اسلامیہ یونیورسٹی سکینڈل اور ملتان کی ایک یونیورسٹی کا واقعہ
پاکستانیوں کو انٹرٹینمنٹ کے مواقع تو ملتے نہیں ہیں، سیاحت اتنی مہنگی ہو گئی ہے کہ عام آدمی صرف پروگرام ہی بنا سکتا ہے، ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو بہت اچھی لگی، ویڈیو میں ایک دوست دوسرے سے کہتا ہے کہ یار پروگرام بنا رہا ہوں کہ کاغان، ناران کا ٹور پھر کرلوں، دوست پوچھتا ہے کہ اچھا پہلے بھی گئے تھے تو وہ جواب دیتا ہے نہیں پہلے بھی پروگرام ہی بنایا تھا
سوشل میڈیا ایک عذاب سے کم نہیں، چھوٹی سی ویڈیو بنا کر اس پر پھینک دو، منٹوں میں اتنی وائرل ہوجاتی ہے کہ بندے بندے کی زبان پر ایک ہی بات ہوتی ہے ”اوئے او ویڈیو ویکھی اے“ ، کوئی بھی اس کی تصدیق کرنے کی زحمت نہیں کرتا اور ہمارے ادارے بھی ماشاءاللہ دھنیا پی کر سوئے رہتے ہیں، معاملہ زیادہ اچھلے تو کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں اور یہ کمیٹیاں محلے میں کمیٹی ڈال کر بھاگنے والی عورت کی طرح کی ہوتی ہے، بعد میں ڈھونڈتے رہیں کہ کمیٹی کہاں گئی
آج کل اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ویڈیو سکینڈل کا بہت چرچا ہے، ہر کوئی اپنی اپنی ہانک رہا ہے، حقیقت کیا ہے اللہ بہتر جانتا ہے یا پھر ڈی پی او بہاولپور، کون کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے یہ کبھی بھی کھل کر سامنے نہیں آئے گا، اس ملک کی یہ روایت رہی ہے اس لئے جس جس نے جتنا مزا لینا تھا لے لیا، اب اس کی وجوہات اور اس کے تدارک کے لئے بھی سنجیدہ بات کرنی چاہیے
جنسی استحصال، جنسی ہراسانی، یہ ہمارے ملک کا بہت بڑا المیہ ہے اس کو اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھا اور پڑھا جاتا ہے مگر اس میں اسلامی والی کوئی بات بھی نہیں ہے، ہم سب اکثر اس کا قصور وار معاشرے کو ٹھہراتے ہیں، سوچنے کی بات یہ ہے کہ معاشرہ بھی تو میں اور آپ ہیں، کوئی باہر سے تو نہیں آتا، ہم سب مل کر ہی معاشرے بناتے ہیں، حقیقت میں معاشرے کی بربادی کی ابتدا ءآپ کے گھر سے شروع ہوتی ہے
لڑکا ہو یا لڑکی، جب تک والدین ٹین ایج تک ان پر گہری اور سخت نظر نہیں رکھیں گے، معاشرہ ٹھیک نہیں ہو سکتا، ہم چار بھائی ہیں، میری والدہ ستر سال کی ہیں، والدہ کو ہم سب بھائیوں کے گلی، محلے، سکول، کالج، یونیورسٹی اور پھر عملی زندگی میں بننے والے ایک، ایک دوست کا علم ہے، یونیورسٹی تک جب اکثر گھر میں یہ کہہ کر جاتے کہ فلانے دوست کے ساتھ جا رہا ہوں، دو گھنٹے بعد آؤں گا تو والدہ اگلے روز ہی حکم صادر کر دیتیں، یہ نیا دوست کون ہے، کل گھر بلاؤ اور مجھے ملواؤ
اگلے روز اس دوست کو گھر بلایا جاتا، والدہ پرتکلف چائے یا اگر کھانے کا وقت ہوتا تو کھانا خود پیش کرتیں اور ساتھ بیٹھ کر کھاتیں اور اس دوران دوست کا پورا انٹرویو کرلیتیں، پھر دوست کے جانے کے بعد والد سے ڈسکس کے بعد فیصلہ جاری ہوتا کہ دوست اچھا ہے، فیملی بھی اچھی ہے یا میں آئندہ تمہیں اس دوست کے ساتھ نہ دیکھوں اور بس۔
معاملہ کیونکہ یونیورسٹی کا چل رہا ہے تو کچھ ذکر ملتان کی ایک معروف یونیورسٹی کا بھی ہو جائے جو کہ میرا ذاتی تجربہ ہے، ایم اے ماس کمیونیکیشن کرنے کے بعد 1995 میں روزنامہ نوائے وقت ملتان سے صحافت کا آغاز کیا، آگے بڑھنے کا شوق تھا، میگزین ایڈیٹر عارف معین بلے کی شاگردی اختیار کی، انہوں نے لکھنے کا موقع فراہم کیا، کوئی موضوع دیتے اور لکھنے کا حکم جاری کر دیتے، ساتھ ہی گائیڈ لائن بھی دیتے
ایک بار انہوں نے بلایا اور پوچھا یہ بتاؤ تم ”تنہائی میں کیا سوچتے ہو“ ، میں نے جواب دیا کہ کچھ یادیں، کچھ مستقبل کے خواب، تو انہوں نے کہا بس یہی تمھارا موضوع ہے، تم ایک موچی، مزدور سے لے کر شہر کی اعلی ترین شخصیت کا انٹرویو کرو اور ان سے پوچھو کہ وہ تنہائی میں کیا سوچتے ہیں
میں نے کام شروع کر دیا، اس وقت کی نشتر میڈیکل کالج کی پرنسپل پروفیسر منور ذہین، سائنس کالج بوسن روڈ کے پرنسپل ڈاکٹر احسان، مقامی سیاسی رہنماؤں، مزدوروں کے انٹرویو کیے، ملتان کی معروف یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں میرے دوست ایک مرحوم لیکچرر تھے، ان کے پاس گیا اور یوتھ کی نمائندگی کے لئے مدعا بیان کیا
مرحوم دوست نے کلاس لائبریری بلا لی، طلبہ و طالبات سے میرا تعارف کرایا اور میرے موضوع پر چھوٹی سی تحریر لکھنے کا کہا، سب کی تحریریں لے کر آ گیا، چھٹی کے روز سب کی آراء کو کمپائل کرنے لگا تو ایک لڑکی کی تحریر پڑھ کر ہوش ہی اڑ گئے
لڑکی نے اپنے یونیورسٹی کے اساتذہ کے بارے میں جو کچھ لکھا وہ اسلامیہ یونیورسٹی کے سکینڈل کی طرح کی باتیں تھیں، یہاں وہ تحریر لکھنا مناسب نہیں، مختصر یہ کہ لڑکی نے اساتذہ کو شرم و حیا دلانے کی کوشش کی تھی کہ استاد کا مقام کیا ہے اور ان کی حرکتیں کیا ہیں۔ اگلے روز میں وہ تحریر بلے صاحب کے پاس لے گیا انہوں نے پڑھ کر سر پکڑ لیا اور افسوس کرنے لگے کہ یہ ہمارے تعلیمی اداروں کی حالت ہے، ایک بچی نے لکھ کر اپنا بیان ہی دے دیا اس پر تو انکوائری ہونی چاہیے، پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کو نہیں چھاپیں گے کیونکہ اس طرح یونیورسٹی بدنام ہوگی، ہمارا خطہ بھی پسماندہ ہے، لوگ لڑکیوں کو اعلی تعلیم نہیں دلاتے، اس تحریر کی اشاعت سے لڑکیوں کے لئے یونیورسٹی داخلہ لینا بہت مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے مجھے ہدایت کی کہ آپ یہ معاملہ شعبہ اردو کے کرتا دھرتا کے نوٹس میں اچھے انداز میں ضرور لاؤں، میں اگلے روز مرحوم دوست کے پاس پہنچ گیا، اس نے چائے کا آرڈر دیا تو میں نے کہا نہیں آج تم سے کھانا کھاؤں گا، کیفے چلتے ہیں، کیفے میں اس لڑکی کی تحریر مرحوم دوست کے سامنے رکھ دی
مرحوم دوست کا چہرہ تحریر پڑھ کر سرخ ہو گیا، مجھ سے کہا تم چھاپ رہے ہو تو میں نے کہا نہیں، یہ میری بھی درسگاہ ہے، اس کی بدنامی کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں ڈالنا چاہتا مگر تم لوگوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ کون اساتذہ میں گندا انڈا ہے، مگر اس لڑکی کا نام نہ آئے، تم لڑکی سے پوچھو کہ اس کے ساتھ کوئی مسئلہ تو نہیں اگر ہے تو اس کو حل کرو، میری مدد جہاں ہوگی میں حاضر ہوں، کھانا کھا کر اٹھنے لگے تو میں نے مرحوم دوست سے کہا کہ دیکھ ہم پرانے دوست ہیں اگر لڑکی کے خلاف انتقامی کارروائی ہوئی تو تعلق ختم، پھر میں تم کو صحافی بن کر دکھاؤں گا، دوست نے کہا دھمکی لگا رہے ہو، میں نے صاف کہا، یہی سمجھو
اپنا فیچر مکمل کر کے میں بھی تنہائی میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ یہ کیسے اساتذہ ہیں، شعبہ اردو کے ایک ایک استاد کو جانتا تھا، اس میں ایک استاد ایسا بھی تھا کہ اس کی ”حرکتوں“ کی وجہ سے اس کی بیوی اس کو چھوڑ گئی تھی، پھر اس استاد نے سرگودھا یونیورسٹی میں ملازمت کی اور دوسری شادی کی۔
چند ماہ بعد مرحوم دوست اپنی کلاس کو نوائے وقت ملتان کا دورہ کرانے لے آیا، نیوز ایڈیٹر نے میری ڈیوٹی لگا دی، کلاس کو کمپیوٹر سیکشن کا دورہ کرا کر باہر نکل رہے تھے کہ وہی لڑکی سب سے آخر میں میرے پاس آئی اور کہا آپ بے ایمان صحافی ہو، مجھے آپ سے یہ توقع نہیں تھی، لڑکی کو دیکھ کر پہچان گیا کہ یہ وہی لڑکی ہے، میں نے جواب دیا کہ آپ سمیت سب کی عزت بچائی ہے، اگر آپ کو تنگ کیا گیا ہے تو بتائیں، پھر دیکھیں میں کیا کرتا ہوں تو لڑکی نے جواب دیا اب بتانے کا کیا فائدہ؟
دو روز بعد میں مرحوم دوست کے پاس پھر گیا اور سارا قصہ سنایا، میں نے کہا کہ تم لوگوں نے کوئی انتقامی کارروائی تو نہیں کی اور اگر ایسا ہوا ہے تو مجھ سے برا نہیں ہو گا، میں نے دوست سے کہا کہ لڑکی کو بلاؤ، بلانے پر بھی لڑکی نہ آئی، شاید اس نے مجھے اپنے ڈیپارٹمنٹ میں دیکھ لیا تھا، واپسی پر سٹاپ پر اس لڑکی کو دیکھا تو اس کے پاس گیا، میں نے سلام کیا مگر اس نے جواب نہ دیا، اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے منہ موڑتے ہوئے کہا مجھے آپ سے کچھ نہیں کہنا۔
واپسی پر میں بہت جذباتی ہو گیا کچھ دیر بعد ہی میں نے اپنے آپ کو بے بس پایا کیونکہ میرے ایڈیٹر کے تین رشتہ دار اس یونیورسٹی میں ملازمت کرتے تھے اور ان کو ملازمت بھی میرے ایڈیٹر نے ہی دلوائی تھی اس لئے نوائے وقت ملتان میں اس یونیورسٹی کے خلاف ایک لفظ شائع نہیں ہو سکتا تھا
کاش اس وقت سوشل میڈیا ہوتا اور میں لڑکی کی تحریر اس کا نام مٹا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیتا تو درندہ صفت اساتذہ کا احتساب ہوجاتا، اسلامیہ یونیورسٹی سکینڈل پر سیاست نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس بھیانک کھیل میں جو بھی ملوث ہے اس کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے، چاہے وہ وفاقی وزیر کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔


