پسماندہ ممالک میں پارٹی، نظریات اور تنظیمی ڈسپلن کا سوال
ساتھیو۔
آج ہم جس قضیہ پر بات کرنا چاہ رہے ہیں۔ وہ ہے ہمارے جیسے ترقی پذیر پسماندہ ممالک میں حقیقی سماجی تبدیلی لانے والی پارٹیوں کی نظریاتی و تنظیمی ساخت کا سوال۔ ہمارے لیے بھی اس پر بات کرنا آسان نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ باوجود اس بات کے کہ انقلاب فرانس سے لے کر آج تک ہونے والے تمام انقلابات تیسری یا پسماندہ دنیا میں آئے۔ لیکن یہ پسماندہ دنیا اپنی تعمیر و ترقی کے اعتبار سے ایک جیسی نہیں تھی، نہیں ہے۔ ان تمام ترقی پذیر ممالک میں اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر مختلف النوع طبقاتی رشتے تھے اور ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں انقلابی جدوجہد کے طرز طرز کے رنگ نظر آتے ہیں۔ دوسری بات انقلابات کی بھی کوئی ایک شکل نہیں رہی۔ ہر ملک میں ایک الگ تجربہ ہوا۔ لیکن چار مشترک اقدار ان تمام میں پائی جاتی ہیں۔ نمبر 1۔ استعماری/ سامراجی لوٹ کھسوٹ۔ نمبر 2۔ کسانوں کا اکثریت میں ہونا۔ نمبر 3۔ جدوجہد کا ہدف سرمایہ دارانہ نظام کی بجائے جاگیردارانہ نظام اور اس کی باقیات کا خاتمہ۔ نمبر 4۔ مڈل کلاس اور اس کی نچلی پرتوں کا محنت کشوں کے ساتھ کھڑا ہونا۔
اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم سرمایہ داری کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ہم ملک میں صنعتی عمل کے بڑھاوے کے پرچارک ہیں۔ تفصیلات سے آپ تمام دوست آگاہ ہیں۔ کئی ایک سوالات میں سے دو ایک اہم نظریاتی سوالات کو بھی اس موقعہ پر کھولتے چلیں۔ تاکہ ابہام کی گنجائش کو کم سے کم کیا جائے۔ مثلاً ہمارے جیسے ممالک میں انتخاب یا انقلاب، عمومی طور پر بندوق کی نالی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اس وقت بائیں بازو کا ایک بڑا حصہ عوام تک رسائی حاصل کرنے کے طور پر انتخابی عمل کو اپنائے ہوئے ہے۔ لیکن انقلاب کے طریقہ کار کا حتمی فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا۔ پارٹی نے کسی بھی راستہ کو بند نہیں کیا ہوا۔ دوسرا کیڈر یا عوامی/ ماس پارٹی۔ ہمارے نزدیک ہر کیڈر پارٹی ایک ہی وقت میں ماس پارٹی بھی ہوتی ہے۔ اگر عوام پارٹی کو شرف قبولیت کی نہ بخشیں، اس کا کیڈر یا ماس پارٹی ہو نے کا سوال بے معنی ہو جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بہت سے نقصانات بھی ہوئے۔ ان تمام دھچکوں کی بھی ہر ملک کی اپنی الگ شکل ہے۔ لہذا پارٹی بنانے سے لے کر ہر ملک کی سماجی تبدیلی کی ایک جیسی شکل نہیں رہی۔ دوسرا ان تمام تبدیلیوں بارے جو کچھ بھی لکھا پڑھا گیا۔ وہ سوویٹ یونین کی موجودگی تک زیادہ نظر آتا ہے
دوسری مشکل سوویٹ انہدام نے پیدا کردی۔
سوویت یونین کے بعد بڑی تبدیلیاں لاطینی امریکہ میں نظر آتی ہیں۔ لاطینی امریکہ میں بھی تبدیلیوں کی اپنی مشکلات ہیں۔ پہلی تو یہ کہ ہماری تمام تر کوشش کے باوجود لاطینی امریکہ بارے ہمیں کم معلومات ہیں۔ دوسری وہی تیسری دنیا والی مشکل کہ ہر ملک کی سیاسی، طبقاتی و تنظیمی شکل ایک دوسرے مختلف ہے۔ لاطینی امریکہ کی تبدیلیاں باقی تیسری دنیا کی تبدیلیوں سے کیفیتی اعتبار سے قدرے مختلف بھی ہیں۔ باقی تیسری دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں میں دو باتیں مشترک تھیں۔ ان تمام انقلابات میں اشتراکیت پذیری اور سامراج دشمنی ان کا طرہ امتیاز رہا ہے جبکہ لاطینی امریکہ کی تمام تبدیلیوں میں سامراج دشمنی قدر مشترک ہے۔ یہ بات ہم سوویٹ یونین کے بعد کی کر رہے ہیں۔
ہمارا بنیادی سوال تو پسماندہ ممالک میں ترقی پسند پارٹی کی تشکیل کا ہے۔ یہاں ہم پسماندہ دنیا کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے زیادہ توجہ پاکستان پر رکھیں گے۔ تاکہ اپنے قضیہ کو سمیٹ بھی سکیں۔ ہمارے نزدیک پارٹی کا سوال انقلابی تبدیلی کی نظریاتی ساخت سے جڑا ہوا ہے۔ مطلب ہم تیسری دنیا میں کس قسم کی سماجی تبدیلی دیکھتے ہیں۔ کافی حد تک ہم اوپر اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ لیکن سوال ہمارے اکیلوں کا نہیں۔ بھانت بھانت کے نقط نظر ہیں۔ نشاندہی ٹھیک بات نہیں ہو گی۔ یہ ہمارا کوئی صرف پاکستان مسئلہ نہیں ہے۔ ساری تیسری کا ہے۔ ہم تیسری دنیا اس لیے کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے کو پسماندہ ممالک کی حد تک محدود رکھ کر بات کر رہے ہیں۔
اگرچہ ہم نے اب تک کی گفتگو میں کچھ باتیں اپنی حد تک طے کر لی ہیں۔ نمبر 1۔ کہ ترقی پذیر ممالک کی ترقی کی سطحیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ نمبر 2۔ ان کو درپیش فوری مسائل بھی مماثل نہیں ہیں۔ تیسری بات جو اب ہم کہنے جا رہے ہیں۔ وہ کہ ان ممالک کی پارٹیوں کو اپنے مخصوص سوشو اکنامک حالات میں اشتراکیت اور سامراج دشمنی کو نظر سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ پرولتاریہ کی اصطلاح کو محنت کش کے تصور میں تبدیل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
اس لیے کہ ہمارے جیسے ممالک میں صنعتی عمل بہت پچھڑا ہوا ہے۔ اس کے دوسری طرف ایک اور بات بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ چلیں پاکستان کی بات کر لیتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے نتیجے میں شہری زندگی میں ہونے والی بڑھوتری کو نظر انداز کر کے آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ اس کے اپنے اثرات ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم نیم فیوڈل نیم قبائلی سماج ہیں۔ ہاں البتہ یہاں ایک بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے، کہ تیسری دنیا میں بھی جو لوگ پارٹی کے ہراول کے طور پر اپنے آپ کو پیش یا وقف کرتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر انہی داخلی صفات کے حامل ہونے چاہیں، جو پرولتاری انقلابیوں میں پائی جاتی ہیں۔
اس سے ہمارے نزدیک کیڈر یا عوامی/ماس پارٹی کا سوال بھی حل ہو جاتا ہے۔ پارٹی کا رہنما ادارہ ہمیشہ کیڈر سے بھی بلند درجہ پر ہوتا ہے۔ پارٹی مختلف سطحوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اگلی بات پارٹی اور سامراج دشمن محاذ پر بہ یک وقت کام کرنے کی ضرورت پہ بھی اپنی گہری نظر ہونی چاہیے۔ اشتراکیت اور سامراج دشمنی ہماری نظریاتی ساخت کے دو مرکز ہیں۔ نظریاتی شفافیت کے بغیر ڈسپلن کا سوال بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

