھڑے پر پڑی ہوئی چارپائیوں میں سے ایک پر آرام سے پڑ کر سو گیا۔اس طرح ہم تم دونوں ایک مقدس رشتے میں بندھ کر زندگی کے مسرتوں، شادمانیوں اور نعمتو ں بھرے خوبصورت دور میں داخل ہو گئے۔

Facebook Comments HS